آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ماہواری: انڈیا میں ممنوعہ موضوع کو چیلنج کرنے کی مہم جس میں خواتین پیریڈ چارٹ کا سہارا لے رہی ہیں
’کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے دروازے پر ایک چارٹ لگایا تاکہ گھر والوں کو میرے پیریڈ کی تاریخ کا علم ہو سکے۔ جب میرے والد اور بھائی نے پہلی بار یہ چارٹ دیکھا تو ان کو عجیب لگا لیکن اب ان کو عادت ہو چکی ہے۔‘
یہ انڈیا کے شہر میرٹھ کی رہائشی الفشاں کے الفاظ ہیں اور ان کے شہر میں درجنوں خواتین بھی اب ایسا ہی کر رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں ماہواری ایک ممنوعہ موضوع ہے۔ چند دیہی اور قبائلی علاقوں میں تو اب تک ماہواری کے دوران خواتین کو اکیلے رہنے اور کھانے پینے کے لیے الگ برتن استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایسے رسم و رواج کم ہو رہے ہیں۔
میرٹھ کے شہر میں ایک ایسی مہم کا آغاز ہوا ہے جس میں خواتین کو ایک پیریڈ چارٹ کی مدد سے اپنی ماہواری کی تاریخ کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
پیریڈ چارٹ
الفشاں کہتی ہیں کہ اس کے بہت حیران کن نتائج ہیں۔ ’خواتین کو ماہواری کے دوران بہت مسائل ہوتے ہیں۔ وہ چرچڑی اور کمزور ہو جاتی ہیں اور ایسے بہت سے اور مسائل ہوتے ہیں۔ جب سے میں نے گھر میں یہ چارٹ لگایا ہے سب کو میری ماہواری کی تاریخ کا علم ہوتا ہے۔‘
ان کو امید ہے کہ اس سے دوسروں، خصوصاً مردوں کو ان کے مسائل اور ضروریات کے بارے میں علم بھی ہو گا اور وہ ان کی مدد بھی کریں گے۔
جذباتی امداد
علیمہ بھی اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔ وہ ایک استانی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ جب سے انھوں نے گھر کے سات اراکین کو ماہواری کی تاریخ سے آگاہ کرنا شروع کیا، ان کو پہلے سے زیادہ جذباتی مدد ملتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علیمہ کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ ایک کام کرنے والی عورت کو ماہواری کے دوران کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے ہمیں گھر سے زیادہ مدد ملتی ہے۔ یہ بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔‘
علیمہ بھی میرٹھ کی رہائشی ہیں جو تقریبا 20 لاکھ آبادی کا شہر ہے۔ یہاں اس مہم میں تقریباً 70 خواتین حصہ لے رہی ہیں جن میں سے کچھ شادی شدہ اور کچھ کنواری خواتین بھی شامل ہیں۔
’بیٹی کے ساتھ سیلفی‘
تو آخر ایک ممنوعہ موضوع پر کھل کر بات کرنا کیسے ممکن ہوا؟
غیر سرکاری تنظیم ’بیٹی کے ساتھ سیلفی‘ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر سنیل جگلن اس مہم کے سربراہ ہیں۔
میرٹھ میں اس مہم کا آغاز دسمبر 2021 میں کیا گیا تھا، جس میں سب سے پہلے شہر بھر میں پوسٹر چسپاں کیے گئے۔
سنیل جگلن کہتے ہیں کہ ’میں اکثر ان مسائل کے بارے میں سوچتا تھا جن کا خواتین کو ماہواری کے دوران سامنا ہوتا ہے۔ میں نے اپنے گھر کی کئی خواتین کو ان مسائل کا سامنا کرتے دیکھا۔ میں نے سوچا اس کے بارے میں کچھ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹرز سے بات چیت کے بعد میں نے اس مہم کا آغاز کیا۔‘
سب سے پہلے ایسے چارٹس ریاست ہریانہ کے نوح اور جند اضلاع کے چند دیہات میں لگائے گئے۔
اس کے بعد سے یہ مہم انڈیا کی سات ریاستوں میں پھیلی جس میں اب ایک ہزار خواتین حصہ لے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’برے تبصرے‘
اس مہم میں رضاکاروں نے فون اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا اور ساتھ ہی ساتھ گھروں میں جا کر خواتین کو ترغیب دی کہ وہ ماہواری پر زیادہ کھل کر بات کریں۔
ان کو کہیں کامیابی ملتی تو کہیں ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔
سنیل جگلن کہتے ہیں کہ ’لوگ خواتین کے بارے میں برے تبصرے کرتے تھے حتی کہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں بھی۔ کئی مقامات پر لوگوں نے چارٹس کو پھاڑ کر پھینک دیا یا پھر لڑکیوں کو لگانے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔‘
شمالی انڈیا کے بیشتر علاقوں کی طرح میرٹھ بھی معاشرتی اعتبار سے قدامت پسند ہے جہاں خواتین کے لیے گھروں میں اپنی بات منوانا مشکل ہوتا ہے۔
اس مہم کے دوران سنیل کی تنظیم نے عام لوگوں کی مزاحمت کے جواب میں مذہبی رہنماؤں سے مدد لی۔
برادری کا دباؤ
اس مہم کو ایک اور طرح کی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ عالیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جو پورے خاندان کے ساتھ رہتی ہیں جس کی وجہ سے انھیں کچھ اضافی چیلنج بھی درپیش تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خاوند کے علاوہ، میرے دیور، سسر اور کئی مرد رشتہ دار گھر میں آتے رہتے ہیں تو جب میں نے پہلی بار پیریڈ چارٹ کے بارے میں سنا تو مجھے لگا کہ میرے لیے ایسا کرنا ناممکن ہو گا۔‘
لیکن ان کے خاوند نے اس خیال کی حمایت کی اور اپنی والدہ یعنی عالیہ کی ساس کو بھی منایا۔ اب عالیہ کو خاندان کے دیگر افراد کی جانب سے بھی ماہواری کے دوران زیادہ مدد ملتی ہے۔
غربت
منیشا بھی اس مہم میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب ان کے لیے بلاججھک گھر کے مردوں کے ساتھ ماہواری پر بات کرنا ممکن ہے۔
’یہ ہماری صحت سے جڑا ہے۔ گھر میں سب کو پتا ہونا چاہیے کہ ماہواری میں ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
’ماہواری میں خواتین چرچڑی ہو جاتی ہیں اور زیادہ بحث کرتی ہیں۔ جب اس کی اصل وجہ کے بارے میں علم ہو تو لوگ ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔‘
2019 میں انڈیا کی حکومت کے ایک سروے میں معلوم ہوا کہ انڈیا میں لڑکیوں اور خواتین کی اکثریت ماہواری کے دوران ایسے طریقے استعمال کرتی ہیں، جو مضر صحت ہیں، جیسے پرانے کپڑوں کا استعمال۔ ان میں سے اکثریت غربت کی وجہ سے سینیٹری نیپکن نہیں خرید سکتی۔
حالیہ برسوں میں مقامی طور پر تیار شدہ سینیٹری نیپکن کی وجہ سے کسی حد تک اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔
لیکن ماہواری سے جڑے معاشرتی رویوں کی وجہ سے خواتین اب بھی دکان میں جا کر کچھ خریدنے سے گریز کرتی ہیں۔
’شرم کی کوئی بات نہیں‘
کئی سال تک الفشاں کی والدہ جب ان کے لیے ماہواری کے دوران سینیٹری کا سامان خریدتی تھیں تو اسے ایک کالے پلاسٹک بیگ میں چھپا دیتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے دکاندار سے پیڈ خریدتے ہوئے شرم آتی تھی لیکن اب میں خود جا کر لے سکتی ہوں۔ اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔‘
اس مہم میں حصہ لینے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سے کوئی بڑی معاشرتی تبدیلی آئے گی لیکن سنیل کو اس بات سے حوصلہ ملتا ہے جب وہ زبیر احمد جیسے مردوں کی بدلی ہوئی ذہنیت دیکھتے ہیں۔
زبیر پیشے کے اعتبار سے حجام ہیں۔ انھوں نے پیریڈ چارٹ لگانے میں اپنی بیوی کی مدد کی۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ گھر کی جس دیوار پر چاہیں اس چارٹ کو لگا دیں۔
زبیر مردوں اور خواتین دونوں کو ہی ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔
’عورتوں کو ماہواری کے دوران پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ان کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی اس کے بارے میں کیا سوچے گا اور نہ ہی ان کو خاموشی سے تکلیف اٹھانی چاہیے۔‘