چین نے صرف سات برس میں فضائی آلودگی میں 40 فیصد کمی کیسے کی؟

    • مصنف, اتوہالپا امریسی
    • عہدہ, بی بی سی، منڈو سروس

تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2013 اور 2020 کے درمیانی عرصے میں چین اپنی فضا میں مضر صحت ذرّات میں 40 فیصد کمی کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

یہ اعداد شمار امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کے توانائی پر تحقیق کے شعبے، انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی جون سنہ 2022 کی رپورٹ میں شائع ہوئے ہیں۔

یہ ادارہ فضائی آلودگی کے مطالعے کے لیے مصنوعی سیاروں کی مدد لیتا ہے۔

جین نے جتنے کم عرصے میں فضائی آلودگی میں اس قدرکمی کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اس قسم کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش سنہ 1970 میں منظور کیے جانے والے قانون 'کلین ایئر ایکٹ' سے کر رہا تھا اور اسے فضائی آلودگی میں 40 فیصد کمی کرنے میں 30 برس لگ گئے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ چین نے یہ کارنامہ اتنے کم وقت میں کیسے کر دکھایا ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں سب سے پہلے سنہ 2013 میں جانا پڑے گا، جب چین میں فضائی آلودگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ گذشتہ عشرے کے دوران چین سے جب بھی کوئی تصویر آتی تھی اس میں دن کے وقت بھی شہروں پر آلودگی کی اتنی دبیز تہہ ہوتی تھی کہ سورج بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں رہا۔

اُس برس چین کی فضاؤں میں ایم پی 2.5 قسم کے ذرّوں کی اوسط شرح 52.4 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تھی۔ یہ شرح عالمی ادارہ صحت کی آج کی تجویز کردہ حد سے دس گنا زیادہ تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

ایم پی 2.5 ان چھوٹے چھوٹے ذرّات کو کہتے ہیں جو زمین سے نکالے جانے والے قدرتی ایندھن ( کوئلے) کو جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ذرّات صحت کے لیے بہت خراب ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ہمارے سانس کے نظام میں داخل ہونے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کے ای پی آئی سی کے ڈائریکٹر کرسٹا ہیسنکوپ کے مطابق اُس وقت بیجنگ میں جس قدر فضائی آلودگی تھی اسے ہم عرف عام میں 'قیامت خیز آلودگی' کہتے ہیں۔ یہ وہ اصطلاح ہے جسے ہم لوگوں کو آلودگی کے خطرات سے خبردار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس وقت صورت حال اتنی بڑی تھی کہ چینی حکومت نے آلودگی کے خلاف قومی سطح پر جنگ کا اعلان کر دیا۔

چنانچہ سنہ 2013 کے آخری دنوں میں حکومت نے 'نیشنل ایئر کوالٹی ایکشن پلان' کے نام سے ایک منصوبہ شروع کر دیا جس کے تحت اگلے چار برس میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے 270 ارب ڈالر کی خطیر رقم مختص کی گئی۔ اگلے برسوں میں خاص طور بیجنگ سٹی کونسل کو مزید 120 ارب ڈالر دیئے گئے۔

کوئلے کے خلاف جنگ

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے خاص اقدامات کا منصوبہ بنایا گیا جن کا ہدف یہ تھا کہ اگلے چار برس میں آلودگی کو 35 فیصد کم کیا جائے گا۔

اس حوالے سے حکومت کا سب سے بڑا دشمن وہی کوئلہ تھا جس کے بل بوتے پر چین نے 20ویں صدی کے آخری عشرے میں اتنی تیزی سے ترقی کی تھی اور یہی کوئلہ چین کے لیے توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔

ایکشن پلان کے تحت آنے والے برسوں میں چین نے اپنے آلودہ ترین شہروں میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا نئے پلانٹ پر پابندی لگا دی اور پہلے سے بنے ہوئے بجلی گھروں کو بھی مجبور کیا کہ وہ کوئلے کی بجائے گیس کا استعمال کریں۔

صرف سنہ 2017 کے ایک سال میں چین کے سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والے صوبے، شانزی میں کوئلے کی 27 کانوں کو بند کر دیا گیا۔

اور سنہ 2018 میں بیجنگ میں کوئلے سے توانائی پیدا کرنے والے شہر کے آخری پلانٹ کو بند کر دیا گیا اور حکومت نے ملک میں 103 نئے بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی ترک کر دیا۔

اگرچہ اب بھی چین میں سب سے زیادہ بجلی کوئلے سے ہی پیدا کی جا رہی ہے لیکن اس کا تناسب جو سنہ 2013 میں 67.4 فیصد تھا وہ سنہ 2020 میں کم ہو کر 56.8 فیصد ہو گیا۔

اس کے علاوہ چینی حکومت نے کوئلے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں مزید کمی کرنے کے لیے دیگر ذرائع (پن بجلی وغیرہ) سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔

چین نے اس سمت میں اس تیزی سے اقدامات کیے کہ سنہ 2017 میں ملک میں بجلی کی کل مقدار کا ایک چوتھائی نہ ختم ہونے والی قدرتی وسائل سے پیدا کیا جانے لگا۔ اس میدان میں چین امریکہ سے بھی آگے نکل گیا جہاں سنہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق 18 فیصد بجلی دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے والے ذرائع سے پیدا کی جا رہی تھی۔

گذشتہ عشروں میں چین نے جوہری توانائی کے شعبے میں بھی بہت یکسوئی کے ساتھ کام کیا اور سنہ 2016 اور سنہ 2020 کے درمیانی عرصے میں جوہری بجلی گھروں سے پیدا کی جانے والی توانائی میں دو گنا اضافہ کر لیا اور ملک 47 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے لگا۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ سنہ2035 تک ملک میں 20 نئے جوہری پلانٹ لگا لیے جائیں گے اور ملک 180 گیگا واٹ بجلی جوہری پلانٹس سے حاصل کرنے لگے گا۔ یہ مقدار امریکہ کی موجودہ جوہری توانائی سے دو گنا ہوگی۔

کاروں پر پابندیاں

آلودگی کم کرنے کے لیے چین نے فولاد (آئرن) اور سٹیل کی پیداوار میں کمی کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 2016 اور 2017 کے قلیل درمیانی عرصے میں چین نے فولاد اور سٹیل کی پیداوار میں 115 ملین ٹن کی کمی کر لی۔

صاف ظاہر ہے اس اقدام کے بعد تمام نظریں پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان پر جم گئیں۔

اس منصوبے کے تحت بیجنگ، شنگھائی اور دیگر بڑوں شہروں میں ایک وقت میں سڑکوں پر آنی والی کاروں کی تعداد کو محدود کر دیا گیا اور ہر سال نئی کاروں کے اندراج کو بھی محدود کر دیا گیا۔

تاہم اس اقدام سے سڑکوں پر کاروں کی تعداد کو کم نہیں کیا جا سکا اور سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2013 میں جن گاڑیوں کی تعداد 126 ملین تھی وہ سنہ 2020 میں 273 ملین ہو گئی۔

تاہم حکومت نے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کے خلاف مہم جاری رکھی اور سنہ 2017 کے آخر تک ملک میں 553 ایسی ملکی اور غیر ملکی کاروں کی پیدوار کو معطل کر دیا گیا جو بہت زیادہ آلودگی پیدا کرتی تھیں۔

بڑے شہروں پر دباؤ

ای پی آئی سی کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ 'ہمارے اندازے کے مطابق اگر چینی لوگ سنہ 2013 کے مقابلے میں آج اور آنے والے برسوں میں زیادہ صاف ہوا میں لیتے رہے تو ان کی اوسط عمر میں دو سال کا اضافہ ہو سکتا ہے۔'

ہیسنکوپ کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2013 اور سنہ 2020 کے درمیانی عرصے میں چین کے بڑے بڑے شہر اپنی فضائی آلودگی میں 40 فیصد کمی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

شنگھائی میں ہوا میں مضرِ صحت ذرّات میں 44 فیصد کمی ہوئی، گانزاؤ میں 50 فیصد، شینزن میں 49 اور بیجنگ میں 56 فیصد کمی کی گئی ۔

'آج ان چار شہروں کے باسی خاصی زیادہ صاف فضا میں سانس لے رہے ہیں۔'

سنہ 2013 کے چار سالہ منصوبے کے بعد فضائی آلودگی کو مزید کم کرنے کے دو مزید تین سال منصوبے بنائے گئے۔ ان میں سے پہلا منصوبہ 2018 میں منظر عام پر آیا اور دوسرا 2020 میں۔ ان منصوبوں سے واقعی فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مزید مدد ملی۔

دوسری جانب سنہ 2018 اور 2020 کے درمیانی عرصے میں کورونا وائرس کی وبا میں لگائی جانے والی پابندیوں سے صنعتی پیدوار اور ٹرانسپورٹ بھی کم استعمال ہوئی اور ان اقدامات سے بھی آلودگی کم ہوئی۔

جب ہم نے پوچھا کہ ان وجوہات نے ان کی تحقیق کے نتائج کو تو متاثر نہیں کیا، تو ہیسنکوپ کا جواب تھا کہ انھوں نے آلودگی پر کورونا کی وبا کے اثرات کا باقاعدہ مطالعہ نہیں کیا ہے۔

تاہم انھوں نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے بتایا کہ چین کے سنہ 2020 کے اعداد وشمار حقیقت کے قریب لگتے ہیں کیونکہ وہاں سنہ 2014 سے آلودگی میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اسی لیے وہ اس سلسلے میں کووڈ کا زیادہ کردار نہیں دیکھتے۔

چین کا باقی دنیا سے تقابل

لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔

چین نے حالیہ برسوں میں جو اقدامات کیے ہیں وہ اپنی جگہ، لیکن اسے اپنے شہروں کی فضاؤں کو صاف کرنے کے لیے بہت کام کرنا ہے۔

مصنوعی سیاروں سے حاصل کیے گئے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق آج کل بیجنگ میں آلودگی کی اوسط شرح 37.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے جو کہ نیویارک ( 6.3) اور دنیا کے کئی دیگر بڑے شہروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ لندن میں یہ شرح 9، میڈرڈ میں 6.9 اور میکسیکو میں 20.7 ہے۔

لیکن دوسری جانب یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں مضر صحت ذرّات میں جو کمی دیکھنے میں آئی ہے اس کے بعد چینی دارالحکومت میں رہنے والے لوگ سنہ 2013 کی نسبت اوسطاً چار سال چار ماہ زیادہ زندہ رہا کریں گے۔

کئی دیگر ممالک میں صورت حال اب بھی چین کی نسبت بہت بری ہے۔ مثلاً سال کے کچھ حصے میں نئی دہلی میں ذرّات کی شرح 107.6 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہو جاتی ہے جو کہ عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ اوسط (5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر) سے 20 گنا زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان وہ ممالک ہیں جہاں کی ہوا سب سے زیادہ نا قابل برداشت ہے، جب کہ چین، جو گذشتہ دہائی میں دنیا کے پانچ بہترین ممالک میں شامل تھا، تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آج ( 31.6 ) کی شرح سے 9ویں نمبر پر ہے۔

امریکہ میں مضر ذرّات کی اوسط شرح 7.1 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے۔ لاطینی امریکہ کے ممالک، گوئٹے مالا، بولویا، ایلسلواڈور اور پِیرو کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فضائی آلودگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان ممالک کی شرح 20 اور 30 کے درمیان ہے جبکہ دیگر ممالک میں عموماً یہ شرح دس اور 20 مائیکروگرام فی مکعب میٹر کے درمیان رہتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کرہ ارض پر بہت سے لوگ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ واقعی صاف ہوا میں سانس لیتے ہیں کیونکہ دنیا کی 97 فیصد آبادی ایسی جگہوں پر رہتی ہے جہاں ہوا کا معیار عالمی ادارۂ صحت کے مجوزہ معیار سے کم ہے۔

ہیسنکوپ کے مطابق ہم جس آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں اس کی وجہ سے ہماری زندگی کی معیاد کم ہو رہی ہے۔ ’ہمارا اندازہ ہے کہ اس آلودگی کی وجہ سے عالمی سطح پر ہماری زندگی میں دو سال زیادہ کی کمی ہو رہی ہے۔‘

’ ہماری زندگی پر یہ بوجھ ایچ آئی وی ایڈز، ملیریا یا جنگوں کے بوجھ سے زیادہ ہے۔‘

ہیسنکوپ اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فضائی آلودگی کم کرنے کا بہترین طریقہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی نہیں ہے، بلکہ اس کا بہترین حل سیاسی اور معاشرتی سطح پر اس سوچ کا فروغ ہے کہ اس کام کے لیے پیسہ فراہم کیا جائے اور ہوا کو صاف رکھنے کی پالیسیوں پر سختی سے عمل کروایا جائے۔