بوائے فرینڈ تک پہنچنے کے لیے تیر کر انڈیا پہنچنے والی خاتون گرفتار

کرشنا منڈل

،تصویر کا ذریعہTathagata Chakraborty

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے، نہ تو وہ سرحدیں دیکھتی ہے، نہ پہاڑ اور دریا۔

ایسا ہی کچھ بنگلہ دیش کی 23 سالہ کرشنا منڈل کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ اپنے فیس بک بوائے فرینڈ سے شادی کرنے کے لیے بنگلہ دیش سے انڈیا کی ریاست بنگال میں داخل ہوئیں، خونخوار شیروں سے بھرے ہوئے گھنے جنگلوں سے گزریں اور ایک گھنٹے تک سندر بن کے انتہائی دشوار گزار دریا میں تیر کر اپنے بوائے فرینڈ کے پاس پہنچ گئیں۔

بنگلہ دیش کی کرشنا منڈل اور بنگال کے چوبیس پرگنہ ضلع کے ابھیک منڈل کی ملاقات سوشل میڈیا پر ہوئی تھی۔ کچھ دنوں تک میسیجز اور چیٹ کا سلسلہ چلتا رہا اور پھر دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے۔

کرشنا ابھیک سے ملنے کے لیے بیتاب تھیں لیکن ان کے پاس سفر کے لیے پاسپورٹ نہیں تھا۔ وہ ابھیک سے شادی کرنے کے لیے ایک خطرناک سفر پر نکل پڑیں۔

ابھیک سے ان کی ملاقات ان کے گاؤں میں ہوئی۔ مقامی خبروں کے مطابق دونوں نے کولکتہ جا کر کالی گھاٹ کے مندر میں شادی کر لی۔

Tathagata Chakraborty

،تصویر کا ذریعہTathagata Chakraborty

کرشنا کی محبت اس کے پر خطر سفر اور شادی کے چرچے عام ہونے لگے اور پھر یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ پولیس کو جیسے ہی یہ خبر ملی، انھوں نے کرشنا کو پیر کے روز ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔

مزید پڑھیے

کولکتہ کے نریندر پور پولیس تھانے کے پولیس افسر طورغ رحمان غازی نے بی بی سی کو بتایا کہ کرشنا کو 14 دنوں کے لیے جوڈیشل حراست میں رکھا گیا ہے اور انھیں خواتین کے حفاظتی مرکز بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس نے ابھیک منڈل کے گھر پر چھاپہ مارا مگر ابھیک اور ان کے گھر والے فرار ہو گئے ہیں۔ کرشنا کو وہیں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس طرح کی خبریں ہیں کہ ضروری کاغذی کارروائی کے بعد کرشنا کو بنگلہ دیش واپس بھیجنے کے لیے بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

بعض خبروں کے مطابق کرشنا کی شادی دو برس پہلے بنگلہ دیش میں ہوئی تھی لیکن وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے اور ان تمام پہلوؤں کی تفتیش کر رہے ہیں۔