ہندو مسلم شادی: حیدرآباد میں لڑکی کے بھائی نے ’دلت نوجوان کو قتل کر دیا‘

    • مصنف, سریکھا ابوری
    • عہدہ, بی بی سی تیلگو سروس

’میں اپنے بھائی کے سامنے گِڑگڑاتی رہی التجا کرتی رہی، لیکن میرا بھائی راڈ سے اور دوسرا آدمی چاقو سے میرے شوہر پر وار کرتے رہے۔ میرے شوہر کو کوئی نہیں بچا پایا۔ ہم نے محبت کی شادی کی تھی۔‘

اپنے شوہر کا قتل اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھنے والی اشرین کے آنسو رک نہیں رہے ہیں۔

اشرین سلطانہ کے بھائی سید مبین احمد اور ایک رشتے دار مسعود احمد نے مبینہ طور پر حیدرآباد میں ان کے شوہر دلی پورم ناگاراجو کو بیچ سڑک قتل کر دیا۔ سلطانہ کے گھر والے ان کی ہندو لڑکے سے شادی پر ناراض تھے۔

بدھ کی رات تقریباً 9 بجے حیدرآباد کی ایک پرہجوم سڑک پر ہوئے اس بے رحمانہ قتل نے سب کو چونکا دیا۔ یہ واقعہ سرور نگر میونسپل آفس سے کچھ فاصلے پر واقع پنجہ انل کمار گایتری کالونی میں پیش آیا۔

مزید پڑھیے:

ناگاراجو اور اشرین سکول کے زمانے سے ہی ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔ محبت کا یہ سلسلہ کالج میں بھی جاری رہا۔ اشرین کے بھائی کو ان کی محبت کا علم ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ اشرین کا بھائی حیدرآباد کے ایک علاقے بالانگر میں پھلوں کا ٹھیلہ لگاتا ہے۔

اشرین کے والد کا کئی سال پہلے انتقال ہو گیا تھا اور وہ اپنی ماں اور اپنے بھائی کے ساتھ رہتی تھی۔ ناگاراجو دلت برادری سے تھے اور اس کے والدین وقار آباد میں قلی کا کام کرتے ہیں۔ ان کی ایک بہن بھی ہے۔ ناگاراجو حیدرآباد میں ماروتی شوروم میں کام کرتے تھے۔

اشرین کے بڑے بھائی سید مبین نے اُنھیں یہ رشتہ ختم کرنے کے لیے دھمکی دی تھی۔ اس سال جنوری میں ناگاراجو نے ایک بار پھر اشرین سے ملاقات کی اور دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

اشرین کو معلوم تھا کہ ان کے بھائی اس شادی کے لیے تیار نہیں ہوں گے اس لیے اُنھوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اشرین نے اپنا موبائل بھی گھر پر چھوڑ دیا تا کہ گھر والوں کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہ مل سکے۔

دونوں نے 31 جنوری کو حیدرآباد کے پرانے شہر کے آریہ سماج مندر میں شادی کر لی۔ اشرین کے بھائی مبین نے بالا نگر پولیس سٹیشن میں ان کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی۔ جب پولیس نے دونوں کو بلایا اور معلوم ہوا کہ وہ بالغ ہیں تو دونوں کے اہل خانہ کو بلا کر سمجھایا گیا۔

ناگاراجو کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’ہم پولیس سٹیشن بھی گئے اور وہاں لڑکی کی ماں اور اس کا بھائی بھی آئے۔ میں نے اس کی ماں سے بھی کہا کہ آپ فکر نہ کریں، میری بھی ایک بیٹی ہے، میں اسے بیٹی کی طرح رکھوں گی۔‘

اشرین کے خاندان اور ناگاراجو کے خاندان کی ایک ساتھ تصاویر بھی کھینچی گئی تھیں لیکن پھر بھی اشرین کئی بار کہتی رہیں کہ ان کے بھائی اس شادی کو منظور نہیں کریں گے۔

اسی خوف سے دونوں نے حیدرآباد چھوڑ دیا اور وشاکھاپٹنم میں رہنے چلے گئے۔ پانچ دن پہلے دونوں یہ سوچ کر حیدرآباد واپس آ گئے تھے کہ اب اشرین کے گھر والوں کا غصہ کم ہو گیا ہو گا۔

ناگاراجو کو مارنے کا منصوبہ پہلے ہی بنا لیا گیا تھا

ناگاراجو کے والد کے مطابق ’دونوں کے رشتہ دار گھر کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ لیکن مبین اور ایک رشتے دار مسعود احمد، جو مکینک کا کام کرتے ہیں، ان کا پیچھا کرتے رہے۔‘

’پہلے دوسرے علاقے کی ایک سڑک پر ناگاراجو پر حملہ کرنے کا منصوبہ تھا لیکن سڑک پر کافی بھیڑ تھی، اس لیے وہ پیچھا کرتے رہے۔ موقع پر پہنچ کر اُنھوں نے ناگاراجو کی گاڑی کو روکا اور اُنھیں نیچے گرا کر ان پر وار کیا۔‘

اشرین کے مطابق ناگاراجو نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا لیکن مبین نے اُنھیں ڈنڈے سے مارنا شروع کر دیا۔ اسی وقت مبین کے ساتھ آئے مسعود نے ناگاراجو پر چاقو سے حملہ کیا۔ اشرین ان کے سامنے گڑ گڑاتی رہیں کہ ان کے شوہر کو چھوڑ دیں، لیکن ان دونوں نے ناگاراجو کو اس وقت تک نہیں بخشا جب تک کہ وہ خون میں لت پت نہیں ہو گئے۔

اشرین کا کہنا ہے کہ آس پاس کے لوگوں نے مسعود اور مبین کو روکنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن جب تک پولس موقع پر پہنچی تب تک ناگاراجو جان کی بازی ہار چکے تھے۔ یہ خوفناک منظر اس سڑک پر دیکھنے کو ملا جہاں کچھ دیر پہلے کافی چہل پہل تھیں۔

یہ پورا واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا۔ اشرین اپنے شوہر کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ ہسپتال بھیج دیا۔ ناگاراجو کے والدین کو سنبھالنا مشکل تھا، جو بیٹے کی موت کی خبر سن کر وہاں پہنچے۔ وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے۔

اُن کے والد نے کہا ’میرے بیٹے نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ حیدرآباد میں کام کرتا تھا۔ میرے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ ان لوگوں نے میرے اکلوتے بیٹے کو مار دیا۔ میں ان کی محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ دونوں نے بغیر بتائے شادی کر لی تھی اور شادی کے بعد ہمیں بتایا۔‘

ان کا کہنا تھا ’شادی کے بعد اشرین نے بتایا کہ ان کے بھائی سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔ میرے رشتے دار سرور نگر میں رہتے ہیں۔ میرے بیٹے کو قتل کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ امید کرتا ہوں پولیس سے انصاف ملے گا۔‘

اس کے بعد ان کے والد بیٹے کی لاش کو اپنے گاؤں وقارآباد لے گئے۔

قتل کے بعد سیاست

پولیس نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے 24 گھنٹے کے اندر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ جہاں وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کارکنوں نے موقع پر دھرنا دیا، وہیں دلت تنظیموں اور بی جے پی کارکنوں نے عثمانیہ ہسپتال کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔

تلنگانہ میں بی جے پی کے صدر اور کریم نگر کے رکن پارلیمان سنجے کمار نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور اسے مذہب کے نام پر قتل قرار دیا۔

ساتھ ہی سرور نگر کے ڈپٹی کمشنر پولیس سنپریت سنگھ نے کہا کہ اسے مذہب کے نام پر قتل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی پولیس نے یہ بھی یقین دلایا کہ حکومت کی جانب سے متاثرین کو جو بھی مدد دی جا سکتی ہے دی جائے گی اور اس معاملے کو فاسٹ ٹریک کورٹ کے ذریعے انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ڈی سی پی نے کہا، ’لڑکی کی ذہنی حالت بہت نازک ہے اور اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا۔‘