آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا: مُردوں نے کیسے بیمہ پالیسی بیچنے والے اس ایجنٹ کو سٹار بنا دیا
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
بھرت پاریکھ عشروں سے اخباروں میں ڈیتھ نوٹس پڑھ رہے ہیں اور انڈیا کے مرکزی شہر ناگپور میں لائف انشورنس فروخت کرنے کے لیے وہ کئی بار شمشان گھاٹ تک گئے ہیں۔
پاریکھ کہتے ہیں ’آپ کو انڈیا میں جنازے میں جانے کے لیے دعوت ناموں کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ جنازہ لے جانے والے لوگوں کے ذریعہ سوگوار خاندان کی شناخت کرتے ہیں۔ آپ مرحوم کے رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ کریں اور اپنا تعارف کروائیں۔ آپ انھیں بتاتے ہیں کہ آپ مردہ شخص کی لائف انشورنس پر کسی بھی دعوے کو حل کرنے کے لیے اپنی مفت خدمات پیش کر رہے ہیں۔ اور آپ اپنا وزیٹنگ کارڈ چھوڑ دیتے ہیں۔‘
روایتی سوگ کی مدت ختم ہونے کے بعد کچھ خاندان ان سے رابطہ کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر وہ ان کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ پاریکھ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ موت کے دعوے کا بروقت تصفیہ ہو۔ انھیں پتہ چلتا ہے کہ موت نے خاندان کو کس طرح مالی طور پر متاثر کیا ہے، ان کے ذمے غیر ادا شدہ قرض کتنا ہے، کیا ان کے پاس کافی انشورنس، بچت اور سرمایہ کاری ہے؟
’میں خاندانوں پر موت کے اثرات کو سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنے چھوٹی عمر میں اپنے والد کو کھو دیا تھا۔‘
55 سالہ پاریکھ لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا کے تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار ایجنٹوں میں سے ایک ہیں، جو ملک کی سب سے بڑی بیمہ کمپنی ہے۔
286 ملین پالیسیوں اور 100,000 سے زیادہ ملازمین کے ساتھ لائف انشورنس کارپوریشن نے اب سٹاک مارکیٹ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے اور وہ انڈیا میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کی 90 فیصد سے زیادہ پالیسیاں پاریکھ جیسے ایجنٹوں کے ذریعہ فروخت کی جاتی ہیں۔
پاریکھ اب فرم کے سٹار ایجنٹوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک صاف ستھرا لباس پہننے والے ایک شفیق انسان ہیں جو سیلز مین کے جوش سے بات کرتے ہیں۔
پاریکھ نے سنگتروں کےلیے مشہور ناگپور کے علاقے میں 324 ملین ڈالر کی لائف انشورنس فروخت کی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 40 ہزار پالیسیوں کو ’خدمات فراہم‘ کرتے ہیں۔ وہ تقریباً ایک تہائی پر کمیشن کماتے ہیں جسے انھوں نے حقیقت میں بیچا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پریمیئم کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان کے دعوؤں کو نمٹانے کے لیے مفت خدمات مہیا کرتے ہیں۔
ایک ایسے پیشے میں جس میں کوئی مشہور شخصیات نہیں ہیں، پاریکھ ایک سٹار ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایل آئی سی کے چیئرمین سے زیادہ کماتے ہیں۔
تقریباً تین دہائیوں سے، وہ ملین ڈالر راؤنڈ ٹیبل کے رکن رہے ہیں، جو دنیا کے معروف لائف انشورنس اور مالیاتی خدمات کے پیشہ ور افراد کا ایک گروپ ہے۔
انھیں سکولوں، کالجوں، بینکوں اور انتظامی سکولوں میں بات چیت کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ ان کی تقریروں میں سے ایک، جسے وہ کبھی آڈیو کیسٹوں پر فروخت کرتے ہیں، کا عنوان ہے: ’نمبر ون سے ملو، نمبر ون بنو۔‘
یہ بھی پڑھیے
پاریکھ کے مصروف دفتر میں پینتیس لوگ کام کرتے ہیں، جو مختلف قسم کی مالیاتی خدمات پیش کرتے ہیں۔ بیمہ درحقیقت کئی کاروباروں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
پاریکھ اپنی بیوی، ببیتا کے ساتھ ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، جو خود ایک انشورنس ایجنٹ ہیں۔ ناگپور میں ایک حالیہ شام، پاریکھ اپنی نئی الیکٹرک ایس یو وی میں مجھے لینے آئے، جس میں وہ 18 گھنٹے کام کے دنوں کے بعد لمبی ڈرائیو پر جانا پسند کرتے ہیں ’دیکھو، وہ کتنی تیزی سے اوپر اٹھتی ہے‘ پاریکھ نے بچوں جیسی خوشی سے کہا۔
پاریکھ کا عروج بہت تیزی سے ہوا ہے جسے انھوں نے اپنی یاداشتوں کی ایک کتاب میں سمویا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں والٹ ڈزنی کے ایک جملے کو مستعار لیا ہے جو کہتا ہے ’اگر آپ یہ خواب دیکھ سکتے ہیں تو آپ یہ کر سکتے ہیں۔‘
بھرت پاریکھ کو اپنے خوابوں کی تعبیر کے بارے میں خیال یقیناً بہت بعد میں آیا ہو گا۔ ٹیکسٹائل مل میں مزدوری کرنے والے شخص اور گھریلو کام کرنے والی ماں کے بیٹے، پاریکھ کے پاس خواب دیکھنے کی گنجائش نہیں تھی ۔ وہ اپنے اپنے خاندان کے ساتھ ایک گندے علاقے میں ایک کمرے کے کرایے کے گھر میں آٹھ دوسرے افراد کے ساتھ جن میں ان کے والدین، چار بہن بھائی اور بیوہ خالہ کے ساتھ رہتے تھے۔
زندگی مشکل تھی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ اگربتیاں ڈبوں میں پیک کرتے تھے جس سے گھر کا نظام چلتا تھا۔
جب وہ 18 سال کے ہوئے تو پاریکھ نے صبح کی کالج کی کلاسوں کے بعد انشورنس بیچنا شروع کیا۔ وہ ایک سائیکل کرائے پر حاصل کر کے ممکنہ گاہکوں کو فون کرتے اور ان کی بہن کاغذی کارروائی کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
وہ گاہکوں کو بیمہ پالیسی بیچنے کے لیے خود سے بنائی ہوئی مثالیں دیتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ ’لائف انشورنس ایک فالتو ٹائر کی طرح ہے جب آپ کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوتا ہے اور آپ کی گاڑی ٹوٹ جاتی ہے‘ انھوں نے اپنے پہلی پالیسی ایک موٹر پارٹس ڈیلر کو بیچی جس سے پاریکھ کو 100 روپے کمشن ملا۔
پہلے چھ مہینوں میں پاریکھ نے چھ پالیسیاں فروخت کیں۔ اپنے پہلے سال کے اختتام پر، انھوں نے کمیشن میں تقریباً 15,000 روپے کما لیے تھے، جس سے ان کا گھر چلتا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’لائف انشورنس بیچنا مشکل تھا۔ میں کبھی کبھی گھر جا کر روتا تھا۔‘
انشورنس ایجنٹوں کی شہرت اچھی نہیں ہوتی اور لوگ انھیں ایسے گدھ کے طور پر دیکھتے ہیں جو عدم تحفظ کا شکار گاہکوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب کچھ پاریکھ کے حوصلے پست نہیں کر سکا اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوشیار ہوتے گئے۔
انھوں نے محسوس کیا کہ مردوں کا سراغ لگانا زندوں کو فون کرنے سے بہتر کام ہے۔ اس کے گاہک سڑکوں پر دکانداروں سے لے کر تاجروں تک ہیں۔ اس نے تعلقات اور نیٹ ورکس بنائے۔
پاریکھ کے گاہکوں میں سے ایک بسنت موہتا ہیں، جو کہ پانچویں نسل کے ٹیکسٹائل مل کے مالک ہیں، وہ ناگپور سے 90 کلومیٹر دور رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے مشترکہ خاندان کے 16 افراد جن میں ان کی 88 سالہ والدہ اور ان کے ایک سالہ پوتے نے پاریکھ کے ذریعے بیمہ پالیسی خریدی ہیں۔ دونوں کی ملاقات ایک فلائٹ میں ہوئی تھی۔
بسنت موہتا کہتے ہیں: ’میرے خیال میں لائف انشورنس اہم ہے لیکن اس سے بھی اہم ایسا ایجنٹ ہے جس پر آپ مکمل بھروسہ اور انحصار کر سکتے ہیں۔‘
پاریکھ کا خیال ہے کہ ان کی کامیابی کی وجہیہ ہے کہ وہ وقت سے قدرے آگے ہیں اور انھوں خود پر خرچ کیا۔ انھوں نے 1995 میں سنگاپور سے توشیبا کا لیپ ٹاپ درآمد کیا اور اپنے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا۔
انھوں نے بیرون ملک فنانس ٹریننگ کورسز کرنے پر اپنی جمع پونجی خرچ کی۔ انھوں نے ابتدا میں موبائل فون ور اپنے ملازمین کے لیے پیچر خریدے۔
انھوں نے آفس، کلاؤڈ بیسڈ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اور اب ان کی اپنی ذاتی ایپ ہے۔ وہ مقامی اخبارات کے مرنے والے صفحات میں روزانہ اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ بچوں کے فنگشن کو بھی سپانسر کرتے ہیں تاکہ وہ بچوں کو بچپن میں اپنی جانب راغب کر لیں۔
انڈیا میں روایتی طور پر جلد مرنے کے خطرے سے خود کو بچانے اور ٹیکس میں چھوٹ میں اور کمپنی بونس پے آؤٹ کے لیے انشورنس لی جاتی ہے۔ ۔ لیکن وقت بدل رہا ہے۔ ایل آئی سی کےاپنے اعتراف کے مطابق اسے میوچل فنڈز، بینک ڈپازٹس اور بچت کے چھوٹے طریقوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
ایل آئی سی اب اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کلائنٹ انشورنس آن لائن خرید سکیں۔ کیا اس کا مطلب پاریکھ جیسے بیمہ ایجنٹوں کا کردار کم ہوگا؟
لائف انشورنس ایجنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے صدر سنگاراپو سرینواس کہتے ہیں: ’ایسا نہیں ہے، ایجنٹ ہمیشہ موجود رہیں گے۔ لائف انشورنس فروخت کرنے کے لیے کلائنٹس کے ساتھ آمنے سامنے ملاقات کی ضرورت ہوتی ہے، جو بہت سے سوالات پوچھتے ہیں۔‘
پاریکھ نے کمپنی میں جدت کاری کے اقدامات کا خیر مقدم کیا۔ وہ کہتے ہیں ’کاروبار مزید بڑھے گا۔ اور ہمارے لیے کام کے اور مواقع ہوں گے۔‘
مثال کے طور پر، جب پاریکھ اور ان کے ملازمین مرنے والوں کا پتہ نہیں لگا رہے ہوتے ہیں تو وہ زندہ لوگوں کی خوشیوں میں بھی شریک ہو رہے ہوتے ہیں۔ اخبارات میں موت کے نوٹس دیکھنے کے بعد وہ واٹس ایپ پر اپنے کلائنٹس کو نیک خواہشات بھیجنا شروع کر دیتے ہیں ’مجھے ہر روز بہت ساری سالگرہ، شادی کی سالگرہ کی مبارکبادیں بھیجنی پڑتی ہیں۔‘
جس دن ہم پاریکھ سے ملے، وہ اپنا فون چیک کرکے مجھے دکھاتے ہیں کہ ناموں، پتے، نمبروں اور مواقع کی ایک صاف ستھری فہرست کیسی ہے۔ یہ وہ 60 کلائنٹس ہیں جو اس دن اپنی سالگرہ منا رہے ہیں، اور 20 جو اپنی شادی کی سالگرہ منا رہے ہیں ’مجھے ان سب کو مبارک دینی ہے۔ کچھ کو میں تحائف بھیجوں گا۔‘
میں نے ان سے پوچھا وہ کہ وہ کس طرح تقریباً 40 ہزار انشورنس پالیسی ہولڈرز کی زندگیوں اور لمحات پر نظر رکھتے ہیں۔
وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں: ’یہ ایک راز ہے۔‘