چین: شنگھائی میں شہری سبز رنگ کی رکاوٹوں سے پریشان کیوں؟

چین کے شہر شنگھائی میں کووڈ 19 کے متاثرین میں اضافے کے بعد حکام نے عوام کی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کے لیے سبز رنگ کی بڑی رکاوٹیں لگائی ہیں۔

ہرے رنگ کے یہ بیریئرز عمارتوں کے باہر بغیر کسی تنبیہ کے لگائے گئے ہیں اور ان کا مقصد بھی واضح نہیں۔ عمارتوں میں موجود لوگوں کو ان رکاوٹوں سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ گرین بیریئر ان کے کمپاؤنڈ کے اندر تین دن پہلے بغیر کسی تنبیہ کے اچاناک نظر آئے۔‘

کئی ہفتوں سے شنگھائی کی دو کروڑ پچیس لاکھ کی آبادی اپنے گھروں میں بند ہے۔ حکام یہاں کووڈ کے بدترین پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

چینی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر سرکاری اہلکاروں کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں جن میں وہ سفید ہیزمیٹ سوٹس میں شہر کی متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور عمارتوں کے داخلی دروازوں کو سیل کر رہے ہیں۔

بہت سے بیریئر دو میٹر اونچے ہیں جو کہ اس وقت لگائے گئے تھے جب علاقے سیل کیے گئے۔ یہ وہ عمارتیں ہیں جنھیں اس فہرست میں تب ڈالا جاتا ہے جب وہاں سے کووڈ کا ایک بھی کیس سامنے آئے۔

سیل کیے گئے علاقوں کے رہائشیوں کا باہر نکلنا ممنوع ہے، اس بات سے قطع نظر کہ وہ وائرس سے متاثرہ ہیں یا نہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حکام نے ان رکاوٹوں کی تیاری کیوں کی۔ 23 اپریل کو مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک نوٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کچھ علاقوں میں ’سخت قرنطینہ‘ کے اصول نافذ کیے جا رہے ہیں۔ یہ نوٹس بھی سوشل میڈیا پر متعدد بار شیئر کیا گیا ہے۔

بی بی سی ان تصاویر کی تصدیق نہیں کر پایا لیکن شنگھائی میں رہنے والے ایک غیر ملکی سے جب ہماری بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ہرے بیریئرز تین دن پہلے ان کے کمپاؤنڈ میں پہلی بار نظر آئے۔

یہ شخص، جس نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کی، کا کہنا تھا کہ ان کے کمپاؤنڈ کے مین گیٹ کے باہر تین ہفتے پہلے تالا لگایا گیا۔ یہ اقدام ان کی عمارت میں سے کووڈ کا کیس سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔

لیکن جمعرات کو انھوں نے کہا کہ ورکرز نے ایک نیا بیریئر لگایا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'کمپاؤنڈ میں ایک لمبا کاریڈور ہے اور اس کے اندر انھوں نے یہ گرین بیریئر تین دن پہلے لگائے ہیں۔ ہمیں کسی نے ان کے لگانے کی وجہ نہیں بتائی۔ کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔

’کسی کو نہیں پتا کہ لاک ڈاؤن کب ختم ہوگا۔ اگر آپ کے علاقے میں بیریئر لگا دیے گئے ہیں اور وہاں آگ لگ جائے تو کیا ہو گا؟ میرا نہیں خیال کے کوئی انسان جس کی دماغی حالت ٹھیک ہو وہ ایسا کرسکتا ہے۔‘

جہاں کچھ شہری انتظامیہ کے لوگ بیریئر لگا رہے ہیں وہیں کچھ ان ویڈیوز کو آن لائن بلاک کرنے میں مصروف ہیں، جو کہ شہر کے لاک ڈاؤن کے لوگوں پر اثرات کے بارے میں ہیں۔

ایسا ہی ایک غیر تصدیق شدہ چھ منٹ کا ویڈیو کلپ ہے جس میں مقامی آبادی کے لوگ خوراک کی غیر مناسب سپلائی اور طبی سہولیات کے بارے میں شکایت کر رہے ہیں۔ اس کلپ میں ایک شخص یہ بھی بتا رہا ہے کہ اس نے بہت دنوں سے کچھ نہیں کھایا۔

چین میں حکومتی پالیسیوں پر عوامی تنقید عموماً کم ہوتی ہے لیکن گذشتہ کچھ ہفتوں میں شنگھائی کے مکینوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت شکایات پوسٹ کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شہر کے لاک ڈاؤن والے علاقوں میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیا تک رسائی حاصل نہیں پا رہے اور حکومت کی جانب سے دیے جانے والے گوشت، سبزی اور انڈوں کے آنے کا مجبوراً انتظار کر رہے ہیں۔

شہر میں دوسرے اقدامات بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن میں دروازوں پر الیکٹرانک الارم شامل ہیں جس سے وہ لوگ جنھیں وائرس ہے اس جگہ سے نہیں جاسکتے۔ اس کے علاوہ شہریوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکال کر گھر کو صاف یا ڈس انفیکٹ کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

شنگھائی میں حکام نے کووڈ کے تمام متاثرین اور ان کے قریبی لوگوں کو حکومتی قرنطینہ مراکز بھیج دیا ہے۔

اتوار کو شہر میں کووڈ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 39 تھی جبکہ نئے متاثرین 21000 سے تجاوز کر گئے۔ یہ اعداد و شمار اب تک شنگھائی میں سب سے زیادہ ہیں۔

دوسرے ممالک کے مقابلے میں چین 'زیرو کووڈ' سٹریٹیجی کو فروغ دے رہا ہے، جس کا مقصد پورے ملک سے کووڈ کا خاتمہ ہے۔

حکام متاثرین کی تعداد کو وبا کی پہلی لہر کے دوران کم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن حالیہ عرصے میں کووڈ کی نئی اقسام کے آنے کے بعد وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔