آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں پاکستانی ڈگری کالعدم: پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طلبا ذہنی تناو کا شکار
- مصنف, ریاض مسرور، محمد زبیر خان
- عہدہ, بی بی سی اُردو
’میرے منگیتر کو پاکستان جا کر پڑھنے پر اعتراض تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اجازت دی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ پاکستان جانے کا کیا فائدہ ہوگا جب انڈیا میں ڈگری قبول ہی نہیں۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ بس خاموش رہتی ہوں۔‘
ثمرین گل (فرضی نام) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک میڈیکل کالج میں تیسرے سال کی طالبہ ہیں جو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر اپنے گھر عید کے لیے لوٹیں تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ انڈیا کی حکومت ان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگا دے گی۔
فواد حسن (فرضی نام) کا تعلق بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔ وہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں میڈیکل کالج کے چوتھے سال کے طالب علم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میرے والدین چاہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ انڈیا میں کوشش کی مگر داخلہ نہیں ملا۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں کوشش کی۔ پاکستان میں نہ صرف داخلہ ہوا بلکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں سستا بھی تھا۔ چار سال میں کئی مرتبہ اپنے گھر گئے، بارڈر بھی کراس کیے۔‘
ثمرین اور فواد حسن سمیت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے کئی طالب علموں، جو پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا حال ہی میں کر چکے ہیں، کے لیے انڈیا کے اعلی تعلیم کے وفاقی ادارے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو سی جی) اور آل انڈیا کمیشن برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کا وہ اعلان ذہنی تناو کا باعث بن چکا ہے جس کے مطابق پاکستان سے حاصل کردہ ڈگری کی بنیاد پر آئندہ سے انڈیا میں تعلیم یا نوکری نہیں ملے گی۔
بی بی سی نے ایسے کئی طلبا سے بات کی جن کا تعلق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان طلبا نے بی بی سی سے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بات کی۔
پاکستان میں کتنے کشمیری یا انڈین طلبا زیر تعلیم ہیں؟
واضح رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دہائیوں سے جاری سٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرام کے تحت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے نوجوان ہر سال پاکستانی تعلیمی اور تربیتی اداروں میں داخلہ لیتے تھے۔
پاکستان میں فی الوقت زیرتعلیم کشمیریوں کی تعداد کے بارے میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اب تک کوئی مجموعی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
تاہم پاکستان سے واپس لوٹنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برس سے ہر سال کم از کم 100 نوجوان طِب، انجنئیرنگ یا آئی ٹی کے شعبوں میں ڈگریاں لے کر کشمیر لوٹتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرنے والے طلبا کا ماننا ہے کہ پاکستان میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی تعداد تقریبا ہزاروں میں ہے جن میں خواتین کا 40 فیصد تناسب ہے۔ ایک طالب علم کا اندازہ تھا کہ کم از کم پانچ ہزار ایسے طلبا پاکستان سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن بی بی سی اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کے پاس بھی ایسے کوئی اعداد و شمار نہیں کہ اس وقت پاکستان میں کتنے کشمیری یا انڈین طلبا زیر تعلیم ہیں۔ بی بی سی نے پاکستان کے دفتر خارجہ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن دونوں سے ہی اس سلسلے میں رابطہ کیا لیکن بتایا گیا کہ فی الحال ایسے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔
انڈیا میں پاکستانی ڈگری سے جڑا تنازع
2016 میں مسلح عسکریت پسند لیڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پاکستان میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کا معاملہ انڈین میڈیا میں بحث کا موضوع بنا جس کے بعد حال ہی میں انڈین اداروں کا یہ متنازع فیصلہ سامنے آیا ہے۔
اس فیصلے سے قبل 2020 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی ایک متنازع مقدمہ سامنے آیا جو جموں کشمیر پولیس کے کاوئنٹر انٹیلیجنس کشمیر (سی آئی کے) شعبے نے درج کیا۔
اس مقدمے میں الزام لگایا گیا کہ کشمیری علیحدگی پسند رہنما پاکستانی تعلیمی اداروں میں داخلے کے عوض کشمیریوں سے لاکھوں روپے لیتے ہیں اور یہ سرمایہ بعد میں مسلح تشدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
گزشتہ برس اگست میں اسی معاملے کی مزید تفتیش کے دوران سابق مسلح کمانڈر اور حریت رہنما ظفراکبر بٹ سمیت کئی افراد کی گرفتاری پر سی آئی کے نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ پاکستانی ڈگریاں فروخت کرنے کے جرم میں قید کئے گئے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ حریت رہنما ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کے رشتہ داروں کے لیے پاکستانی حکام کو سفارشی خطوط لکھ کر کشمیری طالب علموں کو داخلہ دلاتے تھے۔
حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے پولیس کے اس دعوے کو یہ مبالغہ آرائی قرار دیا اور کہا ’یہ بات خود طالب علموں یا اُن کے والدین سے بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔‘
پاکستان سے ہی ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر واپس لوٹے ایک نوجوان کے والد نے نے بی بی سی کے سرینگر میں نمائندہ ریاض مسرور کو بتایا کہ ’یہ نوجوان اپنے پیسوں پر ڈگریاں لیتے تھے، اور ان کی تعلیم و تربیت پر پاکستانی وسائل خرچ ہوتے تھے۔ واپسی پر وہ کشمیر میں ہی کشمیری انتظامیہ کا ایک ہیومن ریسورس (انسانی وسیلہ) بن جاتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے سے برین ڈرین ہوگا۔ ظاہر ہے جب ایک ڈگری یافتہ نوجوان یہاں ناکارہ قرار دیا جائے گا تو وہ کیا کرے گا؟ وہ یا تو پاکستان واپس جائے گا یا پھر خلیجی ممالک یا برطانیہ اور امریکہ جائے گا۔ یہ بالکل صحیح فیصلہ نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ ہمارا مستقبل کیا ہے‘
انڈیا میں ہونے والے اعلان کے بعد پاکستان میں زیرتعلیم اور فارغ التحصیل نوجوان اس حکم نامے میں موجود ابہام کی وجہ سے زیادہ پریشان ہیں۔
پیشاور کی میڈیکل یونیورسٹی میں زیرتعلیم ایک کشمیری طالب علم کا کہنا تھا کہ ’یہ لکھا ہی نہیں کہ ڈگریاں کس تاریخ سے کالعدم ہونگی؟ کیا جو پڑھ چکے ہیں اُن کی ڈگریاں بھی کالعدم ہیں؟ جو زیرتعلیم ہیں اُن کا سٹیٹس کیا ہے؟ یہ آرڈر کب سے نافذ ہوگا؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جنہوں نے ہمیں زیادہ پریشان کر رکھا ہے۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے بولان میڈیکل کالج میں زیرتربیت ایک طالب علم کے بھائی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور نکتے پر توجہ دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکمنامہ یو جی سی اور اے آئی سی ٹی ای کی طرف سے جاری ہوا ہے جن کا دائرہ اختیار تحقیق کرنے یا انجینیئرنگ اور آئی ٹی شعبوں تک ہے۔ ڈاکٹری کے طلبا کو بھارت کا وفاقی ادارہ میڈیکل کونسل آف انڈیا ریگولیٹ کرتا ہے، حکم نامے میں اُس کا ذکر ہی نہیں۔ کوئی وضاحت نہیں کرتا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے۔‘
’ہمیں انڈیا میں داخلہ دیا جائے‘
ثمرین گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر انڈیا کی حکومت نہیں چاہتی کہ ہم پاکستان سے جا کر ڈگری لیں تو ہمیں انڈیا کے تعلیمی اداروں میں اسی سال میں داخلہ دیا جائے۔ ہم پاکستان نہیں جائیں گے اور جو ابھی بھی وہاں پر موجود ہیں وہ بھی واپس آجائیں گے۔‘
فواد حسن بھی ثمرین سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ انڈیا پالیسی نہ بنائے مگر ان طالب علموں کا ضرور خیال رکھیں جو اس وقت پاکستان میں تعلیم شروع کر چکے ہیں۔ اس پالیسی میں تھوڑی ترمیم کر لیں۔ نئے طالب علموں کو واضح طور پر پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیں مگر جو اس وقت پاکستان میں موجود ہیں ان کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دے دیں۔
ثمرین گل کہتی ہیں کہ ’میرا بڑا بھائی اور چھوٹی بہن معذور ہیں۔ میرے والد کی ایک چھوٹی سے کریانہ کی دوکان ہے۔ وہ بھی اکثر بیمار رہتے ہیں۔ انھوں نے بڑی مشکل سے قرض لے کر میرے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔ میں ڈاکٹر بن کر واپس اپنے علاقے میں پریکٹس کرنا اور اپنے ماں باپ کا سہارا بننا چاہتی ہوں۔‘
نعیم ڈار پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک انجینیئرنگ یونیورسٹی میں فائنل ایئر کے طالب علم ہیں۔ ان کا آبائی علاقہ بھی انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا دونوں ملکوں کی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں، ہم صرف اور صرف طالب علم ہیں جو اپنے خاندانوں کی امیدوں کا مرکز ہیں۔‘
نعیم ڈار کہتے ہیں کہ ’یہ بات صرف ایک طالب علم کی نہیں ہے بلکہ کئی خاندانوں کی امیدوں کے لٹ جانے اور ان کے مستقبل تاریک ہونے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے کئی لوگوں نے پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ان میں کئی لوگ انڈیا کی مختلف ریاستوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
ایسا نہیں کہ پاکستان سے ڈگری حاصل کرنے والے انڈین طلبا کے لیے پہلے کسی قسم کے مسائل نہیں تھے۔ انڈیا کے قانون کے مطابق پاکستانی اداروں سے اعلیٰ تعلیم یا تکنیکی ڈگریاں لینے والے سبھی انڈین طالب علموں کو ملک میں کام کرنے کے لیے اہلیت کا امتحان پاس کرنا ہوتا تھا جس کے لیے مرحلہ وار سیکورٹی کلیئرنس سے بھی گزرنا پڑتا تھا۔
سوپور کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گزشتہ تین برس سے کلیئرنس کا یہ عمل بھی رُکا پڑا ہے۔ انکار بھی نہیں کیا گیا، لیکن فائلیں دفتروں میں پڑی ہیں اور فارغ ہوچکے نوجوان کہیں پر نوکری بھی نہیں کرسکتے۔‘
سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر کشمیر لوٹنے والے طاہر خان (فرضی نام) اس اعلان کے بعد سے ذہنی تناوٴ میں مبتلا ہیں۔ اُن کے بڑے بھائی جاوید خان (فرضی نام) نے اب نفسیاتی امراض کے ایک ماہر ڈاکٹر سے اُن کے علاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
جاوید کہتے ہیں کہ ’میرے چھوٹے بھائی ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہیں اور میں خود نجی نوکری کرتا ہوں۔ والد کی چند سال پہلے موت ہوگئی۔ بہت مشکلات میں بھائی کو ڈاکٹر بنانا چاہا، سوچا تھا بھائی گھر کی ذمہ داری لے گا، دوسرے بیمار بھائی کا بہتر علاج ہو سکے گا، لیکن یہ اعلان ہمارے گھر پر ایک بجلی کی طرح گرا ہے۔‘
’پاکستان نے انڈیا سے وضاحت طلب کی ہے‘
پاکستان کی وزارت خارجہ نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن آف انڈیا اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے نوٹس کی مذمت کی جس میں ’طلبا کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور انہیں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو ملازمت سے انکار کر دیا جائے گا۔‘
پاکستان کے مطابق ’اس پبلک نوٹس کا لہجہ نہ صرف طلباء کے لیے خطرہ ہے بلکہ ظالمانہ آمریت کا بھی اظہار کرتا ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے ساتھ اپنے لاعلاج جنون کی وجہ سے، حکومت انڈیا طلباء کو اپنی پسند کی معیاری تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بے دریغ مجبور کر رہی ہے۔‘
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پبلک نوٹس کے مندرجات نے بی جے پی-آر ایس ایس کے اتحاد کی پاکستان کے خلاف دائمی دشمنی کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہندو راشٹرا کے مشن کے تحت انڈیا میں ہائپر نیشنلزم کو ہوا دینے کے لیے ایسی حرکتیں کی گئی ہیں۔‘
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق انڈین حکومت سے اس معاملے پر وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔