پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کا کیا ہوا؟

    • مصنف, اننت جھنانے
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

24 اکتوبر کو پاکستان کے ہاتھوں انڈیا کی شکست کا جشن منانے کے الزام میں گرفتار تین کشمیری طلباء کو ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔ انھیں ریاست اترپردیش کے شہر آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے خود ٹوئٹ کیا تھا کہ 'پاکستان کی جیت کا جشن منانے والوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے گا۔‘

گرفتار طلباء آگرہ کے راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں۔ ارشد یوسف اور عنایت الطاف شیخ انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ہیں اور شوکت احمد غنی چوتھے سال میں ہیں۔

تینوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153اے ،505 ایک بی اور آئی ٹی ایکٹ 2008 کی دفعہ 66 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ تینوں نے ملک مخالف نعرے لگائے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ماحول خراب ہونے کا خدشہ تھا۔

ریاست وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی ٹوئٹ کے بعد ان کے خلاف غداری کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات اور عمان میں کھیلے جارہے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان نے انڈیا کو دس وکٹوں سے شکست دی تھی اور ان طلباء پر الزام ہے کہ انھوں نے پاکستان کی جیت کی خوشی میں واٹس ایپ پر 'لو یو بابر' اور 'انڈیا میرا ملک نہیں، میرا ملک کشمیر ہے' جیسے پیغامات پوسٹ کیے۔ جب ان چیٹس کے سکرین شاٹ وائرل ہوئے تو کالج انتظامیہ نے ان تینوں طلبہ کو 25 اکتوبر کو معطل کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق جب یہ خبر پھیلی تو بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے لوگ کالج کیمپس میں آگئے اور وہاں موجود پولیس سے تینوں طلبہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مورچہ کے ڈویژنل صدر گوراو راجاوت نے یہ بھی الزام لگایا کہ انھوں نے دوسرے طلباء سے معلومات حاصل کیں کہ 'پاکستان میچ کے فوراً بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے اور کہا کہ انڈیا میرا ملک نہیں، میرا ملک کشمیر ہے، یہ انتہائی بے حیائی ہے۔ کیونکہ جو یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں وہ ہمارے ملک کو توڑنے کی بات کریں ایسے لوگوں کے لیے ہمارے ملک، ہماری ریاست اور ہمارے شہر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔'

27 اکتوبر کی رات پولیس نے ارشد یوسف، عنایت الطاف شیخ اور شوکت احمد غنی کو گرفتار کیا تھا۔ آگرہ کے کچھ وکلاء نے اعلان کیا تھا کہ بار کا کوئی وکیل ان تینوں طالب علموں کی پیروی نہیں کرے گا۔

آگرہ میں یوتھ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کے منڈل صدر نتن ورما کا کہنا ہے کہ ' سب کی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم کشمیری طلباء کی کسی بھی طرح کی قانونی مدد نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے انڈیا میں رہ کر انڈیا مخالف کام کیا ہے۔'

سکالرشپ کے ساتھ زیر تعلیم طلباء کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو معاف کر دو۔

اپنے بیٹوں کی گرفتاری کی خبر ملتے ہی ان کے گھر والوں نے آگرہ پہنچ کر اپنے بچوں کی خیریت دریافت کی۔ یہاں ان تینوں کے افرادِ خانہ نے 2 اور 3 نومبر کو اپنے بچوں سے ملاقات کی۔

انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم 22 سالہ شوکت احمد غنی کے والد 58 سالہ شعبان کے مزید تین بچے ہیں۔ شعبان سرکاری سکیم منریگا میں مزدور ہیں اور کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے میں رہنے والا یہ خاندان ان کی، شعبان اور ان کے دوسرے بیٹے کی آمدنی پر چلتا ہے۔

شوکت کے والد کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ ان کے بیٹے پر ایسے اشتعال انگیز بیانات لکھنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔

آگرہ میں شوکت سے ملاقات کے حوالے سے شعبان کا کہنا ہے کہ'میں آگرہ آیا اور بچے سے ملا، وہ کہتا ہے کہ 'میں نے کچھ نہیں کیا اور میں بے قصور ہوں۔'

'میرے بیٹے نے یہ بھی کہا کہ میرا واٹس ایپ چیک کرو، یا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرو۔ میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا۔'

وہ کہتے ہیں، 'ہم کہتے ہیں کہ اگر بچے سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اسے معاف کر دینا چاہیے۔ بچوں کے کیریئر میں کوئی داغ نہیں لگنا چاہیے۔ امید ہے یوگی صاحب اسے معاف کر دیں گے۔ ہمارے گاؤں شاہ گنڈ کے تمام لوگوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔'

وزیر اعظم سکالرشِپ کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے شوکت

شعبان اپنی مالی مجبوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا شوکت وزیر اعظم کی سکالرشپ سکیم کے تحت تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں'اگر ہماری مالی حالت اچھی ہوتی تو ہم بچوں کو سکالرشپ پر پڑھنے کے لیے کیوں بھیجتے۔ ہم اتنے غریب ہیں کہ فیس بھی نہیں دے سکتے۔ ہم خود منریگا کے تحت مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہم سڑکیں بناتے ہیں، گٹی اٹھاتے ہیں۔ ایک اور لڑکا ہے جو مزدوری کرتا ہے۔ صرف یہی بچہ ہے جس سے ہمیں امیدیں ہیں۔'

21 سالہ عنایت الطاف شیخ کے والد محمد الطاف شیخ بڈگام میں بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔

اپنے بیٹے کے بارے میں الطاف کہتے ہیں'وہ تین سال سے آگرہ میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔'

عنایت کے والد کو ان سے بہت امیدیں ہیں۔ ٹانگ میں چوٹ کی وجہ سے وہ خود بھی عنایت سے ملنے آگرہ نہیں جا سکے۔ انھیں یقین ہے کہ عنایت کو عدالت سے ضمانت مل جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسے کچھ غلط کرنا ہوتا تو وہ آگرہ تعلیم حاصل کرنے کیوں جاتا۔'

'وہ صرف پڑھنے گیا تھا پتہ نہیں انھوں نے کیا الزام لگا دیا اس پر۔'

اپنے بیٹے کے لیے وزیر اعظم سے مدد مانگتے ہوئے محمد الطاف شیخ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے، ان بچوں کو معاف کر دینا چاہیے، یہ کسی دوسرے ملک میں پرورش نہیں پا رہے، اگر کرکٹ کے حوالے سے ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وزیر اعظم صاحب کو انھیں معاف کر دینا چاہیے۔'

ان کا کہنا تھا ’ہم صرف گزارش کر سکتے ہیں، سب کہتے ہیں کہ اس بار ان بچوں کو معاف کر دیں، آج بچوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب کرکٹ ہو یا کچھ بھی، اب تویہ قانون بن چکا ہے، اب کوئی بچہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔'

ارشد کی ماں حنیفہ کھیت میں مزدوری کرتی ہیں

سول انجینئرنگ کے تیسرے سال کے طالب علم ارشد یوسف کے والد سنہ 2000 میں ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ ارشد کی والدہ حنیفہ کھیت میں مزدوری کرتی ہیں۔ بڈگام کی رہنے والی حنیفہ کی بیٹے ارشد کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں۔

جیل میں ارشد سے ملنے آنے والے ان کے ماموں لطیف احمد نے بتایا کہ 'ارشد نے بتایا کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا، ایک دوست سے چیٹنگ کر رہے تھے اور دوست نے اس کا میسج فارورڈ کیا، اس کی گفتگو کا سکرین شاٹ اپ لوڈ کر دیا گیا۔'

'یہ ان کے کیریئر کا سوال ہے، اور ہم صرف ان کی رہائی چاہتے ہیں۔ ہم پی ایم صاحب اور سی ایم یوگی جی سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں کہ ان کے مستقبل کا خیال کرتے ہوئے انھیں رہا کریں۔ ہم بہت پریشان ہیں۔'

ضمانت ملنا مشکل ہو سکتا ہے

آگرہ میں وکلاء کے بائیکاٹ کے بعد تینوں طالب علموں کی مشکلات بڑھ گئی تھیں حالانکہ اب آگرہ سے متصل متھرا کے ایک وکیل مدھوون دت چترویدی کو ان کے دفاع کے لیے وکالت نامہ ملا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مدھوون دت نے کہا کہ نچلی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا معاملہ ہم نے ابھی ملتوی کر دیا ہے۔ آگرہ کی بار ایسوسی ایشن نے جس طرح وہاں ایک قرارداد پاس کی ہے کہ ان لڑکوں کی کوئی قانونی مدد نہیں کی جائے گی اور آگرہ میں وہ ماحول نہیں ہے کہ ہم پرامن طریقے سے اور آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، کچھ رسمی کارروائیاں بھی باقی ہیں جیسے کہ حلف نامے تیار کیے جانے ہیں۔'

تینوں طلبہ نے خود وکالت نامے پر دستخط کیے ہیں اور مدھوون چترویدی کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے۔

ضمانت ملنے کے امکان کے بارے میں مدھوون چترویدی کہتے ہیں'میرٹ کی بنیاد پر اس کیس میں ضمانت ملنی چاہیے لیکن عملی طور پر کیا ہوتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، سوائے اس امید کے کہ عدالت حکومت کے دباؤ میں کام نہیں کرے گی۔'

'یہ ہمارا اعتماد ہے اور ہم امید کریں گے کہ عدلیہ اس بھروسے کو قائم رکھے گی، ہم اپنے تعاون کے لیے آگرہ میں وکلاء تلاش کر رہے ہیں جو وہاں ہماری مدد کر سکیں اس میں ایک دو دن مزید لگیں گے اور جلد ہی ہم درخواست داخل کریں گے۔'

طلباء کے اہل خانہ نے ایڈوکیٹ مدھوون چترویدی سے بھی ملاقات کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ بچوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی قابل اعتراض روابط ہیں۔

ان طالب علموں کو کن حالات میں گرفتار کیا گیا اور ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا، اس کے بارے میں ان کے وکیل نے کہا کہ 'جب انھیں پہلی بار ریمانڈ کے لیے لایا گیا تو ان بچوں کے ساتھ کوئی وکیل نہیں تھا جو انکی ریمانڈ پر بحث کرتا اور نہ ہی انھیں ایمائکس کیورائی دیا گیا جو مہیا کرانا عدالت کی ذمہ داری تھی وہ ان بچوں سے پوچھے کہ ان کے پاس وکیل ہے یا نہیں بچوں سے ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا گیا'۔

وہ کہتے ہیں'سپریم کورٹ کہتی ہے کہ محض ایف آئی آر کا اندراج کسی کو گرفتار کرنے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔ جب تک کہ آپ نے کچھ ٹھوس ثبوت برآمد نہیں کیے ہوں۔ اور اس دن تک انھوں نے ایسے کیا ثبوت اکٹھے کیے تھے کہ انھیں گرفتار کرنے کی ضرورت پڑی۔ اب یہ بات اگلے ریمانڈ پر ہی معلوم ہو گی۔‘

آگرہ کے سینئر وکیل امیر احمد کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ صرف بی جے پی سے وابستہ وکلاء کا ہے اور وہ اس کیس کے دفاع میں مدھوون چترویدی کی پوری مدد کریں گے۔

معاملے کو سیاسی رنگ دیے جانے کے بارے میں امیر احمد کا کہنا ہے کہ 'مجھے نہیں لگتا کہ ضمانت آسانی سے مل جائے گی، پہلے ان پر غداری کا کیس نہیں تھا۔ جب وزیر اعلیٰ نے ٹوئٹ کیا کہ ان پر غداری کا الزام عائد کیا جائے گا اس کے بعد پولیس نے فوری طور پر اسے کیس میں شامل کر لیا۔ ایف آئی آر میں وہ دفعہ نہیں ہے۔ 124 اے یعنی بغاوت کی دفعہ ایف آئی آر میں وہ سیکشن نہیں ہے، لیکن بعد میں پولیس نے اسے بھی شامل کر دیا۔ پولیس وہی کر رہی ہے جو حکومت چاہتی ہے، اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ یہ اتنا آسان ہے۔ لیکن ہم قانونی دلائل دیں گے اور ان کی ضمانت کروانے کی کوشش کریں گے۔'

کھیل میں کسی دوسرے ملک کی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے الزام کو قانونی طور پر کمزور قرار دیتے ہوئے عامر احمد کہتے ہیں'کسی ٹیم کو سپورٹ کرنا کوئی جرم نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ 'نعرے لگائے گئے تو نعروں کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نعرے بازی تو ہوئی ہی نہیں۔ صرف ایک واٹس ایپ چیٹ تھی۔'

کالج انتظامیہ کا کیا کہنا ہے؟

اس معاملے پر ہنگامے کے بعد راجہ بلونت سنگھ انجینئرنگ کالج کی انتظامیہ نے 24 تاریخ کو ارشد، عنایت اور شوکت کو پاکستان کے حق میں واٹس ایپ سٹیٹس ڈالنے پر بے ضابطگی کا حوالہ دیتے ہوئے معطل کر دیا۔

آر بی ایس کالج کے بیچ پور کیمپس کے ڈین ڈاکٹر اپوروا بہاری لال کا کہنا ہے، 'ہمیں صرف سکرین شاٹ کے وائرل ہونے کا معاملہ ملا اور جب طلباء سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے ہم نے انھیں معطل کر دیا۔ ہمیں ایف آئی آر میں نعرے لگانے کے بارے میں نہیں معلوم کیونکہ ہم نے ایف آئی آر نہیں دیکھی ہے۔ لیکن ہم نے پاکستان کی جیت کا جشن منانے والے واٹس ایپ سٹیٹس کو درست پایا۔‘

آگرہ ضلع کے پبلک پراسیکیوٹر بسنت گپتا کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات میں کافی ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ طلباء کو ضمانت دینے کی مخالفت کریں گے۔

بسنت گپتا کہتے ہیں'ضمانت کی درخواست نچلی عدالت میں جائے گی۔ ان کا جرم غداری ہے، دوسرے ملک کی تعریف کرنا ملک دشمنی ہے اور انھوں نے اپنا واٹس ایپ سٹیٹس ڈالا ہے۔ اور وہاں واٹس ایپ چیٹ بھی ہے۔ زبانی شہادت کی ضرورت نہیں یہاں دستاویزی ثبوت کافی ہیں اور تمام شواہد ان کے موبائل سے برآمد ہوئے ہیں وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے، عدالت کے سامنے یہ ثبوت پیش کیے جائیں گے اور اسی بنیاد پر ہم ضمانت کی مخالفت کریں گے۔'

(آگرہ سے نسیم احمد کے کے اپڈیٹ کے ساتھ)