آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں 22 سیاحوں کی جان بچانے والے پنالال: اپنے بچوں کا سوچتا تو اتنے لوگوں کو نہ بچا پاتا
- مصنف, روی پرکاش
- عہدہ, بی بی سی ہندی، رانچی
42 برس کے پنالال پنجیارا ان دنوں بہت مصروف ہیں۔ ان کے گھر آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر بھی نہیں جا پا رہے۔ پنالال کو امید ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد وہ 16 اپریل سے واپس کام پر جا سکیں گے۔
پنالال ڈی آر آئی ایل کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں جو تریکوٹ پہاڑ پر روپ وے چلاتی ہے۔ تاہم 10 اپریل کی شام کو یہاں ایک بڑا حادثہ ہوا جس کے بعد کئی لوگ پہاڑ پر ہی پھنس کر رہ گئے۔
ریسکیو آپریشن کے دوران تین لوگوں کی موت بھی واقع ہوئی۔ اس حفاظتی آپریشن کے دوران پنالال پنجیارا نے جان پر کھیل کر تقریباً 700 فٹ کی بلندی پر چیئرلفٹ میں پھنسے 22 سیاحوں کو بچایا۔
ان کے اس کارنامے کی وجہ سے وزیر اعظم نریندر مودی اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے نہ صرف ان کی تعریف کی بلکہ ان دونوں رہنماؤں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پنالال سے بات کی اور ان کو انعام سے بھی نوازا۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کو جھارکھنڈ میں سینکڑوں سیاح پوجا پاٹ اور سیر سپاٹے کے لیے پہنچے تھے۔ روپ وے کی ایک چیئرلفٹ نیچے آ رہی تھی، اسی دوران اوپر جانے والی چیئرلفٹ اس سے ٹکرا گئی۔
جس وقت یہ حادثہ ہوا اس وقت تقریباً دو درجن ٹرالیاں اوپر تھیں۔ اس حادثے میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک لاکھ کیش انعام اور گھر میں لیٹرین بنوانے کا وعدہ
جھارکھنڈ کی حکومت نے پنالال کو ایک لاکھ روپے انعام دیا ہے، جس کی وجہ سے ان کا ذکر میڈیا میں ہے اور لوگ اب بڑی تعداد میں ان کے گھر کا رخ کر رہے ہیں۔
تریکوٹ پہاڑی جھارکھنڈ کے دیوگھر شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔ پنالال پنجیارا اپنے تین بچوں سنجو، راہول، خوشبو اور بیوی سنیتا دیوی کے ساتھ تریکوٹ پہاڑ کے قریب واقع گاؤں تیرانگر میں رہتے ہیں۔ یہاں ان کا ایک چھوٹا سا گھر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا آبائی گاؤں بھی پہاڑ کے قریب ہے لیکن وہاں ان کے پاس کم زمین ہونے کی وجہ سے انھوں نے تیرانگر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ اب یہی ان کی رہائش گاہ ہے۔
یہ اتفاق ہے کہ پنجیرا کی بہادری کا خود وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے۔
وہ بی جے پی حکومت کی بیشتر سکیموں کا فائدہ حاصل نہیں کرسکے۔ انھوں نے اپنے طور پر دو کمروں کا گھر بنایا لیکن اس میں لیٹرین تک بنا سکے، جس کی وجہ سے ان کا خاندان رفع حاجت کے لیے باہر کھلے علاقوں میں جاتا ہے۔
جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے سرکاری سہولیات کی عدم دستیابی کی خبر کے بعد حکام کو پنالال کے گھر میں لیٹرین تعمیر کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بی بی سی کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہوں گی۔
پنالال کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ تب ان کی عمر صرف 10 برس تھی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی زندگی پانچ بہن بھائیوں کے ساتھ بسر کی۔ اس لیے انھیں بچپن سے ہی محنت کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ ان پڑھ ہیں لیکن ان کی ہمت نے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
پنالال نے کہا ’روپ وے میں کام کے مجھے تقریباً 15000 روپے ملتے ہیں لیکن اگر مجھے زیادہ تنخواہ کے ساتھ سرکاری نوکری اور سہولیات مل جاتیں تو خاندان چلانا آسان ہو جاتا۔‘
سیاحوں کے بچاؤ کی کہانی، پنالال کی زبانی
پنالال نے رام نومی کی شام کو پیش آئے روپ وے حادثے کی پوری کہانی سنائی۔ ’ان کے مطابق اگر میں اپنے بچوں کے بارے میں سوچتا تو شاید میں اتنے لوگوں کو نہ بچا پاتا۔‘
’اب میں مطمئن ہوں کہ میری وجہ سے 22 جانیں بچ گئیں۔‘ وہ ان گاؤں والوں کے بھی شکر گزار ہیں، جن کی مدد سے انھوں نے لوگوں کی جان بچائی۔
اس دن رام نومی تھی۔ 'میرے گاؤں میں درگا پوجا ہوتی ہے۔ اس دن پرساد کی روایت ہے۔ اس لیے میں نے اپنے انچارج سے صرف اس لیے چھٹی لی کہ میں گھر پر پرساد دے کر کام پر واپس آؤں گا۔ گھر جاتے ہوئے میں ایک دکان پر گُٹکا کھانے کے لیے رکا۔‘
’اسی دکاندار نے مجھے روپ وے حادثے کی اطلاع دی۔ میں ہکا بکا رہ گیا اور گھر جانے کے بجائے ڈیوٹی پر واپس چلا گیا۔‘
’وہاں کافی ہجوم تھا۔ پہلے تو مجھے ڈر تھا کہ لوگ ہمیں مارنا شروع کر دیں گے۔ لیکن میں ہمت کر کے آگے بڑھ گیا۔ اس کے بعد کا منظر چونکا دینے والا تھا۔ لوگ چیئرلفٹ میں پھنسے ہوئے تھے، ان کی چیخیں نیچے تک آ رہی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’میں نے سوچا کہ اپنے طور پر اوپر پھنسے لوگوں کو بچانا مشکل ہے لیکن نیچے چیئرلفٹ میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ پھر میں نے حفاظتی بیلٹ اور رسی کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ تب پانچ بج رہے تھے۔‘
’ہم سمجھ گئے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے، اندھیرا ہونے سے پہلے ہی کرنا ہے۔ گاؤں والوں اور ساتھی ملازمین نے نہ صرف مجھے ہمت دی بلکہ میری مدد بھی کی۔‘
یہ بھی پڑھیے
پنالال کے مطابق ’رسی کی مدد سے لٹکنے اور اوپر چڑھنے کے بعد میں نے وہاں چار چیئرلفٹ میں پھنسے 16 سیاحوں اور ان کے تین سال سے کم عمر کے دو بچوں کو ایک، ایک کر کے بحفاظت بچا لیا۔‘ جب وہ انھیں نیچے لائے تو اندھیرا ہو چکا تھا اور انتظامیہ کی ٹیم بھی وہاں پہنچ چکی تھی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اندھیرے میں ریسکیو آپریشن کرنا ممکن نہیں۔
’پھر ہم اوپر نہیں گئے۔ اگلی صبح 11 اپریل کو آٹھ بجے دو ہیلی کاپٹرز آئے اور پہاڑ کے دو چکر لگانے کے بعد واپس چلے گئے۔ تب تک فوج کے اہلکار بھی پہنچ چکے تھے لیکن ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اتنی بلندی پر پھنسے لوگوں تک کیسے پہنچا جائے۔‘
پنالال کے مطابق ’پھر میں نے رسیوں کی مدد سے دوبارہ چڑھنا شروع کیا اور دوسری چیئرلفٹ میں پھنسے چار افراد کو باہر نکالا۔ اس طرح میں دو بچوں سمیت کل 22 لوگوں کو بچانے میں کامیاب رہا۔‘
اس کے بعد فوج، فضائیہ، آئی ٹی بی پی، این ڈی آر ایف اور مقامی انتظامیہ کے لوگوں نے ریسکیو آپریشن کیا اور تین لوگوں کو چھوڑ کر تمام سیاحوں کو بچا لیا گیا۔
پنالال کہتے ہیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ڈی سی نے میرے کام کو سراہا اور میری وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے بات کرائی۔ اس سے پہلے میں نے ان لوگوں کی صرف تصاویر دیکھی تھیں۔‘
’وزیراعظم کے سامنے بمشکل آدھا منٹ ہی بول سکا‘
دیوگھر کے ڈپٹی کمشنر منجوناتھ بھجنتری نے کہا کہ ’پنالال پنجیارا نے جھارکھنڈی کمانڈو کی طرح کام کیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’میں نے یہ بات وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو بھی بتائی تو انھوں نے پنالال کے لیے ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم بھیجی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ انڈیا کی وفاقی حکومت سے پنالال کو ایوارڈ دینے کی درخواست بھی کریں گے۔‘
وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی پنالال پنجیرا سے الگ الگ بات چیت کی۔ اس دوران ان دونوں رہنماؤں نے پنالال کے کام کی تعریف کی لیکن پنالال کو افسوس ہے کہ وہ وزیر اعظم کے سامنے بمشکل آدھا منٹ بول پائے۔
وزیراعظم نے ان سے دریافت کیا کہ کیا انھوں نے ریسکیو آپریشنز کی کوئی تربیت لی ہے۔
اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ پنالال جی نے جس انسانیت کا مظاہرہ کیا، جنھوں نے روپ وے حادثے میں لوگوں کی جان بچانے میں قابل ستائش کردار ادا کیا، اسے ہر کسی کو اپنانا چاہیے۔ ان کے کام میں فخر کا جذبہ ہے۔