انڈیا پاکستان تعلقات: شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد انڈیا اور کشمیر میں تعلقات میں بہتری کے بارے میں کیا توقعات ہیں؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر

پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم میاں شہباز شریف کا اس عہدے پر فائز ہونے کا سیاسی پسِ منظر جو بھی ہو لیکن انڈیا اور پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں بھی اس تبدیلی کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے امکان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم اس امکان سے متعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں کشمیر کی وجہ سے جنگ ہو سکتی ہے، تو کشمیر ہی دوستی کی بھی بنیادی وجہ ہونا چاہیے۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے شریف خاندان، خاص طور پر نواز شریف کے ساتھ تعلقات کو دیکھتے ہوئے اکثر مبصرین کو توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آنے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری ختم ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’وہ سب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔‘

بی بی سی کی نامہ نگار سروج سنگھ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انڈین تجزیہ نگار اِندرانی باگچی نے کہا ہے کہ ’شہباز شریف بھی نواز شریف کی طرح ہی ایک بزنس مین (تاجر) ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ اُن کا بزنس مین ہونا، پاکستانی وزیراعظم کے طور پر اُن کے نظریہ کو کیسے متاثر کرتا ہے۔‘

انڈین روزنامہ 'ٹائمز آف انڈیا' کی سابق مدیر برائے سفارتی امور اِندرانی باگچی کہتی ہیں کہ عمران خان احتجاجی سیاست کرتے تھے اور شہباز شریف روایتی سیاست کرتے ہیں۔

'روایتی سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بزنس مین بھی ہیں، لہٰذا وہ چاہیں گے کہ انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات بحال ہوں۔'

اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے گذشتہ کچھ عرصے سے انڈیا کے تئیں نرم رویہ اور تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش کے اظہار سے بھی پاک انڈیا تعلقات میں بحالی کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اندرانی باگچی گذشتہ برس جنرل باجوہ کی طرف سے ’ہمیں ماضی کو بُھلا کر آگے بڑھنا چاہیے‘ والا بیان دہراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پاکستانی فوجی سربراہ پچھلے تین ماہ سے ایسے اِشارے دے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے جبکہ عمران خان بطور وزیراعظم انڈیا کے ساتھ تجارتی بحالی کے لیے کشمیر کے خصوصی درجے کی بحالی کی شرط لگاتے رہے ہیں۔‘

گذشتہ برس جنرل باجوہ کا یہ بیان انڈیا اور کشمیر میں کئی ہفتوں تک موضوعِ بحث بنا رہا۔ اس بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہمیشہ خطرے میں رہیں گے اور یہ تعلقات سیاست سے متاثر ہونے والی ٹکراوٴ کی سوچ کے باعث پٹری سے اُتر سکتے ہیں۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی کو بُھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘

تاہم پاکستانی مصنفہ اور تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کسی فوری تبدیلی کے حوالے سے ذرا محتاط ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں تعلقات کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ ’کیا جنرل باجوہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع لیتے ہیں، اگر نہیں تو کیا فوج کے نئے سربراہ کی بھی یہی سوچ ہو گی۔‘

عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ اگر واقعی دونوں ملک تعلقات بحال کرنے پر آمادہ ہیں تو دونوں ملکوں کی قیادت کے پاس تعلقات میں گرمجوشی پیدا کرنے کے لیے چند ہی مہینے ہیں، ’کیونکہ اگلے سال پاکستان میں انتخابات ہونے ہیں جبکہ 2024 میں انڈیا میں الیکشن ہو گا اور پھر دونوں ملکوں کی قیادت داخلی سیاست کی مجبوریوں میں پھنس جائے گی۔‘

گذشتہ برس ہی انڈیا اور پاکستان کی فوج نے کشمیر کو تقسیم کرنے والی سرحد لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے کو کامیاب بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

ایک سال سے واقعی سرحدیں خاموش ہیں جس کا اعتراف انڈین پارلیمان اور اس کی عسکری قیادت کر چکی ہے۔

نواز شریف اور وزیراعظم مودی کے درمیان ’بہتر کیمسٹری‘

بعض انڈین تجزیہ نگاروں نے نواز شریف اور وزیراعظم مودی کے درمیان ’بہتر کیمسٹری‘ کا حوالہ دے کر توقع ظاہر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کا جمود ٹوٹ سکتا ہے۔

اس سلسلے میں دسمبر 2015 کا خوب حوالہ دیا جا رہا ہے جب وزیراعظم مودی افغانستان سے لوٹتے ہوئے اچانک لاہور پہنچے تھے جہاں انھوں نے اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی نواسی کی شادی کی تقریب میں شرکت بھی کی تھی۔

سنہ 2020 میں برطانیہ میں نواز شریف کی والدہ کی وفات پر مودی کی طرف سے انھیں لکھے گئے اُس خط کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے جس میں انڈین وزیراعظم نے تعزیت کرتے ہوئے نواز شریف کی والدہ کے ساتھ لاہور میں ہوئی ملاقات کا ذکر کیا تھا۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جو ہمسایہ ملک انڈیا کے کسی وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہوئے تھے۔

انڈیا کے اس وقت کے نومنتخب وزیراعظم مودی نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا تھا اور ان سے خصوصی ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کرنے کی بات کی تھی جہاں انھوں نے 1999 میں اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر چھوڑے تھے۔

مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کی والدہ کے لیے ایک شال بھیجی تھی۔ جس کے بعد پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے انڈین ہم منصب نریندر مودی کی والدہ کے لیے ایک ساڑھی بھیجی تھی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک طرف اب پاکستان میں شریف فیملی برسراقتدار ہے جس کے ساتھ مودی حکومت کے مراسم رہے ہیں اور دوسری طرف جنرل باجوہ کی قیادت میں فی الوقت فوج کا موڈ انڈیا کے ساتھ دوستی اور تجارت کی بحالی کا ہے۔

حافظ سعید کو سزا

کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو پاکستانی عدالت کی طرف سے مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا کا حالیہ عدالتی فیصلہ بھی انڈیا پاکستان کے تعلقات میں مفاہمت سے متعلق توقعات کو تقویت دے رہا ہے۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق ’لگتا ہے (جنرل) باجوہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں تاکہ انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔‘

واضح رہے کہ انڈیا نے حافظ سعید کو 2008 میں ملک کی تجارتی شہہ رگ کہلانے والے ممبئی شہر پر شدت پسند حملوں کا 'ماسٹر مائنڈ' قرار دیا تھا اور انڈیا کی طرف سے اکثر اوقات تعلقات کی بحالی کو ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا دینے کے ساتھ مشروط کیا جاتا رہا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان انڈیا تعلقات کو واپس پٹری پر لانے سے متعلق ’سی تھری‘ فارمولے کا بھی ذکر ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کلچر، کرکٹ اور کامرس۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیری کیا کہتے ہیں؟

پاکستان میں انتقالِ اقتدار سے متعلق انڈیا اور پاکستان کے تجزیہ نگاروں کی توقعات اپنی جگہ، انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اس حوالے سے محتاط توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماضی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششوں میں سرگرم رہنے والے کشمیری سیاسی رہنما محمد یوسف تاری گامی کہتے ہیں کہ ’کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے۔ لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے لیے تعلقات بہتر بنانا اب ایک ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے راستہ ہموار ہو گا، لیکن یہ معاملہ کیا رفتار پکڑے گا، ہمیں نہیں معلوم۔‘

سابق وزیر نعیم اختر نے بی بی سی کے ساتھ مختصر گفتگو میں بتایا کہ وہ بہت زیادہ پُرامید نہیں ہیں کیونکہ ’شہباز شریف کو الیکشن کا سامنا ہے اور عمران خان اُن کی حکومت کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کچھ ہونا ہی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ شروعات کشمیر سے ہونی چاہیے۔‘

انڈیا کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا حوالہ دیتے ہوئے نعیم اختر کہتے ہیں ’واجپائی نے کشمیر آ کر سرینگر میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔

’انھوں نے انڈیا پاکستان دوستی کو کشمیر کے پس منظر میں پیش کیا۔ اگر ماضی میں جنگ کشمیر پر ہوئی ہے تو دوستی کی شروعات بھی کشمیر سے ہونی چاہیے۔‘

غور طلب ہے کہ انڈین وزیراعظم 24 اپریل کو کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔ بعض حلقوں کو توقع ہے کہ وہ سرینگر میں کوئی ایسی بات کہہ سکتے ہیں جو انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں پیش رفت کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس پس منظر میں وزیراعظم مودی کی ٹویٹ نہایت اہم ہے جس میں انھوں نے شہباز شریف کے وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’انڈیا خطے میں دہشت گردی سے پاک امن اور استحکام چاہتا ہے تاکہ ہم (انڈیا اور پاکستان) تعمیر و ترقی کے اہداف پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنے لوگوں کی خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔‘

نعیم اختر کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کی دوستی کا اگر یہ فائدہ ہے کہ کشمیریوں کے شہری حقوق، آئینی حقوق اور انسانی حقوق بحال ہوتے ہیں تو یہ بہت عمدہ ہو گا۔

’کل کو یہ لوگ تجارت کریں گے اور انڈین پنجاب کا ٹماٹر پاکستانی پنجاب جائے گا، مگر کشمیر کے حالات جوں کے توں رہیں گے، تو میں اسے کیسے حوصلہ افزا سمجھوں۔‘

واضح رہے نعیم اختر نے فروری 2018 میں بھارتی روزنامہ 'دی انڈین ایکسپریس' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’خطے میں نیا گریٹ گیم شروع ہو رہا ہے۔ چین کشمیر میں ایک بڑا کردار ادا کرنے جا رہا ہے اور اُس نے دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث مسلح گروپ جیش محمد کو بھی گود لے لیا ہے، لہٰذا اب پاکستان کے ساتھ مفاہمت ضروری ہے۔‘

تاہم نعیم اختر نے فی الوقت اس بارے میں بات کرنے سے معذرت کی ہے۔

سیاسی حلقوں کے علاوہ یہاں کے سماجی حلقے بھی کسی معجزے کے منتظر نہیں ہیں۔

سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں کپڑوں کی تجارت کرنے والے فاروق احمد کہتے ہیں کہ ’تین نسلوں سے مذاکرات ہوتے رہے ہیں، تجارت ہوتی رہی، کبھی بند بھی ہوئی، جنگیں ہوئیں، کرکٹ بھی کھیلی لیکن ہم لوگوں کو کیا رعایت ملی۔ ہم سے ہر مرحلے پر کچھ نہ کچھ چھینا ہی جاتا ہے۔

’ہم خوش ہیں اگر دونوں ملک دوبارہ صلح کرتے ہیں، لیکن کشمیری تب خوش ہوں گے جب یہاں کی زمین پر حالات بدلیں گے۔ انڈیا پاکستان دوستی کون نہیں چاہتا ہے، لیکن اس دوستی کا فائدہ کشمیر میں دِکھنا چاہیے۔‘