نائنتھ ایونیو سے پریڈ گراؤنڈ تک: ’ایک طرف دکانیں بند تو دوسری جانب نئے سٹالز‘

    • مصنف, حمیرا کنول، فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

اسلام آباد میں پشاور موڑ کے مقام پر آج اتوار بازار تو نہیں لگا لیکن جے یو آئی کے جلسے میں آئے لوگوں کی وجہ سے گہما گہمی ہے۔ یہاں مولانا فضل الرحمان کے حامیوں کو آمد و رفت کی کھلی اجازت ہے۔ پولیس اہلکار جلسے کے آغاز کے منتظر دکھائی دے رہے ہیں لیکن یہاں سے ذرا آگے پریڈ گراؤنڈ میں ماحول مختلف ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسے میں وزیراعظم کی متوقع آمد کی وجہ سے سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے اور میڈیا کے نمائندوں کو بغیر اجازت اندر جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔

اس تحریر میں ہم آپ کو مولانا فضل الرحمان کے مہنگائی مکاؤ مارچ اور وزیراعظم عمران خان کے جلسہ عام کی جانب لے جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہاں اس وقت کیا صورتحال ہے۔

رات ختم ہونے کے بعد اب تیز دھوپ میں لوگ پانی کی تلاش میں سڑک کراس کرتے یا جی نائن موڑ کے ساتھ ہی موجود ٹیوب ویل پر بڑی تعداد میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گرین بیلٹس سے لے کر جی نائن موڑ کے اطراف ہر سڑک پر آپ کو کندھوں پر صافے ڈالے، ہاتھوں میں ڈنڈے یا پانی کی بوتل اٹھائے گپ شپ کرتے ہوئے چلتے پھرتے لوگ نظر آ رہے ہیں۔ یہ جے یو آئی کے کارکنان ہیں، اور ابھی بھی بہت سے لوگ ہاتھوں میں بیگ تھامے ٹیکسیوں اور گاڑیوں سے اترتے نظر آ رہے ہیں۔

فضا میں حکومت مخالف نغمے گونج رہے ہیں۔ یہی مناظر ہم پہلے بھی اسی شاہراہ پر دیکھ چکے ہیں جب مولانا فضل الرحمان کے کارکنان 14 روز تک یہیں آئے تھے۔

سری نگر ہائی وے پر گاڑیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ یوں کہیں کہ اس وقت جی نائن میں جے یو آئی کے کارکنان کو ہر جانب کھلے عام آنے جانے کی اجازت ہے۔

مگر قریب کی سڑکوں پر معمول کی ٹریفک رواں دواں ہے۔ گرین بیلٹس پر جے یو آئی کے کارکنان قہوہ بنانے، روٹیاں پکانے میں مصروف ہیں۔ کچھ بیگ اٹھائے جی نائن مرکز کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں شاید وہ کسی ہوٹل کی تلاش میں ہیں۔

یہاں میری ملاقات کوئٹہ سے آئے چند افراد سے ہوئی۔ ایک شخص نے بتایا کہ میں مدرسے میں استاد ہوں آج کل چھٹیاں بھی ہیں، اس لیے میں بھی یہاں آیا ہوں اور ہم مولانا جب تک کہیں گے، یہیں رہیں گے۔

پندرہ افراد کے اس گروہ میں لالہ خان بھی شامل ہیں۔ مجھے تصویر بناتا دیکھ کر وہ سڑک کراس کر کے میری جانب آئے اور بتایا کہ ہم رات دو بجے یہاں کوئٹہ سے آئے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کتنا خرچہ ہوا ہے اور کب تک یہاں رہنا ہے۔ انھوں نے بتایا ہم نے خود خرچہ کیا جو بھی چندہ مندہ ہو سکتا تھا اکھٹا کیا اور ہم 15 بندے یہاں آئے ہیں، 16 سے 17 ہزار روپے لگے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اصل میں ہم مہنگائی کے خلاف آئے ہیں اور ہم اس حکومت کے خلاف ہیں، یہ جعلی حکومت ہے۔ قہوے کی کیتلی کے گرد بیٹھے افراد ان کی تائید کر رہے تھے۔

سونے کے لیے کیا انتظام ہے؟ اس کے جواب میں انھوں نے گرین بیلٹ کی جانب اشارہ کر کے کہا یہ آپ دیکھ رہے ہیں ہم یہیں سو جاتے ہیں اور پانی تو ادھر ٹیوب ویل سے مل جاتا ہے۔

’شناخت پوچھ کر جے یو آئی کے اراکین کو مشتعل نہیں کرنا چاہتے‘

جی نائن کے اشارے کے بالکل سامنے پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ صبح 6 بجے ڈیوٹی پر آئے تھے، لگتا ہے اس بار یہ دھرنے کی نیت سے آئے ہیں اور چھ سات دن تو لگائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ہماری چھٹیاں تو او آئی سی کانفرنس کی وجہ سے پہلے ہی بند تھی، بس مارچ کا مہینہ ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ پولیس اہلکاروں کی حالت بھی کچھ ریلی کے شرکا جیسی ہی ہے، گرین بیلٹ پر گپ شپ کرنا یا پھر آنکھوں پر بازو رکھے سونا۔

یہاں آپ کو اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری کے بہت سے اہلکار بھی دکھائی دیں گے۔

ٹریفک پولیس کی گاڑی سڑک پر گاہے بگاہے چکر لگا رہی ہے جبکہ جی نائن مرکز کی جانب جانے والی شاہراہ پر پولیس کی آٹھ سے دس بسیں موجود ہیں۔ یہاں موجود ایک پولیس کے سینئر افسر نے مجھے بتایا کہ معمول کی صورتحال ہے اور کسی قسم کا کوئی تھریٹ الرٹ نہیں۔

میں نے جے یو آئی کے اراکین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جی ٹین تک یہ لوگ گھومتے پھرتے دکھائی دیے ہیں، کیا یہاں آنے والوں کی کوئی شناخت ہو رہی ہے کیونکہ کارکنان کی آر میں ممکنہ طور پر کوئی شر پسند عناصر بھی آ سکتے ہیں؟

اس کے جواب میں پولیس کے انتظامی افسر نے کہا نہیں کسی سے کسی بھی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو رہی، بہت زیادہ ہو تو یہ لوگ ناشتہ کرنے جی نائن اور دیگر جگہوں پر جا رہے ہیں۔ پولیس پوچھ گچھ کر کے ان کو مشتعل نہیں کرنا چاہتی۔

مولانا کے جلسے میں کتنے افراد موجود ہیں؟ اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اصل تعداد معلوم نہیں لیکن یہاں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کی آمد ہو چکی ہے اور سکیورٹی اور امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار کے قریب پولیس اہلکار موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کی جلسہ گاہ: 'سخت چیکنگ اور پاس بنانے کا حکم'

جے یو آئی کے جلسے کے برعکس پریڈ گراؤنڈ کے جلسے کے انتظامات قدرے مختلف ہیںاور یہاں چیکنگ سخت ہے۔

ہمیں پولیس کے چند ایسے اہلکار بھی ملے جو ڈیوٹی پر تو موجود تھے لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ پریڈ گراؤنڈ میں جانے کا راستہ کون سا ہے۔

جے یو آئی کے جلسے کے برعکس پی ٹی آئی کے جلسے میں آپ کو خواتین بھی دکھائی دے رہی ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی والدین کے ہمراہ موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کی ٹوپیاں اور جھنڈے بیچنے والوں کے سٹالز پر رش بھی دکھائی دے رہی ہے۔

لیکن یہاں کیمرے کو اندر لے جانے کی اجازت نہیں۔ ہم وہاں پہنچے تو اندر نہیں جانے دیا گیا اور بتایا گیا کہ میڈیا کے نمائندے سپیشل پاسز بنوائیں۔

یہاں بھی آپ کو اتوار بازار کے سٹالز کا سماں بھی دکھائی دے گا۔

چونکہ اندر جانے کی اجازت نہیں تھی تو لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم باہر موجود گاڑیوں کی تعداد سے اندازہ ہو رہا ہے کہ لوگوں کی تعداد حکومتی دعوے کے برعکس ابھی لاکھوں میں نہیں ہے۔

لیکن اسلام آباد کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی قافلے پہنچے ہیں۔ ہماری ملاقات چترال اور گلگت بلتستان سے آنے والے قافلوں سے بھی ہوئی۔

’وزیراعظم کو سوچنا چاہیے کہ ہمارا ملک جلسوں کے قابل نہیں‘

جلسہ گاہ میں تو لوگوں کی آمد جاری ہے لیکن ریڈ زون کی اینٹری بھی بلاک ہوئی۔ یہاں قریب ہی آب پارہ مارکیٹ میں بی بی سی سے گفتگو کرنے والوں میں مقامی افراد اور دکانداروں نے گفتگو کی۔

ایک خاتون نے بتایا کہ میں ریڈ زون میں کام کرنے آتی ہوں لیکن راستے بند ہیں۔ ‘میں میٹرو بس استعمال کرتی ہوں لیکن آج میرے شوہر کو مجھے موٹر سائیکل پر چھوڑنا پڑا اور راستے میں بہت دقت ہوتی۔‘

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ جلسے جلوسوں کی وجہ سے ہم اپنے گھر میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ میرے گھر باہر سے مہمان آئے ہیں لیکن میں انھیں باہر نہیں لے جا سکتا۔

ایک دکاندار نے کہا کہ اگر جلسے سے ایک دکان اچھی بن رہی ہے اور سو دکانیں متاثر ہو رہی ہیں تو یہ اچھا کام تو نہیں، ‘عمران خان صاحب کو سوچنا چاہیے کہ ہمارا ملک ان جلسے جلوسوں کے قابل نہیں ہے، یہ جو آج کی تاریخ میں ہو رہا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

لیکن جلسے کے نواح میں موجود ٹھیلے والوں کے چہروں پر خوشی دکھائی دے رہی ہے۔

کابلی پلاؤ بیچتے ایک شخص نے کہا کہ میں راجہ بازار میں چاول بیچتا ہوں اب یہاں آیا ہوں اور جلسہ ہوتا ہے تو بہت زیادہ بکتا ہے۔

یہی تاثرات چائے بیچنے والے ایک نوجوان کے تھے جس نے بتایا کہ جب جلسے ہوتے ہیں تو ہم زیادہ دودھ منگواتے ہیں چائے بھی زیادہ بناتے ہیں اور زیادہ منافع ہوتا ہے۔