آسکر 2022: خبر لہریا کی بے خوف خواتین رپورٹرز پر مبنی فلم ’رائٹنگ ود فائر‘ جو آسکرز تک پہنچی

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، باندا، اتر پردیش

جین چیمپیئن کی فلم ’پاور آف دی ڈاگ‘ اس سال اکیڈمی ایوارڈز میں 12 نامزدگیوں کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔ لیکن انڈیا اپنے مقامی ہیروز کی کہانی کی پذیرائی پر خوشی سے پھولا نہیں سما رہا۔ وہ ڈاکیومنٹری فیچر کیٹیگری (درجے) میں اس پر آسکر کا خواہاں ہے۔

’رائٹنگ ود فائر‘ خواتین پر مشتمل نیوز سروس ’خبر لہریا‘ کی بہادر عورتوں کی ایک کہانی ہے جس کی ایڈیٹرز اور رپورٹرز زیادہ تر پسماندہ طبقوں۔ دلت، مسلمان اور قبائلی برادریوں۔ سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس فلم نے گذشتہ سال سنڈانس فلم فیسٹیول میں دو ایوراڈز جیتے تھے، تاہم اسے ابھی تک انڈیا میں نہیں دکھایا گیا۔

’رائٹنگ ود فائر‘ پر فلم نقادوں نے بہت اچھے تبصرے لکھے ہیں۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے تو اسے ’اب تک کی شاید سب سے زیادہ متاثر کن جرنلزم (صحافت کی) فلم‘ کہا ہے۔ اس طرح کی تعریف کی وجہ سے انڈیا میں بھی اس کے متعلق دلچسپی بڑھی ہے۔

20 سال قبل شمالی ریاست اتر پردیش کے پسماندہ علاقے بنڈل کھنڈ میں شروع ہونے والا سنگل شیٹ (ایک صفحہ) اخبار ’خبر لہریا‘ اب مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے، اور اس کے یوٹیوب پر 50 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں اور اوسطاً ایک کروڑ افراد اسے ماہانہ دیکھتے ہیں۔

دستاویزی فلم پرنٹ سے ڈیجیٹل کی طرف اس تبدیلی کو دکھاتی ہے جبکہ ساتھ ساتھ یہ مینیجنگ ایڈیٹر اور فلم کی سٹار میرا دیوی اور اس کے دو رپورٹروں کو بھی فلمبند کرتی ہے جو اپنے نئے سمارٹ فونز کو ان باکس کر رہی ہیں (یعنی ڈبے سے نکالنا)، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھ رہی ہیں اور اپنے گھروں اور کمیونٹی میں روایت کو چیلنج کر رہی ہیں۔

ہندی کی مقامی دیہی زبانوں میں تیار کی جانے والی خبروں میں ’خبر لہریا‘ دیہی ترقی، کسانوں کی خودکشیاں، بدعنوانی، خواتین کے خلاف جرائم اور پانی کی قلت جیسے مسائل اجاگر کرتا ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جو مقامی طور پر تو بہت اہم ہیں لیکن مرکزی دھارے کے میڈیا میں بہت کم جگہ پاتے ہیں۔

اس نیوز سروس میں کام کرنے والے صحافیوں میں ایک سابق چائلڈ مائنر، کئی چھوٹی عمر کی دلہنیں اور بدسلوکی اور گھریلو تشدد سے بچ جانے والی مقامی خواتین شامل ہیں جنھوں نے طبقاتی، صنفی اور ذات پات کے امتیاز کا سامنا کیا ہے، اور ان میں سے کئی ایک اب بھی اس کا سامنا کر رہی ہیں۔ اور جو کہانیاں وہ سناتی ہیں وہ اکثر ان کے ذاتی مشاہدات اور تجربات سے لی جاتی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب انڈیا میں صحافت میں بہت سے لوگ آ گئے ہیں اور کئی بڑے صحافی بلاشبہ حکومتی لائن لے رہے ہیں، ’رائٹنگ ود فائر‘ کے لیے آسکر کی نامزدگی نے ان خواتین پر روشنی ڈالی ہے جو طاقتور کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہیں، اور پولیس اور پدر شاہی نظام کے صوبیداروں سے غیر آرام دہ سوالات پوچھتی ہیں۔

لیکن 27 مارچ کو لاس اینجلس میں ایوارڈ کی تقریب سے صرف ایک ہفتہ قبل، میڈیا گروپ نے دستاویزی فلم سے خود کو دور کر لیا ہے۔ انھوں نے فلم سازوں پر اس کی کہانی کو ’مسخ‘ کرنے کا الزام لگایا ہے جس کی فلم ساز تردید کرتے ہیں۔

’خبر لہریا‘ نے اپنی سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ فلم نے غلط طریقے سے ان کے صحافیوں کو ریاست کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سخت گیر ہندوتوا کی سیاست پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ دو دہائیوں کے دوران انھوں نے بہت سی جماعتوں پر رپورٹس کی ہیں اور ’جب انھوں نے جو کہا وہ نہیں کیا، تو ان سب کو آئینہ دکھایا ہے۔‘

’خبر لہریا‘ کی کمیونیکیشن ٹیم کی سریشتی مہرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلم ہمارے 20 سالہ سفر کے ایک اہم وقت کو سمیٹتی ہے اور آسکر ایک بڑا مرحلہ ہے اور اس نے ہمیں عالمی توجہ دلوائی ہے۔‘

’لیکن یہ ہمارے سفر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اور کبھی کبھار جزوی کہانیاں پوری (کہانی) کو مسخ کر دیتی ہیں۔‘

مہرا کہتی ہیں کہ آسکرز کی روشنی سے دور ’خبر لہریا‘ کے رپورٹرز کے لیے زندگی کا کاروبار اسی طرح چل رہا ہے، جو وہ سب کرنے میں مصروف ہیں جو وہ بہتر کرتے ہیں ۔ پرانی طرز کی بنیادی، روایتی صحافت۔

گذشتہ ہفتے، میں نے میرا اور سینیئر رپورٹر نازنی رضوی کے ساتھ سفر کیا۔ وہ بار بار بجلی کی بندش کی شکایات کی تحقیقات کے لیے ریاست کے دارالحکومت لکھنؤ سے 200 کلومیٹر دور ایک گاؤں گئی تھیں۔ یہ گاؤں ان کے دریا کے کنارے واقع قصبہ بندا کے دفتر سے بھی تقریباً 50 کلومیٹر تھا۔

دو دن پہلے میرا کو گاؤں سے کسی کا فون آیا تھا جس میں بجلی کی خرابی کی شکایت کی گئی تھی۔ انھوں نے اس کے متعلق ٹویٹ کیا اور چند منٹوں میں حکام نے اس پر ردِ عمل دیا، حالانکہ بجلی بحال کرنے میں پھر بھی 24 گھنٹے لگے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن بجلی دوبارہ چلی گئی، لہذا ٹیم نے یہ جاننے کے لیے وہاں جانے کا فیصلہ کیا کہ بجلی کے بار بار جانے کی وجہ کیا ہے۔

درجہ حرارت 37 سیلسیئس کے ارد گرد منڈلا رہا ہے اور جب میرا اور نازنی گاؤں میں پہنچیں تو پریشان رہائشیوں نے انھیں گھیر لیا۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ وہ اتنی زیادہ گرمی میں بجلی کے بغیر کیسے رہیں گے۔

ایک دیہاتی لالا رام نے انھیں بتایا کہ میرا کو فون انھوں نے کیا تھا۔ انھوں نے کہا: ’اہلکار ہماری بات نہیں سنتے‘ اور ’کوئی دوسرا میڈیا کبھی ہم سے بات کرنے نہیں آتا۔‘

لیکن میرا اور نازنی کے لیے یہ اہم کہانیاں ہیں جنھیں رپورٹ کیا جانا چاہیے۔

میرا نے کہا کہ ’ہم بھی دیہاتوں میں رہتے ہیں اور اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن مین سٹریم (مرکزی دھارے کے) میڈیا کو ہمارے مسائل بہت چھوٹے لگتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم خود ہی اپنے لیے آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ کوئی دوسرا نہیں اٹھاتا۔‘

میرا کو سنہ 2006 میں نوکری پر رکھا گیا تھا جبکہ نازنی نے ایک سال بعد نوکری شروع کی۔ میرا کہتی ہیں کہ وہ صحافت میں کوئی بڑے مقاصد لے کر نہیں آئیں کہ دنیا کو ٹھیک کر دیں گی بلکہ اس لیے آئیں کہ وہ روزی کما سکیں اور انھیں کچھ آزادی ملے۔ جبکہ نازنی اپنے پُرتشدد شوہر سے بھاگ کر اور چھوٹے بچوں کے لیے روزی روٹی کمانے کے لیے صحافت میں آئی ہیں۔

لیکن ان کی نوکریوں کے اپنے مسائل ہیں۔ دونوں چھوٹی عمر کی دلہنیں ہیں، جن کی 13-14 سال کی عمر میں شادیاں ہوئی تھیں، انھیں اپنے آپ کو منوانے کے لیے اپنے اپنے خاندانوں اور معاشرے سے لڑنا پڑا ہے۔

میرا کہتی ہیں کہ ’بنڈل کھنڈ ایک ایسی جگہ ہے جہاں خواتین کو مردوں سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے لہذا ہمارے خاندانوں سمیت دوسرے لوگوں کو اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت دشواری پیش آتی تھی کہ ہم اتنے بے قاعدہ اوقات میں کام کرتی تھیں اور کبھی کبھی رات کو بھی کام کیا ہے۔‘

اور جب وہ لوگوں سے انٹرویو کرنے نکلیں تو لوگ انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ’وہ ہمیں نامہ نگار ہی نہیں سمجھتے۔‘

نازنی نے مزید کہا کہ ’کچھ مرد نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے، وہ پوچھتے تھے کہ کیا ہم شادی شدہ ہیں اور ہمارے بچے ہیں؟ کبھی کبھی وہ ہمیں رات کو واپس آنے کا کہتے۔ کچھ اہلکار ہمیں کہتے کہ اگر ہم پاپڑ یا اچار بیچتے تو ہم زیادہ سکھی ہوتے۔‘

ان کی ذات اور مذہبی شناخت نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ میرا دلت ہیں جنھیں پہلے ’اچھوت‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، یہ کمیونٹی صدیوں سے ہندو ذات پات کے نچلے حصے میں سمجھی جاتی ہے۔ نازنی کا تعلق اقلیتی مسلم کمیونٹی سے ہے جسے ہندو قوم پرستوں کے عروج کے بعد سے انڈیا میں تیزی سے پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

لیکن وہ کہتی ہیں کہ آہستہ آہستہ ان کی ’مصیبتیں کم ہو گئی ہیں‘ اور ان کے اہل خانہ نے کسی نہ کسی طرح اب ان کے کام کو قبول کر لیا ہے۔ انھوں نے کئی باوقار قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز بھی جیتے ہیں، جس سے انھیں پہچان اور عزت ملی ہے اور میرا اور ان کی ساتھیوں کو نوجوان نسل کے لیے رول ماڈل بنا دیا ہے۔

میرا کہتی ہیں کہ ’اب لڑکیاں کہتی ہیں کہ وہ ہماری تقلید کرنا چاہتی ہیں۔ خبر لہریا میں نوکری کی اب بڑی مانگ ہے۔ پہلے خاندان اپنی بیٹیوں کے ہمارے ساتھ شامل ہونے کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اب وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اگلی آسامی کب آئے گی۔‘

اور ان اہلکاروں کا کیا بنا جو پہلے انھیں اچار بیچنے کا مشورہ دیتے تھے؟

وہ ہنستی ہوئی کہتی ہیں کہ ’اب وہ ہم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہماری ایک شہرت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان سے سخت سوالات پوچھیں گی۔‘