چین: ‘زنجیروں میں جکڑی خاتون انسانی سمگلنگ کی شکار اور ذہنی مریض معلوم ہوتی ہے‘

چین کے شہر ژاہو میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوری کے آخر میں شہر کے ایک قریبی گاؤں میں ایک جھونپڑی سے ملنے والی زنجیروں میں جکڑی عورت کا ذہنی توازن خراب تھا اور وہ انسانی اسمگلنگ کی شکار معلوم ہوتی ہے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

آٹھ بچوں کی ماں یہ عورت دو ہفتے قبل سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھی گئی تھی جس کے بعد انٹرنیٹ پر شدید ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔

حکام ابتدا میں اس واقعے کو انسانی سمگلنگ سے جوڑنے پر تیار نہیں تھے لیکن انٹرنیٹ پر لوگوں نے شدید غم اور غصے کا اظہار کیا اور اس کی تحقیقات جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

بہت سے لوگ ان شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ اغوا اور بدسلوکی کا واقعہ ہے۔

بیجنگ اولمپکس کا شور و غلغلہ بھی اس واقعے سے لوگوں کی توجہ نہیں ہٹا سکا اور اس خاتون کی خبر جب سے سامنے آئی ہے اس وقت سے انٹرنیٹ پر دس کروڑ سے زیادہ لوگ اس کو پڑھ چکے ہیں۔

یہ عورت اپنے گھر کے باہر ایک شیڈ میں قید پائی گئی تھی اور اس کے جسم پر سخت سردی میں بھی بہت معمولی سے کپڑے تھے۔

اس عورت کی حالت کے بارے میں ایک چینی ویلاگر کی طرف سے اطلاع دینے کے بعد انھیں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایک ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات یہ ہی ہیں کہ وہ بہتر ہو رہی ہیں۔

اس سال جنوری میں اس عورت کے بازیاب کرائے جانے کے بعد سے قومی سطح پر ایک بحث چھڑ گئی ہے جس میں دور دراز کے دیہی علاقوں میں خواتین کی حالت اور دلہنوں کی خرید و فروخت کے مسئلہ کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

ایک شخص جو اس عورت کا شوہر ہونے کا دعوائیدار ہے اس کو غیر قانونی طور پر خاتون کو قید رکھنے کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔

کہانی کے اہم موڑ؟

حکام نے ابتدا میں جب عوامی غم و غصے پر اپنا رد عمل دیا تھا تو اس وقت انھوں نے ان الزامات کی نفی کر دی تھی کہ یہ واقع کسی بھی طرح انسانی اسمگلنگ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خاتون ایک مقامی شخص ڈونگ، سے قانونی طور پر شادی کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے۔

اس کے بعد خاتون کا خاندانی نام یانگ ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

انھوں نے اپنی اس ناکامی کا اعتراف کیا کہ جب اس جوڑے کے دو سے زیادہ بچے ہوئے تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ اس وقت دو بچوں سے زیادہ بچوں کی قانونی طور پر اجازت نہیں تھی۔

اس رد عمل پر عوام کی طرف سے اور زیادہ غم و غصہ ظاہر کی گیا کہ کیوں حکام نے اس عورت کی مدد کرنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔

عوام کی طرف سے بڑھتے ہوئے دباؤ پر حکام نے کہا کہ وہ اس بارے میں مزید تحقیق کریں گے۔

منگل کو انھوں نے اس خاتوں کی اصل شناخت حاصل کرنے کا اعلان کیا اور اس کا نام ژوہومی بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق ملک کے جنوبی مغربی صوبے ینان سے ہے۔

ژوہومی کا مطلب ایک چھوٹا پھول ہے جو چین میں کسی خاتون کا بڑا غیر معمولی نام ہے اور قیاس یہ ہی ہے کہ یہ ان کا پیار کا نام ہو گا۔

حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک تفتیشی ٹیم کو اس عورت کے آبائی گاؤں بھیجا تھا جس کا نام ان کے شادی کے سرٹیفیکیٹ میں درج تھا۔

اس گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ ژوہومی کا ذہنی توازن اس وقت بگڑ گیا تھا جب وہ اپنی پہلی شادی کے ٹوٹنے کے بعد 1996 میں اپنے گاؤں واپس آئی تھیں۔

ژوہومی کے والدین جو اب اس دنیا میں نہیں رہے انھوں نے گاؤں کی ایک اور عورت سانگ سے درخواست کی کہ وہ ان کی بیٹی کو جیانگسو صوبے لے جائیں جہاں ان کا علاج بھی ہو سکے اور ان کی شادی بھی ہو سکے۔

سانگ اور ژوہومی راستے میں بچھڑ گئیں لیکن سانگ نے نہ تو اس بارے میں پولیس کو آگاہ کیا نہ ہی ان کی گمشدگی کے بارے میں ژوہومی کے والدین کو کوئی اطلاع دی۔

چین حکام نے کہا کہ سانگ اور ان کے شوہر پر انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

عوامی ردعمل

چین میں انٹرنیٹ کے صارفین نے اس تازہ پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اب بھی وہ حکام کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

لیکن بہت سے لوگ حکام پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ عوامی رد عمل کے بعد حرکت میں آئے ہیں اور ان کی جوابدہی کی جانی چاہیے۔

کچھ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام نے ان الزامات کے بارے میں کچھ نہیں کیا ہے کہ اس عورت کے موجودہ شوہر نے اس سے بدترین سلوک کیا اور یہ کہ کن حالات میں عورت نے آٹھ بچوں کو جنم دیا۔

بعض لوگوں نے اس عورت کی درست شناخت کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں۔