درخت کی ٹہنیوں پر بھی ٹیکس سے کانگڑی سازی کی صنعت متاثر: ’کشمیر میں کانگڑیاں بنا کر ہی میں نے مکان بنایا، بچوں کو پڑھایا اور اُن کی شادی کی‘

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

دسمبر کے آخری ہفتے سے جنوری کے اختتام تک کشمیر میں اس قدر شدید سردی ہوتی ہے کہ کشمیری میں ایک کہاوت ہے کہ اس چالیس روزہ عرصے یعنی ’چلّہٴ کلان‘ کے دوران دیگ میں اُبلتا ہوا پانی بھی جم سکتا ہے۔ مشہور جھیل ڈل کی سطح بھی اس دوران منجمد ہوجاتی ہے اور سابق وزیراعلیٰ بخشی غلام محمد نے اس پر جیپ بھی چلائی تھی، لیکن بعد میں جھیل کی جمی سطح پر چلنے پھرنے کو ممنوع قرار دیا گیا۔

ایسی شدید سردی میں کشمیری ایک لمبا گوَن یعنی پھیرن پہنتے ہیں اور پھیرن کے نیچے کانگڑی سیکتے ہیں۔ پھولوں کی ٹہنیوں سے لپٹے مٹی کے ایک برتن میں دہکتے کوئلے اور راکھ ڈال کر اس 'ذاتی ہیٹر' سے کشمیری کئی گھنٹوں تک سردی سے بے فکر ہو جاتے ہیں۔

کانگڑی کی تاریخ

بعض غیرکشمیری موٴرخین کا کہنا ہے کہ مغلیہ دور میں مغل بادشاہوں کے لیے اطالوی انجنئیر کام کرتے تھے اور وہ پیتل سے بنے خاص طرح کے ایک برتن میں آگ ڈال کر گرمی کا ساماں پیدا کرتے تھے اور اسی 'پرسنل ہیٹر' کو کشمیریوں نے نئی طرز پر تیار کیا۔

تاہم مقامی دانشور اس سے اختلاف کرتے ہیں۔

کشمیری تاریخ اور ثقافت کے ماہر ظریف احمد ظریف کہتے ہیں: ’قدیم کشمیر میں لوگ صرف مٹی کا ایک برتن بناتے تھے، جس میں آگ ڈال کر اسے سیکا جاتا۔ لیکن مٹی کا یہ برتن آگ سے بہت گرم ہوجاتا تھا اور اکثر حادثے ہوجاتے تھے۔ بعد میں اسی مٹی کے برتن جسے یہاں کنگ کہتے تھے، کو پھولوں کی ٹہنیوں سے لپیٹا گیا تاکہ سیکنے والے کے ہاتھ یا ٹانگیں محفوظ رہیں۔

کانگڑی خالص کشمیری اختراع ہے، یہ اٹلی سے نہیں آئی ہے۔‘

پہلے پہلے کانگڑیاں شمالی قصبہ بانڈی پورہ میں بنتی تھیں، کیونکہ 'کنگ' کو لپیٹنے کے لیے مضبوط اور نرم ٹہنیاں وہیں اُگتی تھیں۔ بعد میں جنوبی قصبوں اننت ناگ اور کولگام میں بھی یہ صنعت پروان چڑھی۔ لیکن سب سے باریک ٹہنیوں والی کانگڑی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے میں بنتی ہیں، جہاں کشمیر کے مقبول ترین ولی شیخ نورالدین کا مزار بھی ہے۔

کیا یہ صنعت دم توڑ رہی ہے؟

چرار شریف کے ولی محمد ڈار 50 برس سے کانگڑیوں کی صنعت سے جُڑے ہیں۔ وہ اس صنعت کے مستقبل سے زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔ ولی ڈار کہتے ہیں: کانگڑیاں بنا کر ہی میں نے مکان بنایا، بچوں کو پڑھایا اور اُن کی شادی کی۔

لیکن اب خام مال بہت مہنگا ہوگیا ہے اور حکومت نے ٹہنیوں کی خریدوفروخت کو ٹیکس کے زمرے میں لایا ہے۔

ایسے میں کانگڑیاں بنانے کی صنعت دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے۔

ڈار جیسے کئی دیگر کانگڑی سازوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگ رُوم ہیٹر، ائیر کنڈیشنر اور دوسرے سازوسامان کا استعمال کرتے ہیں، لہٰذا شہروں اور آسودہ حال حلقوں میں کانگڑی کی مانگ کم ہو گئی ہے۔

تاہم سرینگر کے اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں چھ سے دس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باعث کانگڑی ہی ایک 'وفادار' ساتھی ہے جو چلّہٴ کلان کی سردی سے بچاتا ہے۔

ایک کاریگر معمول کی کانگڑی تین گھنٹے میں بنالیتا ہے، لیکن ایسی بھی کانگڑیاں ہیں جو تین دن میں تیار ہوتی ہیں۔ کیونکہ ایسی کانگڑیاں سردیوں میں سیکنے کی بجائے دیوان خانوں، ریستورانوں اور سرکاری ایوانوں میں آرائش کا کام دیتی ہیں۔

ولی ڈار کو مقامی حکومت کے شعبہ سیاحت نے دس ہزار روپے کے عوض ایک خوبصورت کانگڑی بنانے کا آرڈر دیا ہے، تاہم وہ کہتے ہیں کہ ایسے آرڈر سال میں ایک دو مرتبہ ہی آتے ہیں۔

کشمیرمیں کئی دہائیوں سے ایک روایت رہی ہے کہ جب لڑکے اور لڑکی کا رشتہ طے ہو جائے اور نکاح کی تقریب سے پہلے ہی سردیاں شروع ہوجائیں تو لڑکے والے ایک خوبصورت کانگڑی میں بادام اور کھجور بھر کر یہی کانگڑی لڑکی کو تحفے میں دیتے ہیں۔

کانگڑی ایک ثقافتی علامت

کانگڑی کی ثقافتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر کے بڑے بڑے ہوٹلوں کی لابی میں طرح طرح کی رنگ بہ رنگی کانگڑیاں سلیقے سے آویزاں ہوتی ہیں۔ کانگڑی صرف انڈین کشمیر تک ہی محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی جاڑے کے دوران کانگڑی کا استعمال ہوتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کئی سال پہلے یہ فیصلہ کیا کہ ہر سال 19 فروری کو ’پِھرن اینڈ کانگڑی ڈے‘ منانے کا اعلان کیا تاکہ کشمیر کی ثقافتی علامتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جاسکے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں شعبہٴ سیاحت بھی اہم مقامات کی زیبائش و آرائش کانگڑیوں سے ہی کرواتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دست کاروں کی پریشانیاں

کانگڑی سازی کی صنعت سے وابستہ اکثر دستکار کہتے ہیں کہ حکومت ایک طرف کانگڑی کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے نمائشیں منعقد کرواتی ہے اور دوسری طرف کانگڑیوں کے لیے درکار خام مال پر ٹیکس عائد کرتی ہے۔

ماہر کانگڑی سازوں کا کہنا ہے کہ اُن کی نئی نسلیں اس کام سے خوش نہیں ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے کسی طرح کی کوئی مدد نہیں کی جاتی۔

کولگام کے ایک کانگڑی ساز عبدالرشید کا کہنا ہے کہ ’دستکاریوں کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ ’ہینڈی کرافٹس‘ محکمہ ہے لیکن یہ محکمہ کانگڑیوں کی صنعت کو دستکاری تسلیم نہیں کرتا ہے۔ حالانکہ مٹی کی کونڈل سے ٹہنیوں تک سو فی صد کام ہاتھ سے ہوتا ہے۔

خام مال مہنگا ہے اور اُس پر ٹیکس، اسی وجہ سے ایک چھوٹا رُوم ہیٹر پانچ سو روپے میں بکتا ہے اور عام سی کانگڑی کی قیمت تین سو روپے ہے۔ اگر حکومت چاہے تو اس صنعت کو دم توڑنے سے بچا سکتی ہے۔‘