’لوو جہاد‘: پسند کی شادی کرنے والا جوڑا جو کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لایا

    • مصنف, شُریح نیازی
    • عہدہ, سینیئر صحافی، بھوپال

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے رہائشی گلزار خان اور آرتی ساہو اب اپنے آبائی شہر باہر نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں۔

گلزار اور آرتی کے لیے گذشتہ ایک ماہ بہت مشکل تھا جس دوران محبت کی شادی کرنے والی آرتی کے گھر والوں نے ان دنوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کی بہت کوششیں کیں، لیکن 28 جنوری کو جبل پور ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے راحت کا باعث بنا اور انھیں ایک ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت مل گئی۔

ہائی کورٹ ایک رکنی بنچ نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ اس جوڑے کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ عدالت میں زیر سماعت یہ معاملہ بین المذاہب شادی سے پیدا ہونے والے تنازعے سے متعلق تھا۔

معاملے کی ابتدا کیسے ہوئی؟

27 سالہ گلزار خان جبل پور میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی دوران انھیں پڑوس میں رہنے والی 19 سالہ آرتی ساہو سے محبت ہو گئی۔ دو سال قبل جب دونوں کے خاندانوں کو اُن کی محبت کا علم ہوا تو آرتی کے گھر والوں کی جانب سے سختیاں شروع کر دی گئیں، لیکن اس کے باوجود دونوں چھپ چھپ کر ملاقات کرتے رہے۔

گذشتہ سال دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

دونوں جبل پور میں شادی کرنا چاہتے تھے لیکن جب وہ عدالت پہنچے تو لڑکی کے والد کے دوست وہاں ملے اور انھوں نے آرتی کے گھر والوں کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر گھر والوں نے آرتی کی شدید پٹائی کی جس کی وجہ سے انھیں علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔

آرتی کی صحتیابی کے بعد دونوں نے دسمبر میں ممبئی میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے وہ پہلے ہی وکیل سے بات کر چکے تھے۔ لیڈ انڈیا گروپ کے سبھاش سنگھ نے دونوں کی مدد کی۔ یہ گروپ بین المذاہب شادیاں کروانے میں مدد کرتا ہے۔

گلزار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’27 دسمبر کو ہم دونوں جبل پور سے ٹرین کے ذریعے ممبئی کے لیے روانہ ہوئے، 28 دسمبر کو ہم وہاں پہنچے اور سیدھے باندرہ کورٹ میں جا کر شادی کر لی۔ ہماری مدد کے لیے وکلا پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔‘

اس کے بعد ان دونوں نے اپنے اپنے اہلخانہ کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس کو بھی شادی کی اطلاع دی اور ایک ساتھ ممبئی میں رہنے لگے۔ لیکن فون کالز کو ٹریس کرتے ہوئے جبل پور پولیس اور لڑکی کا بھائی اور دیگر رشتہ دار 11 جنوری کو آرتی کو لینے ممبئی پہنچ گئے جہاں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

اس کے بعد دونوں کو جبل پور کے اومتی تھانے لے جایا گیا۔ اسی دوران لڑکی کے گھر والوں نے دونوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ بھی پولیس میں جمع کروا دی تھی۔

12 جنوری کو جبل پور پہنچنے کے بعد لڑکی کے بیانات لیے گئے، اس وقت بھی آرتی نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی بات کی۔ گلزار کو ایک اور تھانے بھیج دیا گیا۔ جب کہ آرتی کو دوسرے تھانے میں رکھ کر مبینہ طور پر پولیس اور ان کے گھر والے بیان بدلنے پر دباؤ ڈالتے رہے۔

اس دوران آرتی نے الزام لگایا کہ اومتی تھانے کے پولیس والوں نے اُن پر اپنا بیان بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا اور دھمکی دی کہ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو وہ اُن کے شوہر گلزار کو منشیات کے کیس میں پھنسائیں گے اور جیل بھیج دے گی۔

گلزار کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر ایک دن کے لیے اپنی بیوی کو اس کے گھر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن میں تیار نہیں تھا، پھر میں نے اسے جانے کے لیے کہا۔‘

پولیس نے گلزار پر اپنا بیان بدلنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا تھا۔ میاں بیوی کا الزام ہے کہ اس کے بعد اومتی تھانے کی پولس نے دونوں کو مارا پیٹا۔ اس کے بعد جب آرتی نہ مانی تو اس کے گھر والے اسے اپنے ساتھ گھسیٹ کر لے گئے، جب کہ پولیس کی پٹائی سے گلزار بیہوش ہو گیا، جس کی وجہ سے پولیس اسے ہسپتال لے گئی۔

اومتی پولیس سٹیشن کے انچارج ایس پی سنگھ بگھیل نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ پولیس نے جوڑے کو مارا پیٹا ہے یا ان پر دباؤ ڈالا ہے۔ انھوں نے کہا ’پولیس نے اس معاملے میں قواعد کی پیروی کی ہے اور مار پیٹ کا الزام درست نہیں ہے۔‘

آرتی کا کہنا ہے کہ گھر والے اسے وارانسی لے گئے جبکہ گلزار کچھ دیر بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے گھر پہنچ گئے۔

کچھ ہی دنوں میں گلزار کو اس کی بیوی کا فون آیا اور اس نے اپنا حال بتایا۔ اس کے بعد گلزار نے دہلی میں سبھاش سنگھ کے لیڈ انڈیا گروپ کے وکلا سے مدد لی۔

انھوں نے چند وکلا کی مدد سے 17 جنوری کو اپنے یرغمال بنائے جانے کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔

یہ بھی پڑھیے

گلزار نے کہا: ’جبل پور کے گورکھپور تھانے کی پولیس نے بہت مدد کی۔ اومتی تھانے کے پولیس والوں کے برعکس، وہ ہر طرح سے مدد کر رہے تھے۔ انھوں نے آرتی کے گھر والوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسے عدالت اور تھانے میں پیش کریں۔‘

دوسری جانب لڑکی کے مطابق ان کے اپنے گھر والے اور قریبی رشتہ دار انھیں ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

عدالت میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل اس شادی کی مخالفت کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ لڑکی نے صرف شادی کے لیے مذہب اسلام کو اپنایا ہے اس لیے اس شادی کو منسوخ کیا جائے اور آرتی کو خواتین کی پناہ گاہ بھیجنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ آرتی نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کی شادی درخواست گزار گلزار سے ہوئی ہے اور وہ ہر قیمت پر اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ ان کی عمر کو لے کر کوئی تنازع نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی بین مذہبی جوڑے کو شادی یا ’لیو ان ریلیشن شپ‘ کا حق ہے۔

گلزار خان نے آٹھویں اور آرتی نے دسویں تک تعلیم حاصل کی ہے۔ گلزار پیشے کے اعتبار سے مکینک ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ روزی روٹی کے لیے معقول رقم کماتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو مزید پڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی کچھ کام کر سکیں۔

مدھیہ پردیش ملک کی ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں گذشتہ سال مذہب کی تبدیلی سے متعلق قانون بنایا گیا تھا۔ مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی نے گذشتہ سال آٹھ مارچ کو ’مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل-2021‘ پاس کیا تھا۔

انڈیا میں ایک گروہ ایسا ہے جو بین المذاہب شادی کی مخالفت کرتا ہے اور ایسے معاملے میں جہاں لڑکا مسلمان اور لڑکی ہندو ہو، اسے لو جہاد سے تعبیر کرتا ہے۔ ملک بھر میں ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جس میں ایسے جوڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔