آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اترپردیش: سب سے بڑی ریاست میں گائیوں کے جان لیوا حملے بڑا انتخابی مسئلہ کیوں؟
- مصنف, نتن شریواستو
- عہدہ, بی بی سی ہندی، اترپردیش
یہ گذشتہ سال نومبر کی بات ہے جب انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں ایک شام 55 سالہ رام راج اپنے گھر پر چائے پی رہے تھے کہ ایک گائے نے ان پر حملہ کر دیا۔
چند لمحے تک ان کے پوتے پوتیاں خوف و ہراس کے ماحول میں گائے کو انھیں کچلتا دیکھتے رہے۔ انھیں شدید زخم آئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ان کی موت ہو گئی۔
رام راج کی بہو انیتا کماری نے بتایا کہ 'تمام دانت ٹوٹ گئے تھے۔ پیٹ اور ہاتھوں پر زخم تھے، سینے پر بھی چوٹ تھی۔ پھر انھیں (پوسٹ مارٹم کے لیے) لے جایا گیا تھا۔ ان کی موت ہو گئی تھی۔'
انھوں نے بتایا کہ اس دردناک حادثے کے بعد رام راج کی بیوی نرملا نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ وہ صرف چارپائی پر لیٹی اپنے شوہر کے لیے روتی رہتی ہیں۔ خاندان کو تشویش ہے کہ 'وہ زیادہ دن نہیں جی پائیں گی۔'
آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے ایودھیا ضلع میں یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ ریاست کے تقریباً ہر ضلع میں آوارہ مویشیوں نے کسانوں بالخصوص چھوٹے کسانوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ مسئلہ جان و مال دونوں کے نقصان کا ہے۔
جب سے ریاست میں گائے کی ذبیحے پر پابندی لگی ہے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ ریاست میں 10 فروری سے ہونے والے اسمبلی انتخابات میں یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
ہندو گائے کو مقدس تصور کرتے ہیں لیکن حالیہ عرصے تک کئی کسان بھی اپنی بوڑھی گائیوں کو مذبح خانے لے جا کر فروخت کر دیتے تھے۔
ریاست کے ایک کسان شیو پوجن کہتے ہیں 'جب گائے دودھ دینا بند کر دیتی تھی یا بیل کاشتکاری کے لائق نہیں رہتے تھے تو ہم انھیں فروخت کر دیتے تھے۔ مشکل وقت میں وہ ہمارا بیک اپ پلان ہوتا تھا۔'
لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے ہندو ایجنڈے کے تحت گائے کے ذبیحے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے اور ملک کی 18 ریاستوں میں اس پر پابندی ہے۔
ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ خود ایک سخت گیر بی جے پی لیڈر ہیں۔ انھوں نے سنہ 2017 میں اقتدار میں آنے کے بعد مبینہ طور پر غیر قانونی کئی مذبح خانوں کو بند کر دیا تھا۔ حالانکہ یہ یوپی میں ایک بہت بڑا کاروبار ہے اور ریاست بھینس کے گوشت کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔
مویشیوں کے تاجروں پر، جن میں سے بہت سے مسلمان یا دلت (ماضی میں اچھوت کہلائے جانے والے، جو ہندو ذات کی درجہ بندی کے نچلے حصے میں آتے ہیں) حملے بھی ہوتے رہے ہیں اور حملہ کرنے والوں کا تعلق اکثر بی جے پی یا مقامی دائیں بازو کے گروہوں سے پایا گیا ہے۔
لہذا، اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے مویشی خریدنے یا لے جانے کے خوف سے کاروبار چھوڑ دیا ہے۔ اور کسان اب اپنی عمر رسیدہ گائیوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں۔
پوجن کہتے ہیں 'اب کوئی خریدار نہیں ہے، تو کوئی بھی انھیں فروخت نہیں کر سکتا‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اور دیگر افراد عمر رسیدہ گائیوں کو قریبی جنگلات میں چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
یہ آوارہ مویشی اکثر یوپی کے قصبوں اور دیہاتوں میں گھومتے نظر آتے ہیں، جہاں کسانوں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھوکے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے جارحانہ ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک گائے رام راج کے گھر کے صحن میں داخل ہوئی اور جب وہ اور ان کے اہل خانہ خوفزدہ ہو کر چیخنے چلانے لگے تو اس نے ان پر حملہ کر دیا۔
خود پوجن پر حال ہی میں آوارہ مویشیوں کے ایک ریوڑ نے اس وقت حملہ کر دیا جب وہ انھیں اپنے کھیت سے بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے بتایا کہ 'ان میں سے دو نے مجھے نیچے زمین پر دھکیلنے کی کوشش کی اور میں اپنی جان بچاکر بھاگا۔' انھوں نے اپنا پٹی بندھا ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت کٹ گیا جب وہ جان بچانے کے لیے خار دار تاروں پر سے کود کر بھاگے۔
پوجن عقیدت مند ہندو ہیں جو گائے کو مقدس مانتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حکومت کے اس حکم سے مایوس ہیں کہ ساری کی ساری گائے کی نسل کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
ان جیسے کسانوں کا کہنا ہے کہ آوارہ گائے فصلیں بھی تباہ کرتی ہے، سڑک حادثات کا سبب بنتی ہے اور لوگوں کی جان لے لیتی ہیں۔
36 سالہ بھوپیندر دوبے دہلی میں کام کرتے تھے اور کورونا کی پہلی لہر کے دوران لاک ڈاؤن میں گھر واپس آئے تھے۔
23 جون سنہ 2020 کی ایک شام وہ اپنے ڈیڑھ سال کے بچے کے لیے ٹافیاں لینے جا رہے تھے کہ گاؤں کے قریب بازار میں ایک گائے نے ان پر حملہ کر دیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔
ان کی بیوی پونم دیوی اس دن کو یاد کر کے کانپ اٹھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ان آوارہ گائے کی وجہ سے میرا بچہ اب یتیم ہے۔ اب ہم لوگوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟'
اس جگہ سے تقریباً 100 کلومیٹر دور سنہ 2019 میں ایک گائے کے حملے کے بعد سے 80 سالہ رام کلی کوما میں ہیں۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک نہیں جانتے کہ ان کے اکلوتے بیٹے کی گذشتہ سال کے اوائل میں کووڈ-19 سے موت ہو گئی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس معاملے کو اتر پردیش میں اٹھایا ہے، یہ ریاست ایک بڑی دیہی ریاست ہے جہاں کسان ایک اہم ووٹنگ بلاک ہیں۔
برسر اقتدار بی جے پی حکومت کے ریاستی ترجمان سمیر سنگھ نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے 'نئی حکمت عملی وضع کر رہی ہے۔
'ان کو آوارہ گائے نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ جانور خود ہندو ثقافت کا حصہ ہے، ہم اپنے بزرگوں کو بوڑھے ہونے پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑتے، ہم اپنی گائے کو سڑکوں پر مرنے کے لیے کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟'
آدتیہ ناتھ کی حکومت نے گائیوں کے لیے مزید پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے لاکھوں روپے مختص کیے ہیں۔ انھوں نے ہزاروں سرکاری پناہ گاہوں کو برقرار رکھنے کے لیے شراب پر خصوصی ٹیکس بھی لگایا ہے۔
لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ایودھیا ضلع میں بی بی سی ہندی نے حکومت کے زیر انتظام ایک پناہ گاہ کا دورہ کیا جو کہ آوارہ گائیوں سے بھرا پڑا تھا۔
پناہ گاہ کی دیکھ بھال کرنے والے شتروگھن تیواری نے کہا 'یہاں 200 گائے ہے، اور ہم اس سے زیادہ گائیوں کو یہاں نہیں رکھ سکتے۔ تقریباً 700 سے 1000 آوارہ گائے اب بھی علاقے میں گھوم رہی ہیں۔'
اس دوران بہت سے کسان اپنے کھیتوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔
وہ گروپ بنا کر باری باری کپکپاتی سردی اور سانپوں کے خطرات کو برداشت کرتے ہوئے رات بھر کھیتوں میں گشت کرتے ہیں۔
ایک 64 سالہ خاتون کسان بملا کماری نے کہا 'ہمارے یہاں گاؤں بھر کے لوگوں کا گروپ ہے جو باری باری نگرانی کا ذمہ لیتے ہیں۔ ہماری جگہ لینے کے لیے صبح ایک نئی ٹیم آئے گی، اور پھر ہم گھر جا کر آرام کریں گے۔'
دینا ناتھ جیسے دوسرے افراد نے کہا کہ وہ اس معاملے سے تنگ آچکے ہیں، اور الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
دینا ناتھ نے کہا کہ 'ووٹ دینے کا کیا فائدہ اگر اس سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے؟'