آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میریٹل ریپ انڈیا میں ایک مرتبہ پھر بحث کا موضوع کیوں؟
- مصنف, سوشیلا سنگھ
- عہدہ, نامہ نگار بی بی سی
اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ ریتو (فرضی نام) کی ارینج میرج ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہونے والے شوہر کے خاندان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔ شادی کے بعد انہیں اپنے شوہر اور ان کے کام کے بارے میں معلوم ہوا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے میں ہچکچا رہی تھیں۔
ریتو کے انکار پر ان کے شوہر نے زبردستی ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرا شروع کر دیے، انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی بار انہیں ایسی ادویات دی گئیں جس کی وجہ سے وہ اس وقت ہوش میں نہیں رہتی تھیں۔
ریتو نے جب یہ بات اپنی ماں کو بتائی کہ ان کے شوہر نے زبردستی انہیں سیکس کرنے پر مجبور کیا تو ان کی ماں نے کہا کہ 'میاں بیوی کے درمیان ایسا ہوتا ہے، اسے زبردستی نہیں کہتے، تم اُسے انکار کرتی ہو گی اس لیے وہ ایسا کرتا ہوگا'۔
یہ 2020 کا واقعے ہے جب انڈیا میں کورونا کی وبا کی پہلی لہر آئی تھی۔
ریتو کی کونسلنگ کرنے والی ڈولی سنگھ کہتی ہیں' آگے چل کر اس معاملے میں ریتو کے گھر والوں نے یہ کہہ کر مدد کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کے گھر کا معاملہ ہے۔ ایک مرتبہ ریتو کے شوہر نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور انہیں کمرے میں بند رکھا۔‘
ڈولی سنگھ بتاتی ہیں کہ جب ’ریتو کمرے میں بند تھیں تو ان کے پاس ان کا فون تھا۔ انہیں یوٹیوب کے ذریعے ہماری تنظیم کے بارے میں پتہ چلا اور انہوں نے ہم سے رابطہ کیا۔‘
شکتی شالنی ایک غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او ہے جو صنفی اور جنسی تشدد کا شکار خواتین کی مدد کرتی ہے اور بھارتی سنگھ اس تنظیم کی بانی ڈائریکٹر ہیں۔
کولکتہ میں اس تنظیم کی منتظم ڈولی سنگھ کہتی ہیں 'ریتو کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کی جانب سے اس کے ساتھ زبردستی سیکس کے لیے ’میریٹل ریپ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ جبری رشتہ غلط ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریتو اب ادارے کی مدد سے قانونی کارروائی کر رہی ہیں اور ایک کال سینٹر میں کام کر رہی ہیں۔ ریتو اپنے گھر والوں اور سسرال والوں سے رابطے میں نہیں ہیں۔
ازدواجی زندگی کی ذمہ داری
ڈولی کے مطابق ریتو بہت بہادر ہیں لیکن بہت سی ایسی خواتین ہیں جو اپنی پوری زندگی شادی کے ایسے رشتے میں گزار دیتی ہیں اور ایسے جبری جسمانی تعلقات کو معمول کے مطابق اپنا لیتی ہیں کہ اب یہ ان کا مقدر یا فرض ہے۔
ایسی خواتین اس لیے بھی آگے نہیں آتیں کیونکہ اکثر واقعات میں لڑکی کے گھر والے بھی لڑکی کے ساتھ اس طرح کے رویے کو کسی طرح کا مسئلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
دہلی ہائی کورٹ میں عرضیاں
حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ میں میریٹل ریپ سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں تعزیرات ہند کی دفعہ 375 کے شق 2 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ جس کی عمر 15 سال یا اس سے زیادہ ہو، رضا مندی کے بغیر جسمانی تعلقات قائم کرتا ہے تو اسے ریپ نہیں کہا جائے گا۔
تاہم سنہ 2017 میں سپریم کورٹ نے اس حوالے سے لڑکی کی عمر بڑھا کر 18 سال کر دی تھی۔
اس پر ہائی کورٹ نے مرکز سے ایک سوال پوچھا تھا جس کے جواب میں مرکز نے ایک تازہ حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں مجوزہ ترمیم کے لیے بات چیت جاری ہے اور درخواست گزار اس سلسلے میں تجاویز دے سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی مرکز نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ میریٹل ریپ کو اس وقت تک جرم نہیں بنایا جا سکتا جب تک اس معاملے سے متعلق تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
تعزیرات ہند کی دفعہ 375 میں ریپ کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان درخواستوں میں اس دفعہ کے شق نمبر 2 پر اعتراض کیا گیا ہے۔
جسٹس ورما کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختلاف کی وجہ سے جبری جسمانی تعلقات کو ریپ کے زمرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ دراصل نربھیا ریپ کیس کے بعد جسٹس ورما کی کمیٹی نے بھی میریٹل ریپ کے لیے الگ قانون بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ شادی کے بعد جنسی تعلقات میں رضامندی اور اختلاف کی بھی تشریح ہونی چاہیے۔
انڈیا میں 'میریٹل ریپ' قانون کی نظر میں جرم نہیں ہے۔ لہذا، آئی پی سی کے کسی سیکشن میں اس کی تشریح کی گئی ہے نہ ہی اس کے لیے کسی قسم کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہائی کورٹ میں اس معاملے میں دائر درخواستوں میں دفعہ 375 کے شق 2 کی آئینی حیثیت کو من مانی، غیر منصفانہ اور انڈین آئین کے آرٹیکل 14، 15، 19 اور 21 کی خلاف ورزی کے طور پر چیلنج کیا گیا ہے۔
عدالت میں دائر درخواست گزاروں میں سے ایک ڈاکٹر چترا اوستھی ہیں۔ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم آر آئی ٹی فاؤنڈیشن کی بانی ہیں جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ جب وہ کمیونٹی میں خواتین کے ساتھ کام کر رہی تھیں تو انہیں بات چیت میں معلوم ہوا کہ ایسے کیسز بہت ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں 'میں نہیں جانتی کہ عدالت کا فیصلہ کیا ہوگا لیکن اس سے لوگوں میں بیداری ضرور آئے گی'۔
’شوہر اور بیوی کے درمیان جنسی تعلقات کی بات کرنا ممنوع‘
بھارتی شرما کہتی ہیں کہ ان کے پاس ہر ماہ دس سے پندرہ نئے کیسز آتے ہیں جن میں سے اوسطاً 50 فیصد کیسز میریٹل ریپ کے ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں 'ہمارے پاس جو خواتین آتی ہیں وہ ازدواجی مسائل کے ساتھ آتی ہیں اور جب ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی میریٹل ریپ کا شکار ہیں اور جب وہ اس کے بارے میں کھلتی ہیں تو اتنا روتی ہیں کہ انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
بھارتی شرما کے مطابق ا’نڈین معاشرے میں جنسی تعلقات پر کھل کر بات کرنا اور وہ بھی شوہر اور بیوی کے درمیان، فی الحال ممنوع ہے۔ ایسے میں عورت میریٹل ریپ کے بارے میں کھل کر بات کر سکے گی، ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ بہت سی خواتین اس بارے میں بالکل بات نہیں کرتیں۔‘
بھارتی بتاتی ہیں کہ جب یہ متاثرہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والے اس طرح کے سلوک کے بارے میں اپنے گھر والوں کو بتانے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں یا تو خاموش کر دیا جاتا ہے یا پھر کہا جاتا ہے کہ ’اگر تم نہیں کرو گی تو وہ باہر چلا جائے گا۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'ایسے معاشرے میں جہاں عورت کے لیے اس کا گھر ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھی جاتی ہو، وہاں سے نکلنے کا فیصلہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے'۔
میریٹل ریپ کے معاملے پر تقسیم معاشرہ
ساتھ ہی اس معاملے پر ٹوئٹر پر' ہیش ٹیگ میریج سٹرائیک' بھی ٹرینڈ ہوا جس میں لوگ اس معاملے کے حق میں اور خلاف بات کر رہے ہیں۔ جہاں یہ کہا جا رہا ہے کہ خواتین میریٹل ریپ کا مقدمہ درج کریں تو وہ کیسے ثابت کریں گی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا یا مرد بھی کیسے ثابت کرے گا کہ وہ غلط نہیں تھا۔
بحث اس بات پر بھی ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہے تو وہ اس قسم کا الزام بھی لگا سکتی ہے۔ اور اگر 'لِیو ان ریلیشن شپ' میں ایسے کیسز منظر عام پر آئیں تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا؟
ڈاکٹر چترا اوستھی کہتی ہیں 'معاشرے کا ایک طبقہ اس بات پر ناراض ہے کہ ہم نے میریٹل ریپ کو جرم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کی ہے، لیکن یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ لوگوں کے لیے مسئلہ نہ ہو لیکن ایسی خواتین ہیں جو یہ برداشت کر رہی ہیں۔ اس لیے ہم نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔‘
ساتھ ہی یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ ’جب سیکس ورکر سے پہلے ہی رضامندی لے لی جاتی ہے تو پھر بیوی کو یہ حق کیوں نہیں دیا جاتا؟‘
بھارتی کہتی ہیں 'یہ سچ ہے کہ سیکس ورکر سے رضامندی لی جاتی ہے اور یہ ایک کاروبار ہے، لیکن بند کمرے میں کیا ہوتا ہے سب جانتے ہیں۔ لیکن لڑکی کے ذہن میں تو بچپن سے ہی یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ شوہر کو خوش رکھنا اس کی ذمہ داری ہے ایسے میں اس کی رضامندی یا خواہش کا سوال ہی کہاں اٹھتا ہے۔‘
عدالت کا فیصلہ
میریٹل ریپ کے مقدمات پر عدالت کے فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک تضاد نظر آتا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے جج این کے چندراونشی نے ایک شخص کو اپنی ہی بیوی کے مبینہ ریپ کے معاملے میں بری کر دیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق رکھنا ریپ نہیں ہے، چاہے یہ دباؤ میں ہو یا اس کی مرضی کے بغیر۔ دوسری جانب کیرالہ ہائی کورٹ نے اسی طرح کے ایک معاملے میں کہا تھا کہ یہ ماننا کہ بیوی کے جسم پر شوہر کا حق ہے اور اس کی مرضی کے خلاف جنسی رشتہ قائم کرنا، میریٹل ریپ ہے۔
سپریم کورٹ کی وکیل رادھیکا تھاپڑ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ عدالت کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اگر دفعہ 375 سے استثنیٰ ہٹا دیا جائے تو ازدواجی تعلقات متاثر ہوں گے۔ اور ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے کیسز کا ڈھیر لگ جائے۔‘
رادھیکا تھاپڑ کہتی ہیں ’شادی ایک ایسا رشتہ ہے جہاں ایک عورت اور مرد کے حقوق ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ مساوی حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا حکومت کو اس کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا کیوںکہ کتنی ہی لڑکیوں کی کم عمری میں شادی ہو جاتی ہے جنہیں میریٹل ریپ کا علم ہی نہیں ہوتا۔‘
جعلی کیسز
اقوام متحدہ سے منسلک ادارے یو این ویمن کے مطابق گھر خواتین کے لیے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق دس میں سے صرف چار ممالک میریٹل ریپ کو جرم سمجھتے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ، نیپال، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سمیت 50 سے زائد ممالک میں میریٹل ریپ جرم تصور کیا جاتا رہا ہے جبکہ ایشیا کے بیشتر ممالک میں قانون میں تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں۔
ڈولی سنگھ کہتی ہیں 'کووڈ کے اس دور میں ان کی تنظیم کو اس طرح کی کالیں موصول ہوتی ہیں جہاں یہ پوچھا جاتا ہے کہ خواتین کو رشتوں میں جذباتی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، تو کیا ہم اسے اپنے ساتھ تشدد سمجھیں؟ اس کا مطلب ہے کہ آہستہ آہستہ بیداری پیدا ہو رہی ہے'۔