آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں دس برسوں میں 984 شیروں کی ہلاکت، وجوہات کیا ہیں؟
- مصنف, سوبا گنم کنن
- عہدہ, بی بی سی تمل
انڈیا کی نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی یعنی این ٹی سی اے کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2021 میں انڈیا میں 127 شیروں کی موت واقع ہوئی ہے۔
گذشتہ ہفتے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے این ٹی سی اے کے حوالے سے بتایا تھا کہ پچھلے سال ملک میں 126 شیر ہلاک ہوئے۔ تاہم سال گزرنے میں ابھی دو دن باقی تھے۔ اس کے بعد 30 دسمبر کو مہاراشٹر کے گڑچرولی کے جنگلات میں ایک مادہ شیر کے مارے جانے کی خبر آئی اس طرح 2021 می ہلاک ہونے والے شیروں کی کل تعداد 127 ہو گئی۔
یاد رہے کہ مدھیہ پردیش شیروں کی اموات کے معاملے میں ملک میں سب سے آگے ہے۔ گذشتہ ہفتے بھی ریاست کے ڈنڈوری ضلع میں ایک مادہ شیر مردہ پائی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے زہر دے کر مارا گیا ہے۔
اس طرح گذشتہ 10 برس کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 2021 شیروں کی ہلاکت کے لحاظ سے سب سے مہلک سال ثابت ہوا ہے۔
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اہلکار نے بتایا کہ این ٹی سی اے نے سکیورٹی اہلکاروں کے گشت میں اضافہ کیا ہے اور شکاریوں کو پکڑنے جیسے کئی اقدامات کیے ہیں۔
30 فیصد ٹائیگر محفوظ علاقوں سے باہر
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شیروں کی موت کی بہت سی وجوہات رہی ہیں بشمول انڈیا میں بڑی تعداد میں شیروں کی موجودگی۔ تاہم انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ڈنڈوری ضلع میں مرنے والی شیرنی کو زہر دیا گیا ہو گا۔
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے اہلکار کہنا تھا ’شیروں کے تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، بہت سے لوگوں کو غیر قانونی شکار کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے 30 فیصد شیر محفوظ علاقے یا سینکچریز سے باہر رہتے ہیں۔‘
جنگلی حیات پر تحقیق کرنے والے اے جے ٹی جان سنگھ نے اس بارے میں بی بی سی تمل سے بات کی۔ قدرتی موت، کرنٹ لگنے اور زہر دینے جیسی وجوہات سے شیروں کی موت پر انھوں نے کہا ’انڈیا میں شیروں کی موت کی تعداد تقریباً پانچ فیصد ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ وسطی انڈیا میں شیر ان بجلی کی تاروں میں پھنس کر مر رہے ہیں جو جنگلی سؤروں کو روکنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ بجلی کی تاروں کے استعمال پر کنٹرول بہت ضروری ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’جب لوگوں کے مویشی مارے جاتے ہیں تو غصے میں لوگ شیروں کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے لوگوں کے غصے کو کم کرنے کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہرے بھرے صحرا
اعداد و شمار کے مطابق 10 سال قبل 2012 میں انڈیا میں 88 شیر مارے گئے تھے۔ پچھلی دہائی کے دوران، 2021 کو چھوڑ کر، 2016 اور 2017 میں سب سے زیادہ شیر مارے گئے تھے۔ 2016 میں 121 شیر اور 2017 میں 117 شیر ہلاک ہوئے ۔ اس کے بعد سال 2020 میں 106 شیر مارے گئے۔
گذشتہ سال یعنی 2021 میں کل 127 شیر مارے گئے۔ ان میں 15 بچے اور 12 کم عمر کے شیر شامل تھے۔ شیروں کی موت کے پیچھے اصل وجوہات جاننے کے لیے بی بی سی نے تمل ناڈو میں شیروں پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر کمارا گرو سے بات کی۔
انھوں نے کہا کہ ’ریاستی حکومتوں کو نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے ساتھ بڑے پیمانے پر مزید ڈیٹا شیئر کرنے کی ضرورت ہے۔‘ ان کے مطابق شیروں کی موت کی بڑی وجہ ان کے اردگرد مناسب خوراک، رہائش اور ماحولیاتی ضروریات کا نہ ہونا ہے۔ شیروں کی بہتر زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ان کے آس پاس کافی تعداد میں ان کے شکار کے لیے جانور موجود ہوں۔
اگر ان کے آس پاس کا ماحول ناگوار غیر ملکی پودوں سے بھرا ہوتا ہے جیسے لنتانا کمارا، ایپوٹوریم گلینڈولوسم، پروسو پس جولی فلورا وغیرہ تو ایسے بہت سے دیسی پودے بھی ہیں جو گھاس اور جھاڑیوں میں سات فٹ تک بڑھتے ہیں۔
ایسے ماحول میں شکار کے زندہ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ شکار گھاس اور جھاڑیوں کی ان اقسام کو نہیں کھا سکتا۔ ان وجوہات کی وجہ سے ایسے علاقے شیروں کے لیے ’سبز صحرا‘ میں بدل جاتے ہیں۔ اس طرح کے ’سبز صحرا‘ تمل ناڈو میں تھیپاکاڈو اور مشینا گوڈی جیسے مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
جینیاتی مسئلہ
ماہرین کے مطابق شیر کے بچوں کی بڑے پیمانے پر موت کی سب سے بڑی وجہ شیروں کے جینیاتی مسائل ہیں۔ انڈیا میں جنگلات کی کٹائی تیزی سے ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے جنگلات بہت محدود ہو گئے ہیں۔ ایسے میں شیروں کے رہنے کا دائرہ بھی سِمٹ کر رہ گیا ہے۔
مثال کے طور پر ستیامنگلم سے مڈوملائی اور بانڈی پور سے ناگرکوئل تک جانے کا شیروں کا راستہ ستیہ منگلم میں بند ہو گیا ہے۔ ایسے میں شیر دوسرے جنگلات میں نہیں جا سکتے۔ اس طرح کے پھنسے ہوئے جانداروں کو 'بوٹل نیک آبادی‘ یا 'پھنسی ہوئی آبادی' کہا جاتا ہے۔
جب شیر دوسرے جنگلوں میں جانے سے قاصر ہوتے ہیں تو وہ اپنی محدود آبادی کے ساتھ جسمانی تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ دوسرے جنگلات میں رہنے والے شیروں کے ساتھ جینیاتی میل جول کو روکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جینیاتی طور پر اس کے بہت بُرے نتائج ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ اگلی نسل میں طاقت ور شیروں کی پیدائش کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ اگر نر اور مادہ دونوں کمزور ہیں تو ان کے بچے اور بھی زیادہ کمزور ہو سکتے ہیں۔ وہ ٹھیک سے چل نہیں سکتے۔ دودھ نہیں پی سکتے۔ کئی قسم کے انفیکشنز اور غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔
جینیاتی نقائص کی وجہ سے ان میں ایسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ جوان ہونے سے پہلے ہی موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔
دوسری طرف اگر ایک بچہ مضبوط پیدا ہو جائے، لیکن اس کی ماں کو شکاری نے مار ڈالا تو اس بچے کو شکار کرنا سکھانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ جب بچہ شکار کرنا نہ جانتا ہو اور اس کی ماں بھی زندہ نہ ہو تو اس کے لیے زندہ رہنا ممکن نہیں۔ جنگلی کتے بھی ان بچوں کو مار کر کھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نہ صرف شیر بلکہ تقریباً تمام جنگلی مخلوقات اپنے مسکنوں کی مسلسل تباہی کی وجہ سے ایسے بہت سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ رات کو چند گھنٹوں کے لیے جنگل کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کرنے سے ہی جنگلی جانور بڑی راحت محسوس کرتے ہیں۔ کرناٹک کے بانڈی پور ٹائیگر ریزرو میں ایسا ہی ہوا۔ رات کے وقت لوگوں کے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی تو شیروں کی تعداد بڑھنے لگی۔
تاہم وہ کہتے ہیں، یہ ایک عارضی حل ہے۔ پیچیدہ مسائل کا حل قدرت کے ساتھ ہم آہنگی سے چل کر ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جس طرح اپنی زبان سکھائی جاتی ہے بالکل اسی طرح بچپن سے ہی ماحولیات کی بنیادی سمجھ دی جانی چاہیے۔
10 برس میں 984 شیروں کی موت
نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے مطابق 2012 سے 2021 کے دوران 10 سالوں میں ملک میں 984 شیر ہلاک ہوئے۔
سب سے زیادہ 244 شیر مدھیہ پردیش میں ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں 168، کرناٹک میں 138، اتراکھنڈ میں 96 اور تامل ناڈو اور آسام میں 66-66 شیر مارے گئے۔
ان میں سے 417 شیروں کی موت قدرتی وجوہات کی وجہ سے ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ان 10 سالوں میں 193 شیر انسانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ تاہم، 2019 میں مرنے والے 22 اور 2020 میں 73 شیروں کی موت کیسے ہوئی اس بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔