آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
20 سال کی تلاش کے بعد 70 شیروں کا مبینہ شکاری گرفتار
بنگلہ دیش میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے معدوم ہوتی ٹائیگر (شیر) کی ایک قسم کے 70 شیروں کو ہلاک کیا ہے۔
حبیب تلوکدر نامی اس شخص کو 20 سال کی تلاش کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔ انھیں ٹائیگر حبیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ پولیس نے انھیں ایک مخبری کے بعد گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف ماضی میں بھی متعدد وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔
حبیب ٹائیگر انڈیا اور بنگلہ دیش کے سرحدی چلاقے سندربنز جنگل میں اپنی کارروائیاں کرتے تھے۔
دنیا میں سب سے زیادہ بنگال ٹائیگر اس علاقے میں پائے جاتے ہیں تاہم اس قسم کے چند ہزار شیر ہی اب بچے ہیں۔
بلیک مارکیٹ میں ان شیروں کی کھالیں، ہڈیاں، اور یہاں تک کہ گوشت بھی بیچا جاتا ہے۔
مقامی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے پولیس چیف سعید الرحمان نے کہا کہ یہ ملزم ایک بہت لمبے عرصے تک فرار رہا ہے۔
حبیب تلوکدر پہلے جنگل میں شہد کی مکھیوں سے شہد اکھٹا کیا کرتے تھے۔ شہد اکھٹا کرنے والے عبد اسلام نے اے ایف پی کو بتایا کہ مقامی لوگ حبیب کی عزت بھی کرتے ہیں مگر ان سے اتنا ہی ڈرتے بھی ہیں۔
’وہ ایک خطرناک شخص ہے جو جنگل میں شیروں سے اکیلا لڑ سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہِ پولیس اور محکمہ جنگلات کئی سالوں سے حبیب تلوکدر کی تلاش میں لگے ہوئے تھے۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ حبیب سندربنز جنگل میں چھپ کر داخل ہوتا تھا کیونکہ اس پر اس جنگل میں داخل ہونے کے حوالے سے پابندی تھی۔ ‘وہ یہ مجرمانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھا حالانکہ اس کے خلاف متعدد کیسز تھے۔ اس معاملے میں بہت سے گینگ ملوث ہیں۔‘
مقامی اخبار کے مطابق ملزم کو سنیچر کی صبح حراست میں لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں شیروں کی گنتی سے معلوم ہوتا ہے کہ 2015 میں 106 کی ریکارڈ کم ترین تعداد سے بڑھ کر 2018 میں یہ تعداد 114 ہوگئی تھی۔
جنگلی حیاتیات کی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف نے گذشتہ سال یہ ڈیٹا شائع کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے تیز رفتار سے شیروں کی آبادی میں کمی کے بعد اب دنیا بھر میں ان کی آبادی بڑھ رہی ہے۔