’جب پاکستانی آم چین میں مقدس پھل بن گئے‘

یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ فروری 2016 میں شائع کی گئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

55 سال قبل چین اپنی حالیہ تاریخ کے سب سے مشکل اور پر آشوب دہائی سے گزر رہا تھا۔ یہ دہائی تہذیبی انقلاب کی دہائی تھی۔ اس دوران قوم ایک خاص قسم کی دیوانگی کا شکار بھی ہوئی، وہ دیوانگی آم کا جنون تھی۔

بنجامن رام بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ پھل ایک قابل احترام حیثیت اختیار کر گیا اور چیئرمین ماؤ کی تحریک کا جزو خاص بن گیا۔

1966 میں ماؤ زے تنگ نے طالب علموں پر مشتمل ریڈ گارڈز کو رجعت پسند حکام کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جانے کو کہا۔

ان کا مقصد معاشرے کو بورژوا عناصر کے چنگل سے نکال کر روایتی خطوط پر استوار کرنا تھا لیکن 1968 کے وسط تک ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور ریڈ گارڈ نے طاقت کے حصول کی کوشش شروع کر دی۔

مخالف قوتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ماؤ نے اپنے 30 ہزار کارکنوں کو کنگ ہوا یونیورسٹی بھیجا جہاں ان کو پاس ایک ہی ہتھیار تھا، ماؤ کی تقاریر و تحاریر پر مبنی ریڈ بک۔

یونیورسٹی پہنچتے ہی کارکنوں پر طالب علموں نے برچھیوں اور تیزاب سے حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں پانچ کارکنوں کی موت واقع ہو گئی جبکہ 700 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد ماؤ نے اپنے کارکنوں کی ہمت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے انھیں 40 آموں کا تحفہ بھیجا جو ایک دن قبل انھیں پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے موصول ہوئے تھے۔

ان آموں کا چینی قوم پر بڑا گہرا اثر مرتب ہوا۔

تاریخ دان فریدا مرک کہتی ہیں کہ ’اس وقت شمالی چین میں کوئی بھی آموں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ اس لیے آموں کا تحفہ حاصل کرنے کے بعد کارکن ساری رات انھیں دیکھتے اور سونگھتے رہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ جادوئی پھل آخر ہے کیا۔‘

’اسی دوران ان کو چیئرمین ماؤ کی جانب سے ایک ’اہم پیغام‘ موصول ہوا جس میں ان کو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ آج سے ’مزدور طبقہ ملک میں ہر سطح پر رہنمائی کرے گا۔‘

ان کارکنوں کے لیے یہ پیغام ان کی تمام تر محنت کا ثمر تھا۔ اس کا مطلب تھا اب طاقت ان پرجوش طالب علموں سے ان مزدور اور کسانوں کو منتقل ہو جائے گی اور لوگوں کو انتشار سے نجات ملے گی۔

مرک کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ماؤ نے آخر اس افراتفری اور خون خرابے کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور ایسے موقعے پر آموں کے تحفے نے اس پھل کو ایک اہم درجہ دے دیا اور اسے تہذیبی انقلاب کے خاتمے اور ماؤ کی کامیابی کی نشانی سمجھا جانے لگا۔

کنگ واؤ پر قبضہ کرنے والے ایک کارکن شانگ کوئی کا کہنا ہے کہ ماؤ کی جانب سے آموں کا تحفہ موصول ہونے کے بعد ان کی فیکٹری میں ایک پر زور بحث چھڑ گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’فوجی نمائندے اپنے دونوں ہاتھوں میں آم اٹھائے فیکٹری میں داخل ہوئے۔ اور ہم بڑی دیر تک سوچتے رہے کہ اس پھل کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ بڑے بحث و مباحثے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے محفوظ کر لیا جائے۔‘

’ہم نے ایک ہسپتال تلاش کیا جہاں اس کو فارمل ڈیہائڈ گیس میں رکھ دیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ان آموں کی مومی شکل تیار کی گئی اور ہر شکل کو کانچ کے ایک خول میں محفوظ کر دیا گیا اور پھر ہر انقلابی کارکن کو اس مومی آم کا تحفہ بھیجا گیا۔‘

تمام کارکنوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس مقدس پھل کو احترام سے تھامیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی سرزنش بھی کی جاتی تھی۔

بیجنگ کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے وانگ شیاپنگ کو جب مومی آم کا تحفہ ملا تو اس وقت تک یہ پھل ایک مقدس حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اصلی آم کو کارکن ڈھول کی تھاپ پر ایک جلوس کی شکل میں ہوائی اڈے سے فیکٹری تک لے کر آئے۔ اس دوران سارے راستے سڑک کے دونوں جانب لوگ آم کے دیدار کے لیے کھڑے تھے۔‘

اس پھل کی اہمیت کا یہ حال تھا کہ صرف ایک آم شنگھائی کی ایک فیکٹری تک پہنچانے کے لیے پورے جہاز کا انتظام کیا تھا اور جب ایک آم گلنے سڑنے کے قریب پہنچ گیا تو کارکنوں نے اس کا گودا نکال کر اسے پانی میں ابالا اور اس مقدس پانی سے ہر کارکن نے ایک ایک چمچہ پیا۔

کیمبرج یونیورسٹی کے لیکچرر آدم یوت چاؤ کہتے ہیں کہ ’کارکنوں نے آم ملنے کے پہلے دن ہی اسے ایک یادگاری حیثیت دے دی تھی جس کا احترام اور حتیٰ پرستش لازمی تھی بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جیسے آم چیئرمین کی طرف سے تحفہ نہیں بلکہ خود چیئرمین ہوں۔‘

اس دوران یہ آم ملک کے طول و عرض میں سفر کرتے رہے اور ان کے ساتھ کئی مقدس جلوس بھی نکالے گئے اور پھر جلد ہی یہ آم کارکنوں میں عقیدت کا درجہ حاصل کر گئے۔

کچھ رسومات کو بدھ مت اور تاؤ مت کی صدیوں پرانی روایات کی طرز پر ادا کیا جاتا تھا، جن میں آم کو ایک اونچے چبوترے پر رکھا جاتا جس کے آگے تمام فیکٹری کارکنان ادب سے جھکتے تھے۔

چین میں اشیائے خورد و نوش کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اسی لیے ماؤ کی طرف سے ملنے والے اس پھل کے تحفے کو بھی خوش بختی کی علامت سمجھا گیا۔

کارکنوں نے کا خیال تھا کہ ماؤ کا یہ تحفہ ان کی اس بےغرض طبیعت کی علامت ہے جس کے تحت انھوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو ان کی بھلائی کے لیے قربان کر دیا تھا۔

ان میں سے شاید ہی کسی کو یہ معلوم ہو کہ وہ پھل ماؤ کو پسند ہی نہیں تھا اور نہ ہی انھیں اس بات سے غرض تھی کہ ماؤ کو وہ آم پہلے ہی کوئی تحفے میں دے چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں ایک روایت ہے جس میں آپ اپنے تحفے کو آگے منتقل کر دیتے ہیں۔ اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس سے تحفہ دینے والے اور لینے والے دونوں کی پذیرائی ہوتی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈا ڈیپارٹمنٹ کے لیے بھی یہ آم ایک تحفہ ثابت ہوئے اور جلد ہی اسے گھریلو استعمال کی اشیا جیسے بستر کی چادروں، برتنون، اور واش بیسن وغیرہ پر بھی ڈیزائن کیا جانے لگا۔ اس کے علاوہ آم کی خوشبو والے صابن اور آم کے ذائقے والے سگریٹ بھی متعارف کروائے گئے۔

اکتوبر 1968 میں بیجنگ میں قومی دن کی پریڈ میں بھی آم جا بجا نظر آئے۔

گوئزو صوبے میں کہیں دور ہزاروں مزدوروں میں محض اس بات پر مسلح لڑائی ہو گئی کہ آم کی بلیک اینڈ وہائٹ فوٹو کی کاپی کسے ملے گی لیکن ہر کوئی اس پھل کے بارے میں اتنا پرجوش نہیں تھا۔

مصور شانگ ہونگتو بتاتے ہیں کہ ’جب آم کی کہانی اخبار میں چھپی تو مجھے یہ بہت عجیب، بیوقوفانہ اور مضحکہ خیز لگی۔ میں نے کبھی آم نہیں دیکھا تھا لیکن میں جانتا تھا کہ یہ ایک پھل ہے اور ہر پھل کچھ عرصے بعد سڑ جاتا ہے۔‘

جن لوگوں نے اس پھل کے مقدس ہونے پر اپنے تحفطات کا اظہار کیا ان کو سخت سزائیں بھی دی گئیں۔ ایک گاؤں میں ایک دندان ساز کو آم کو شکرقندی سے تشبیہ دینے پر سر عام پھانسی دے دی گئی۔

آخر 18 ماہ بعد آم کا یہ جنون ماند پڑ گیا اور پھر یہ وقت بھی آگیا کہ بجلی غائب ہونے کے دوران ان آموں کو موم بتیوں کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔

سابق فلپائنی صدر فرڈیننڈ مارکوس کی اہلیہ امیلڈا مارکوس نے بھی 1974 میں بیجنگ کے دورے کے دوران اپنے میزبانوں کو آم کا تحفہ پیش کیا۔

ماؤ زے تنگ کی اہلیہ جیانگ کنگ نے بھی (جنھیں مغرب میں ’مادام ماؤ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا)، اپنے کارکنوں کو آم بھیج کر پرانے جوش کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ کارکنوں نے ان کے اس تحفے کا شکریہ ادا کرنے کی خاطر ایک فرض کی طرح ان رسومات کو ادا تو کر دیا لیکن ان میں پہلے جیسا جوش و جذبہ موجود نہیں تھا۔

اگلے سال ماؤ زے تنگ بیمار پڑ گئے اور کسی جانشین کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی اہلیہ نے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ’سانگ آف مینگو‘ کے نام سے ایک فلم بنائی لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد انھیں گرفتار کر لیا گیا اور فلم کی تشہیر روک دی گئی۔ شاید چین کی تاریخ میں یہ آم کا آخری باب تھا۔

آم آج کل چین میں باقی تمام پھلوں کی طرح فروخت ہوتے ہیں اور بیجنگ کی رہائشی وانگ شیاؤپنگ جب چاہتی ہیں ’سنہری آموں‘ کا شربت خرید کر پی لیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آم کا راز کھل گیا ہے۔ اب یہ پہلی کی طرح مقدس نہیں رہا۔ نوجوانوں کو شاید تاریخ معلوم نہ ہو لیکن وہ لوگ جو جنون کے اس دور سے گزرے ہیں، ان کے دل میں اس پھل کو دیکھتے ہی ایک خاص قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔‘

اور اب ماؤ بھی ان آموں کی طرح شیشے کے ایک گھر میں اپنے مومی مجسمے کے ساتھ محفوظ ہیں۔