آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آج کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خان کی امیدوں کے تناظر میں کہاں کھڑی ہے؟
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو پر پہلی بار 16 دسمبر 2021 کو پیش کی گئی تھی۔ علی گڑھ یونیورسٹی کا قیام 24 مئی 1875 کو ہوا تھا۔ اس مناسبت سے یہ تحریر قارئین کے لیے دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔
دسمبر 2019 کی ایک سرد شام دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا شہریت کے ایک نئے قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور ان کا الزام تھا کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ اسی دوران پولیس یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئی اور طلبا کو زد و کوب کیا۔
تقریباً 130 کلومیٹر دور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے طلبا بھی اسی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور انھوں نے جامعہ میں تشدد کے خلاف بھی آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن وہاں بھی مقامی انتظامیہ کا ردعمل جامعہ سے مختلف نہیں تھا۔ پولیس کیمپس میں داخل ہوئی اور طلبا کو بے رحمی سے پیٹا۔
سابق سول سرونٹ ہرش مانڈر کی قیادت میں ایک سول سوسائٹی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم، جس نے تشدد کے چند روز بعد علی گڑھ کا دورہ کیا، کے مطابق اے ایم یو میں پولیس کا تشدد جامعہ سے بھی بدتر تھا۔
اگر پولیس سفاک تھی تو یونیورسٹی کی انتظامیہ بھی بے داغ نہیں تھی۔ سٹوڈنٹس کی حمایت کرنے کے بجائے یونیورسٹی نے انھیں چند ہی گھنٹوں کے اندر کیمپس اور ہاسٹل خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
اس قدم کا مطلب یہ تھا کہ کیمپس میں پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاج اور یونیورسٹی انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے وہاں کوئی سٹوڈنٹ بچا ہی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
یہ سال سر سید احمد خان کی جانب سے بنائے گئے ’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘ (ایم اے او) کا 'سینٹرل یونیورسٹی' میں تبدیل ہونے کا 99واں سال تھا۔
اس سال ہونے والے پولیس تشدد کا ذکر کرتے ہوئے اے ایم یو کے سابق طالب علم عادل حسین نے 15 دسمبر کو ٹوئٹر پر لکھا کہ 'میرا اے ایم یو ہاسٹل کا کمرہ [جہاں چھپے طالب علم کو پولیس نے پیٹا تھا] واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوا تھا۔ شاید ہی آپ کے ہاسٹل کے کمرے کو بین الاقوامی کوریج ملتی ہو۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ 'یہ وہ جگہ ہے جہاں میں محبت میں گرفتار ہوا، خواب دیکھنا سیکھا، بہت سی خوبصورت یادیں بنائیں۔ لیکن جو 15 دسمبر 2019 کی رات ہوا تھا اب میں [اپنے ہاسٹل] 'موریسن کورٹ' کو اس حوالے سے یاد کرتا ہوں۔'
ان پُرتشدد واقعات کے دو سال بعد بھی آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
یہ واقعہ اور انتظامیہ کا ردعمل بہت حد تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
کیا اے ایم یو ایک 'مسلمان یونیورسٹی' ہے؟
تعلیمی اداروں میں تشدد کی کہانی غیر معمولی تو نہیں لیکن کم از کم اے ایم یو میں پرانی ضرور ہے جو کہ کچھ حد تک یونیورسٹی کے اندر برپا ہوا اور بعض اوقات ملک کے سیاسی حالات کی عکاسی کا نتیجہ تھا۔
تقسیم ہند سے پہلے یہ ادارہ مسلمانوں کی فکری سوچ کا ایک اہم مرکز تھا۔ لیکن تقسیم نے اسے مسلم دانشوروں کے ایک بڑے حصے سے محروم کر دیا۔ اور اس کا یونیورسٹی پر اتنا ہی اثر ہوا جتنا کہ باقی ملک کے مسلمانوں پر۔
تقسیم ہند کو انڈیا میں بہت سے مسلمانوں نے اپنی ثقافت اور روایت کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا۔ اس کے ردعمل میں اے ایم یو کمیونٹی نے یونیورسٹی کو قانونی طور پر اقلیتی درجہ دینے کا مطالبہ کیا جو کہ مذہبی اقلیتی اداروں کو کچھ حد تک خود مختاری فراہم کرتا ہے، لیکن اس مطالبے سے دوسرے مسائل کھڑے ہوگئے۔
جبکہ اے ایم یو میں مسلمانوں کے لیے کبھی بھی مخصوص نشستیں نہیں تھیں۔ 1960 کی دہائی میں یونیورسٹی نے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے دوسرے کورسز میں 75 فیصد نشستیں یعنی 'انٹیرنل کوٹہ' مخصوص کر دیا تھا۔ یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بارہویں پاس کرنے والوں کے لیے بی اے میں 75 فیصد کوٹہ اور بی اے پاس کرنے والوں کے لیے ماسٹرز میں 75 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔
محمد وجیہ الدین جو کہ اے ایم یو کے سابق طالب علم ہیں، اپنی کتاب 'علی گڑھ مسلم یونیورسٹی: دی میکنگ آف دی ماڈرن انڈین مسلم' میں لکھتے ہیں کہ حکومت اس کے لیے صرف 50 فیصد کوٹہ ریزرو یعنی مخصوص کرنا چاہتی تھی لیکن یونیورسٹی کے طلبا کے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا۔ یونیورسٹی میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ ایک یونیورسٹی اہلکار سمیت کئی طلبا کو بھی گرفتار کیا گیا۔ تشدد کے بعد حکومت نے یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے 'یونیورسٹی کورٹ' کے اختیارات کو کم کر دیا جس کے نتیجے میں مزید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
اس کے بعد 1967 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ اس نے مزید لوگوں اور سایسی جماعتوں کو سیاست کا موقع فراہم کیا۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا کہ وہ یونیورسٹی کے اقلیتی شناخت کو بحال کرے گی۔ اقلیتی شناخت کے لیے ملک بھر میں تحریک شروع ہوگئی اور کئی رہنما مہینوں تک جیل میں بند رہے۔
تاہم یونیورسٹی کی اقلیتی شناخت کی لڑائی ابھی بھی عدالت میں جاری ہے۔
یونیورسٹی کے ماضی سے حال متاثر
اکثر تجزیہ کار اے ایم یو کے ماضی کو اس کے حال سے بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن گذشتہ کئی برسوں میں یونیورسٹی کا ماضی اس کے حال کی پریشانی کا باعث بنا ہے۔
یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین میں ملک کے اہم رہنماؤں کو اعزاز دینے کی ایک پرانی روایت ہے جس کے تحت انھیں یونین کی تاحیات رکنیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس فہرست میں گاندھی، آزاد، امبیڈکر اور جناح جیسے رہنما شامل رہے ہیں۔ لیکن بعض لوگوں کو ان ناموں میں یہ تنوع خوشی کے بجائے سیاست کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
جناح کی تصویر پر تنازع
مئی 2018 میں انڈیا میں ریاستی انتخابات سے پہلے علی گڑھ سے بی جے پی کے ممبر پارلیمان ستیش گوتم نے یونیورسٹی کو ایک خط لکھ کر کہا کہ وہ یہ واضح کریں کہ طلبا یونین ہال میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کیوں لگی ہے۔ وہ یونیورسٹی کورٹ کے ممبر رہ چکے ہیں لیکن اس سے پہلے انھوں نے اس پر کبھی سوال نہیں اٹھایا تھا۔
تنازع کئی دنوں تک جاری رہا اور اے ایم یو کمیونٹی کے ذریعے دی گئی وضاحت کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
یہ خط اس وقت بھیجا گیا تھا جب انڈیا کے سابق نائب صدر حامد انصاری، جو کہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور طالب علم بھی رہ چکے تھے، اے ایم یو کا دورہ کرنے والے تھے۔ انھیں سٹوڈنٹ یونین کی تاحیات رکنیت دی جانی تھی لیکن احتجاج کے بعد وہ یہ اعزاز حاصل کیے بغیر ہی واپس چلے گئے۔
لیکن اے ایم یو سے متعلق تنازعات صرف جناح تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بی جے پی سے وابستہ ایک سٹوڈنٹ نے یونیورسٹی کی لائبریری کے باہر ہندو مذہب میں تعلیم کی دیوی سرسوتی کا مجسمہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یونیورسٹی میں مندر کی تعمیر کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ہندو طلبا کو رمضان کے دوران ناشتہ نہ کرانے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
لیکن ان سب تنازعات سے اب تک جو حاصل ہوا ہے وہ یہ کہ :مزید تلخی اور یونیورسٹی کی ساکھ مزید خراب۔
کیا اے ایم یو اپنے عظیم ماضی سے دور ہوگیا؟
وجیہہ الدین کے الفاظ میں اے ایم یو اب بھی ایک 'جدیدیت اور روایت کا سنگم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ادارے کا ہی نام نہیں ہے، یہ ایک تحریک بھی ہے'۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یہ وہ ادارہ اور تحریک ہے جو انڈین مسلمانوں کی تعلیم، تہذیبی اور معاشی ترقی کے راستے ہموار کرنے کے لیے کام کرتا ہے'۔
ان کا کہنا ہے آزادی سے کچھ سال پہلے یہاں مسلم لیگ کا زور تھا اور اس لیے تقسیم کے بعد لوگوں میں خوف تھا کہ کیا یہ ادارہ زندہ بچے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ لیکن آزادی کے بعد بھی 'علی گڑھ نے نسلوں کو تیار کیا ہے۔ اور ان لوگوں نے پوری دنیا میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا شہر ہوگا جہاں اے ایم یو کے سابق طلبا نہیں ہوں گے۔ تعلیمی بیداری اور معاشی خود مختاری میں یہ بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔'
لیکن کیا اے ایم یو وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے جس کے لیے سرسید نے اس کی بنیاد رکھی تھی؟
وہ کہتے ہیں کہ 'میں نہیں مانتا کہ یہ بہت حد تک پورا ہوا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کا دور، جب وہاں اے ایم یو کی پہلی اور دوسری نسل تھی، بڑا ہی خوبصورت تھا۔ وہاں سے ہر طرح کے لوگ نکلے۔ لیکن اس کے بعد آزادی کے بعد کے دور نے کافی اتھل پتھل پیدا کر دی۔'
لیکن تاریخ کے علاوہ اے ایم یو کے ایسے دیگر اندرونی مسائل بھی ہیں جس کی وجہ سے ادارے سے جڑی امیدوں پر پورا اترنے میں رکاوٹیں ہیں۔ مثال کے طور پر مبینہ اقربا پروری، علاقائیت اور اساتذہ اور طلبا میں تنوع کی کمی۔ اگرچہ یہ مسئلہ اے ایم یو کے لیے منفرد نہیں ہے لیکن یونیورسٹی سے وابستہ اکثر افراد دبے لفظوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم نے کہا کہ 'ایلیٹ کلاس نے یونیورسٹی کو برباد کر دیا ہے'۔ انھوں نے کہا کہ 'مثال کے طور پر میرے شعبے کو لے لیجیے۔ میرے شعبے میں ایک پروفیسر تھے جن کا بھتیجا اور بھتیجی دونوں کا داخلہ میرے شعبے میں ہوا۔ یونیورسٹی میں اساتذہ کے بچوں کے پڑھنے سے میرا کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ کیسا اتفاق ہے کہ اکثر اساتذہ کے بچے گولڈ میڈلسٹ ہوں، آپ فہرست دیکھ سکتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
عریب الدین احمد نامی ایک اور سابق سٹوڈنٹ کہتے ہیں کہ 'آج اے ایم یو جو کچھ بھی ہے وہ بنیادی طور پر طلبا کی وجہ سے ہے جو کہ باہر جا کر کچھ کر رہے ہیں۔ وہاں استاد کوئی غیر معمولی کوشش نہیں کر رہا ہے۔'
وہ اس کی مثال کچھ یوں دیتے ہیں کہ 'یونیورسٹی میں شاید ہی کوئی پروفیسر ہوگا جو کہ اخبارات میں کالم لکھتا ہو۔'
لبنا عرفان جنھوں نے اے ایم یو سے اپنی پوری تعلیم حاصل کی ہے اور وہیں پڑھاتی ہیں، اس موقف سے اتفاق نہیں رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اے ایم یو کو دنیا کے نقشے پر لانے کے لیے صرف طلبا ہی ذمہ دار ہیں۔ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح پر اے ایم یو کی نمائندگی کرتے رہے ہیں لیکن انہیں بنانے میں اساتذہ کے تعاون سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔'
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'میں مختلف سطحوں پر اے ایم یو کے طالب علموں کی نمائندہ رہی ہوں اور میں متعدد اساتذہ کے اہم کردار سے انکار نہیں کر سکتی کہ انھوں نے طالب علمی کے زمانے میں میری رہنمائی کی۔'
وہ کہتی ہیں کہ یہاں اچھے اور برے دونوں طرح کے اساتذہ ہیں اگر آپ صحیح نظریہ سے دیکھیں تو۔
یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن شعبے میں پروفیسر اور پبلک ریلیشنس انچارج شافع قدوائی تعلیمی معیار میں کمی کا اصرار کرتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اسے ہم ایک علیحدہ مسئلے کے طور پر نہیں دیکھ سکتے۔
وہ کہتے ہیں 'ٹیچرز کو کیرئیر کی زیادہ فکر ہے۔ جو طالب علموں کی سرپرستی ہوتی تھی، ویسا اب نہیں رہا۔ یہ ہم نے ترک کر دیا ہے۔'
ان کا خیال ہے کہ آج کے زمانے میں 'ایک ٹیچر کا کام کلاس لینا ہے، رسرچ کرانا ہے، اشاعت اس کے کام کا صرف ایک حصہ ہے۔ علی گڑہ میں جتنی سنجیدگی سے کلاس ہوتی ہے، اتنی سنجیدگی سے بہت ہی کم جگہ کلاس ہوتی ہے۔'
وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حالانکہ یہاں سے بہت کم ہی پروفیسر کالم لکھتے ہیں لیکن گذشتہ برسوں میں اے ایم یو سے روٹلیج، آکسفورڈ، کیمبرج جیسے پبلیکیشنز سے متعدد کتابیں آئی ہیں اور ٹیچروں کو ملکی سطح پر اعزازات سے نوازہ گیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ یہاں پسماندہ مسلمان اور مسلم خواتین کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے قابل تعریف کام ہو رہا ہے۔
شافع مزید کہتے ہیں کہ 'ظاہر ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ جو پرانی چیزیں تھیں، وہ اچھی تھیں، اور اب جو ہے وہ نہیں ہے۔ البتہ آج کا اے ایم یو جو نہیں کر پارہا ہے وہ سیاسی نمائندگی کے محاذ پر ہے جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا۔ اور اس کی وجہ ہے کہ ملک میں مسلمان پوری طرح سے 'مارجنلائز' ہو چکے ہیں، کسی بھی سیاسی پارٹی میں ان کے لیے وہ جگہ نہیں ہے جیسے وہ پہلے ایک 'کنگ میکر' ہوتے تھے۔'
وہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے متعلق مسائل کے حل اور ان پر غور و فکر ضرور جاری ہے لیکن، ’ہاں، یہ کوشش مسلسل نہیں ہے۔‘
وجیہہ الدین کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں 'وہاں جمود سا طاری ہو گیا ہے۔ اور یہ جمود کئی محاذوں پر ہے۔ انتظامی محاذ پر بھی، تعلیمی محاذ پر بھی اور طلبا کے طرف سے بھی ہے۔'
'مذہبی رجحان میں اضافہ'
وجیہہ الدین اور یونیورسٹی سے منسلک دیگر افراد اے ایم یو کے لیے جن چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہیں ان میں سے کیمپس میں مذہبی رجحان میں اضافہ بھی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ادارہ جدیدیت کے اپنے ہدف کے مقابلے میں مذہب کی طرف بہت زیادہ جھک رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے اور یہ کہ بعض اوقات یہ ثقافتی سنسرشپ کی شکل میں نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عریب نے اے ایم یو کے مشہور قانون کے شعبہ سے تعلیم حاصل کی ہے، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ٹیچر نے 'آئی پی سی 376 یعنی ریپ کا سیکشن اور 377 یعنی ہم جنسیت کا سیکشن ہمیں پڑھایا ہی نہیں۔ یہ رویہ حقیقی دنیا سے بالکل الگ ہے۔'
یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کے سٹوڈنٹ وِنگ کے سربراہ طلحہ منان حالانکہ کیمپس میں مذہبی رحجان میں اضافے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اے ایم یو کی بنیاد ایک مسلم یونیورسٹی کے طور پر رکھی گئی تھی۔ مسلمان اور اسلام کو اس سے الگ کر کے تو نہیں دیکھ سکتے۔'
وہ اس بات پر مزید زور دیتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں مسلمان طلبا کی ایک بڑی تعداد آتی ہے، اس لیے یہ ظاہر ہے کہ وہ اور ان کا مذہب زیادہ نظر آئے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ 'آگر وہ مذہبی ہیں اور کیمپس یا روزمرہ کی زندگی میں اس کو ظاہر بھی کر رہے ہیں تو مجھے نہیں معلوم اس سے یونیورسٹی کے معیار میں کس طرح دخل اندازی ہو رہی ہے'۔
شافع قدوائی اس سے اتفاق رکھتے ہیں کہ کیمپس میں مذہبی رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'مذہبیت میں کوئی برائی نہیں ہے، لیکن 'سیوڈو' (دکھاوے) مذہبیت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ دوسرا شخص غلط ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ مذہبی رجحان میں اضافے کی وجہ ملک کے سنگین حالات ہیں۔
'جس کی وجہ سے لوگ مذہب میں اپنی مشکلات کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔ انڈیا اور باہر بھی لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جو آپ کا ماضی ہے وہی آپ کا مستقبل بھی ہے۔'
لڑکیوں پر زیادہ پابندیاں؟
مذہب اور روایت کا مرکب دیگر طریقوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اگرچہ آہستہ آہستہ حالات بدل رہے ہیں لیکن یونیورسٹی بطور ادارہ طالبات کی نقل و حرکت کے معاملے میں مقابلتاً زیادہ چوکس نظر آتا ہے جسے کئی طلبہ اور ٹیچر نقل و حرکت کی آزادی پر پابندی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
گرلز ہاسٹل میں لڑکیوں کو باہر جانے کے لیے سرپرست کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کے وجہ سے جب دسمبر 2019 میں شہریت کے قانون کے خلاف کیمپس میں احتجاج جاری تھا تو گرلز ہاسٹل میں مقیم طالبات اس میں حصہ لینے سے قاصر تھیں۔
اے ایم یو کی طالب علم زیبا آفرین جو خود یونیورسٹی ہاسٹل میں رہتی ہیں بتاتی ہیں کہ احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے طالبات انتظامیہ سے لڑ کر باہر گئی تھیں حالانکہ لڑکوں کو احتجاج میں حصے لینے کی پوری آزادی تھی۔
وہ انتظامیہ کی جانب سے طالبات کے ساتھ لڑکوں سے مختلف سلوک کرنے کا ذمہ دار والدین کو بھی سمجھتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں 'انتظامیہ اپنی ذمہ داری نہیں لینا چاہتا اور والدین چاہتے ہیں کہ وہ اپنی لڑکیوں پر جو پاپندی گھر میں لگاتے تھے، وہی پابندی ہاسٹل میں بھی رہے۔'
آج کا اے ایم یو سرسید کے خواب میں کہاں فِٹ بیٹھتا ہے؟
طلحہ کا کہنا ہے کہ 'اے ایم یو ہمیشہ سے ہی مسلم دانشوروں کی جگہ رہی ہے جس کا کام علمی اور سیاسی دونوں شعبوں میں مسلمانوں کو قیادت فراہم کرنا تھا۔ وہ اس میں بہت حد تک کامیاب رہا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ بلکہ آج کے حالات میں 'فی الحال تو یہ کام اے ایم یو کے لیے اور اس کے لیے اے ایم یو مزید اہم ہوگیا ہے۔‘
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سر سید احمد موجودہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آئیں تو وہ خود اس ادارے کو تسلیم نہیں کر پائیں گے جو انھوں نے خود قائم کیا تھا۔
یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم زیاد خان، جنکی پرورش علی گڑھ شہر میں ہوئی ہے اور وہ علی گڑھ پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ 'اگر وہ آج آئیں تو شاید وہ یہاں سے نکال دیے جائیں۔'
وہ اے ایم یو میں نظریات کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہم اکثر اپنے دوستوں میں بات کرتے ہیں کہ سرسید ہمارے اساتذہ سے زیادہ ہمارے قریب ہیں۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ یونیورسٹی ایک وقت پر انقلابیوں اور مفکرین کی جگہ تھی لیکن اب موافقت پسندوں کی جگہ بن گئی ہے'۔
قدوائی کہتے ہیں کہ 'شاید ہم سرسید کے پلورلِزم (تکثیریت) جیسے نظریات کو صحیح طریقے سے دیکھنے میں پوری طرح سے کامیاب نہیں رہے ہیں'
اے ایم یو کیا ہے اور کیا ہو سکتی ہے، یہ بحث پرانی ہے اور جاری رہے گی۔ لیکن اس کے مستقبل کا جواب ایک حد تک اس کے ماضی میں ضرور ہے۔
وجیہہ الدین یونیورسٹی میں اردو کے ایک سابق استاد راشد صدیقی کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ جب وہ کسی خوش لباس انسان سے ملتے اور وہ اچھی زبان بولتا، تو وہ اس سے سوال کرتے کہ 'کیا آپ نے علی گڑھ میں پڑھائی کی ہے' اور اگر وہ ہاں کہتا تو راشد صدیقی بہت خوش ہوتے تھے۔
'لیکن اگر وہ شخص کہتا کہ نہیں، ان کا علی گڑھ سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ کہتے کہ 'کیا ہی ہوتا کہ آپ بھی علیگ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سابق طالب علم) ہوتے۔'