آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان بچوں کو غذائی قلت اور خسرے کا سامنا: ’عالمی امداد نہ ملی تو ڈر ہے کہ ہسپتال بھی بند ہو جائے‘
- مصنف, اسکندر کرمانی
- عہدہ, خبرنگار بیبیسی، افغانستان
افغانستان کے صوبہ گوہر کے دارالحکومت چاغچرن کے واحد ہسپتال کے غذائی قلت کے وارڈ کے باہر ماؤں اور بچوں کا ایک ہجوم ہے جو بچوں کے لیے غذائیت کے پیک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے ’یہاں اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
’یہاں ہر روز یہی صورتحال ہوتی ہے، پچھلے چار پانچوں مہینوں سے ایسے ہو رہا ہے۔ پچھلا سال بھی برا تھا لیکن ایسا نہیں تھا۔‘
افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے، لیکن معشیت ڈوب رہی ہے۔ مرکزی صوبے گوہر کا ہسپتال ملک میں آنے والی تبدیلی سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
افغانستان کی سابقہ حکومت جس عالمی امداد کے سہارے کھڑی تھی وہ طالبان کی آمد سے بند ہو چکی ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو امریکہ منجمد کر چکا ہے۔
افغانستان کی کرنسی کی قدر گر چکی ہے، بینکوں نے رقم نکلوانے کی حد مقرر کر دی ہیں۔ ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
ایک ماں فریاد کر رہی ہے ’ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، میرے بچے بیمار ہیں۔ ہمارے پاس دوائیاں نہیں ہیں۔ ہماری کوئی مدد کیوں نہیں کر رہا۔‘
ایک ڈاکٹر نے ہمیں بتایا کہ مریضوں بچوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں دگنی ہے۔ کمرے میں ایک نرس ایک بچے کے چھڑی نما بازو پر ایک آلہ لگاتی جو سرخ کی ریڈنگ دیتا ہے۔ بچے خوراک کی سخت کمی کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں افغانستان میں ایک ملین بچے بھوک سے مر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہسپتال کے میلنیوٹریش وارڈ میں جگہ ختم ہو رہی ہے۔ داما یہیں نرس ہیں۔ داما بتاتی ہے: ’ہر بستر پر دو بچے اور ان کی مائیں ہیں۔ کئی دفعہ وہاں تین تین بھی ہوتی ہیں۔‘
یہاں درجۂ حرارت منفی دس سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے لیکن ہمارے پاس ہیٹر کے لیے چند گھنٹوں کی لکڑی ہے۔
پچھلے حکومت میں بھی ہسپتالوں کو وسائل کی کمی کا سامنا تھا لیکن کم از کم وزارت صحت وارڈ کو گرم رکھنے کے لیے ایندھن مہیا کر دیتا ہے۔ اب تمام فنڈز بند ہو چکے ہیں۔ اور طالبان کے پاس ہسپتال کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
وارڈ میں جو ایک ہیٹر ہے وہ بھی کسی عالمی رفاعی ادارے نے عطیہ کیا ہے۔ کچھ لوگ اس ہیٹر کو کچھ اور دیر چلانے کے لیے کوئی ادویات کی پیکنگ اس میں ڈالتے ہے تاکہ آگ کچھ اور منٹ تک جاری رہے۔
گوہر صوبے کا دارالحکومت چاغچرن کابل سے دس گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ خوبصورت پہاڑوں سے گذرنے والی سڑک کچی ہے۔ ان پہاڑوں پر برف پہلے کی نسبت کم ہے جو ملک میں جاری خشک سالی کی ایک نشانی ہے جو افغانستان میں انسانی بحران کو زیادہ شدید بنا رہا ہے۔
جب ہم صوبے کے واحد ہسپتال میں پہنچتے ہیں تو یہاں عملہ چھ مہینوں میں پہلی بار تنِخواہ وصول کر رہا ہے۔ یہ بھی انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس کی بدولت ہوا ہے۔
یہاں دوائیاں خطرناک حد تک کم ہیں۔ یہاں ہسپتال میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی دوائیاں موجود ہوں گی۔ اسی لیے ڈاکٹر مریضوں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ دوائیاں قریبی سٹوروں سے خرید لیں۔
ڈاکٹر سفر ایک نسخے کو لکھتے ہوئے تقریباً بھرائی ہوئی آواز میں کہتے ہیں: ’ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔ دوائیاں نہیں ہیں۔‘
لوگوں کے پاس علاج کے لیے رقم نہیں ہے۔ بیس سالہ گل فیروز کے ہاں سی سیکشن کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ ان کا بچہ بنیامین ٹھیک ہے لیکن پورا خاندان قرضے میں ڈوب چکا ہے۔
گل فیروز کی ساس نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے پاس ٹیکسی کو دینے کے لیے دس افغانی بھی نہیں تھے۔ ’ہم اس کے لیے گوشت نہیں خرید سکتے۔ بس دودھ پر گذارہ ہے۔ ہمیں بہت دوائیاں خریدنی پڑی ہیں۔ ہم نے ہر جاننے والے سے ادھار مانگا ہے۔‘
کئی دفعہ ہسپتال کا عملے کے لوگ اس سہولت کو جاری رکھنے کے لیے اپنی جیب سے رقم خرچ کر کے اسے چلا رہے ہیں۔ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر پارسا اپنی جیب سے چھ اضافی نرسوں کی تنخواہ ادا کر رہے ہیں۔
مغرب ممالک کو خدشہ ہے کہ فنڈز کو جاری کرنے سے طالبان کی حکومت مضبوط ہو گی۔ ڈاکٹر پارسا کہتے ہیں کہ اس ہسپتال کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر پارسا کہتے ہیں: ’میرا عالمی برادری کو پیغام ہے، ہم نے کبھی اس سے بری صورتحال کا سامنا نہیں کیا۔ برائے مہربانی ہماری مدد کریں۔ اسلامی امارت( طالبان حکومت) سے بات چیت کریں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر منجمند کریں۔‘
یہاں صرف غذائی قلت کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی نمونیا کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ایمرجنسی وارڈ میں اپنی پوتی کو لیے ایک بزرگ خاتون کہتی ہے: ’ہمارے پاس ایندھن بھی نہیں، گرم کپڑے بھی نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ہماری کوئی زندگی نہیں ہے، ہم بے گھر مہاجر ہیں۔‘
یہاں خسرہ بھی پھیل رہا ہے۔ ہسپتال کے پاس خسرہ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئے تعداد کے علاج کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ خسرہ سے بچاؤ کا ویکسنیشن پروگرام کورونا کی وبا اور طالبان کے ملک پر قبضے سے رک گیا ہے۔
جس رات ہم یہاں پہنچے تو اس سے پہلے والی رات ایک لڑکا آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے موت کی منہ میں چلا گیا۔
ڈاکٹر موسی نے ہمیں بتایا: ’ہمیں آکسیجن کے سلنڈروں کی ضروت ہے لیکن وہ مہنگے ہیں۔‘
ایک سلنڈر پر پچاس ڈالر کی لاگت آتی ہے جو افغانستان میں زندگی اور موت میں فرق ہے۔
در اصل یہاں خسرہ وارڈ کے باہر درجنوں خالی سلنڈر پڑے ہیں۔ ہسپتال کے پاس اپنی آکسیجن پیدا کرنے کے لیے مشین موجود ہے لیکن اسے چلانے کے لیے بجلی نہیں ہے۔
اس وقت یہاں پورے شہر میں بجلی نہیں ہے، سوائے چند ایک گھروں کے جنہوں نے سولر پینل لگوا رکھے ہیں۔
شہر کو بجلی مہیا کرنے والے پاور پلانٹ کو چلانے کے لیے ایندھن نہیں ہے۔ ہسپتال کے پاس اپنے جنریٹرز ہیں لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔
ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر پارسا کی بیوی ڈاکٹر خیطرا میٹرنٹی یونٹ کی سربراہ ہیں۔
افغانستان کو اربوں ڈالر کی بیرونی امداد کے باوجود ڈاکٹر خیطرا ہمیں ایسے آلات کی ایک لمبی فہرست گنواتی ہیں جن کی ہسپتال کو ضرورت ہے لیکن وہ ہسپتال کے پاس نہیں ہیں۔
اب صورتحال بہت خراب ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے چھ مہینے کی ہنگامی امداد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ڈاکٹر پارسا اس کے شکرگذار ہیں لیکن وہ مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔
ڈاکٹر پارسا کہتے ہیں ’اگر ہمیں عالمی امداد نہیں ملتی اور صورتحال جوں کی توں رہتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ ہسپتال بند ہو جائے گا۔ پورے صوبے کے لیے ہیلتھ سروس ختم ہو جائے گی۔‘
اضافی رپورٹنگ: احمد فواد زاوک، اور مدثر ملک