سقوطِ ڈھاکہ کے 50 برس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, علی عثمان قاسمی
- عہدہ, محقق و مورخ
اردو زبان کی تاریخی رزمیہ کہانیوں میں بادشاہ اپنی جان کسی پرندے میں منتقل کر کے اسے کسی محفوظ اور خفیہ مقام پر بند کر دیتے تھے۔ اگر بادشاہ کو قتل کرنا مقصود ہو، تو اس کے لیے اس پرندے کو مارنے کی شرط ہوتی تھی۔
میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے خادم حسین راجہ، جو کہ مارچ 1971 میں بنگالیوں کے خلاف پاکستانی فوج کے 'آپریشن سرچ لائٹ' کے مرکزی معمار بھی تھے، نے اپنے گھر میں ایک مینا پال رکھی تھی۔
لیکن اس کے علاوہ ان کے پاس ایک اور 'مینا' تھی جو کہ ان کے گھر کا پالتو پرندہ نہیں، بلکہ بنگلہ دیش کی آزادی کی قیادت کرنے والے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو دیا گیا خفیہ نام تھا۔
اپنی آپ بیتی میں خادم حسین راجہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے شیخ مجیب کو 'مینا' کا خفیہ نام اس لیے دیا تاکہ جب وہ مغربی پاکستان میں اپنے گھر والوں سے بات کر رہے ہوں تو ان کا نام نہ استعمال کریں۔
جب 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب، پاکستانی فوج نے بھاری اسلحہ استعمال کرتے ہوئے ڈھاکہ پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور شیخ مجیب الرحمان کو حراست میں لے لیا تو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے خادم حسین راجہ لکھتے ہیں: 'بظاہر مینا کا دل کمزور تھا، اور وہ ٹینکوں اور رائفلوں کی گھن گرج برداشت نہ کر سکی۔'
بعد میں جب خادم حسین راجہ کی اہلیہ نے اپنی بیٹی کو فون کیا اور اسے مینا کی موت کی خبر دی، تو وہ سمجھی کہ ان کی والدہ درحقیقت شیخ مجیب کی بات کر رہی ہیں اور وہ فوجی آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہاں یہ کہانی بیان کرنے کی وجہ وہ خیال ہے کہ کہیں خادم حسین راجہ کی مینا اپنے ساتھ پاکستان کی روح اور زندگی تو اپنے ساتھ نہیں لے گئی، اور نہ ان کی پالتو مینا اُس رات ڈھاکہ میں ہونے والے فوجی آپریشن کی آواز کی تاب لا سکی، اور نہ ہی پاکستان۔

،تصویر کا ذریعہOxford University Press
پاکستان محققین اور صحافیوں کے لیے 1971 کے واقعات کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہے۔ اس موضوع پر جتنا بھی مواد موجود ہے، یا عوامی طور پر 1971 کے بارے میں جو بیانیہ مقبول ہے، اس میں انڈیا کی سازشوں اور مکتی باہنی کی زیادتیوں کو مورد الزام ٹھیرایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بس برائے نام ہی یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ بنگالیوں کے ساتھ سالوں سال ناانصافی کی گئی اور اس کی وجہ سے 1971 کے واقعات رونما ہوئے، اور اس سے سیکھے گئے اسباق کو بس یہ کہہ کر آئینی تاریخ کے کونے کھدروں میں دیا جاتا ہے کہ صوبائی خود مختاری کے مطالبات اور انتخابی عمل کی شفافیت کتنی ضروری ہے۔
لیکن یہ طرز عمل انسانی تکلیف اور المیے کے متعلق اُن اہم سوالات کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ان لاکھوں، کروڑوں پاکستانی اور بنگالیوں کے ذہنوں پر ابھی بھی نقش ہیں۔
پاکستانی تاریخ دانوں میں صرف انعم زکریا کی حالیہ کتاب اس بیانیے سے ہٹ کر تصویر پیش کرتی ہے۔ ان کی کتاب کی جامع تحقیق اور اس کا دائرہ کار، اور عرق ریزی سے کیا گیا تجزیہ ایک ایسی حقیقی کاوش ہیں جس میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی نقطہ نظر کو بہت عمدہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
لیکن اس کتاب کے علاوہ اگر دیکھیں تو سرمیلا بوس کی 'ڈیڈ ریکوننگ' کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں 1971 کے واقعات پر ہونے والی بحث کی توجہ صرف پاکستان کے اس دعوی پر ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس بیانیے میں خود کو بطور مظلوم پیش کیا جاتا ہے اور بنگالیوں پر بہاریوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
پراپگینڈا کرنے والے اور تاریخ کو مختلف پیرائے میں بیان کرنے والوں کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں عوامی رائے کو تبدیل کریں۔ ان کا مقصد محض یہ ہے کہ وہ پاکستانی بیانیے پر یقین کرنے والوں کو تسلی دیں، اور 1971 کے واقعات کو پاکستانی مظلومیت کے عدسے سے دیکھیں، اور اس وقت کی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن شروع کرنے کے فیصلے کو اس اعتبار سے پرکھیں کہ یہ فیصلہ پاکستان کے ایک صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں 1971 کی تاریخ اور اس پر کی جانے والی بحث کے تین پہلو ہیں جو آج تک انتہائی متنازع ہیں۔
ان میں اولین پہلو تو اُن واقعات کے بارے میں ہے جو حالات کو مارچ 1971 میں کیے جانے والے فوجی آپریشن کی وجہ قرار دیے گئے اور جن کی روشنی میں بنگالی مزاحمت اور اسے قومی آزادی کہنا ناجائز قرار دیا گیا۔
دوسرا پہلو نسل کشی اور تشدد، اور ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ہے جس میں بنگلہ دیشی موقف کے مطابق پاکستانی افواج نے تیس لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا اور دو لاکھ سے زیادہ خواتین کو ریپ کیا جبکہ پاکستانی موقف کے مطابق مشرقی پاکستان میں بہاریوں کی نسل کشی کی گئی۔
تیسرا پہلو ہے کہ ان واقعات کے رونما ہونے کے دہائیوں بعد اب آگے کیسے بڑھا جائے اور اس کے لیے کیا ماضی کو بھلا دیا جائے یا اس دوران ہونے والے مظالم کی معافی طلب کی جائے۔
یہ مضمون 1971 کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والی اس بحث کے تینوں پہلوؤں پر روشنی ڈالے گا۔ اس مضمون میں راقم کی کوشش ہوگی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ مندرجہ بالا تینوں سوالات ایک دوسرے سے جڑُے ہوئے ہیں اور نہ صرف کہ یہ محض تاریخ کے سوالات ہیں، بلکہ کس طرح یہی سوالات پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تشدد کے ہونے یا نہ ہونے کا قانونی جواز
اس مضمون کی شروعات 1971 کی جنگ، یا وہ واقعات جو اس جنگ کا سبب بنے، یا حتی کہ پاکستان کے قیام سے نہیں ہوگی بلکہ ہم اُس سے بھی سات سال پیچھے جائیں گے جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کی بنیادی اینٹ رکھی۔
مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جانے والی قرار داد لاہور نے خود مختار، آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ لیکن صرف چند برس بعد مسلم لیگ نے قرار داد میں 'ریاستوں' کو بدل کر انڈیا کے مسلمانوں کے لیے 'ریاست' میں تبدیل کر دیا۔
اس کے بعد 50 کی دہائی میں بنگالیوں کی جانب سے پہلے حسین شہید سہروردی اور بعد میں شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں حزب مخالف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کا وفاقی جمہوری آئین صوبائی خود مختاری کی بنیاد پر ہو جیسا کہ لاہور قرارداد میں درج تھا۔
شیخ مجیب الرحمان کے تاریخی چھ نکات، جن کی بنیاد پر انھوں نے 1970 میں ہونے والے انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی، وہ بھی 30 برس قبل منظور ہونے والی قرار دادِ لاہور سے متاثر تھے۔
سنہ 1970 کے انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے بعد شیخ مجیب کی جماعت عوامی لیگ اور اس وقت پاکستان کے آمر جنرل یحیی خان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی لاہور قرار داد کا بار بار تذکرہ ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNATIONAL LIBRARY OF PAKISTAN
یہاں تک کہ پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد ایک اہم بنگالی رہنما عبدل منصور احمد، جو کہ 50 کی دہائی میں حزب اختلاف کے اہم رکن تھے، نے لاہور قرار داد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ واحد دستاویز تھی جو پاکستان کے دونوں حصوں کو متحد رکھ سکتی تھی۔
وہ لکھتے ہیں: 'پہلی نظر میں شاید بنگلہ دیش کا قیام خلل ڈالنے کے عمل طور پر نظر آتا ہے، اور بظاہر اسی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا۔ اور کسی متحد چیز کا اس طرح سے ٹوٹ جانا، خواہ وہ کسی بھی وجہ یا مقصد سے ہوا ہو، ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔۔۔ لیکن بنگلہ دیش میں پیش آنے والے المناک واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارے سیاسی آباؤ اجداد کے بنائے ہوئے منصوبے ناکام ثابت ہوئے، بلکہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ہم ان منصوبوں کے راستے سے بھٹک گئے۔ تو ہمیں اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں شرمندہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔ ان کا دیا ہوا منصوبہ اتنا عمدہ اور دور رس تھا کہ اس سے الگ ہونا ہمارے لیے زہر قاتل ثابت ہوا اور بنگلہ دیش کا قیام ناگزیر ٹھیرا۔۔۔ یہ بس اس بے وفائی کا اختتام ثابت ہوا۔'
تو جہاں ہم 23 مارچ سے بطور 'یومِ پاکستان' بہت جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، وہیں اس بارے میں زیادہ غور نہیں کیا جاتا کہ اس دن کا مطلب کیا تھا اور بنگالیوں نے کیسے اس قرار داد کو ایک جمہوری اور غیر مرکزیت پر مبنی ریاست کے دو حصوں کے درمیان مضبوط روابت قائم کرنے کی نظر سے دیکھا تھا۔
مشرقی پاکستان میں 1970 اور 1971 میں جو ہوا، اُسے ایسے سمجھنا چاہیے کہ سالوں سے بنگالی عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم اور استحصال کے نتیجے میں ان کے اندر بھرے ہوئے غصے اور ابلتے ہوئے لاوا کو بنگالی رہنماؤں نے کس طرح سے سینچا، اور انھیں اس جوش و جذبے کی مدد سے ان مظالم سے نجات حاصل کرنے کے لیے انقلاب کا راستہ دکھایا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب عوامی لیگ کے حامی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جذبے کی طاقت سے سرشار و مسحور ہو گئے اور پاکستانی ریاست کی جانب سے استحصال پر مبنی حکمت عملی اور 'دھونس کے بل بوتے پر طاقت' کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عوامی لیگ نے 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ہونے والی لاتعداد ناانصافیوں سے نجات حاصل کرنے کا عمل شروع کیا: بنگالی زبان کو برابری کا درجہ نہ ملنا، بنگالی زبان کے حق میں احتجاج کرنے والے بنگالی طلبہ کا قتل، مشرقی پاکستان میں بنگالی اکثریت کے باوجود ان کو دونوں حصوں میں برابری نہ ملنا، شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کی نظموں کا قومی ریڈیو پر چلنے سے پابندی، اہم قومی معاملات اور شکایات پر اسمبلی میں حزب اختلاف میں شامل بنگالی رہنماؤں کو نظر انداز کرنا، فاطمہ جناح کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کر کے ایوب خان کو جیت دلانا، اور ترقیاتی کاموں کے لیے معاشی وسائل میں برابر کا حصہ نہ دینا جیسی وجوہات شامل ہیں۔
ان تمام شکایات کا مجموعی نتیجہ انتہائی شدید غم و غصے کی صورت میں نکلا۔ بنگالی دانشوروں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ ان کے خطے کی خستہ حالی کی وجوہات سامراجی دور اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے چلتی آ رہی ہیں اور سول بیوروکریسی میں بنگالی افراد کی نمائندگی میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن ان عوامل کے باعث عوامی لیگ کو وہ طاقت مل گئی جس کی مدد سے وہ ہڑتالوں کی کامیاب کال دینے لگے اور مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں پر دھونس جمانے لگے۔
سنہ 1970 کے انتخاب کے بعد یحیی خان سے ہونے والی ایک ملاقات میں شیخ مجیب جس گاڑی پر پہنچے اس پر بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ ان کی ٹیم نے تجویز دی کہ ایک متحد ریاستوں پر مبنی ایک کنفڈیریشن قائم کی جائے۔
لیکن اتنے عرصے تک فوج کو بنگالیوں کے خلاف نسلی تعصب برتنے پر جواب دینے کی خواہش کے باوجود، مذاکرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے۔ تاہم فوج کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا جا رہا تھا کیونکہ وہ اس قسم کے رویے کے عادی نہیں تھی۔ ڈھاکہ میں مغربی پاکستان کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے یحیی خان نے کہا کہ دنیا ان پر ہنس رہی ہے۔
خود کی تضحیک ہونے کے بعد رد عمل میں تشدد پر اتر آنا تاکہ کھوئی ہوئی مردانگی کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے، یہ اُس طرز عمل سے بہت مماثلت رکھتا ہے جو جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر دیکھا گیا تھا۔
محقق اور سماجی کارکن ڈاکٹر عمار علی جان اس پر لکھتے ہیں کہ برطانوی جنرل ڈائر کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ انھیں محسوس ہوتا تھا کہ انڈین عوام برطانیہ کے سامراجی قوانین کی سر عام خلاف ورزی کر کے ان پر ہنس رہے ہیں۔ تو انھوں نے اس کے جواب میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہونے والے انڈین شہریوں کو سبق سکھانے کے لیے ان پر اندھا دھند فائرنگ کا حکم دیا۔
ڈاکٹر عمار علی جان کے مطابق درحقیقت یہ سبق انھوں نے جلیانوالہ باغ میں آنے والوں کے لیے نہیں بلکہ باقی پورے انڈیا، اور شاید برطانیہ کی دیگر تمام محکوم ریاستوں کے لیے تھا۔
یحیی خان نے بھی ایسا ہی کیا۔ ان کے فوجی کمانڈر مشرقی پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران عسکری منصوبے پر کام کرنے میں مصروف تھے۔ مشرقی پاکستان میں مارچ کی 25 تاریخ کو شروع ہونے والے اس آپریشن نے پاکستانی فوج کی وہ جنگی حکمت عملی کی تشکیل دی جو تشدد کی مدد سے قانون نافذ کرنے پر کارفرما تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی جرنیل میجر جنرل اے او مٹھا فوج کی اس حکمت عملی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بجائے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں دفاعی پوزیشن لینے کے انھیں مختلف علاقوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ جنرل مٹھا کہتے ہیں کہ وہ اس حکمت عملی کے خلاف تھے اور بارہا اسے واپس لینے پر اصرار کرتے رہے لیکن کامیاب نہ ہوئے۔
اس حکمت عملی کے باعث احکامات کے نظام میں جو خلل آیا اور جس کے بارے میں انھوں نے تنبیہ کی تھی، وہی دراصل اس آپریشن کی منطق تھی کہ میدان جنگ میں جہاں چار، پانچ فوجیوں کی ٹولی ہو، وہ آزادانہ طور پر اقدامات اٹھائے۔ اور قانون نافذ کرنے کے لیے جو انھوں نے اقدامات لیے، انھوں نے وہی کیا جس کا مشورہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل امیر عبداللہ نیازی نے دیا تھا۔
وہ تمام افراد جن کے بارے میں ذرہ برابر بھی شبہ تھا کہ وہ مکتی باہنی سے تعلق رکھتے ہیں یا اُن کے ہمدرد ہیں اور وہ جنھوں نے فوجیوں پر کہیں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی، ان تمام افراد کو سرسری سماعت کے بعد سزائے موت دے کر انھیں قتل کر دیا۔
ان اقدامات کا مقصد بنگالی عوام میں ڈر و خوف بٹھانا تھا اور اس عسکری آپریشن کے بعد کسی بھی قسم کے سیاسی حل تک پہنچنے کا راستہ معدوم ہو گیا۔ تشدد پر اتر آنے کے فیصلے سے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان کی اکثریت سے وہ حق چھین لیا جو انھوں نے شیخ مجیب الرحمان کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر حاصل کیا تھا تاکہ وہ سیاسی خود مختاری اور دو معیشتوں کے خواب کو پورا کر سکیں۔
اس فوجی آپریشن کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف جو رہی سہی مخالفت تھی وہ ختم ہوگئی اور پاکستانی فوج کے بنگالی اہلکاروں نے بھی بغاوت کر دی۔
مکتی باہنی کے تربیت یافتہ جنگجوؤں میں اکثریت کا تعلق پاکستانی فوج کے 'ایسٹ پاکستان رائفلز' سے تھا جبکہ دیگر یونٹوں میں کام کرنے والے بنگالی اہلکاروں نے بھی مکتی باہنی میں شمولیت اختیار کر لی۔
آپریشن سرچ لائٹ کا ایک انتہائی اہم مقصد ان بنگالی اہلکاروں پر مبنی یونٹوں سے ہتھیار واپس لینا تھا اور پس، پاکستانی فوج نے ہی ان اختلافات کو نسلی رنگ دیا کیونکہ ان کے نظر میں ہر بنگالی، چاہے اس کا تعلق پاکستانی فوج سے ہی کیوں نہ ہو، وہ اب مشکوک بن گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN ARMY
مغربی پاکستان میں رہنے والے پانچ لاکھ کے قریب بنگالیوں کو بھی اسی نگاہ سے دیکھا گیا۔ انھیں مختلف کیمپوں اور عارضی جیلوں میں رکھا گیا جہاں وہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کافی عرصہ قید میں رہے۔ اس میں ایک انوکھی بات یہ تھی کہ یہ تمام افراد پاکستانی شہری تھے اور ان اقدامات سے ان کی شہریت تو واپس نہیں لی گئی لیکن انھیں بحیثیت شہری ملنے والے کسی بھی حق سے محروم کر دیا گیا۔
اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان پرتشدد واقعات کی تعداد اتنی بڑی تھی کیونکہ یہ کسی ایک گروپ، یا کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ آبادی کے بڑے حصے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔
یہ تشدد اتنا زیادہ اس لیے تھا کیونکہ ہر شہری کو ہی دشمن گردانا گیا تھا اور جب کسی ریاست میں ہر شہری دشمن بن جائے، تو اس دشمن کو کچلنے کے لیے کیے جانے والا آپریشن نسل کشی ہی ہوتا ہے۔
برطانیہ کی استعماری فوج کی طرز اور نظام کے تحت بنائی گئی پاکستانی فوج یہ بھول گئی تھی کہ پولیس ایکشن کا پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے کے لیے ان اہلکاروں کو بلایا جائے جو مقامی آبادی سے کسی قسم کا جذباتی لگاؤ نہ رکھتے ہوں۔
لیکن مشرقی پاکستان میں اس کے الٹ ہوا جہاں انھیں اُن غیربنگالی افراد کے تحفظ کے لیے بلایا گیا جس سے ان کا خون کا، نسل کا، زبان کا رشتہ تھا۔
پاکستان کی جانب سے 1971 کی جنگ کے دوران فوجی آپریشن کے دوران 'تشدد کے استعمال میں تجاوز' کر جانے کی جو وجہ سب سے زیادہ دہرائی جاتی ہے وہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے 'ان کے اپنے لوگ' یعنی مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے رہنے والوں کے ساتھ شدید ہولناک قسم کا تشدد ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔
دوسری جانب، اسی لیے بنگالیوں کے لیے پاکستانی فوج نے ایک قابض قوت کا کردار ادا کیا جس کا مقصد مقامی آبادی یعنی بنگالیوں کو ان کی نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا اور انھیں کمتر اور کم درجے کا سمجھا۔
یہ بھی پڑھیے
محقق حفصہ عمر نے پاکستانی فوج کا بنگالیوں کے خلاف برتے گئے حقارت آمیز رویے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا جس میں انھوں نے پاکستان کے اہم جرنیلوں اور ان کی شائع ہوئی سوانح عمری کا جائزہ لیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے قائم کیے گئے حمود الرحمان کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ مشرقی پاکستان میں تعینات سینیر فوجی جرنیلوں سے سوالات کی روشنی میں یہ نتیجہ دیا کہ مشرقی پاکستان میں مبینہ قتل عام اور جنسی تشدد کے واقعات یقیناً ہوئے ہوں گے اور ایک نسل پرستانہ ذہنیت کی مدد سے ان اقدامات کو معمول کی کارروائی بنا دیا گیا۔
سنہ 1971 کے بارے میں پاکستان میں شائع ہونے والے مواد میں فوجی کارروائی کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ یہ کسی بھی ریاست کا حق ہے کہ وہ بغاوت کو کچل دے۔
تاریخ دان فیصل دیو جی نے حال ہی جنرل یحییٰ خان کے بارے میں لکھا کہ انھوں نے مشرقی پاکستان میں ہونے والے پرتشدد واقعات کو بغاوت یا داخلی انتشار کہنے کے بجائے 'خانہ جنگی' قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیصل دیو جی کہتے ہیں کہ الفاظ کے چناؤ کا یہ ایک دلچسپ فیصلہ تھا کیونکہ خانہ جنگی کہنے سے 'ریاست کی خود مختاری پر سوال اٹھ جاتا ہے اور بین الاقوامی مداخلت کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔'
اس اصطلاح کا استعمال اس لیے بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ متعین کرتی ہے کہ ہم فوجی آپریشن کی مزاحمت کرنے والوں کو کس نظر سے دیکھیں۔
اگر بنگالی نقطہ نظر لیا جائے تو انھیں اس تمام بحث سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ان کے لیے یہ ایک جائز قدم تھا اپنی آزادی کی جنگ کے لیے تاکہ وہ ایک خود مختار ریاست حاصل کر سکیں۔
یہ درحقیقت پاکستانی ریاست اور پاکستانی دانشور طبقے کے لیے اہم ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ بنگالی ایک ایسی جدوجہد میں مصروف تھے جسے بڑے پیمانے پر حمایت ملی، اسے درست سمجھا گیا اور اسے ان کی آزادی کی جنگ سمجھا گیا جب یہ تنازع جاری تھا۔
بنگالیوں کی اس جدوجہد کو اتنی حمایت ملنے کی کئی وجوہات تھیں۔ جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا جس میں بنگالی دانشوروں کو نشانہ بنایا گیا، اس سے یہ تو واضح ہو گیا کہ پاکستان نے عوامی لیگ کو ملنے والے بھاری عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ان کے اس قدم نے عوامی لیگ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ آزادی کا اعلان کر دیں کیونکہ سیاسی عمل تو اپنے اختتام کو پہنچ گیا تھا۔ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب کو جب آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز ہوا، تو کہا جاتا ہے کہ اسی وقت شیخ مجیب الرحمان نے بنگلہ دیش کی آزادی کا بھی اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ اس دعوی کی صداقت پر کچھ سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
بہرحال، دس اپریل کو انتخابات جیتنے والے اراکین مجیب نگر جمع ہوئے جہاں انھوں نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اس فوج کے خلاف اپنی آزادی تک جنگ لڑیں گے جسے اب وہ اپنے ملک کی فوج کے بجائے ایک غاصبانہ فوج سمجھنے لگے تھے۔ اس کے لیے انڈیا کے شہر کلکتہ میں ایک 'جلا وطن حکومت' تشکیل دی گئی جو مشرقی پاکستان کی بیوروکریسی کو احکامات جاری کرتی اور پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیشی مورخین نے اس عبوری حکومت کے نظام پر بڑی جامع تحقیق کی ہے اور دستاویزات جمع کیے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حکومت کس طرح سے اپریل 1971 کے بعد سے اپنی خودمختاری کا اظہار کر رہی تھی اور آزادی کی جنگ لڑنے میں حق بجانب تھی۔
بنگلہ دیش کے سکالر رفیق الاسلام نے اس موضوع پر بہت تحقیق کی ہے اور ان کے مطابق یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر دینے کے خلاف کوئی واضح شرط نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا اس اعلان کے بعد اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں اور بنگالیوں نے انڈیا کی مدد سے اور بھرپور عوامی حمایت سے یہ ثابت کیا کہ ایسا کرنا بالکل ممکن ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک نے بین الاقوامی قوانین میں کسی استعماری قوت سے آزاد ہونے کے بعد اُس ریاست سے بھی علیحدگی حاصل کرنے کے اظہار کو قانونی حیثیت دی۔ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصل دیو جی کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش نے سیاسی منطق کی نئی مثال قائم کی ہے جس میں ایک ریاست کا قیام خانہ جنگی کے بعد وجود میں آیا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت تک تسلیم شدہ بات یہ تھی کہ آزادی کی جنگ صرف کسی استعماری قوت کے خلاف لڑی جاتی ہے۔
بہرحال، بنگلہ دیش کی جد و جہد کو تحریک آزادی تسلیم کرنا پاکستانیوں کے لیے ذہنی طور پر ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مارچ 1971 کے بعد مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کے لیے فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے ہولناک فوجی آپریشن اور جمہوری عمل سے آنے والے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا مطلب تھا کہ اب پاکستانی فوج ایک غاصب قوت بن گئی تھی اور بنگالیوں کے لیے اس کے خلاف مزاحمت کرنا جائز تھا۔
اعداد و شمار کا خوف
بالفرض اگر یہ مان لیا جائے کہ بحیثیت ایک خود مختار ریاست، پاکستان کے پاس پورا حق تھا کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر اس بغاوت کو ناکام بنائے، اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ فوج کی جانب سے مشرقی پاکستان کے شہریوں، اور بالخصوص وہاں کے ہندؤں کے خلاف کی گئی کارروائی پر انھیں معافی دے دی جائے۔ خاص کر جب ان ہندو شہریوں کو صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ مفروضہ یہ تھا کہ وہ ہندو ہیں، تو وہ بھارت کے حامی ہوں گے۔ اسی طرح بنگالی عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد اس لیے کیا گیا تاکہ 'بنگالیوں کو سبق سکھایا جائے۔'
ان دوہرے مقاصد پر مبنی اس آپریشن میں غیر متناسب طور پر ہندوؤں کو نشانہ بنایا جانا، بنگالیوں کو ڈرانے اور دبانے کے لیے ان کی عورتوں کا ریپ کرنے کا عمل اور اس کے باعث پیدا ہونے والا ذہنی صدمہ اس فوجی آپریشن کو دراصل نسل کشی بناتا ہے۔
یہ قتل عام اور ریپ کے الزامات اس بحث کا سب سے حساس حصہ ہیں۔ خود مختار ذرائع بنگلہ دیش کے اس دعویٰ کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہیں کہ اس جنگ میں تیس لاکھ افراد کا قتل کیا گیا جبکہ دو لاکھ خواتین کا ریپ کیا گیا۔
بنگلہ دیشیوں کے لیے یہ بات ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس جنگ میں قتل عام ہوا تھا۔ اس کے علاوہ فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے کئی لوگ بھوک و افلاس اور بیماری کا شکار ہوئے۔
لیکن معروف سکالرز جیسے پروفیسر علی ریاض اور دینا صدیقی نے بنگلہ دیشی ریاست کی ان کوششوں پر کڑی تنقید کی ہے جس میں وہ تاریخ پر تحقیق کرنے والوں پر ایک کٹر ذہنیت تھوپنا چاہتے ہیں تاکہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے جیسے اس کی مدد سے ملک میں مخالفین کی آواز کو دبایا جائے یا آزادی کی جنگ کے دوران غیر بنگالی افراد کے قتلِ عام کو مکمل طور پر بھلا دیا جائے۔
شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے ریپ ہونے والی بنگالی خواتین کو 'جنگی ہیروئن' کا خطاب دینے سے بھی ایک نئی قسم کی بحث ابھر کر سامنے آئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محقق بینا ڈی کوسٹا نے اس جنگ کے دوران ہونے والے جنسی تشدد، جبری اسقاط حمل اور ریپ کے باعث پیدا ہونے والے بچوں کو گود لینے کے واقعات پر جامع تحقیق کی ہے۔ اس کے علاوہ سکالرز یاسمین سیکیا اور نیانیکا مکھرجی نے بھی قوم پرستی اور قربانی کے جذبے کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان متاثرہ خواتین کی ذاتی کہانیوں کو جمع کیا ہے۔
ان سکالرز کے لیے ایسا کرنے کی وجہ یہ نہیں تھا کہ انھیں اس کے دستاویزی ثبوت میسر نہیں تھے، بلکہ اس کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ خواتین جس صدمے اور اذیت سے گزری ہیں ان کے بیانیے کو ان کی زبان میں جمع کیا جائے جو کہ بصورت دیگر یا تو صرف خاموشی یا بے ربط جملوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
ان واقعات کی تعداد چاہے کتنی ہی ہو یا ریاست نے اس پر کتنا مواد جمع کیا ہو اور ان متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کتنے ہی پروگرام شروع کیے ہوں۔ جب کسی متاثرہ شخص کے پاس اپنے صدمے کے اظہار کی طاقت نہ رہے، تو اس کے پاس صرف وہ الفاظ بچتے ہیں جو غاصب کی بولی میں ہوتے ہیں، اور ان کی مدد سے وہ اپنے تجربات بیان کرتے ہیں جس میں 'اگر وہ خود کو مظلوم بنا کر پیش کریں تو انھیں خود پر ہی یقین نہیں آئے گا۔'
اس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ شخص کے پاس وہ مناسب الفاظ ہی نہیں ہوتے جس سے وہ اپنے تجربے کو بیان کر سکے اور جو بچا کھچا وہ بیان کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ انتہائی ناقابل یقین اور مبالغہ آرائی لگتا ہے۔
ان تجربات کو بیان کرنے کے لیے پھر صرف شاعری، مصوری اور افسانوں کا سہارا بچتا ہے تاکہ ان واقعات کو ان کی اصل روح میں بیان کیا جائے ورنہ یہ بس کسی رجسٹر میں عددی صورت میں جمع ہوتے رہیں گے اور انھیں 'بغیر سوچے سمجھے' نسل کشی یا قتل عام قرار دے دیا جائے گا۔
لیکن سرمیلا بوس جیسے تاریخ پر نظر ثانی کرنے والے چند مورخین کے نزدیک مظلوم اور متاثرین کا بے ربط بیانیہ ہی اس کی کمزوری کا باعث بنتا ہے اور اس کی درستگی اور سچائی پر سوالات اٹھاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہOxford University Press
ثبوت اور شواہد پیش کرنے والوں کی ساکھ قبول نہ کرنا ہی اس تکرار کا مقصد ہے۔ سرمیلا بوس (جو کہ انڈین نژاد امریکی ہیں اور نسلی طور پر بنگالی ہیں) قابل بھروسہ شواہد کو اس لیے تسلیم نہیں کرتیں کیونکہ وہ ان کے اس نظریے کے مترادف ہے جس میں ان کے مطابق پاکستانی فوجی افسران انتہائی دیانت دار اور نظم و ضبط کے پاسدار ہیں۔ دوسری جانب سرمیلا بوس کے نزدیک بنگالی افراد 'بہت زیادہ جذباتی' ہیں جو کہ ان کو قابل بھروسہ گواہ بنانے میں رکاوٹ ہے۔
ایسی ذہنیت کا مطلب یہ ہے اپنی تحقیق میں وہ مخصوص نوعیت کی دستاویزات کا استعمال کرتی ہیں۔ جیسے کہ سرمیلا بوس نے اپنی تحقیق میں کئی پاکستان کے حامی بنگالیوں کے بیانیے کو استعمال کیا، اس کے علاوہ چند بین الاقوامی میڈیا کی خبریں اور وہ بیانات جو پاکستانی فوج کے سابق افسران نے ان کو دیے۔
تو گویا ایک مظلوم کا بیانیہ ان کے لیے ناقابل قبول ہے لیکن وہ اگست 1971 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے شائع کیے گئے وائٹ پیپر میں مشرقی پاکستان کے بیان کیے گئے احوال کو قابل اعتماد سمجھتی ہیں جس میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی توجیہات پیش کی گئی تھیں۔
حتی کہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ بھی ان کے لیے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے جس میں آپریشن کے دوران فوج کے طرز عمل اور جنگ میں ناقص کارکردگی پر تنقید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سرمیلا بوس کے مطابق پاکستانی فوج نے صرف اس وقت رد عمل ظاہر کیا جب ان پر حملہ ہوا۔ وہ یہ کہتی ہیں کہ اس دوران کی گئی کارروائیوں میں کئی بار مقامی افراد کو جمع کیا جاتا اور مردوں کو بچوں سے علیحدہ کیا جاتا جس کے بعد کبھی ان تمام کو ہلاک کر دیا جاتا یا کچھ کو چھوڑ دیا جاتا۔ تاہم وہ لکھتی ہیں کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کبھی بھی ہزاروں میں نہیں تھی۔
سرمیلا بوس کے لیے عددی تعداد بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے لیکن وہ افراد جو اس کرب سے گزرے ہوں کہ انھیں قطار میں کھڑا کر دیا جائے اور ان کی زندگی کی تقدیر کا فیصلہ کیا جائے، یہ تجربات ان کے لیے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
سرمیلا بوس اپنی تحقیق میں اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ پاکستانی فوج تو بڑے پیمانے پر ریپ کر ہی نہیں سکتی اور اس کی وجہ ان کا پاکستانی فوج پر یہ اعتقاد ہے کہ وہ تو انتہائی نظم و ضبط والی فوج ہے جو کہ ایسا قبیح عمل کر ہی نہیں سکتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے برعکس کئی فوجی افسران نے خود یہ بیانات دیے ہیں کہ ہر روز جاری رہنے والی اس جنگ نے فوج کے دستوں میں قائم نظم و ضبط کو انتہائی کمزور کر دیا تھا۔
فلمساز اور مصنف نعیم مہیمین سرمیلا بوس کے تحقیقی عمل میں پاکستانی فوج کی جانب موجود طرفداری کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے نزدیک بنگالی بیانیہ 'دعوی' ہے جبکہ پاکستانی فوجی افسران کے بیانات حرف آخر ہیں۔
نعیم مہیمین مزید کہتے ہیں کہ سرمیلا بوس کی تحقیق میں پاکستانی فوجی افسران 'عمدہ، قابل مرد جو اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں' جبکہ بنگالی افراد کے لیے ان کا کہنا تھا 'نہ وہ درست حقائق دے سکتے ہیں اور نہ ہی ان میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے' اور وہ 'اندھی نفرت اور انتقام کے جذبے سے بھرے ہوئے ہیں' اور 'ڈرامائی زبان میں تبصرہ' اور 'حقائق کو لاپرواہ انداز میں پیش کرتے ہیں جو کہ حقائق کو مسخ کرتا ہے۔'
جس طرح پاکستانی فوج نے نسلی بنیاد پر بنگالیوں کو کمتر سمجھتے ہوئے انھیں کمزور اور ناکارہ فوجی سمجھا، اسی طرح سرمیلا بوس بھی جنگ کے دوران ان بنگالیوں کی محدود صلاحیتوں پر ان کا تمسخر اڑاتی ہیں اور نوجوان بنگالی سماجی کارکنوں کی محنت کو بے قدر قرار دیتی ہیں۔

دستاویزی شواہد ہونے کے باوجود ان کی تردید کرنا صرف مشرقی پاکستان میں ہونے والی نسل کشی تک محدود نہیں ہے۔
جس طرح پولینڈ میں اوش وٹز کے نازی کیمپوں اور وہاں استعمال کیے جانے والے گیس چیمبرز کے خلاف گواہی کے لیے امریکی فریڈ لیوکٹر کی رپورٹ ہے، اسی طرح دوسری جنگِ عظیم میں یہودیوں کے خلاف ہولوکاسٹ کی منصوبہ بندی کرنے کے شواہد کے برعکس برطانوی مورخ اور مصنف ڈیوڈ ارونگ جیسے لوگ ہیں جو ہولوکاسٹ کو تسلیم نہیں کرتے۔
یہ بتانے کا مقصد ہے کہ بظاہر سچائی کے متلاشی غیرجانبدار ذرائع بھی تاریخی لٹریچر کا حصہ ہیں اور مورخین کے لیے اس کا تنقیدی تجزیہ کرنے کا عمل ابھی بھی جاری ہے اور اسی لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم صرف لاشیں گننے کے عمل سے مبرا ہونے کی کوشش کریں۔
اس لیے نہیں کہ اس کے شواہد کم ہیں، بلکہ اس لیے کہ لاشوں کی گنتی کرنے پر بحث کی ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ ان متاثرہ افراد کے اصل تجربات اور ان کے صدمے کو کسی خاطر میں لائے بغیر نظر انداز کر دے۔
یہ نکتہ جتنا بنگالیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر لاگو ہوتا ہے اتنا ہی یہ اس آزادی کی جنگ میں بہاریوں کے ساتھ کیے گئے مظالم پر ہوتا ہے جب ان کو اس تحریک کے دوران اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بڑے پیمانے پر قتل کیا گیا۔
پاکستانی کے ریاستی بیانیے میں 1971 کی جنگ کو بہاریوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے عدسے سے دیکھا جاتا ہے اور بنگالیوں کی مظلومیت کے جواب میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بہاریوں کو اپنے ساتھ بیتے گئے مظالم اور بربریت کے واقعات بیان کرنے کا موقع ملے، جنھیں مکتی باہنی کے ہاتھوں اندھا دھند تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور بڑے پیمانے پر بہاری خواتین کا ریپ کیا گیا۔
بلکہ، اس بیانیے کو پیش اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اس سے لاشوں کے اوپر لاشیں رکھ کر عددی موازنہ دکھایا جائے، بجائے یہ کہ ان دونوں کمیونٹیوں کو موقع ملے کہ وہ اپنے ساتھ بیتے گئے مظالم اور اس غم کی داستان اور ان تجربات کو مشترکہ طور پر اپنے الفاظ میں بیان کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے بہاریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے برائے نام ہی کوئی کوشش کی ہے۔ ریاست نے انھیں لاچار چھوڑ دیا ہے اور بنگلہ دیش سے کہا کہ ان کا خیال رکھا جائے۔ ادھر بنگلہ دیش کی حکومت نے تحفظ دینے کے نام پر ان بنگالیوں کو انتہائی بری حالت میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ڈال دیا ہے جہاں وہ آج سقوطِ ڈھاکہ ہونے کے نصف صدی بعد بھی موجود ہیں۔

گویا بہاریوں کے نام پر بربریت سے بھرا فوجی آپریشن شروع کرنے والی پاکستانی ریاست نے اب انھی بہاریوں کو لاوارث چھوڑتے ہوئے خود کو لاتعلق کر دیا ہے جب انھیں درحقیقت مدد اور تحفظ کی سخت ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش ان بہاریوں کو پاکستان بھیجنے کے لیے تیار تھا، لیکن پاکستان انھیں لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ وہ بہاری جو کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، ان میں سے کسی نے سنجیدگی سے کوئی تحقیقی کام جمع نہیں کیا ہے جس میں وہ اپنے تجربے کو اکٹھا کر سکیں۔ نہ ہی پاکستانی جنگی قیدیوں اور مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے حمایتی رضاکار جنگجوؤں پر مبنی تنظیموں البدر اور الشمس کے بارے میں کوئی علمی تحقیقی کام کیا گیا ہے۔
بہاریوں، اور رضاکاروں کا بنگالیوں کے ہاتھوں قتل کو 'انتقامی' کارروائی کہنا صرف عددی تکرار کا حصہ بن جاتا ہے۔
ہمیں ان وسیع آپریشنز کے بارے میں بہت کم علم ہے جو جنگ میں بچھڑنے والے خاندانوں کو واپس ملانے کے لیے کیا گیا تھا، نہ ہی ہمیں ان بنگالیوں کے بارے میں تفصیلی طور پر کچھ معلوم ہے جو مغربی پاکستان میں تھے اور جنگ کے بعد انھیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا اور چند غیر بنگالی افراد کو بنگلہ دیش سے پاکستان کی طرف بھیجا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقریباً پانچ لاکھ بنگالی افراد کو مغربی پاکستان کی جیلوں اور کیمپوں میں محض اس لیے ڈال دیا گیا تھا تاکہ ان کی رہائی کو پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی سے مشروط کر دیا جائے، اور ہم نے اس بات کو اپنی یادداشتوں سے مکمل طور پر حذف کر دیا ہے۔
نعیم مہیمین تین سال کے تھے جب انھوں نے پاکستان میں ایسے ہی کیمپوں میں وقت گزارا تھا جہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ تھے۔ بعد ازاں جب وہ ان واقعات کی تحقیق کے لیے پاکستان آئے، تو انھی کی تحقیق کی وجہ سے پاکستان میں رہنے والے بہاریوں کو موقع ملا کہ وہ اپنے ذہنوں کے درافتادہ دریچوں میں بند یادوں کو دوبارہ کھنگالیں اور کسی کے سامنے اسے بیان کریں۔
ان کے پاس کئی دلخراش کہانیاں تھیں اور انھیں بہت اطمینان ملا جب بالآخر ان کے پاس کوئی ان کا دکھڑا سننے کے لیے آیا۔ وہ بھی ایک ایسا شخص جس کا تعلق اُس ملک سے تھا جسے یہ بہاری اپنے ساتھ اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ذمہ دار گردانتے تھے۔
یہ واضح کرتا ہے کہ بہاریوں اور بنگالیوں کے مابین مظالم کا موازنہ کرنا کس قدر ناانصافی اور غلط ہے جس میں 'دو طرفہ بیانیے' کو بڑھایا جاتا ہے، اور اس کی وجہ سے آگے بڑھنے کے عمل میں رکاٹوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
جیسا کہ نعیم مہیمین نے اپنی تحقیق میں دکھایا ہے، بہاری اور بنگالی اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی وجہ سے ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کو ان مظالم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے پروفیسر ولاشینی کوپن انسانی سانحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اٹھاتی ہیں کہ 'خون کے رشتوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے ساتھ روابط کہیں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں‘ جو بطور مظلوم ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKeystone
معافی کا سوال
ڈاکٹر میگھا گوہاٹھاکرتا کم سن تھیں جب انھوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے 25 اور 26 کی درمیانی شب ڈھاکہ یونی ورسٹی پر کیے گئے حملے کو اپنی آنکھوں سے خود دیکھا تھا۔ ان کے والد جیوتیر موئے گوہاٹھاکرتا یونی ورسٹی میں انگریزی زبان کے پروفیسر تھے اور انھیں اپنے گھر کے سامنے ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ ایک بنگالی ہندو دانشور تھے اور اسی وجہ سے پاکستانی فوج نے انھیں قتل کر دیا تھا۔
محقق نیانیکا مکھرجی سے نومبر 2016 میں ہونے والی ایک گفتگو میں ڈاکٹر میگھا گوہاٹھاکرتا نے انھیں بتایا: 'جس دن پاکستان لاہور یا اسلام آباد میں ایک یادگار تعمیر کرے گا جس میں یہ تسلیم کیا جائے کہ ان کی فوج نے 1971 میں کتنے ہی بنگلہ دیشیوں کو ریپ اور قتل کیا تھا، اس دن میں پاکستان کو معاف کرنے کے بارے میں سوچوں گی۔'
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مرکز میں 1971 کی جنگ کی یادگار تعمیر کرنے کا مطالبہ کرنے کا مطلب ہے کہ ڈاکٹر میگھا گوہاٹھاکرتا چاہتی ہیں کہ ماضی کو تسلیم کرنے سے ایک نئی قسم کی سیاسی کیفیت کو سینچا جائے۔
یہ ایک کوشش ہے جس میں جارحیت پسند فریق سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اندر کی انسانیت کی سدا سنتے ہوئے اپنی ذات میں وہ بڑا پن پیدا کرے جس کی مدد سے اپنے ماضی کو تسلیم کر سکے، اسے پہچان سکے اور اس پھر اس کے ساتھ جی سکے۔
ڈاکٹر میگھا گوہاٹھاکرتا کو یہ احساس ہے کہ ایک ایسی یادگار قائم کرنے کے لیے لازمی ہے کہ ماضی میں کیے گئے مظالم کا اعتراف کیا جائے۔
اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کا مطالبہ بنگلہ دیش کی عوام کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ ان کا یہ حق ہے کہ ماضی میں ہونے والے واقعات و مظالم کا اعتراف کیا جائے، اسے تسلیم کیا جائے اور پھر اس کے بعد ان سے معافی مانگی جائے، محض تاسف کا اظہار کرنا کافی نہیں ہوگا جو کہ آج تک پاکستان حکمران کرتے چلے آئے ہیں۔
ایک جانب بین الاقوامی دباؤ کا نہ ہونا اور دوسری جانب جنوبی افریقہ یا بوسنیا کی طرح متاثرین کے ساتھ نہ رہنے کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانیوں نے کبھی ان لوگوں کے ساتھ وقت نہیں گزارا جن کے ساتھ انھوں نے ظلم کیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ تو کبھی بھی سنجیدگی سے اس معاملے پر کسی کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا ، نہ کبھی مفاہمت کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی متاثرین سے کبھی معافی مانگی گئی۔
کیونکہ معافی صرف اس وقت ہی مانگی جا سکتی ہے جب مظالم کا اعتراف کیا جائے، اور ایسا ہونا صرف اس وقت ہی ممکن ہے جب ان جرائم کے ذمہ داران کی شناخت کی جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے اور انھیں سزا دی جائے۔ اگر ہم تاریخ کو دیکھیں تو دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی کے احساسِ جرم پر ہونے والی بحث سے سبق سیکھا جا سکتا ہے۔
اگر ہم ہولوکاسٹ کے دوران بچ جانے والی جرمن دانشور ہینا آرینڈٹ اور کارل جیسپر کی جرمن احساسِ جرم کے بارے دی گئی رائے کو دیکھیں تو اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مقصد یہ نہیں ہے کہ مشرقی پاکستان میں کی گئی نسل کشی پر پوری پاکستانی قوم کو مورد الزام ٹھیرایا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہینا آرینڈٹ کہتی ہیں کہ ایسا کرنے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور دوسری بات یہ کہ اگر 'آپ سب کو قصور وار ٹھہرا دیں، تو پھر کوئی بھی قصور وار نہیں رہتا۔ اگر مشترکہ طور پر سب سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنے جرم کو تسلیم کریں، تو اس کی وجہ سے اصل قصوروار افراد کو تحفظ مل جاتا ہے اور کیونکہ آپ نے سب کو قصور وار ٹھہرا دیا، تو پھر کچھ نہ کرنے کا سب سے اچھا بہانہ مل جاتا ہے۔'
کارل جیسپر نے چار قسم کے احساس جرم کی نشاندہی کی ہے۔
1) مجرمانہ، جو کہ انفرادی طور پر لوگوں کے کردار اور ان کے اقدامات کو شواہد کی بنیاد پر عدالت میں قانونی طور پر جانچا جاتا ہے۔ لیکن آپریشن سرچ لائٹ کے زیادہ تر معمار اور اسے پر عمل کرنے والے افراد کی اب موت ہو چکی ہے۔ شیخ مجیب نے کچھ عرصے کے لیے اس بات پر غور کیا تھا کہ وہ کم از کم 195 سینئیر پاکستانی فوجی افسران کو کٹہرے میں لائیں لیکن 'بڑی قوتوں' اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا کیونکہ انھوں نے بنگلہ دیش کے لیے امدادی کارروائیوں کو اس بات سے مشروط کیا کہ وہ پاکستان کے جنگی قیدیوں کو رہا کریں۔ جنگ و جدل اور قحط سے متاثر بنگلہ دیش کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس مطالبے کو تسلیم کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کو یقینی دہانی اور حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کی تجاویز کے باوجود جنگی جرائم میں ملوث کسی بھی فوجی جوان اور افسر کا کورٹ مارشل نہیں ہوا۔ اگر ان میں سے کسی کے ساتھ انضباطی کارروائی ہوئی تو اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔
2) سیاسی احساسِ جرم، جو کہ کسی بھی ملک کے تمام شہریوں پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ وہ مخصوص سیاسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے انھیں اقتدار میں لاتے ہیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے، تو جس سیاسی نظام کے تحت مشرقی پاکستان میں نسل کشی کی گئی، تو یہاں پر یہ یاد رکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان ایک 'مطلق العنان' ریاست نہیں بلکہ ایک 'آمرانہ' ریاست تھی۔ گو کہ مارشل لا حکومت نے ملک میں میڈیا کو دبایا ہوا تھا لیکن سیاسی سرگرمیاں جاری تھیں جس کی مدد سے 1970 کے انتخابات ممکن ہوئے۔
اس دور میں بائیں بازو کی جماعتوں کی سیاست بھی بڑی فعال تھی اور مغربی پاکستان کے کئی علاقوں میں ان کے بہت حمایتی بھی تھی۔ لیکن جب مارچ 1971 میں آپریشن کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتیں، بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں فوجی قیادت کے اقدامات کی پوری حمایت کی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کیونکہ پاکستان ایک آمرانہ ریاست تھی، چناچہ اس کے اقدامات ملک کے شہریوں کو قصور وار ثابت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس کسی مطلق العنان ریاست کے شہری یہ توجیہ پیش کر سکتے ہیں کہ وہاں ان کے پاس کسی قسم کا نہ کوئی جذبہ اور نہ کوئی حق تھا کہ وہ ریاستی طاقت کے خلاف مزاحمت کر سکیں۔
3) اخلاقی احساس جرم، جس کا مطلب ہے کہ ہر وہ شخص جس نے سرکاری احکامات کی تعمیل کی، وہ اس پر خود احتسابی کے عمل اور اپنے ضمیر کا جائزہ لینے کے عمل سے گزریں۔
اگر مشرقی پاکستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کی بات کریں تو راقم صرف سابق پاکستانی افسر کرنل نادر علی کی جانب سے لیے گئے انتہائی جرات آمیز اخلاقی موقف سے آگاہ ہے جنھوں نے پاکستانی فوجی آپریشن میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اپنے ضمیر کے بوجھ تلے اتنا دب گئے کہ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا اور نتیجتاً انھیں کئی سالوں تک نفسیات علاج کرانا پڑا جس کے بعد وہ کسی حد تک 'معمول' کی زندگی گزارنے کے قابل ہوئے۔ اس کے بعد کرنل نادر علی نے پنجابی شاعری اور ادب سے شغف لگا لیا۔ اس جنگ کا عمومی بیانیہ 'پنجابی فوج' کو بنگلہ دیش میں ہونے والی تباہی اور تشدد کا ذمہ دار گردانتا ہے لیکن کرنل نادر علی کے لیے اسی بات کی توثیق تھی کہ جس طرح انھوں نے بطور پنجابی انسانیت کے جذبے کو گلے لگایا، یہ ان کی پنجابیت کی مظہر تھا اور اسی کی مدد سے وہ اپنے دلی سکون کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا ان کے نزدیک جنگی جرائم کا ارتکاب پنجابیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پنجابیت سے دوری کا باعث تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC WORLD SERVICE
4) باطنی احساس جرم، احساسِ جرم کی وہ کیٹگری ہے جس کی تشریح کارل جیسپر نے اس طرح سے کی ہے کہ یہ کائناتی بھائی چارے کے احساس سے پیدا ہوتی جس میں دنیا میں کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے ساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہے اور اس بات پر نادم ہوتا ہے کہ وہ اس ظلم کو روکنے میں کامیاب کیوں نہ ہوا۔
کارل جیسپر کے ناقدین کے مطابق اس نظریہ میں سنجیدگی کے ساتھ سیاسی اقدامات لینے کے عمل کو ثانوی بنا دیا۔ کارل جیسپر نے احساسِ جرم کی ان چار اقسام میں انفرادی ذمہ داران کا تعین کرنے کے بجائے 'مجموعی ذمہ داری' سب سے اہم ہے۔ اور یہ درست بات ہے کہ اگر مشترکہ طور پر صرف خود احتسابی اور معافی کا نظریہ اپنایا جائے، تو یہ غیر سیاسی راہ پر چلا جاتا ہے۔
جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ سکتے ہیں کہ جب بھی یہاں کسی بھی بات پر احساسِ ندامت ہو تو اس کی عملی شکل مذہب کی جانب رغبت اختیار کرنے میں نظر آتی ہے جیسے کئی لوگ تبلیغ کی جانب چلے جاتے ہیں یا خیراتی کاموں میں لگ جاتے ہیں۔
باطنی خود احتسابی اور عوامی اقدامات کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہینا آرینڈٹ کہتی ہیں کہ اس پورے عمل میں سب سے اہم لفظ 'ذمہ داری' کا ہے، نہ کہ 'اطاعت پسندی'۔
اطاعت پسندی مذہبی فرائض کے معاملے میں استعمال ہوتا ہے یا غلاموں کے اوپر لاگو ہوتا ہے، لیکن سیاسی معاملات میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
چناچہ، اگر قانونی اصطلاحت کی رُو سے 'اطاعت پسندی' کو چھوڑ کر 'ذمہ داری' کی اصطلاح کو اپنانا نہایت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایک نظام کے ماتحت ہوں اور ان کا محض یہ کہنا کہ وہ تو حکم کی تعمیل کر رہے تھے، یہ ناکافی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی تناظر میں دیکھیں تو یہ سوال بنتا ہے کہ کیا عام عوام 1971 کے واقعات پر بغیر خود کو مظلوم سمجھتے ہوئے کسی قسم کی سیاسی ذمہ داری لینے کو تیار ہوگی اور ان جنگی جرائم کو نہ صرف تسلیم کرے گی اور اس میں ملوث کرداروں کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرنے کا مطاءبہ کرے گی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ پاکستانی جمہوریت کے استحکام اور اس کی مضبوطی کا باعث بن سکتا ہے۔
لیکن ایسا ہونے کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ 1971 کے بارے میں بحث کو 'جائز تشدد' سے ہٹ کر 'آزادی کی تحریک کو بربریت سے دبانے کی کوشش' پر منتقل ہونا ہوگا اور 'احکامات کی تعمیل' کے بجائے 'اقدامات پر ذمہ داری' لینی ہوگی۔
ایسے کرنے کی صورت میں جعلی اور خود ساختہ کٹر وطن پرستی پر مبنی بیانیے کو کمزور کیا جا سکے گا، جس کو استعمال کرتے ہوئے اب تک پاکستانی ریاست پر فوج کے ادارے کی جانب سے ملک میں قائم بیانیے پر قابو رکھا ہوا ہے۔
ایسا ہونے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسا جمہوری نظام تشکیل پا سکتا ہے جس میں تمام شہریوں کی شمولیت ہو، جہاں ان کی شکایات کی شنوائی اور ازالہ ہو سکے اور ان کو آئینی تحفظ مل سکے۔
اگر ایسا نہیں ہوتا، تو پاکستانی ریاست وہی پرانی منطق استعمال کرتے ہوئے اپنی اسی روش اور اسی ڈگر پر چلتی رہے گی جو وہ ایک خود مختار ریاست کے نام پر اپناتی ہے۔
اگر آج کے دور سے موازنہ کریں تو ایک دلچسپ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ پچاس برس قبل مشرقی پاکستان میں ریاست جن اقدامات میں مصروف تھی وہ آج بھی جاری ہیں۔
مثال کے طور پر، ڈھاکہ میں مارشل لا انتظامیہ نے 1971 میں یہ دعوی کیا کہ 'حالات دوبارہ معمول پر آ چکے ہیں' اور شہر میں پاکستان کے حامیوں پر مبنی ریلیاں نکالی گئیں۔
آج ہم بالکل ایسا منظر پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں دیکھتے ہیں جن میں چاہے سابقہ قبائلی علاقے ہوں یا بلوچستان کا صوبہ ہو۔ وہاں پر جیپ ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے اور ایسا پیغام دیا جاتا ہے کہ 'سب ٹھیک ہے۔'
مگر شاید سب ٹھیک نہیں ہے۔ اس نوعیت کا پروپگینڈا محض شہری علاقوں میں رہنے والی متوسط اور امیر طبقوں پر کام آتا ہے جو اکثر و بیشتر دائیں بازو کی سوچ پر مبنی قوم پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔
لیکن اس پروپگینڈے کا پسے ہوئے طبقے پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ بلوچ جنھیں ان کے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے یا وہ پشتون جو چار دہائیوں سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ اس پروپگینڈے سے اس خیال کے حامی نہیں ہو جائیں گے کہ پاکستانی ریاست سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور اس میں کامیاب ہے۔
مزید پڑھیے
'ہم کہ ٹھہرے اجنبی'
دوسری جنگ عظیم اور خاص طور پر آش وٹز کی غیر انسانی بربریت کے تناظر میں جرمن فلاسفر تھیوڈور آڈورنو نے کہا تھا کہ اس کے بعد اب شاعری ختم ہو گئی ہے، یعنی اس وحشیانہ نسل کشی کے بعد اب کسی بھی طرز کا جمالیاتی اظہار بےمعنی ہو گیا ہے۔
لیکن معروف فلسفی زیزک لکھتے ہیں کہ 'جہاں جہاں حقیقت پر مبنی نثر ناکام ہو جاتا ہے، وہاں وہاں منظوم شاعری ہی کامیاب ہوتی ہے۔ شاعری کی تشریح ہی یہی ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کے بارے میں ہے جس کو براہ راست مخاطب نہیں کیا جا سکتا، اس کی طرف صرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔'
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں محض شاعری کی مدد سے اس غم، اس صدمے، اس خون ریزی، اور اس کے نتیجے سے ہونے والی منتقلی کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فیض احمد فیض کی نظم 'ھم کہ ٹھہرے اجنی' ہو یا ناصر کاظمی کی 'وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے'، یا نصیر ترابی کی 'وہ ہمسفر تھا'۔
یہ تمام نظمیں اُس قربت کے کھو جانے کا غم مناتی ہیں۔
یہ میرے لیے ممکن نہیں ہے کہ میں ان نظموں میں قربت کے بارے میں کہے گئے شعر اور پاکستانی ریاست کے 'قربت'بیانیے سے موازنہ نہ کروں۔
اکثر اوقات یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی دراندازی اس لیے ناکام ہے کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس منطق کے توسط سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے بیچ میں براہ راست تعلق نہ ہونے اور ہزار میل سے زیادہ فاصلہ ہونے کے باعث پاکستانی فوج ان کا دفاع نہیں کر سکی کیونکہ وہاں وقت پر کمک اور رسد نہیں پہنچائی جا سکیں۔
مطلب یہ ہے کہ پاکستانی دانشوروں کی جانب سے شاعرانہ انداز میں لوگوں کے درمیان تصور کی قربت اور جغرافیائی نزدیکی جو پاکستانی ریاست کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، ان دونوں میں واضح فرق ہے۔
اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم قربت کے کس نظریہ کو چنتے ہیں۔
نوٹ: راقم بنگلہ دیشی سکالر اور محقق سجاد الرحمان کا شکرگزار ہے جنھوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی اس جنگ کے حوالے سے تاریخی مواد کے مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی اور رہنمائی کی۔









