آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ناگالینڈ میں انڈین فوج کا مقامی افراد پر حملہ: ’اب میری دیکھ بھال کون کرے گا؟‘
- مصنف, نتن شری واستو
- عہدہ, بی بی سی ہندی، ضلع مون، ناگالینڈ
انڈیا کے شمال مشرق میں واقع ریاست ناگالینڈ کے ایک گاؤں میں خواتین کا ایک گروپ خاموش، مگر سنجیدگی سے ایک جھونپڑی کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔
اس جھونپڑی کے اندر ایک خاتون مسلسل رو رہی ہیں جن کی محض دس روز قبل شادی ہوئی تھی۔
وہ کہتی ہیں: ’میرا اب کون خیال رکھے گا؟‘ یہ کہنا تھا 25 سالہ مونگ لونگ کا جن کے شوہر ہوک اپ کونیاک کان کنوں کے گروپ میں شامل ان چھ افراد میں سے ایک تھے جو اس ماہ کے اوائل میں میانمار کے نزدیکی ضلع مون میں انڈین سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد مقامی افراد نے جب مظاہرہ کرتے ہوئے فوجی کیمپ پر حملہ کیا تو جواب میں حکام کی فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ مزید شہری ہلاک ہو گئے۔ اس جھڑپ میں ایک فوجی بھی ہلاک ہوا تھا۔
ناگالینڈ میں برسوں میں اتنا پرتشدد واقعہ دیکھنے میں نہیں آیا ہے جہاں عرصے سے مقامی عسکریت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔
انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس واقعے پر اپنی 'گہرے دکھ' کا اظہار کیا۔ لیکن امیت شاہ کی جانب سے پارلیمان میں دیے گئے بیان کے بعد مقامی افراد کا غصہ مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ فوجی جوانوں نے اس لیے ان پر فائرنگ کی تھی کیونکہ وہ روکنے کے اشارے کے باوجود بھاگ رہے تھے۔
مقامی افراد کا الزام ہے کہ فوج کے اہلکاروں نے ٹرک کو روکا اور جان بوجھ کر ان افراد کو قتل کیا ہے۔
انڈین فوج کی جانب سے یہ موقف دیا گیا ہے کہ یہ آپریشن 'غلط شناخت' کے باعث خراب ہوا اور انھیں یہ لگا کہ ٹرک میں موجود گاؤں والے افراد عسکریت پسند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مون ضلع کے مختلف گاؤں کی کونسلز نے گذشتہ ہفتے ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا جس میں انھوں نے امیت شاہ سے ان کے 'جھوٹے' الزام پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور ان کا غصہ کم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
ناگالینڈ کے آبائی افراد کی مرکزی کمیٹی 'ناگا ہو ہو' نے تنبیہ کی ہے کہ ان جاری مظاہروں میں مزید اضافہ ہو گا اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے۔
ناگا ہو ہو کہ سربراہ ایچ کے ژمونی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ ایک آزاد کمیشن ہمارے لڑکوں کی ان بہیمانہ ہلاکتوں کا تفتیش کرے۔ حکومت ہمارے صبر کا اب اور امتحان نہیں لے سکتی۔‘
انڈین حکومت اور فوج نے علیحدہ علیحدہ اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اے ایف ایس پی اے کو ختم کرنے کا مطالبہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کیا ہے اور ساتھ ساتھ ناگالینڈ اور قریبی ریاست میگھالیا کے وزیر اعلیٰ نے بھی کہا ہے کہ اسے واپس لیا جائے۔
حتیٰ کہ انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی، جو کہ ناگالینڈ حکومت میں بطور اتحادی شامل ہے، اس موقف کی حامی ہے۔
مون ضلع سے انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کے سینئیر رہنما ہوسیا کونیاک نے اس بارے میں کہا کہ سکیورٹی حکام کا کام تحفظ دینا ہے۔
’ہم انڈیا کے وزیر داخلہ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اے ایف ایس پی اے کا خوفناک قانون مکمل طور پر ناکام ہے۔‘
اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 14 میں سے 12 افراد کا تعلق مون ضلع کے اوٹنگ گاؤں سے تھا جہاں کرسمس کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں جب یہ سانحہ رونما ہوا۔
واقعے کے بعد مظاہروں میں علاقے کی تمام دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور مقامی گرجا گھر خالی ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں 25 سالہ جڑواں بھائی لینگ وانگ اور تھاپ وینگ بھی تھے جو کان کن تھے۔ ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے وہ بس چاہتے ہیں کہ کسی طرح وہ دونوں واپس آ جائیں۔
ان کے بھائی نینوانگ کہتے ہیں کہ 'میرے دونوں بھائی ہم آٹھ لوگوں کے مالی سہارا تھے۔ لیکن اب وہ اپنی قبروں میں ہیں، صرف آرمی کی وجہ سے۔' نینوانگ کی اپنی آنکھ بچپن کے ایک حادثے میں ضائع ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ضلع مون کی اس کمینوٹی کے رہائشی ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور ہر کسی کے پاس سنانے کو کوئی کہانی ہے۔
ایک مقامی کاروباری شخص تنگائی کونیاک کہتے ہیں کہ وہ روزانہ اسی راستے پر سفر کرتے ہیں جس پر کان کن جاتے تھے۔ لیکن جس دن وہ واقعہ پیش آیا، اسی دن انھوں نے دوسرا راستہ لینے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہاں اندھیرا ہو گیا تھا۔
’شام کے سات بجے کے قریب میرے گھر والوں نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں نے فائرنگ کی آواز سنی ہے۔ اگر میں نے راستہ نہ بدلا ہوتا تو میں خود ہلاک ہو چکا ہوتا۔‘
مونگ لونگ ابھی تک اس واقعے کے بعد سے سکتے میں ہیں۔ انھوں نے اس رات گھنٹوں اس امید پر انتظار کیا کہ ان کہ شوہر واپس آ جائیں گے۔ جب ان کے نہ آنے پر انھوں نے اپنے شوہر کو فون کیا تو ان کے دوست نے فون اٹھایا اور بتایا کہ وہ ہوک اپ کونیاک کو ہسپتال لے جا رہے ہیں۔
'میں نے زور دیا کہ میرے ان سے بات کرائیں لیکن وہ بس بمشکل ہی کچھ کہہ سکے۔ اور اگلے چند گھنٹوں میں سب ختم ہو گیا۔‘
اس گاؤں کے رہائشی اب دعا کر رہے ہیں کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے دو افراد صحتیاب ہو جائیں، جو کہ ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ان دو میں سے ایک شخص نے اخبار انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی حکام نے ان پر براہ راست فائرنگ کی، اور روکنے کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اس واقعے کے بعد ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 16 لاکھ انڈین روپے بطور زر تلافی اعلان کیا ہے تاہم اوٹنگ گاؤں کے رہائشیوں نے اس کو ٹھکرا دیا ہے۔
جب ہم اس گاؤں سے واپسی کے سفر پر تھے تو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ اسی اثنا میں اچانک سے ایک نوجوان عورت ایک بچے کو گود میں لیے ہمارے پاس پہنچی۔
ان کا نام اینگملیم تھا اور وہ 29 سال کی تھیں۔ انھوں نے ہم سے کہا: ’اگر آرمی میرے شوہر کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کر سکتی ہے، ان کو چاہیے کہ وہ یہاں آئیں اور میرے بچے کو گود لے لیں۔‘
جب ہم پہاڑی سے اتر کر اپنی منزل کی جانب جا رہے تھے، تو ان کی آواز ہمارے کانوں میں گونج رہی تھی۔