آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: واپس جیل جانے سے بچنے کے لیے اپنی ہی موت کا ڈھونگ رچانے کا منصوبہ ناکام
انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے واپس جیل جانے سے بچنے کے لیے ایک شخص کا اپنی ہی موت کا ڈھونگ رچانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔
شمالی ریاست اتر پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ 36 سالہ سدیش کمار نامی شخص نے مبینہ طور پر ایک شخص کا قتل کیا اور مقتول کی لاش کو اپنی لاش ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس منصوبے میں اس شخص کی بیوی اس کی سہولت کار تھی۔
تاہم پولیس کو سدیش کمار کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی جس میں انھیں لاش کو موٹر سائیکل پر لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سدیش کمار کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔ وہ 2018 میں اپنی 13 سالہ بیٹی کو قتل کرنے کے الزام میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں کچھ ریاستوں نے قیدیوں کو پیرول پر رہائی دی ہے تاکہ جیلوں میں زیادہ رش کی وجہ سے کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کیا جا سکے۔
تاہم کمار کو یقین ہو گیا تھا کہ حکام ان کی پیرول ختم کرنے والے ہیں اور اسی لیے انھوں نے دوبارہ جیل جانے سے بچنے کے لیے یہ منصوبہ بنایا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ سدیش کمار نے 19 نومبر کو دومن راوی داس کو قتل کرنے کا اعترافِ جرم کر لیا ہے۔ دومن راوی داس سدیش کمار کی جسامت کے ہی شخص تھے اور مزدوری کرتے تھے۔ انھیں سدیش کمار نے اپنے گھر پر مرمت کے لیے ٹھیکا دیا تھا۔
تاہم اگلے روز راوی داس کی لاش ایک قریب پلاٹ سے ملی۔ ان کی لاش کو جلایا گیا تھا اور ان کی جیب میں سدیش کمار کا شناختی کارڈ تھا۔
بعد میں انڈیا کے دارالحکومت دلی میں سدیش کمار کی بیوی نے اس لاش کی بطور اپنے شوہر کے شناخت کی۔
اور بظاہر انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سدیش کمار کی موت ہو چکی ہے لیکن تب پولیس کو مخبری ہوئی کہ سدیش کمار اپنی بیوی سے ملنے کے لیے آنے والے ہیں۔ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر جوڑے کو گرفتار کر لیا۔
اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں علاقائی پولیس کے سپریٹنڈنٹ ایرج راجہ نے اپنے افسران کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس جوڑے نے ایک تفصیلی منصوبہ بنایا تھا مگر پولیس نے اس قتل کے کیس کا معمہ حل کر لیا۔ اس ٹیم کو ان کے کام کے لیے انعام دیا جائے گا۔‘