طالبان کی طرف سے افغانستان میں سکولوں پر پابندی کی تصدیق، ’میں کبھی یہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر بیٹھی رہوں‘

    • مصنف, ہیوگو ولیمس اور علی حامدانی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

افغانستان میں نوجوان لڑکیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب سے طالبان نے حکومت اپنے ہاتھ میں لی ہے ان پر سکولوں کے دروازے بند ہیں اور ان طالبات کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ اس بات کو تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

ایک 15 سالہ لڑکی، مینا کا کہنا تھا کہ 'سکول جانا ایسے ہی جیسے سزائے موت۔' مینا نے بتایا کہ ملک کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں جب سے سکول بند ہوئے ہیں وہ اور ان کی سہیلیاں خود کو کھویا ہوا محسوس کرتی ہیں اور انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہو کیا رہا ہے۔

سولہ سالہ لیلیٰ کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس گھر کے کام کاج کرنے کے علاوہ کرنے کو کچھ بھی نہیں۔' صوبہ تخار میں واقع لیلیٰ کا سکول گذشتہ برس اگست سے بند ہے جب طالبان نے یہاں بھی طاقت اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔

بی بی سی نے افغانستان کے 13 صوبوں میں مختلف سکولوں کی ہیڈ ٹیچرز اور طالبات سے جو انٹرویو کیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کی طرف سے اس یقین دہانی کے باوجود کہ لڑکیوں کو 'جس قدر جلدی ممکن ہوا، اپنی تعلیم جاری رکھنے' کی اجازت ہوگی‘ ان کا سکول جانا بند ہے۔

سیکنڈری سکولوں کی طالبات کو ابھی تک سکول واپس جانے سے روکا جا رہا ہے۔ ان لڑکیوں کے بقول اس صورت حال نے انھیں بہت پریشان کر رکھا ہے۔

ہم نے جن ٹیچرز سے بات کی، ان میں سے تقریباً تمام کو جون سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں لڑکیوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک ٹیچر کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں سکول بند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی تین طالبات کی کم عمری میں شادیاں کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کابل سے تعلق رکھنے والی ایک ہیڈ مسٹریس، جو اپنی طالبات سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے میں رہتی ہیں، ان کے بقول 'لڑکیاں بہت پریشان ہیں اور وہ ذہنی اذیت سے گزر رہی ہیں۔میں انھیں امید دلانے کی کوشش کرتی رہتی ہوں، لیکن یہ مشکل کام ہے کیونکہ ان لڑکیوں کو بہت زیادہ اداسی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔'

اس کے علاوہ ٹیچرز نے اس فکرمندی کا اظہار بھی کیا کہ لڑکیوں کے پرائمری سکولوں میں بھی حاضری کم ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ چھوٹی بچیوں کو سکول جانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ (ملک میں) بڑھتی ہوئی غربت اور سکیورٹی کے خدشات کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی چھوٹی بچیوں کو بھی سکول بھیجنے سے کترا رہے ہیں۔

طالبان نے اعلان کیا تھا کہ سیکنڈری سکولوں کے لڑکے ستمبر سے واپس سکول آ سکتے ہیں لیکن انھوں نے لڑکیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

اس سے پہلے بھی حکام یہ تصدیق کرنے سے اجتناب کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے لڑکیوں کے سکول جانے پر واقعی مکمل پابندی لگا دی ہے، لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قائم مقام نائب وزیرِ تعلیم عبدالحکیم ہمت نے تصدیق کی کہ اگلے سال جب تک نئی تعلیمی پالیسی منظور نہیں ہو جاتی، اس وقت تک لڑکیوں کو سیکنڈری سکولوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس کے باوجود اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان کے ساتھ بات چیت کے بعد ملک کے بعض حصوں میں لڑکیوں کے کچھ سکول دوبارہ کھل چکے ہیں۔

ملک کے شمالی صوبے بلخ کے شہر مزارشریف میں ایک ہیڈ ٹیچر نے ہمیں بتایا کہ ان کے یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور لڑکیاں معمول کے مطابق سکول آ رہی ہیں۔

لیکن اسی شہر کی ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ مسلح طالبان کا ایک گروہ سکول کی لڑکیوں کو سڑک پر روک کر یہ بتاتا رہا ہے کہ ان کے سر کے بال اور منہ دکھائی نہیں دینا چاہیے۔ طالبہ کے بقول اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی کلاس کی ایک تہائی لڑکیوں نے سکول آنا چھوڑ دیا ہے۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ 'جب ہم گھر سے نکلتی ہیں تو ہم نے جان ہتھیلی پر رکھی ہوتی ہے۔ لوگ مسکراتے نہیں۔ حالات پرسکون نہیں۔ہم خوف کے مارے کانپ رہے ہوتے ہیں۔'

ملک کے کئی صوبوں میں ہیڈ ٹیچرز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے بھی سکول دوبارہ کھول دیے تھے لیکن ایک ہی دن بعد مقامی حکام نے کوئی وجہ بتائے بغیر انھیں سکول بند کرنے کو کہہ دیا۔ ایک ہیڈ ٹیچر کا کہنا تھا کہ لڑکیاں ہر روز سکول کے گیٹ پر آ جاتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ انھیں سکول واپس آنے کی اجازت کب ملے گی۔

مِڈ وائف یا ڈاکٹر بننے کی خواہشمند لیلیٰ کہتی ہیں کہ وہ اپنا سکول کا سامان صاف کر کے اپنے کمرے میں رکھتی ہیں، کسی کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دیتیں اور انھیں اس لمحے کا انتظار ہے جب اپنے سکول کے سامان کو دوبارہ استعمال کر سکیں گی۔

'جب میں اپنے کپڑوں، کتابوں، سکارف اور اپنے سکول کے جوتوں کو دیکھتی ہوں، تمام چیزیں میری الماری میں پڑی ہوئی ہیں جو کبھی بھی استعمال نہیں ہوئیں۔میں بہت پریشان ہو جاتی ہوں۔ میں کبھی بھی یہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر بیٹھی رہوں۔'

مینا سرجن بننا چاہتی ہیں، لیکن انھیں خدشہ ہے کہ انھیں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ مینا کو یاد ہے کہ وہ کیسے اپنی دوستوں کے ساتھ سکول کے اس میدان میں کھیلتی اور ہنسی مذاق کیا کرتی تھیں جہاں تمام لڑکیاں صبح قومی ترانہ گایا کرتی تھیں۔

'میں جب بھی ان لمحات کے بارے میں سوچتی ہوں تو افسردہ اور اپنے مستقبل سے مایوس ہو جاتی ہوں۔‘

نائب وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال کی وجہ سے جو تاخیر ہو رہی ہے وہ عارضی ہے کیونکہ حکومت یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ لڑکیوں کے سکول جانے کے لیے 'حالات محفوظ (سازگار)' ہو جائیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کی کلاسیں الگ الگ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو پورے افغانستان میں پہلے سے ہی معمول کی بات ہے۔

ماضی میں جب سنہ 1996 اور 2001 کے درمیانی عرصے میں طالبان کی حکومت تھی تو لڑکیوں کے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی تھی۔

جنوب مشرقی صوبے غزنی سے تعلق رکھنے والی ایک ہیڈ ٹیچر کے بیان کے مطابق اِس برس سکول بند رہنے کی وجہ سے کچھ لڑکیاں پہلے ہی متاثر ہو چکی ہیں۔

' جب سے طالبان آئے ہیں، 15 سال اور اس سے چھوٹی عمر کی ہماری کم از کم تین لڑکیوں کی شادی کر کے انھیں رخصت کیا جا چکا ہے۔'

مذکورہ ہیڈ ٹیچر کا مزید کہنا تھا کہ انھیں خوف ہے کہ باقی لڑکیوں کے خاندان والے بھی یہی کریں گے کیونکہ یہ لوگ بھی تنگ آ رہے ہیں کہ ان کی بیٹیاں گھر پر بیکار بیٹھی کیا کر رہی ہیں۔

بچوں کی بہبود کے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات پر بہت پریشان ہیں کہ افغانستان میں کم عمری کی شادیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

صوبہ غور میں تعینات ایک ہیڈ ٹیچر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے سکول کی لڑکیوں کو جو دیگر مسائل درپیش ہیں ان کے مقابلے میں سکولوں کا بند ہو جانا ایک بے معنی سی بات ہے۔

'میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے سکولوں کی بہت سی بچیاں مر جائیں گی۔ ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں اور وہ خود کو سردی سے بھی نہیں بچا سکتیں۔ آپ یہاں غربت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔

بی بی سی نے جن لڑکیوں اور خواتین سے بات کی، ان کے تحفظ کی خاطر ہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے۔