'فرضی جھڑپ' پر کشمیر میں ہڑتال: ’ایسے واقعات سے نہ دل کی دُوری ختم ہو گی نہ دلّی سے دُوری کم ہوجائے گی‘

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں فوجی کارروائی کے دوران مارے گئے دو افراد کی لاشیں لواحقین کے سپرد کی گئیں اور دو سال میں پہلی مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

گذشتہ پیر کے روز تین کشمیریوں کو مبینہ طور پر ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کرنے اور اُن کی لاشیں سرحدی قصبہ ہندوارہ میں دفن کرنے کے خلاف جمعے کے روز سرینگر اور وادی کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کی گئی۔ حریت کانفرنس (گ) کے محبوس رہنما مسرت عالم، حریت کانفرنس (ع) اور وکلاٴ کی انجمن کشمیر بار ایسوسی ایشن نے ان ہلاکتوں کے ردعمل میں دی تھی۔

ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہوئی، تجارتی سرگرمیاں ٹھپ رہیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی معطل رہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں ہڑتال کی گئی۔ دو برس قبل کشمیر کی نیم خودمختاری کو ختم کیا گیا تو علیحدگی پسند اور ہند نواز سیاست میں ایک ہلچل دیکھنے میں آئی۔

ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے ہمہ جہت قدغنیں نافذ کی گئیں۔

یہاں تک کہ 2019 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے ہڑتال کی کال کو شائع کرنے کے الزام میں ایک صحافی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور کئی صحافیوں کو پولیس تھانوں میں طلب کیا گیا۔

واضح رہے گذشتہ پیر کو سرینگر میں ہوئی ایک متنازع جھڑپ کے دوران پولیس نے جب دعویٰ کیا کہ ایک پاکستانی شدت پسند سمیت چار کشمیری شدت پسندوں کو جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا تو ہلاک ہونے والے کشمیریوں کے لواحقین نے احتجاجی تحریک بپا کر دی جس کی حمایت میں سماجی اور سیاسی حلقوں نے بھی تحقیقات اور لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

پولیس کا دعویٰ

پولیس کا دعویٰ تھا کہ بلال عرف حیدر نامی ایک پاکستانی شدت پسند سرینگر کے نواحی علاقے حیدرپورہ میں واقع ایک شاپنگ مال کی چوتھی منزل پر ساتھیوں سمیت چھپا بیٹھا تھا اور خفیہ اطلاع ملتے ہی مال کا محاصرہ کیا گیا۔

ابتدائی بیان میں پولیس نے بتایا کہ حیدر اپنے تین ساتھیوں سمیت جھڑپ کے دوران مارا گیا۔

بعد میں اس بیان کی تردید کی گئی اور کہا گیا کہ الطاف احمد نامی شہری شاپنگ مال کا مالک تھا جو فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ شاپنگ کمپلیکس میں ڈینٹل سرجن ڈاکٹر مدثر کا بھی دفتر تھا، جہاں وہ زمینوں اور دیگر جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق اپنی پراپرٹی ڈیلرشپ کمپنی چلاتا تھا۔

تاہم پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر مدثر دارصل ایک ’ہائبرِڈ‘ عسکریت پسند تھا جو اس دفتر میں ایک کال سینٹر چلا کر عالمی سطح پر سرگرم مسلح گروپوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ الطاف کے ایک ملازم عامر احمد ماگرے بھی اس جھڑپ میں مارے گئے۔

پولیس نے اُسے حیدر کا ساتھی قرار دیا۔

عامر جموں کے بانہال ضلع کا رہنے والا تھا اور متعدد مدارس سے فراغت کے بعد مزدوری کرتا تھا۔ اُن کے والد کو کئی سال قبل ایک عسکریت پسند کو پتھر مار کر ہلاک کرنے کے عوض انڈیا کی حکومت نے اعزاز سے نوازا تھا۔

دھرنے کے بعد تحقیقات کا اعلان

پولیس کے ان دعووٴں کے بعد الطاف، مدثر اور عامر کے اہل خانہ نے انھیں بے قصور قرار دے کر لاشوں کی واپسی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کورونا وائرس کی وبا پھوٹتے ہی پولیس نے جھڑپوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کو اہل خانہ کے سپرد کرنے کے بجائے دُور دراز دیہات کے جنگلاتی علاقوں میں اپنے پیاروں کی غیرموجودگی میں خفیہ طور دفن کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

حیدرپورہ کے واقعے پر نہ صرف سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں نے برہمی کا اظہار کیا بلکہ سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی نے احتجاج کیا جبکہ ڈاکٹر مدثر اور الطاف احمد کے اہل خانہ نے بدھ کے روز سولہ گھنٹے تک دھرنا دے کر انصاف اور لاشوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

دھرنے پر بیٹھے متاثرین کو نصف شب پولیس نے گرفتار کرلیا اور دوسرے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مجسٹریٹ سطح کی تحقیقات کا اعلان کیا اور جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوجائے کہ اس کارروائی میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو پولیس اعتراف کرنے میں نہیں ہچکچائے گی۔

چنانچہ پولیس کی نگرانی میں جمعرات کو رات دیر گئے مدثر اور الطاف کی لاشوں کو ہندوارہ کے قبرستان سے باہر نکال کر اُن کے لواحقین کے سپرد کیا گیا۔ تاہم پولیس نے تجہیز و تکفین کے عمل کو رات کے دوران کے نمٹانے کی تاکید کی تھی۔

فرضی جھڑپیں کیوں ہوتی ہیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے قانون اور انسانی حقوق سے متعلق علوم کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت کہتے ہیں: ’بھارتی آئین کی دفعہ 21 کے مطابق ہر شہری کو زندہ رہنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اگر کوئی غیرقانونی یا مسلح سرگرمی میں ملوث بھی ہو تو اس کے خلاف سکیورٹی فورسز عدالت میں فرد جرم عائد کرتے ہیں اس کے بعد عدالت سزا دیتی ہے۔

لیکن کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ کی وجہ سے پولیس اور سیکورٹی فورسز کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر قتل کرسکتی ہیں اور کسی بھی عمارت کو بارود سے اُڑا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر حسین کہتے ہیں کہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے اور ’فرضی جھڑپیں عالمی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اور کل کو اگر عالمی سطح پر تحقیقات ہو جائے تو یہاں کے افسروں کا مواخذہ ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جب حالات ٹھیک ہو گئے تو جن افسروں کو بہادری کے طمغے دیے گئے تھے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس (ع) کے سربراہ میرواعظ عمرفاروق کو گذشتہ دو سال سے تاریخی جامع مسجد میں خطبے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور ایک سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد نمازیوں کے لیے بھی بند تھی۔

ہند نواز سیاسی حلقوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو اُن کا وہ اعلان یاد دلایا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی ’دل سے دُوری، اور دلّی سے دُوری‘ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعرات کو فرضی جھڑپوں کے خلاف دھرنے کے دوران کہا ’ایسے واقعات سے نہ دل کی دُوری ختم ہو گی نہ دلّی سے دُوری کم ہوجائے گی۔'