آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اتر پردیش میں پولیس حراست میں ایک مسلم نوجوان کی موت: معاملہ کیا ہے؟
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع کاس گنج کے ایک پولیس سٹیشن میں ایک 22 سالہ مسلم نوجوان کی لاش مشکوک حالات میں ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ الطاف کو ایک نابالغ لڑکی کی گمشدگی کے معاملے میں پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا جس نے تھانے کے احاطے میں بنائے گئے بیت الخلا میں خودکشی کرلی۔
الطاف کے گھر والوں نے پولس پر اس کے ساتھ مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
کاس گنج کے پولیس سپرانٹنڈنٹ روہن پرمود بوترے نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نوجوان کی موت کی وجہ لٹکنا بتائی گئی ہے۔ نوجوان نے اپنی جیکٹ کی ڈوری سے تھانے کے باتھ روم میں اپنا گلا دبا کر خودکشی کی ہے۔'
سپرانٹنڈنٹ پولیس کے مطابق 'الطاف نے اپنی جیکٹ کی ڈوری کو اپنے گلے میں لپیٹ کر نل کی ٹونٹی سے باندھ کر خود کو پھانسی لگائی ہے جس کے بعد وہ باتھ روم میں ہی گر گیا۔'
پولیس سپرانٹنڈنٹ کے مطابق نوجوان کے خلاف نابالغ لڑکی کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں شکایت درج کرائی گئی تھی اور اسے منگل کی صبح پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد صدر کوتوالی کے ایس ایچ او وریندر سنگھ سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو لاپرواہی کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔
الطاف گھروں میں ٹائل لگانے کا کام کرتا تھا۔ اس کے والد چاند میاں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے پیر کی شام اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چاند میاں کہتے ہیں 'پولیس نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا ایک کیس کے سلسلے میں مطلوب ہے اور اس سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ میں نے گھر سے اپنے بچے کو اپنے ہاتھوں سے پولیس کے حوالے کیا تھا۔ جب میں پولیس چوکی پر گیا تو مجھے وہاں سے بھگا دیا گیا۔ 24 گھنٹے بعد پولیس نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے نے خود کو پھانسی لگا لی ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا تھا مجھے لگتا ہے کہ اسے پولیس نے ہی ماردیا ہے۔'
پولیس کے بیان اور مقتول الطاف کے والد کے بیان میں فرق ہے۔ پولیس سپرانٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ الطاف کو منگل کی صبح پوچھ تاچھ کے لیے لایا گیا اور اس کے فوراً بعد اس نے خود کشی کرلی۔ جبکہ والد کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے پیر کی شام پولیس کے حوالے کیا تھا۔
کیا پولیس نے الطاف پر تشدد کیا اس بارے میں پولیس سپرانٹنڈنٹ پرمود بوترے نے کہا کہ 'الطاف کو حوالات میں بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ اسے تھانے کے باہر بٹھا یا گیا تھا۔ پوچھ تاچھ کے لیے بلائے جانے کے پندرہ سے بیس منٹ کے اندر وہ بیت الخلا گیا اور وہاں اس نے خود کشی کر لی۔ پولیس پر تشدد کے الزامات بالکل غلط ہیں۔ لڑکے پر کسی بھی طرح سے تشدد نہیں کیا گیا۔'
پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے جیکٹ کے ہڈ کے فیتے سے خودکشی کی ہے۔ سپرانٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا ہے کہ جیکٹ کے ہڈ کا فیتہ اتنا بڑا تھا کہ وہ باہر نکالا جا سکتا تھا۔ جب اس نے ٹائلٹ جانے کو کہا تو منشی نے اسے پولیس سٹیشن کے باتھ روم میں بھیج دیا۔ اس نے فیتے کو گردن پرلپیٹ کر ٹونٹی سے باندھ دیا اور خود کو زور سے کھینچا۔ وہ باتھ روم میں لیٹا ہوا ملا۔'
پولیس سپرانٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ 'جب پولیس نے اسے باتھ روم میں پڑا دیکھا تو اس کی سانسیں چل رہی تھیں فوری طور پر اسے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔'
پولیس کے دعوے کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔ پولیس کے علاوہ دیگر لوگ صبح کے وقت تھانے میں موجود ہوتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا پولیس کے علاوہ اس واقعے کا کوئی اور عینی شاہد ہے پولیس سپرانٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ تھانے لایا گیا ایک نوجوان اس پورے واقعے کا عینی شاہد ہے۔
پرمود بوترے کا کہنا تھا کہ 'پولیس سٹیشن میں بیٹھے اس نوجوان نے ہی پولیس کو بتایا کہ لڑکے کو باتھ روم گئے ہوئے 15 منٹ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔'
لاپتہ ہونے والی لڑکی کہاں ہے؟
لاپتہ ہونے والی لڑکی تاحال پولیس کو نہیں ملی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا پولیس کی تفتیش میں الطاف اور لڑکی کے درمیان کوئی تعلق سامنے آیا ہے، پولیس سپرانٹنڈنٹ نے کہا 'ہمیں ایک ویڈیو ملی ہے جس میں یہ لڑکا خود کہہ رہا ہے کہ میرا اس لڑکی سے رشتہ تھا، لیکن اب نہیں ہے۔ پوچھ تاچھ میں لڑکے نے بتایا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور سے بھی بات کرتی ہو۔'
پولیس کے مطابق لڑکی کی گمشدگی کے بعد اس کے والد کو اس ویڈیو کی بنیاد پر الطاف پر شک ہوا اور انھوں نے تھانے میں اس کے خلاف اغوا کی رپورٹ درج کروائی۔
پولیس ابھی تک اس لڑکی کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔
کیا الطاف کی موت کا مقدمہ درج ہوگا؟
پولیس سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الطاف نے خودکشی کی ہے تاہم اگر الطاف کے لواحقین شکایت کریں گے تو اس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔
بوترے کہتے ہیں 'ہم نے الطاف کے خاندان سے بات کی ہے اور انھیں واقعہ کی تفصیل وضاحت کے ساتھ بتائی ہے، اس کے بعد بھی اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ تحقیق کی ضرورت ہے تو وہ جو بھی شکایت کریں گے ہم اسی کے مطبق مقدمہ درج کریں گے اور اس کی بنیاد پر مزید کارروائی کریں گے۔'
پوسٹ مارٹم کے بعد لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔ جمعرات کی سہ پہر الطاف کو سخت حفاظتی انتظامات میں سپرد خاک کر دیا گیا۔