آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پرمبیر سنگھ: ممبئی میں خصوصی ’انکاؤنٹر سکواڈز‘ بنانے والے اعلیٰ پولیس افسر کئی ماہ لاپتہ رہنے کے بعد منظر عام پر آ گئے
- مصنف, سوتک بسواس اور میانک بھاگوت
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
انڈین پولیس کے ایک سینئیر افسر، جن کو سنگین الزامات کا سامنا ہے، کئی ماہ تک لاپتہ رہنے کے بعد آخر کار منظر عام پر آ گئے ہیں۔
ممبئی کے سابق پولیس چیف 59 سالہ پرمبیر سنگھ جمعرات کے روز ایک مقامی پولیس سٹیشن پہنچ گئے۔
مسٹر سنگھ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دو دن قبل انڈیا کی سپریم کورٹ نے انھیں ضمانت قبل از گرفتاری دیتے ہوئے جاری تحقیقات میں تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔
پرمبیر سنگھ کو آخری مرتبہ رواں برس مئی کے مہینے میں ممبئی میں دیکھا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے وہ غائب تھے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ اتنا عرصہ کہاں روپوش رہے تاہم سوموار کے روز ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ’انڈیا میں ہی ہیں‘ لیکن ریاست مہاراشٹر کے حکام کی وجہ سے خوفزدہ ہیں۔
بدھ کے روز بہت سے چینلز نے یہ رپورٹ کیا کہ مسٹر سنگھ نے انھیں بتایا ہے کہ وہ چندی گڑھ شہر میں ہیں جہاں ان کا خاندانی گھر ہے اور وہ جلد ہی ممبئی لوٹ آئیں گے۔
یاد رہے کہ پرمبیر سنگھ کو پانچ مقدمات میں بھتے خوری کے الزامات کے سامنا ہے۔
وہ اب تک مہاراشٹر کی حکومت کی جانب سے قائم کردہ پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں بلکہ اس کی بجائے ان کے وکلا نے اپنے مؤکل کے خلاف تحقیقات کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پٹیشن میں مسٹر سنگھ کے خلاف تحقیقات کو ممبئی پولیس سے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
دو ججوں پر مشتمل بینچ نے اس پٹیشن پر فیصلہ نہیں سنایا بلکہ کہا کہ مسٹر سنگھ اور ان کے سابق باس اور مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیش مکھ کے درمیان چیزیں ’متجسس‘ نوعیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری کے مہینے میں ایشیا کے سب سے امیر شخص مکیش امبانی کے گھر کے باہر سے جب دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک ایس یو وی گاڑی ملی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ سنگین ہو گیا تھا جب چند روز بعد اس گاڑی کے مبینہ مالک کی لاش شہر کے قریب ساحل سمندر پر ملی۔
اس واقعے کے بعد مسٹر سنگھ کو مارچ کے مہینے میں ممبئی پولیس کے چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ریاست مہاراشٹر کی ہوم گارڈ کی سربراہی کا عہدہ سونپ دیا گيا جس میں ریاستی دارالحکومت ممبئی بھی آتا ہے۔
پرمبیر سنگھ کو بمشکل دو سال قبل ہی 45 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ممبئی پولیس فورس کی سربراہی سونپی گئی تھی۔ ایک اعلیٰ سطحی افسر کی حیثیت سے ان کی شہرت نڈر افسر کے طور پر تھی۔
ریاست کے اس وقت کے وزیر داخلہ انیل دیش مکھ نے کہا تھا کہ ’یہ کوئی معمول کا تبادلہ نہیں۔ ممبئی پولیس کے سربراہ ہونے کے ناطے پولیس کمشنر کے دفتر میں کام کرنے والے افسران سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ یہ غلطیاں سنگین ہیں اور اسی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا۔‘
پرمبیر سنگھ نے رواں برس مارچ کے وسط میں اپنے نئے دفتر میں اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھالا اور اس کے فوراً بعد حکومت کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے اپنے مسٹر دیش مکھ پر جبری وصولی اور بدعنوانی کا الزام لگایا۔
وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو لکھے گئے خط میں افسر نے مسٹر دیش مکھ پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے سچن وازے کو حکم دیا تھا کہ وہ شہر کے ان بار مالکان اور ہوٹل والوں سے لاکھوں ڈالر رشوت لینے کا حکم دیا تھا جو ضابطوں کی پاسداری نہیں کر پا رہے ہیں۔
مسٹر دیشمکھ نے ان الزامات کی تردید کی لیکن اپریل کے شروع میں انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
دریں اثنا، مئی میں مسٹر سنگھ خرابی صحت کی بنیاد پر چھٹی پر چلے گئے اور اس کے بعد سے انھوں نے چھٹی میں دو بار توسیع کرائی اور پھر اچانک منظر عام سے غائب ہو گئے۔
جب پولیس نے اپنے چیف کی تلاش شروع کی تو مسٹر سنگھ کا خاندان ان کے لاپتہ ہونے کے متعلق خاموش نظر آیا۔ ان کے خاندان میں ان کی بیوی اور بیٹی ہیں جو ممبئی میں ان کے ساتھ رہتی ہیں جبکہ بیٹا بیرون ملک مقیم ہے۔ ان کے وکلا نے بھی افسر کے ٹھکانے کے بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔
اس صورتحال میں انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے بے دھڑک قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ سابق پولیس چیف بیرون ملک ’فرار‘ ہو گئے ہیں۔ چند ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ وہ روس میں ہیں جبکہ کسی نے دعویٰ کیا کہ وہ بیلجیئم میں روپوش ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نئے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم ان کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری افسر کے طور پر، وہ حکومت کی منظوری کے بغیر بیرون ملک نہیں جا سکتے۔۔۔اگر وہ چلے گئے ہیں تو یہ اچھی بات نہیں۔‘
مہاراشٹر حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا۔
مسٹر سنگھ کو اب ریئلٹرز، ہوٹل والوں اور بکیز کی طرف سے جبری وصولی کے لیے دائر چار مجرمانہ مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ ان کے سابق چیف مسٹر دیشمکھپر پر ابھی تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا اور انھیں 12 نومبر تک حراست میں بھیجا گیا۔
جس چیز نے شبہات کو مزید تقویت دی ہے وہ مسٹر سنگھ کا پینل کی طرف سے طلب کیے جانے پر پوچھ گچھ کے لیے آنے سے انکار۔ اس کے بجائے انھوں نے اپنے وکیلوں کے ذریعے عدالت میں ایک درخواست دائر کی جس میں تحقیقات کو ہی چیلنج کیا گیا۔
ان کے وکیلوں نے عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسٹر سنگھ کا پینل کے ساتھ بات چیت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قانون سے بھاگ نہیں رہے ہیں۔
واضح طور پر، کیس کے بارے میں ابھی تک بہت کم معلومات ہیں۔ کیا دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کا کیس سے کوئی تعلق ہے؟ مسٹر سنگھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مسٹر دیشمکھ کو کس چیز نے اکسایا؟ مسٹر سنگھ اپنے وزیر پر سنگین الزامات لگانے کے بعد غائب کیوں ہوئے؟ مسٹر سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے والے پینل کے سامنے کیوں پیش نہیں ہو رہے ہیں؟
ایسے کئی اہم سوالات ہیں لیکن ابھی تک کوئی ان کا کوئی جواب نہیں۔
سماجیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والے مسٹر سنگھ ایک بیوروکریٹ والد اور ایک ہاؤس وائف کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اب ایک سبکدوش افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے خود کو فٹ رکھا اور کرکٹ کھیلی۔ اپنے چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں انھوں نے دیہی اضلاع میں ماؤ نواز باغیوں اور شہر میں جرائم پیشہ گینگز سے مقابلہ کیا۔
سنہ 1990 کی دہائی میں ممبئی میں اپنی پہلی پوسٹنگ میں مسٹر سنگھ نے انڈر ورلڈ کو صاف کرنے کے لیے افسران کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کیا۔ اس وقت انڈیا کا امیر ترین شہر گینگ وار، جبری وصولی اور اغوا کی وارداتوں کی وجہ سے پریشان تھا۔
وہ ’انکاؤنٹر پولیس والو' کے ساتھ کام کر کے اخباروں کی سرخیوں میں آئے۔ انکاؤنٹر پولیس ایک منفرد، غیر سرکاری پولیسنگ سسٹم ہے جس میں متنازع طور پر ایسے غنڈوں کا مبینہ انکاؤنٹر میں خاتمہ کر دیا جاتا ہے جو اکثر تاجروں اور فلمی اداکاروں اور پروڈیوسروں کو تاوان کے لیے یرغمال بنا لیتے تھے۔
صحافی ایس حسین زیدی نے شہر میں جرائم کی تاریخ لکھی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مسٹر سنگھ کے ساتھ ایک اور سینیئر افسر کو ’شہر سے انڈرورلڈ کا خاتمہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا‘ اور دونوں نے اس کام کے لیے 'تین ایلیٹ انکاؤنٹر سکواڈز بنائے‘ تھے۔
مسٹر سنگھ اگلے سال 60 برس کے ہونے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ مسٹر سنگھ نے اگست میں فون پر ایک صحافی کو بتایا تھا کہ ’میں انڈیا میں ہی ہوں اور ملک نہیں چھوڑا ہے۔‘
بظاہر سوائے ان کے کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آگے کیوں نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں۔