کابل کے سردار محمد داؤد خان ہسپتال پر حملے میں 20 سے زیادہ ہلاکتیں

کابل میں وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں واقع فوجی ہسپتال پر ہونے والے حملے میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک اور کم از کم 16 زخمی ہوئے ہیں۔

400 بستروں پر مشتمل سردار محمد داؤد خان ہسپتال پر حملے سے پہلے دو دھماکے ہوئے جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک دھماکہ ہسپتال کے سامنے جبکہ دوسرا قریب ہی ہوا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد حملہ آور ہسپتال میں داخل ہوگئے۔

طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بی بی سی کو بتایا کہ دولت اسلامیہ خراسان سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ہسپتال کے گیٹ پر پہلا دھماکہ کیا اور ہسپتال کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئے۔

بلاک کریمی کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے دولت اسلامیہ خراسان کے پانچ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

کابل سے آنے والی ویڈیو فوٹیج اور تصاویر میں کابل کی فضاؤں میں دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں اور گولیاں چلنے کی آوازیں بھی آ رہی ہیں۔

امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کے بعد طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شدت پسند تنظم نام نہاد دولت اسلامیہ کی ایک مقامی شاخ آئی ایس خراسان نے طالبان اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

رواں برس اگست میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ماضی میں بھی سردار داؤد ہسپتال کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ 2017 میں داؤد ہسپتال پر ہونے والے ایک حملے میں 30 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔