نریندر مودی کی ریلی میں دھماکے کرنے کے جرم میں چار افراد کو سزائے موت

نریند مودی کی ریلی میں آٹھ سال قبل ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی یعنی این آئی اے کی خصوصی عدالت نے چار افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

ان کے علاوہ دو ملزمان کو عمر قید، دو کو دس سال قید اور ایک ملزم کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا کا اعلان این آئی اے کورٹ کے جج گورویندر سنگھ ملہوترا نے کیا۔

یہ دھماکے ریاست بہار کے شہر پٹنہ کے گاندھی میدان میں ہوئے تھے۔

قصوروار ٹھہرائے جانے والے چھ لوگوں کا تعلق ریاست جھارکھنڈ سے ہے۔ این آئی اے نے الزام لگایا تھا کہ ان ملزمان نے 27 اکتوبر 2013 کو اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی ریلی سے ٹھیک پہلے پٹنہ کے گاندھی میدان میں کئی دھماکے کیے تھے۔ مودی اس وقت تک وہاں نہیں پہنچے تھے لیکن گراؤنڈ میں ہزاروں لوگ موجود تھے۔

ان دھماکوں میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت انڈیا میں عام انتخابات ہونے والے تھے اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے نریندر مودی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بنایا تھا۔ وہ اسی سلسلے میں پٹنہ میں ریلی سے خطاب کرنے گئے تھے۔

دھماکوں کے وقت وہ پٹنہ کے جے پرکاش نارائن ایئرپورٹ پر تھے۔ دھماکوں کے باوجود بعد میں پولیس اور سرکاری اہلکار انہیں سخت سکیورٹی میں گاندھی میدان لے گئے تھے جہاں انہوں نے ریلی سے خطاب کیا تھا۔

اس معاملے کی تحقیقات سب سے پہلے پٹنہ پولیس نے کی تھی اور بہار کے اس وقت کے ڈی جی پی ابھیانند نے ابتدائی تحقیق میں اس میں کسی دہشت گردانہ سازش سے انکار کیا تھا۔ لیکن دھماکوں کے صرف چار دن بعد اس واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری این آئی اے کو سونپ دی گئی تھی۔

تحقیقات کے بعد این آئی اے نے 22 اگست 2014 کو کل 11 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ان میں سے ایک ملزم نابالغ تھا اس لیے اس کا کیس جووینائل کورٹ میں بھیج دیا گیا تھا۔

باقی 10 ملزمان کے خلاف پٹنہ کی این آئی اے عدالت میں کارروائی جاری تھی۔ عدالت نے ان میں سے نو ملزمان کو دھماکوں کے ٹھیک آٹھ سال بعد اس سال 27 اکتوبر کو مجرم قرار دیا تھا۔

ان کی سزا کے لیے نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جبکہ ایک ملزم فخرالدین انصاری کو ثبوت نہ ملنے کی بنیاد پر بری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

27 اکتوبر 2013 کو کیا ہوا تھا

بی جے پی نے اپنے وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی کی ریلی کے لیے بڑی تیاریاں کی تھیں۔

ان کی ریلی کے لیے بہار کے تمام اضلاع سے خصوصی بسیں چلائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کچھ خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئی تھی۔

الزام ہے کہ دھماکوں کی سازش کرنے والوں کو اس کا پہلے سے علم تھا چنانچہ انہوں نے پہلا بم دھماکہ صبح ساڑھے نو بجے پٹنہ جنکشن کے ایک باتھ روم میں کیا۔ ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ بجے کے درمیان گاندھی میدان اور اس سے ملحقہ عمارتوں کے قریب چھ دھماکے ہوئے۔ ان میں سے کچھ دھماکے ریلی کے لیے بنائے گئے سٹیج سے 200 میٹر کے دائرے میں ہوئے۔

اسی وقت نریندر مودی کا طیارہ پٹنہ ہوائی اڈے پر اترا جہاں تقریباً ایک گھنٹہ قیام کے بعد انہیں گاندھی میدان لایا گیا اور وہ ریلی سے خطاب کر سکے۔

اس کے بعد 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اتحاد نے کامیابی حاصل کی اور نریندر مودی انڈیا کے وزیر اعظم بن گئے۔

کس کو پھانسی ہوئی، کس کو عمر قید ہوئی

عدالت نے رانچی کے رہنے والے حیدر علی عرف بیوٹی کو ان سلسلہ وار دھماکوں کی سازش کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔

ان کے علاوہ رانچی کے ہی امتیاز انصاری عرف عالم، نعمان انصاری اور مجیب اللہ انصاری کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔

جبکہ رائے پور (چھتیس گڑھ) کے عمر صدیقی اور اظہر الدین کو عمر قید، مرزا پور (اتر پردیش) کے احمد اور رانچی (جھارکھنڈ) کے فیروز کو 10 سال اور رانچی کے افتخار عالم کو سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان میں سے پانچ ملزمان کو بہار کے علاقے بودھ گیا میں ہونے والے دھماکوں کے سلسلے میں بھی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ تمام لوگ پہلے ہی جیل میں ہیں۔

مجرموں کو پیر کو سخت سکیورٹی میں پٹنہ کی این آئی اے عدالت میں لایا گیا تاکہ گاندھی میدان دھماکوں کے معاملے میں انہیں سزا سنائی جا سکے۔