آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان طالبان: ’خودکش حملہ آور ہمارے ہیرو ہیں دنیا کیا کہتی ہے اس کی پروا نہیں‘
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
2011 میں طالبان نے کابل کے جس فائیو سٹار ہوٹل انٹر کوٹینینٹل کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا تھا اس کے نو سال بعد اسی فائیو سٹار ہوٹل میں طالبان کے خود کش حملہ آوروں کے خاندانوں کو مدعو کیا گیا اور ان میں رقم اور تحائف تقسیم کیے گئے۔
اس تقریب میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور امارات اسلامی کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے شرکت کی اور ان خودکش حملہ آوروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہمارے اور قوم کے ہیرو ہیں۔'
طالبان کی جانب سے ان خودکش حملہ آوروں کے خاندانوں کو دس ہزار افغانی روپے کے ساتھ ساتھ ایک پلاٹ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا۔
اگرچہ جنگی حکمتی عملی میں خود کش حملہ آوروں کا استعمال کرنے والے افغان طالبان پہلا اور واحد گروپ نہیں ہیں اور جاپان سمیت دنیا کی مختلف افواج، عسکری اور شدت پسند گروپ دشمن قوتوں کے خلاف خودکش حملوں کا سہارا لیتے رہے ہیں لیکن طالبان کی جانب سے اپنے خود کش حملہ آوروں کی اس طرح کھلم کھلا حوصلہ افزائی نے جہاں بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا وہیں بہت سے لوگوں نے اس پر غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔
اس غم و غصے کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والے اکثر عام افغان شہری تھے اور یہ محض اتفاق نہیں کہ جس ہوٹل میں ان خودکش حملہ آوروں کو قوم کا ہیرو قرار دیا گیا اسی ہوٹل کو طالبان کی جانب سے ایک نہیں بلکہ دو بار خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے۔
طالبان کی جانب سے اس تقریب کی تصویر جب سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں تو اس پر بہت سے افغان شہریوں کا سخت رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں کی ستائش اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کیونکہ ان حملوں میں نشانہ بننے اور ہلاک ہونے ہولے صرف غیر ملکی افواج کے اہلکار نہیں تھے بلکہ بہت سے عام افغان شہریوں کی بھی اس میں ہلاکت ہوئی۔
تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کی جانب سے اپنے خودکش حملہ آوروں کو اس طرح سراہا گیا ہو۔ کابل پر قبضے کے بعد طالبان کے رہنما انس حقانی نے ایک خود کش حملہ آور کی قبر پر فاتح کی اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کیں۔
اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے ایک ستائشی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں طالبان کے لیے خودکش حملے کرنے والوں کی تصاویر اور نام تھے اور پھر طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک ایسی بھی ویڈیو جاری کی گئی جس میں ان حملوں میں استعمال ہونے والی خودکش جیکیٹس کی نمائش کی گئی۔
دنیا کیا کہتی ہے اس کی پروا نہیں ’خود کش حملہ آور ہمارے ہیرو ہیں‘
ایک طرف جہاں افغان طالبان کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے ان کا تشخص بطور شدت پسند گروہ تبدیل ہو اور انھیں ایک ذمہ دار ریاست کی طور پر تسلیم کیا جائے تو دوسری جانب شدت پسندی کی علامت سمجھے جانے والے خود کش حملوں کی تشریح اور ستائش کیا ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے؟
طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوج کے خلاف جنگ میں ہلاک ہونے افراد کی بدولت ہی انھیں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
’یہ خود کش حملہ آور ان کے ہیرو ہیں اور اپنے ہیروز کی حوصلہ آفزائی کرنا ہمارا فرض ہے اور یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے لہذا کسی کو حق نہیں کہ وہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کریں۔‘
قاری سعید نے خودکش حملہ آوروں کی ستائش پر ہونے والی تنقید کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں عام افغان شہری ہلاک نہیں ہوئے۔
تاہم صرف 2011 کے کابل انٹر کوٹینینٹل ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے میں 11 افغان شہری ہلاک ہوئے اور 20 سالہ جنگ میں ایسے سینکڑوں حملے ہوئے جن میں لاکھوں افغان شہری مارے گئے۔
خودکش حملہ آوروں کی عوامی ستائش کے پیجھے کیا مقصد ہے؟
افغان امور کے ماہر اور شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسید کا کہنا ہے کہ ’طالبان کے ہاں خود کش حملہ آوروں کے لیے بہت اہم مقام پایا جاتا ہے جیسا کہ سراج الدین حقانی نے اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خودکش حملہ آوروں کو طالبان کی امریکہ اور اس کی اتحادیوں کے خلاف کامیابی کا اصل ہتھیار قرار دیا۔ لہذا، یہ طالبان کا اپنے جنگجوں کے لیے ایک پیغام تھا کہ اگر وہ زندہ نہ رہیں تب بھی طالبان قیادت کے لیے ان کی بہت اہمیت و احترام ہیں۔ حقانی نے بھی کہا کہ طالبان کی طرف سے تمام مارے گئے خودکش حملہ آوروں کے اہل خانہ کو خصوصی کارڈ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ان کے ساتھ خاص اعزازی برتاؤ کیا جائے۔‘
عبدالسید کا کہنا ہے ’طالبان کے اس اقدام سے ان کی حکومت کو تسلیم کروانے کی کوشش کو تقصان پہنچا ہے۔‘
اگرچہ اندرونی طور پر طالبان کے حامی اور ارکان اس جلسے کے انعقاد کے لیے سراج الدین حقانی کو کافی سراہتے ہیں تو دوسری طرف باہر کی دنیا میں اس سے طالبان پر کافی تنقید ہوئی ہے جس سے ان کی سیاسی مشکلات بڑھنے کے امکانات ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ طالبان دنیا کو یہ باور کروانے کی کوششوں میں ہیں کہ ان کے ساتھ ایک برادر ریاست کا برتاؤ کیا جائے جس کے لیے طالبان سے دنیا یہ توقع کیے ہوئے ہے کہ وہ اپنے اس پرتشدد ماضی سے نکل آئے مگر طالبان کے لیے ایسا ممکن نہیں کہ وہ ان لوگوں سے قطع تعلق کریں جو ان کے لے انسانی بموں کا کردار ادا کر چکے ہیں اور طالبان اپنی کامیابی کو ان کی مرہون منت قرار دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے طالبان کے اس عمل سے یہ سوالات مغربی میڈیا میں اٹھنا شروع ہوئے ہیں کہ اپنے اس پرتشدد ماضی کو باعث فخر سمجھتے ہوئے طالبان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیے
طالبان کا رویہ حکمرانوں جیسا نہیں بلکہ عسکریت پسندوں جیسا ہے
افغانستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار عزیز امین کا کہنا ہے کہ طالبان میں بھی تین قسم کی تقسیم ہے۔
- ایک گروہ اعتدال پسند ہے جو دوحہ میں سیاسی مشاورت اور سفارت کاری میں مصروف عمل ہے۔
- دوسرا گروہ شدت پسندوں کا ہے جن میں حقانی نیٹ ورک بھی شامل ہے جو سمجھتے ہیں کہ ان کی کامیابی ان کی جنگی حکمت عملی کی بدولت ہے لہٰذا طالبان کو اپنے سخت گیر موقف سے ہٹنا نہیں چاہیے۔
- تیسرا وہ گروپ جو ان دونوں کی طاقت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ صحیح وقت آنے پر فیصلہ کریں کہ انھوں نے کس کا ساتھ دینا ہے۔
عزیز امین کے مطابق ’جہاں ایک گروپ سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے افغان طالبان کو بطور اعتدال اور امن پسند گروہ کی طور پر سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے وہیں دوسرا گروپ اپنے نظریے کے مطابق سخت گیر اقدامات لے رہا ہے جو کہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طالبان میں یکساں پالیسی پر اتفاق رائے موجود نہیں۔'
عزیز امین کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے یہ اقدام صرف اپنے جنگجوؤں کو خوش کرنے کی ایک کوشش ہے چاہے اس کے لیے ان کی اندرونی اور بیرونی ساکھ ہی کیوں نہ متاثر ہو۔
’طالبان کا رویہ حکمرانوں جیسا نہیں بلکہ عسکریت پسندوں جیسا ہے اس لیے انھیں فرق نہیں پڑتا کہ عام عوام کو اس سے کتنی تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افغان شہری تھے۔‘
خودکش حملہ آوروں کی ستائش سے خطے میں شدت پسندی کو فروغ ملے گا
اس تقریب کے میزبانی حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی نے کی۔ خیال رہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا ہے اور افغانستان کی بیس سالہ جنگ میں نیٹو اور امریکی فوج پر سب سے زیادہ تباہ کن حملوں کے پیچھے بھی حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ رہا ہے۔
اس کے علاوہ حقانی نیٹ ورک دنیا بھر سے جنگجوؤں اور خودکش حملہ آوروں کو تربیت دینے اور استعمال کیے جانے لیے بھی جانا جاتا ہے یہاں تک کہ اسامہ بن لادن اور عبد اللہ يوسف عزام جیسے جنگجوؤں کو حقانی نیٹ ورک نے بھرتی کیا اور تربیت دی۔
افغان امور کے ماہر اور شدت پسندی پر تحقیق کرنے والے عبدالسید کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے خود کش حملہ آوروں کی کھلے عام پزیرائی خطے میں شدت پسندی کو فروغ دے گی۔
ان کا کہنا تھا ’اگرچہ عسکریت پسند گروہوں کے افرادی قوت کے اضافہ اور اپنے ارکان کا اعتماد جیتنے کے لیے ان گروہوں کے لیے ایسے اقدامات نہایت مفید ہیں تو دوسری طرف یہ ان گروہوں کی طرف نوجوانوں کے لیے کشش اور جھکاؤ کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔‘
’ان مارے گئے خودکش حملہ آوروں کو جس اعزاز کے ساتھ جہادیوں کے قابل فخر ہیرو بنا کر پیش کیا گیا تو یہ یقیناً ان دیگر نوجوانوں کے لیے بھی کشش کا سبب بنتا ہے کہ وہ اپنے معاشرہ یا حلقہ احباب میں ایسے ہی اعزاز حاصل کریں خصوصا وہ نوجوان جو زندگی میں طرح طرح کی محرومیوں اور نا امیدیوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ بیشتر ایسے گروہوں کا آسانی سے حصہ بن جاتے ہیں۔‘