انڈیا کی ریاست کیرالہ میں سیلاب سے 20 سے زیادہ ہلاکتیں

انڈیا کے جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب کی وجہ سے 20 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، اور متعدد دیہات اور قصبوں کے راستے منقطع ہو گئے ہیں۔

ریاست کیرالہ میں کوتیام کے ضلع میں متعدد گھر سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں اور کئی شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

علاقے سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسافروں کی ایک بس کو پانی میں ڈوبنے سے بچایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیرلا میں متعدد روز سے جاری شدید بارش کی وجہ سے انتہائی خطرناک لینڈ سلائڈنگ ہوئی ہے اور انڈین فوج امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔

حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے سامان اور امدادی کارکنان کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایک واقعے میں چھ لوگوں کی فیملی بشمول ایک 75 سالہ دادی اور تین بچے، اس وقت ہلاک ہوگئی جب ان کا گھر سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق ادوکی ضلع میں بھی مبلے تلے تین بعوں کی لاشیں ملی ہیں اور کم از کم پانچ مزید افراد لاپتہ ہیں۔

کولام کے علاقے میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والی کشتیوں کے ذریعے امدادی کام کیا جا رہا ہے۔ متعدد مقامات پر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔

اس وقت درجنوں افراد لاپتہ ہیں اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

اتوار کے روز مقامی شہریوں نے ریسکیو ٹیموں کی مدد کی اور کیچڑ، پتھر، اور گرے ہوئے درختوں کو ہٹانے کا کام کیا اور متاثرہ علاقوں میں زندہ بچنے والوں کی تلاش جاری ہے۔

ریاست میں مختلف مقامات میں ہنگامی بنیادوں پر پناہ کے لیے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

کیرلا میں شدید بارش کی وجہ سے شیلاب اور لینڈ سلائڈنگ زیادہ نایاب بات نہیں ہے کیونکہ ریاست میں ویٹ لینڈ اور جھیلوں میں کافی کمی دیکھی گئی ہے جو کہ سیلاتبں کو روکنے کے لیے قدرتی بند تھے۔

2018 میں کیرلا میں گذشتہ ایک صدر کے بدترین سیلاب میں 400 افراد ہلاک ہوئے تھے اور کم از کم دس لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کتنی پڑی تھی۔ اسی سال وفاقی حکومت کے ایک جائزے کے مطابق 44 دریاؤں والی یہ ریاست ملک کی 10 ایسی ریاستوں میں سے تھی جہاں سیلاب کا سب سے زیادہ خطرہ تھا۔