انڈیا کے زیر انتظام کشمیر: پونچھ کے جنگلات میں انڈین فوج کی عسکریت پسندوں سے جھڑپیں جاری، نو فوجی ہلاک

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عبوری سرحد لائن آف کنٹرول کے قریب واقع راجوری اور پونچھ اضلاع کے جنگلات کے علاقے میں گذشتہ ایک ہفتے سے انڈین فوج کا طویل ترین آپریشن جاری ہے۔

پولیس اور فوجی حکام کے مطابق 10 اکتوبر کی رات سے انڈین فوج پر مسلح عسکریت پسندوں کے حملوں میں اب تک دو جونیئر کمیشنڈ افسروں سمیت نو فوجی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم راجوری و پونچھ رینج کے ڈی آئی جی وِویک گُپتا نے تصدیق کی ہے کہ ابھی تک مسلح حملہ آوروں کے ساتھ فوج کا سامنا نہیں ہوا ہے۔

انڈین فوجی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ دو ماہ قبل پاکستان کے زیر انتظام خطے سے تقریباً 10 مسلح عسکریت پسندوں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں بعض مقامی لوگوں نے نقل و حمل میں ان کی مدد کی۔

اس سلسلے میں ایک خاتون زرینہ اختر اور ان کے نوجوان بیٹے شفاعت سمیت تین شہریوں کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی گئی ہے۔ تاہم پونچھ اور راجوری میں لائن آف کنٹرول کے بالکل قریب جنگلات کے علاقوں کا وسیع پیمانے پر محاصرہ کر کے سرچ آپریشن (تلاشی مہم) شروع کیا گیا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہزاروں فوجی حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں تاہم اس دوران دو مرتبہ فوج پر حملے ہوئے جس میں ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈی آئی جی گُپتا کے مطابق یہ ایک ہی منصوبے کا سلسلہ ہے اور حملہ آوروں کو اب ابتدائی جائے واردات بھٹ دُوریاں سے دس کلومیٹر دُور چمریال جنگلات میں محصور کیا گیا ہے۔ فوج کے پیرا کمانڈو دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس مہم میں شامل کیا گیا ہے۔

انڈین فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ سترہ برس میں یہ اس علاقے میں ’مشکل ترین تصادم‘ ہے۔ اس سے قبل 2004 میں بھی مسلح حملے کے دوران چار فوجی مارے گئے تھے۔ اس سال اگست میں دو الگ الگ جھڑپوں کے دوران اسی خطے میں ایک جے سی، ایک فوجی اور دو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

کشمیر کو دونوں ملکوں انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کرنے والی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول پر گذشتہ کئی برس سے ان ملکوں کی افواج کے درمیان کشیدگی جاری تھی۔

تاہم رواں سال فروری میں دونوں ملکوں نے 2003 میں ہوئے سیز فائر معاہدے پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کرلیا تھا۔

چند ماہ قبل انڈین فوجی قیادت نے اعتراف کیا کہ فروری سے مسلح دراندازی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ تاہم راجوری اور پونچھ کے اضلاع میں عبوری سرحد کے قریب واقع وسیع اور گھنے جنگلات میں جاری تازہ آپریشن نے عبوری سرحد کے قریب آباد لاکھوں لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔

اس دوران آپریشن کو بلاخلل جاری رکھنے کے لیے پونچھ اور راجوری سے جموں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کو معطل کردیا تھا اور تلاشی مہم جنگلاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں میں بھی جاری ہے۔

راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع میں جاری اس وسیع آپریشن سے مقامی تجارت اور دوسری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ پونچھ کے رہنے والے محمد جبار نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’سیز فائر پر جب سے دوبارہ عمل ہوا تھا ہماری زندگی آسان ہوگئی تھی۔ اب تو سرحد کے قریب بھی کھیتی باڑی کا کام ہو رہا تھا۔ (مگر) اس واقعے نے ہمیں دوبارہ خوفزدہ کردیا ہے۔‘

یہ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کے اندر بھی اکتوبر کے دوران مسلح تشدد کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کشمیر میں مسلح حملہ آوروں نے تقریباً ایک درجن عام شہریوں کو بھی مختلف واقعات میں گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مسلح عسکریت پسندوں نے ستمبر اور اکتوبر کے دوران 32 عام شہریوں کو قریب سے گولی مار کر قتل کیا۔ ان میں معروف کشمیری پنڈت دواساز مکھن لعل بندرو، کشمیر سکھ اُستانی سُپیندر کور اور جموں کے ایک ٹیچر دیپک چند بھی شامل ہیں۔

بہار اور اترپردیش سے کشمیر آکر روزگار کمانے والے چھابڑی فروشوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اسی مدت کے دوران پانچ ایسے افراد کا قتل ہوا۔

دریں اثنا مختلف جھڑپوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کئی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 14 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ تازہ جھڑپ ہفتے کو جنوبی کشمیر کے پام پورا علاقے میں ہوئی جہاں اس رہائشی مکان کو بارود سے اُڑا دیا گیا جس میں عسکریت پسند محصور تھے۔

سرحدوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے شہروں اور قصبوں میں بھی تشدد کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتیں، اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے افراد اور غیر کشمیری مزدور یا دکانداروں کے قتل کی پے در پے وارداتوں سے پورے جموں کشمیر میں صورتحال نہایت مخدوش ہے۔

حالانکہ اقلیتی فرقے کے افراد کی ہلاکتوں کے بعد سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن ہفتے کی شام مزید دو غیرکشمیریوں کو ہلاک کیا گیا۔

پولیس کا الزام ہے کہ ان ہلاکتوں میں پاکستانی حمایت یافتہ عسکریت پسند ملوث ہیں۔ پولیس نے گذشتہ دنوں ہوئی جھڑپوں میں مارے گئے بعض عسکریت پسندوں کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان ہلاکتوں میں وہ براہ راست ملوث تھے۔

اس دوران خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے انڈین وزیرداخل امیت شاہ اسی ہفتے جموں کشمیر کا دورہ کررہے ہیں۔

واضح رہے 5 اگست 2019 کے روز انڈین پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمے کا اعلان کرنے کے بعد امیت شاہ پہلی بار کشمیر آرہے ہیں۔