افغانستان میں طالبان: عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے طالبان کیا سفارتی کوششیں کر رہے ہیں؟

    • مصنف, عبدی رحیم سعید
    • عہدہ, تجزیہ کار

حالیہ کچھ ہفتوں میں طالبان نے قانونی جواز حاصل کرنے کے لیے اپنی سفارتی اور تعلقاتِ عامہ کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا بھر میں قائم حکومتیں اور اقوامِ متحدہ باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری یا ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

طالبان دنیا پر اپنی حکومت تسلیم کرنے اور افغانستان کی مالی امداد جاری رکھنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ غیر ملکی حکومتوں کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے ہونے والی ملاقاتوں کا بھی سوشل میڈیا پر خوب پرچار کر رہے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کی جانب سے یہ سب کرنے کا مقصد دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ عالمی برادری نئے افغان حکمرانوں کو بالواسطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے تاکہ دوسرے ممالک بھی یہی راستہ اختیار کریں۔

15 اگست کو کابل میں دوبارہ اقتدار میں آنے والے اس گروہ نے افغانستان کو غیر ملکی دہشت گرد حملوں کے لیے محفوظ اڈہ نہ بننے دینے کا عزم کیا ہے۔

طالبان نے ایک ’نگراں‘ حکومت بھی قائم کی ہے جس میں اُنھوں نے بظاہر امن و امان پر زیادہ زور دیا ہے۔

تسلیم کیے جانے کی غرض سے طالبان نے عالمی برادری کو کئی مفاہمتی پیغامات بھیجے ہیں، بیانات جاری کیے ہیں اور غیر ملکی اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

طالبان حکام اپنے ناقدین کو یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے پاسدار ہیں، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے، لیکن یہ بھی کہا ہے کہ یہ سب اسلامی قوانین کی اُن کی اپنی تشریح کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہو گا۔

لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے طالبان روایتی طریقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔

طالبان کی حالیہ سفارت کاری کا اہم عنصر بین الاقوامی حکومتوں سے خود کو تسلیم کروانے کا مطالبہ ہے۔

اپنے نئے حکومتی دور کے آغاز میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور دیگر طالبان حکام نے گروپ کا ویژن کچھ یوں بیان کیا: ’دنیا کو ہم سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ہمیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ہم امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔‘

ذبیح اللہ مجاہد اور دیگر حکام طالبان کا یہ وعدہ بار بار دہرا رہے ہیں کہ وہ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔

مگر افغانستان میں القاعدہ سمیت دیگر شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں خدشات بدستور موجود ہیں۔

ویسے تو قطر، پاکستان اور چین سمیت کئی ممالک طالبان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں مگر کسی نے بھی اُنھیں باضابطہ تسلیم کرنے کا تحفہ عنایت نہیں کیا ہے۔

درحقیقت قطر نے تو کہا کہ طالبان کو بطور افغانستان کی حکومت تسلیم کرنا اُن (قطر) کی ’ترجیح نہیں ہے‘ جبکہ فرانس نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی اس کی شرطیں ’پوری نہیں ہوئی ہیں۔‘

مغربی ممالک نے عمومی طور پر انسانی حقوق، بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کے لیے یقین دہانیاں طلب کی ہیں۔

قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نعیم وردک نے حال ہی میں کہا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے تسلیم کرنے کے لیے عائد کی گئی شرائط ’غیر منصفانہ‘ ہیں۔

طالبان تسلیم کیے جانے کے مطالبات کو ’افغان عوام کی خواہش‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

عمومی مطالبوں کے علاوہ طالبان حکام دنیا بھر میں میڈیا اداروں بشمول اٹلی اور جنوبی کوریا تک میں باتیں کر رہے ہیں جن میں وہ فوری طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ یہی اپیل خطے کے دیگر عرب میڈیا اداروں پر بھی دہرا چکے ہیں۔

اسی دوران طالبان غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے تسلیم کیے جانے کو بھی نمایاں انداز میں پیش کر رہے ہیں جس میں دوحہ میں قائم انٹرنیشنل یونین آف مسلم سکالرز شامل ہے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں گروپ نے سینیئر ترجمان سہیل شاہین کو اقوامِ متحدہ میں افغانستان کا سفیر مقرر کیا ہے۔

اُنھوں نے درخواست کی تھی کہ اُن کے نمائندے کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرنے کی اجازت دی جائے۔

اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے حالیہ سفارتی مہم کا ایک اہم پیغام انسانی بنیادوں پر امداد اور مالی معاونت کا بھی ہے۔

مبصرین افغانستان کے نئے حکمرانوں کے سامنے موجود طبی اور معاشی چیلنجز سے خبردار کر رہے ہیں۔

کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنے وسائل تک افغانستان کی رسائی بند کر دی تھی جبکہ عالمی بینک نے بھی طالبان کی مالی امداد روک دی تھی۔

اسی طرح جرمنی نے بھی ترقیاتی امداد معطل کر دی جبکہ دیگر ممالک مثلاً اٹلی نے امداد کو انسانی حقوق کی پاسداری سے منسلک کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

قائم مقام وزیر برائے پناہ گزین افراد حاجی خلیل الرحمان حقانی نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کو مالی امداد فراہم کرنے کے اپنے پچھلے وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔

قطر، متحدہ عرب امارات اور چین وہ اولین ممالک ہیں جنھوں نے امداد بھیجی یا اس کا وعدہ کیا۔ چین نے جی 20 ممالک پر بھی ایسا کرنے کے لیے زور دیا۔

طالبان نے خود اقوامِ متحدہ کے سینیئر حکام بشمول سینیئر نمائندہ ڈیبورا لیونز کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان میں کام کرنے والے امدادی کارکن محفوظ رہیں گے۔

اقوامِ متحدہ نے اس سے قبل اس حوالے سے حلف طلب کیا تھا۔

پھر 13 ستمبر کو کئی ممالک نے جینیوا میں اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں افغانستان کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا وعدہ کیا۔

طالبان حکام اور حامیوں نے فوراً ہی اس ہنگامی کانفرنس میں کیے جانے والے وعدوں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنا شروع کر دیا۔

اپنی جانب سے طالبان مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اس کے حکام کو دہشتگردوں کی فہرست سے ہٹائے اور افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرے۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے ملک کے 10 ارب ڈالر منجمد ہیں۔

طالبان سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس نے حال ہی میں ایک آن لائن مہم شروع کی ہے جس میں عالمی برادری سے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو کابل پر اُن کے قبضے کے بعد سے منجمد ہیں۔

غیر ملکی نمائندوں کی میزبانی

اقتدار میں آنے کے پہلے ماہ میں طالبان نے کابل میں کئی غیر ملکی حکام کی میزبانی کی ہے تاکہ دیگر ممالک کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ اُنھیں اِن ممالک کی جانب سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی مہمانوں میں برطانیہ، قطر، ترکی، پاکستان اور چین سمیت وسط ایشیائی ممالک مثلاً کرغزستان اور ترکمانستان کے سرکاری نمائندے بھی شامل ہیں۔

اب تک قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی وہ اعلیٰ ترین غیر ملکی شخصیت ہیں جنھوں نے طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کا دورہ کیا ہے۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ڈیبورہ لیونز نے 15 اگست کے بعد سے افغانستان جانے والی سینیئر ترین امدادی تنظیم کی نمائندہ ہیں۔

طالبان قطر میں غیر ملکی سفارتکاروں اور امدادی حکام سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں جہاں ایک طویل عرصے سے اُن کا سیاسی دفتر قائم ہے۔

کابل میں غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی عام طور پر طالبان کے وزیرِ اعظم ملّا محمد حسن آخوند، اُن کے نائبین ملّا عبدالغنی برادر اور ملّا عبدالسلام حنفی یا پھر وزیرِ خارجہ ملّا امیر خان متقی کرتے ہیں۔

ستمبر کے اواخر میں برادر اور متقی دونوں ہی نے طالبان حکام کے ساتھ مل کر کابل میں موجود سفیروں اور سفارتی مشنز کے نمائندوں کے لیے عشائیے کا اہتمام بھی کیا تھا۔

ستمبر میں ہونے والے اس عشائیے میں امیر خان متقی نے ایک مختصر خطاب میں غیر ملکی نمائندوں کو طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان کی خصوصیات گنوائیں۔

اُنھوں نے کہا: ’امارتِ اسلامی افغانستان کابل میں دنیا بھر کے ساتھ مثبت تعلقات کا پیغام لے کر داخل ہوئے ہیں۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ہم دیگر ممالک کے جائز مفادات اور درخواستوں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور بدلے میں ہم دوسروں سے بھی ایسا ہی برتاؤ چاہتے ہیں۔‘

یہ خطاب اور طالبان کے دیگر پیغامات گروپ کی جانب سے روایتی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں نشر کیے گئے۔

یہ گروپ اپنا ایک خوشگوار تاثر دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال اچھی طرح کرنا جانتا ہے۔

اپنی نئی حکومت کے بعد پہلی صبح گروپ کے ترجمان نے سکول جاتی ہوئی بچیوں کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک نئے افغانستان میں سکول واپسی۔‘

اس کے علاوہ اُنھوں نے خود کو نوادرات کا محافظ اور جانوروں کے حقوق کا حامی بھی قرار دیا ہے۔

طالبان ملک میں حالات معمول پر ہونے، سکیورٹی اور اتحاد کا بھی تاثر دے رہے ہیں۔ اُنھوں نے اندرونی دراڑوں یا نئے حکمرانوں کے سامنے موجود چیلنجز کو رد کیا ہے۔

اُن کے مطابق ان کی ’نگراں حکومت‘ روایتی حکومتوں کی طرح سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کر رہی ہے۔

طالبان نے خواتین کے حقوق اور عمومی طور پر انسانی حقوق کے بارے میں خدشات کو بھی مسترد کیا ہے۔

طالبان نے خواتین سے کہا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے گھروں پر رہیں اور اب تک اُنھوں نے عالمی برادری کی مذمت کے باوجود لڑکیوں کو سیکنڈری سکول جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

نئے حکمرانوں پر اختلافِ رائے کو دبانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے سمیت ہزارہ اقلیت کو ہدف بنانے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔

تاہم اپنے ناقدین کو تسلی دینے کے لیے طالبان بظاہر سکیورٹی مسائل کو کچھ افراد کا عمل قرار دے رہے ہیں اور حال ہی میں اُنھوں نے اپنے حکام سے کہا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو باہر نکال دیں۔

مگر اس سب سے ملک گیر پالیسیاں مثلاً لڑکیوں کی تعلیم پر موجود پابندی پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔

طالبان نے مغربی قوتوں سے کہا ہے کہ طالبان کو تسلیم کیا جانا طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کے معاملے کو دیکھنے کی پیشگی شرط ہے۔

اس گروپ کو شاید ابھی اس کے لیے اور انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

یورپی ممالک بشمول نیدرلینڈز، فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مستقبل میں کسی تعلق کے قیام سے پہلے کچھ شرائط پوری ہونی ضروری ہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ گروپ کے ساتھ کسی حالیہ رابطے کا مطلب انھیں تسلیم کرنا نہیں ہے۔