مزار شریف میں ’حضرت علی کے روضے‘ سے ہیراتان کی بندر گاہ تک

    • مصنف, ملک مدثر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

کہا جاتا ہے کہ طالبان نے اس بار افغانستان میں اپنے حملوں کا آغاز شمالی علاقوں سے کیا تھا۔ کابل سے باہر بڑے شہروں میں ایک مزار شریف بھی ہے جو صوبہ بلخ کا مرکز ہے۔

ہم نے سوچا کہ وہاں جائیں اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والی لڑائی کے اثرات اور موجودہ صورتحال دیکھی جائے۔

بلخ صوبہ نیٹو میں جرمن فوج کے پاس تھا۔ دوپہر کے وقت ہم نے کابل سے مزار شریف کے لیے فضائی سفر کیا۔

میں چھ ماہ پہلے بھی مزار شریف آیا تھا، لیکن آج جہاز بالکل خالی تھا۔ ایک سو چالیس سیٹیں تھیں مگر مسافر چالیس بھی نہیں تھے۔ سچ پوچھیے تو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں فلائٹ میں بھی کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ ایئرپورٹ پر جو سسٹم کی تباہی ہوئی تھی آپ بھی اس سے واقف تو ہوں گے ہی۔

خیر چالیس منٹ کا سفر پر امن رہا۔ مزار شریف کا ایئرپورٹ بالکل خاموش تھا۔ یہاں بھی آپ کو جرمن ماہرین کا کیا گیا کام دکھائی دے گا۔

ہم نے سامان اٹھایا، باہر آئے اور ہوٹل کی راہ لی۔ چونکہ اب یہاں انچارج طالبان ہی ہیں تو ہمیں بھی شہر میں کام کرنے کے لیے یہاں وزارت اطلاعات و کلچر کے دفتر سے اجازت لینی تھی۔ وہاں ہمیں کام کی اجازت تو مل گئی لیکن ساتھ یہ بھی تاکید کی گئی کہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا نہ کریں۔

مغرب سے کچھ دیر پہلے ہم ’حضرت علی کے روضے‘ پر پہنچے۔ مجھے نہیں معلوم میں یہاں کتنی بار آیا ہوں لیکن جب بھی مزار شریف آتا ہوں تو قدم اس جانب ضرور اٹھتے ہیں۔

میں کوئی چھ ماہ پہلے بھی یہاں آیا تھا مگر آج نہ وہ رونق تھی اور نہ ہی مختلف ممالک سے آنے والے عقیدت مند۔

میں نے ہمیشہ کی طرح مزار کے اندر جانے کی کوشش کی تو وہاں کے نگران جن کا تعلق انصاری قبیلے سے ہے اور جنھیں صوفی کہہ کر پکارا جاتا ہے نے مجھے کہا کہ مغرب کے بعد آنا۔

مزار کی خوبصورتی آپ کو مسحور کرتی ہے۔ میں ایک بار پھر یہ منظر اپنے حافظے میں محفوظ کر رہا تھا کہ دوبارہ نجانے کب آنا ہو۔

سنگ مرمر کے سفید فرش پر کھڑے میری نظر مزار کے گنبدوں سے ہوتی ہوئی اطراف میں گئی تو میں نے دیکھا کہ مزار پر لگے علم اب غائب ہو چکے ہیں اور اب وہاں طالبان یعنی امارتِ اسلامیہ کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

طالبان نے صبح آٹھ سے بارہ بجے تک خواتین عقیدت مندوں اور بعد میں رات گئے تک مردوں کے لیے وقت مخصوص کیا ہے۔ سابقہ حکومت میں خواتین کو ہفتے میں صرف ایک دن دیا جاتا تھا اور بھیڑ بہت زیادہ ہوتی تھی۔

لیکن اب سوال یہ بھی ہے کہ خواتین ان حالات میں مردوں کے بغیر کیسے نکلیں گی اور حاضری کے لیے کیسے یہاں پہنچیں گی۔

اس شہر میں اب بھی سب سے اچھا کھانا ہمیشہ کی طرح آپ کو یہاں کے دسترخوان سے ملے گا جو بہت مشہور ہے۔

بی بی سی کی کابل ڈائری

اگلے روز ہم شہر میں گھومنے پھرنے اور کچھ فلمنگ کرنے کے لیے باہر نکلے۔ ایک طالب سے انٹرویو کے لیے کیمرہ سیٹ کر رہے تھے تو ایک عورت نے ہمارے پاس سے گزرتے ہوئے طالبان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کاش میں تم کو ان کی حقیقت بتا سکتی۔

کچھ آگے بڑھے تو چوک کے پاس لوگوں کا شور تھا۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ طالبان نے داعش کے لوگوں کو مارا ہے جنھوں نے بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔

وہاں چار افراد کی لاشیں بیچ چوراہے میں رکھی ہوئی تھیں اور طالبان کا مؤقف تھا کہ یہ لوگوں کی عبرت کے لیے ہے تاکہ وہ ایسے کام نہ کریں۔

مزار شہر سے ڈیڑھ گھنٹے دور ہیراتان پورٹ پہنچے۔ یہاں سے افغانستان سرحدی طور پر چین روس اور یورپ سے ملتا ہے۔

دریائے آمو یہیں ہے اور یہاں بنا پل سوویت دور کا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دن کی روشنی میں روسی فوج یہیں سے واپس گئی تھی۔

یہ پل آدھا افغانستان میں اور آدھا ازبکستان میں ہے۔ یہیں سے ریل کی پٹڑی بھی گزرتی ہے۔ جب طالبان کا قبضہ ہو رہا تھا تو پل پر بہت رش تھا۔

کسٹم ٹیکسں پر طالبان نے چھوٹ دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہاں سے افغانستان میں سب سے زیادہ آٹا، گندم اور لکڑی آتی ہے۔ یہاں آپ کو بازار میں ترکمانستان کی اشیا ملیں گی۔

روس سے یہاں شراب درآمد کی جاتی تھی۔ اب وہ تو نہیں مگر مختلف لیبل کے الکوحل کے بغیر مشروبات دکھائی دیتے ہیں۔

ہم نے وہاں دریا کے کنارے تازہ مچھلی بھی کھائی۔

ایک طالب ملا، جس نے بتایا کہ اس نے سہراب گوٹھ کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور دوران تعلیم بھی وہ یہاں جہاد کرنے آیا کرتا تھا۔ طالب نے بتایا کہ دس برسوں سے جہاد کرتے ہوئے اس نے دو سو لوگوں کو قتل کیا۔

اس علاقے میں آپ کو ازبکُ کافی تعداد میں ملیں گے اور جنرل دوستم ان کے مطابق اصل بادشاہ ہیں۔

ہمیں کھانا ایک نوعمر لڑکے نے پیش کیا۔

جہاں میرے لیے یہ بات حیران کن تھی وہیں میں نے دیکھا کہ اس دریا پر بہت سے نوجوان لڑکے ہرات اور خوست سے سفر کر کے سیرو تفریح کرنے آئے تھے۔

میں سوچ رہا تھا ملک کے ان حالات میں آخر یہاں تک کا سفر انھوں نے کیوں کیا لیکن ان کا مؤقف تھا کہ ہم پہلے یہاں اتنی آسانی سے نہیں آ سکتے تھے کیونکہ جگہ جگہ چیک پوسٹ اور تلاشی کی وجہ سے سفر مشکل ہوتا تھا لیکن اس بار ہم آسانی سے آئے ہیں۔