کابل ڈائری: ’پہلے پرانی سی بائیک ہوتی تھی اب فور بائی فور گاڑی ہے‘

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, ملک مدثر
    • عہدہ, بی بی سی، کابل

کابل کی سڑکوں پر غیر معمولی سناٹے کا احساس ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ شہر کی 70فیصد ٹریفک یکدم ہی کہیں غائب ہو گئی ہے ۔

ایئرپورٹ پر سناٹا ہے لیکن اسے پھر سے فعال بنانے کے لیے قطر سے متعلقہ عملہ یہاں پہنچ چکا ہے۔ ایک قطری اہلکار نے مجھے بتایا کہ ’ہم سوچ رہے ہیں جلد ازجلد چند ہی دنوں میں ایئر پورٹ کو فعال کریں۔ اس کے لیے ہم پہلے دو ٹیسٹ فلائٹس لیں گے اور پھر ڈومیسٹک اور اس کے بعد بین الاقوامی پروازیں شروع کر دیں گے۔‘

لیکن افغان حکومت کے قیام میں مزید کتنا وقت اور دن لگیں گے ابھی اس پر وثوق سے کوئی بھی بات نہیں کرتا۔

خیر دن کی ایک اور اہم بات ایک طالب سے ہونے والی تفصیلی ملاقات تھی۔

ہوا یوں کہ ہوٹل میں کھانے کے دوران اچانک ایک طالب ہمارے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ اس کی عمر لگ بھگ 25 برس تھی۔ اس کا پہلا سوال تھا کہ بتائیے آپ یہاں ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ تو نہیں، میں نے اور اردگرد بیٹھے میرے ساتھیوں نے کہا جی ہاں سب ٹھیک ہے۔ پھر جواباً کہا گیا کہ ’ہم یہاں آپ کی خدمت کے لیے ہی تو آئے ہیں، ہماری جنگ تو ختم ہو گئی اب امن آ گیا ہے۔‘

اس طالب نے اپنا تعارف کمانڈو ایلیٹ فورس کی حیثیت سے کروایا۔ یہ طالبان کا سمجھیے ایس ایس جی ونگ ہے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایئرپورٹ سے لے کر ملک کے ہر علاقے میں موجود ہیں اور بہترین تربیت کے حامل ہیں۔

عام طور پر طالبان سے ہمارا ٹاکرا یا تو ہوٹل کی لابی میں ہوتا ہے یا پھر باہر ایئرپورٹ اور شہر میں کام کرتے ہوئے سر راہ لیکن یوں آمنے سامنے بیٹھ کر پرسکون ماحول میں بات چیت کا یہ پہلا موقع تھا۔

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

جب طالب نے ہمارا مکمل تعارف لیا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو ہم نے بھی چند سوال پوچھ ڈالے۔

آپ کہاں کے رہنے والے ہیں، کب سے جنگ لڑ کر رہے ہیں؟ جواب ملا ’میری عمر 25 برس ہے اور میں پچھلے 11 برس سے افغانستان میں ہوں۔میری پیدائش پاکستان میں ہوئی تھی اور وہیں میں نے نوشہرہ کے ایک مدرسے سے قرآن حفظ کیا۔‘

وہ بتانے لگا کہ ایسا نہیں کہ افغان فوج نے لڑائی نہیں کی۔ ’انھوں نے ہم سے خوب لڑائی کی۔ صحیح لڑائی‘ لیکن پھر اس نے ہمیں ہتھیار ڈالتے فوجیوں کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائیں اور بتایا کہ کیسے گورنر کی جانب سے ہتھیار ڈالے جانے کے بعد افغان فوج بھی مزاحمت ختم کر دیتی تھی۔

پھر وہ کہنے لگا کہ ’یہ قبضہ جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہ اتنے آرام سے نہیں ہوا۔ ہم نے افغان آرمی سے اچھی خاصی لڑائی کی ہے تاہم جب امریکہ کے فضائی حملے ختم ہوئے تو ہمارے لیے زمینی جنگ قدرے آسان رہی۔‘

اس کا دعویٰ تھا کہ داعش کو امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ اس کا کہنا تھا ’وہ (امریکہ) ہم پر حملہ کرتا تھا لیکن اسی علاقے میں جب داعش والے ہم سے لڑ رہے ہوتے تو وہ ان پر بمباری نہیں کرتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

میں نے پوچھا کہ آپ پچھلے 13 برس میں کن علاقوں میں لڑے اور کیسے رہتے تھے زندگی کیسے گزری تو اس کمانڈر نے بتایا کہ کابل اور شہروں میں وہ حلیہ بدل کر رہتے تھے۔ ’میں نے چھوٹی چھوٹی داڑھی رکھی ہوئی تھی ہم کبھی مسجد اور کبھی کسی مدرسے میں رہتے تھے۔‘

وہ صوبہ لوگر کا رہائشی تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اب تک پانچ مرتبہ شدید زخمی ہو چکا ہے جبکہ اس نے تین مرتبہ امریکیوں پر خودکش حملے کی کوشش کی لیکن موقع نہیں ملا۔

اس نے بتایا کہ لوگر میں وہ این ڈی ایس کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور ان کے دفتر میں اس کی تصویریں اس نے طالبان کے قبضے کے بعد دیکھیں۔

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

اس نے ہمیں بتایا کہ وہ خودکش جیکٹ، اینٹی پرسنل مائن، اینٹی وہیکل مائن سب کچھ بنا سکتا ہے، ہم سے گفتگو کے دوران وہ مسلسل اپنے فون پر ہمیں ویڈیوز بھی دکھا رہا تھا۔

اس نے کہا کہ ’ہم جنگ کرنے کے پیسے نہیں لیتے۔ میں کینو کے باغ میں مزدوری کرتا تھا اور جو دس ہزار ملتا تھا اسے بھی میں جہاد پر لگا دیتا تھا۔‘

اس نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ فلسطین جائے، چاہے پیدل چل کر ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ جنگ کے بارے میں اس نے یہ بھی بتایا کہ ’ہم گھنٹوں پیدل چلتے تھے اور زخمی ہوتے تھے تو کئی کئی دن ہماری مرہم پٹی نہیں ہو سکتی تھی۔'

اس طالب کا کہنا تھا کہ طالبان کو ایسا بہت سا اسلحہ اور سازوسامان ملا ہے جو بالکل نیا ہے۔ ’ہمیں تو بالکل پیک حالت میں بہت زیادہ مقدار میں اسلحہ ملا ہے۔ گاڑیاں اور ٹینک ملے ہیں۔ اتنا مالِ غنیمت ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

’پہلے اگر کسی چیک پوائنٹ پر حملہ کرنا ہوتا تھا تو میرے پاس ایک پرانی سی بائیک ہوتی تھی، ایک پرانی سی کلاشنکوف صرف دو میگزین اور کلاشنکوف کا سیفٹی کیچ بھی خراب ہوتا تھا لیکن اب میرے پاس فور ویل گاڑی ہے، موبائل ہے، پیسے ہیں لیکن یہ سب مالِ غنیمت ہے میں اسے اپنی ذات کے لیے استعمال نہیں کرتا۔‘

میں نے پوچھا چلو تم کہتے ہو کہ جنگ ختم ہے تو اب کیا کرو گے شادی کی تم نے اب تک؟

اس کا جواب تھا ’پہلے ہم چھپ چھپ کر گھر والوں سے ملنے جاتے تھے، اب گھر والے میرے لیے رشتہ ڈھونڈ رہے ہیں۔‘