جواہر لال نہرو اور محمد علی جناح کے درمیان فاصلے کیوں بڑھتے گئے؟

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو، دونوں کی شخصیات میں انگریزوں کے طرز زندگی کی گہری چھاپ تھی۔ دونوں نے لندن سے وکالت کی تربیت حاصل کی تھی۔ وہاں طویل وقت گزارنے کے باعث دونوں اپنی مادری زبان کے مقابلے میں برطانوی لہجے میں انگریزی زیادہ آسانی سے بول سکتے تھے۔

معروف صحافی نیسید ہزاری اپنی کتاب 'مڈ نائٹز فیوریز، دی ڈڈلی لیگیسی آف انڈیاز پارٹیشن' میں لکھتے ہیں:

محمد علی جناح، نہرو کی طرح لادین نہیں تھے، لیکن بہت زیادہ مذہبی بھی نہیں تھے۔

دونوں ہی رہنماؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ضدی اور بہت جلد برا مان جانے والے تھے۔

دونوں کو اپنے مداحوں میں گھرا رہنا پسند تھا لیکن اس کے باوجود دونوں تنہائی کی زندگی گزار رہے تھے۔

نیسید ہزاری لکھتے ہیں: ’جناح جو اپنی ستر کی دہائی میں تھے، نہرو کی طرح پتلے اور کمزور تھے۔ جناح اکثر دن میں سگریٹ کے دو پیکٹ پی جاتے تھے۔ جناح کے چھ فٹ جسم کا وزن صرف 63 کلو تھا۔ان کا موازنہ ایک بار مشہور اداکار سر جیرالڈ ڈو موریئر سے کیا گیا تھا لیکن 40 کے پیٹے میں آتے آتے ان کے سر کے بال سرمئی ہو چکے تھے۔ دوسری جانب نہرو کے بال وقت سے پہلے گرنا شروع ہو گئے تھے اور اسے چھپانے کے لیے انھوں نے گاندھی کیپ پہننا شروع کر دی تھی۔'

نہرو اور جناح میں فرق

جناح میل جول میں بہت زیادہ گرم جوش نہیں تھے۔ ان کی قریبی دوست سروجنی نائیڈو نے ایک مرتبہ ان کے بارے میں کہا: 'کبھی کبھی ان سے ملنے پر فر کوٹ کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔'

جناح کو ایک آنکھ پر عینک (مونوکلز) لگا کر طویل مشاورت میں جتنا مزا آتا نہرو اس سے اتنا ہی بیزار رہتے۔

جناح اکثر اپنے حریفوں کی کمزوریوں کو بھانپ کر انھیں جھکنے پر مجبور کر دیتے۔ وہ کسی بھی قسم کا تصفیہ قبول کرنے کے لیے اس وقت تک تیار نہیں ہوتے جب تک کہ انھیں پہلے سے زیادہ پیشکش نہ کی جائے۔

انھوں نے ایک بار برطانوی مصنف بیورلی نکولس کو نہرو کے بارے میں بتایا: 'اس زندگی میں کوئی چیز ایسی نہیں جو ہم دونوں کو جوڑ سکے۔ ہمارے نام، ہمارے کپڑے، ہمارا کھانا سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہماری معاشی زندگی، ہمارے تعلیمی خیالات میں، عورتوں اور جانوروں کے بارے میں ہمارے نظریات بھی ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں۔‘

نہرو کی جناح سے اصولی مخالفت

پاکستان بنانے کا خواب کسی اور نے دیکھا تھا، لیکن پاکستان کو ہمیشہ جناح کے نام کے ساتھ منسلک ہوتے دیکھا گیا۔ جب سے مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح نے مسلم ملک کے امکان کے بارے میں سوچنا شروع کیا جواہر لال نہرو ان کے نظریاتی دشمن بن گئے۔

نہرو نے ہمیشہ اس خیال کی مخالفت کی کہ مسلمان اور ہندو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے نزدیک ہندوستان کی اصل شناخت ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں کی آمیزش تھی۔ ان کی نظر میں ہندوستان امریکہ کی طرح تھا جو اپنے اندر مختلف ثقافتوں کو سمیٹنے کی شاندار صلاحیت رکھتا تھا۔

نہرو کے اصول اس خیال کے منافی تھے کہ ایک جدید ملک بھی مذہب پر مبنی ہو سکتا ہے۔ وہ اس سوچ کو قرون وسطیٰ کی سوچ سمجھتے تھے۔

نیسید ہزاری لکھتے ہیں: 'نہرو کے خیال میں یہ ایک بڑی ستم ظریفی تھی کہ جنھیں مسلم مسائل سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں تھا، جنھیں کبھی دبایا نہیں گیا تھا وہ ایک مسلم ملک بنانے کی وکالت کر رہے تھے۔‘

ایک دوسرے کے خلاف الفاظ کے تیر

اگرچہ نہرو اور جناح ایک دوسرے کو پچھلے 30 سالوں سے جانتے تھے لیکن 40 کی دہائی تک دونوں کے درمیان فاصلہ نہ صرف بڑھ گیا بلکہ ذاتی بھی ہو گیا۔

ہندوستان چھوڑو تحریک کی پاداش میں قید کے دوران نہرو نے اپنی جیل ڈائری میں لکھا: 'مسلم لیگ کے یہ رہنما ایک مہذب ذہن کی کمی کی زندہ مثال ہیں۔'

جناح نے نہرو کے ان خیالات کا اتنی ہی سخت زبان میں جواب دیا۔

ایک تقریر میں انھوں نے کہا: 'اس نوجوان رہنما کے ہندوستان کے روحانی اتحاد اور تمام برادریوں کے درمیان بھائی چارے کے ویژن میں ایک بنیادی خرابی ہے۔ نہرو پیٹر پین کی طرح ہیں جو نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں اور نہ ہی کسی پرانی چیز کو چھوڑتے ہیں۔‘

جناح کی تقریر پر نہرو کا سخت رد عمل

1937 کے الیکشن میں مسلم لیگ کو پانچ فیصد سے بھی کم ووٹ ملے۔ اس کے باوجود جناح نے مسلم لیگ کو مسلمانوں کے واحد نمائندے کے طور پر پیش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ نہرو نے شروع میں اسے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

نہرو نے جناح کے ساتھ خط و کتابت کی تھی لیکن جب ایک خط میں جناح نے نہرو کو لکھا کہ 'میرے لیے اب آپ کو اپنے خیالات سمجھانا مشکل ہو گیا ہے۔' تو نہرو نے جناح کو خط لکھنا چھوڑ دیا۔ سنہ 1943 میں آزادی سے چار سال پہلے نہرو جناح سے اتنے مایوس تھے کہ وہ انھیں ان کا پاکستان دینے پر راضی ہو گئے۔

انھوں نے اپنی جیل ڈائری میں لکھا: 'جناح کو اپنا چھوٹا ملک چلانے دینے کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ہندوستان کی ترقی میں کم رکاوٹیں ڈالیں گے۔'

نہرو نے ابھی تک عوامی طور پر پاکستان کا مطالبہ قبول نہیں کیا تھا۔

سنہ 1944 میں جب مسلم لیگ کی کانفرنس میں جناح نے تین گھنٹے لمبی تقریر کی تو نہرو نے اپنی جیل ڈائری میں لکھا: 'جناح نے کتنی گستاخانہ، غیر مہذب، شعلہ بیان اور متکبرانہ تقریر کی! ہندوستان اور یہاں کے مسلمانوں کے لیے کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ان پر اس شخص کا اس قدر اثر ہے۔ میری نظر میں انھوں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک فرقہ وارانہ جھگڑے میں بدل دیا ہے۔‘

کانگریس پر جناح کے حملے سے انگریزوں کو خوشی

جناح-نہرو تنازعے کا تفصیلی ذکر مشہور صحافی درگا داس نے اپنی کتاب 'انڈیا فرام کرزن ٹو نہرو اینڈ آفٹر' میں کیا ہے۔

درگا داس لکھتے ہیں: '1938 میں لیگ کے اپنے صدارتی خطاب میں جناح نے نہرو کے اس نظریے کو چیلنج کیا کہ اس وقت ہندوستان میں صرف دو طاقتیں ہیں - انگریز اور کانگریس۔‘ جناح نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ’صرف دو طاقتیں نہیں ہیں بلکہ ہندوستان میں چار طاقتیں ہیں - برطانوی راج، شاہی خاندان، ہندو اور مسلمان۔‘

'انھوں نے کانگریس کو ایک فاشسٹ تنظیم سے تعبیر کیا۔ جب میں نے دیکھا کہ انگریز اپنے سب سے بڑے دشمن (کانگریس) کو اس طرح آڑے ہاتھوں لیے جانے سے خوش ہیں تو میں نے جناح سے کہا کہ اس سے گاندھی جی کو تکلیف پہنچے گی اور کانگریس کے متعلق ان کا رویہ سخت اور کڑا ہو جائے گا۔ اس پر جناح کا جواب تھا: درگا، گاندھی اسی زبان کو سمجھتے ہیں۔'

ایک ماچس کے ڈبے کے برابر بھی پاکستان قبول ہے

آزادی سے پہلے لندن میں منعقدہ مذاکرات میں جناح نے نہرو کی توہین کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ لیکن سکھ لیڈر بلدیو سنگھ کو انھوں نے اپنے ساتھ کرنے کی بہت کوشش کی۔

بعد میں ایس گوپال نے جواہر لال نہرو کی سوانح عمری میں لکھا: 'برسوں بعد بلدیو سنگھ نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جناح نے انھیں اپنے سامنے میز پر پڑی ماچس کی ڈبی کو دکھا کر کہا تھا کہ اگر مجھے پاکستان اس کے برابر بھی مل گیا تو میں اسے قبول کروں گا۔'

جناح نے کہا تھا: 'اگر آپ سکھوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونے پر راضی کریں گے تو ہمارے پاس ایک شاندار پاکستان ہوگا جس کے دروازے دہلی میں کھلیں گے۔'

کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کو عبوری حکومت میں جگہ

ہندوستان میں برطانیہ کے وائسرائے لارڈ ویول کو یہ امید تھی کہ اگر نہرو اور جناح کچھ مہینوں تک مخلوط حکومت میں کام کر لیں تو ان کے درمیان ایک قسم کی افہام و تفہیم پیدا ہو سکتی ہے۔

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ویویل نے نہرو کی سربراہی والی عبوری حکومت میں چھ کانگریسیوں، پانچ مسلم لیگ کے ارکان اور تین چھوٹے اقلیتی گروپوں کے نمائندے نامزد کیے۔

دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے تھے کہ برطانوی راج سے ہندوستان کی آزادی کا انحصار اس بات پر ہے کہ نہرو اور جناح اپنے اختلافات کو کس حد تک حل کرتے ہیں۔

اس جذبے کے تحت نہرو نے 15 اگست 1946 کو بمبئی میں ان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے جناح کو ایک خط لکھا۔ ویویل نے نہرو کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہ جناح سے کسی مثبت جواب کی توقع نہ کریں۔

ایسا ہی ہوا۔ جناح نے نہرو کو جواب دیا: 'میں نہیں جانتا کہ آپ اور وائسرائے کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔ اگر آپ کو یہ توقع ہے کہ میں کانگریس کی قیادت والی حکومت میں کام کروں گا تو یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دیں۔'

یہ تھے کلاسک جناح، سخت، تُند اور ضدی۔ یہ جواب نہرو کے بجائے ان کے اپنے پیروکاروں کے لیے زیادہ تھا۔

جب نہرو نے جناح پر واضح کیا کہ وہ 15 اگست کو بمبئی پہنچ گئے ہیں تو جناح نے انھیں ایک اور خط لکھا: 'آپ نے کچھ وضاحتیں دی ہیں جن سے میں مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتا، آپ نے مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مجھے خوشی ہوگی اگر آپ مجھ سے ملنے چھ بجے آ جائیں۔‘

نہرو اور جناح مذاکرات ناکام

نہرو شام 5.50 بجے جناح کے گھر ان سے ملنے پہنچے۔ وکالت میں بہت شہرت حاصل کرنے کے بعد جناح نے مالابار ہلز پر سنگ مرمر کا ایک شاندار گھر بنوایا تھا۔ 17 سال پہلے اپنی بیوی کی وفات کے بعد جناح اس گھر میں اپنی بہن فاطمہ اور نوکروں کے ساتھ رہ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس دن دونوں رہنماؤں کے درمیان 80 منٹ تک بات چیت ہوئی۔ لارڈ ویول نے بعد میں اپنی سوانح عمری میں لکھا: 'جناح کے مطالعے والے کمرے میں ہونے والی اس گفتگو میں وہ بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ درحقیقت، ان دونوں میں سے کسی کی بھی صلح کی خواہش نہیں تھی۔ جناح کو خود سے چھوٹے نہرو کے ماتحت کام کرنا قطعی قبول نہ تھا۔ اور نہ ہی وہ یہ چاہتے تھے کہ کانگریس اپنے کوٹے سے کسی مسلمان کو وزیر بنائے۔

دوسری طرف نہرو بھی نہیں چاہتے تھے کہ حکومت میں موجود لیگ کے نمائندے ان کی قیادت پر سوال اٹھائیں یا انگریزوں سے مکمل آزادی کی ان کی جدوجہد کو ذرا بھی سست کریں۔ انھوں نے لکھا: 'کانگریس کے ہاتھ اور پاؤں کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔'

نہرو کی نظر میں جناح ہمیشہ منفی شخصیت ہی رہے

جب ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان میں وائسرائے کا عہدہ سنبھالا تو وہ نہرو کو پہلے سے جانتے تھے کیونکہ وہ ان سے سنگاپور میں مل چکے تھے۔

ماؤنٹ بیٹن نے نہرو کو ہندوستانی حالات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا۔ وہ ان سے جناح کے بارے میں جاننا چاہتے تھے کہ وہ انھیں کس طرح دیکھتے ہیں۔

کیمبل جانسن اپنی کتاب 'ماؤنٹ بیٹن' میں لکھتے ہیں: 'نہرو نے کہا کہ جناح کے بارے میں سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ 60 سال کی عمر عبور کرنے کے بعد کافی دیر سے ایک شخص کے طور پر انھیں کامیابی ملی ہے۔ قبل ازیں ان کی ہندوستانی سیاست میں کوئی خاص حیثیت نہیں تھی۔ یقینا وہ بہت اچھے تو نہیں لیکن کامیاب وکیل تھے۔ ان کی کامیابی کا راز ان کے منفی رویے کو مستقل طور پر برقرار رکھنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔'

گاندھی کی جناح کو وزیراعظم بننے کی پیشکش

31 مارچ سے 4 اپریل 1947 کے درمیان گاندھی نے ماؤنٹ بیٹن سے پانچ مرتبہ بات چیت کی۔

ماؤنٹ بیٹن لکھتے ہیں: 'گاندھی نے مجھے تجویز دی کہ جناح کو حکومت بنانے کا پہلا موقع دیا جانا چاہیے۔ اگر وہ اس تجویز کو قبول کرتے ہیں تو کانگریس کو کھلے دل سے اپنے تعاون کی ضمانت دینی چاہیے، بشرطیکہ جناح کی وزرا کونسل ہندوستانی عوام کے حق میں کام کرے۔ میں اس تجویز کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں نے ان سے پوچھا، جناح اس پیشکش پر کیا کہیں گے؟ گاندھی کا جواب تھا کہ اگر آپ انھیں بتائیں کہ میں نے یہ فارمولا تیار کیا ہے تو ان کا جواب ہو گا 'چالاک گاندھی۔'

بہر حال گاندھی کی یہ پیشکش جناح کو کبھی نہیں بتائی گئی۔

سٹینلے والپرٹ نے جناح کی سوانح عمری 'جناح آف پاکستان' میں لکھا ہے کہ 'ماؤنٹ بیٹن نے پہلے نہرو سے اس مسئلے پر بات کی۔ ان کا ردعمل مکمل طور پر منفی تھا۔'

نہرو کو یہ جان کر بہت تکلیف ہوئی کہ ان کے مہاتما ان کی جگہ قائداعظم کو وزیر اعظم بنانے کے لیے تیار ہیں۔ گاندھی جناح کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس طرح کی تجویز جناح کی انا کو ٹھیس پہنچائے گی۔ لیکن نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کو بتایا کہ یہ تجویز مکمل طور پر ناقابل عمل ہے۔'

جناح آزادی سے ایک ہفتہ قبل کراچی پہنچے

7 اپریل سنہ 1947 کی صبح جناح اپنی بہن کے ساتھ وائسرائے کے ڈکوٹا طیارے میں دہلی سے کراچی پہنچے۔ ایئرپورٹ سے سرکاری رہائش گاہ جاتے ہوئے ہزاروں لوگوں نے جناح کا استقبال کرتے ہوئے نعرے لگائے۔

اپنے بنگلے کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے جناح نے اپنے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم احسان کی طرف رخ کیا اور کہا: 'تمہیں پتا نہیں ہوگا کہ مجھے اس زندگی میں پاکستان بنتے دیکھنے کی امید نہیں تھی۔'

14 اگست کو ان کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیہ میں ماؤنٹ بیٹن کی نشست فاطمہ جناح اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کے درمیان تھی۔

ماؤنٹ بیٹن لکھتے ہیں: 'وہ مجھے دہلی میں آدھی رات کے وقت یوم آزادی کی تقریبات کے بارے میں یہ کہہ کر مذاق اڑا رہے تھے کہ ایک ذمہ دار حکومت کے لیے نجومیوں کی مقرر کردہ سعد ساعت کی بنیاد پر چلنا کتنا عجیب ہے۔‘

'میں انھیں یہ جواب دینے سے رہ گیا کہ کراچی میں تقریب کا پروگرام بھی رمضان کی وجہ سے تبدیل کیا گیا تھا اور دوپہر کے کھانے کی دعوت کو رات کے کھانے میں تبدیل کرنا پڑا تھا۔

جناح کی موت کے ایک دن بعد حیدرآباد پر حملہ

اس کے بعد نہرو اور جناح کی صرف ایک مرتبہ ملاقات ہوئی۔ ہندوستان کی آزادی کے دو ہفتوں کے اندر جناح لاہور میں بڑھتے ہوئے مہاجرین کے مسائل حل کرنے کے لیے خود لاہور پہنچ گئے۔

جناح اور نہرو کی دیگر پاکستانی اور انڈین رہنماؤں کے ساتھ 29 اگست کو گورنمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ یہ آخری بار تھا جب دونوں حریف ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھے بیٹھے تھے۔ اس ملاقات کے ایک سال 13 دن بعد جناح کا انتقال ہو گیا۔

11 ستمبر 1948 کو جس دن جناح کا انتقال ہوا نہرو نے ان کے ساتھ اپنی دشمنی کو ایک آخری دھچکا دیا۔

راج موہن گاندھی سردار پٹیل کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: 'جب بانی پاکستان کو قبر میں دفن کیا جا رہا تھا نہرو نے اپنے فوجی کمانڈروں کو حیدرآباد کی طرف مارچ کرنے کا حکم دیا۔‘

'جب بنگال کے گورنر کیلاش ناتھ کاٹجو نے پوچھا کہ کیا جناح کے اعزاز میں انڈیا کے پرچم نصف پر لہرائے جائیں گے تو سردار پٹیل نے روکھے پن سے جواب دیا کہ کیا وہ آپ کے رشتہ دار لگتے ہیں؟'