آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں طاقت کے حصول کی لڑائی اور طالبان کی ظالمانہ طرزِ حکمرانی کی حمایت
- مصنف, سکندر کرمانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، بلخ
ہم جن طالبان جنگجوؤں سے ملے وہ افغانستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک مزارِ شریف سے صرف 30 منٹ کی مسافت پر تعینات تھے۔
انھوں نے ہمیں جو بطور ’مالِ غنیمت‘ (جنگ میں ہاتھ آنے والا سامان) ہمیں دکھایا اُس میں ایک ہموی جیپ، دو پک اپ ٹرک اور متعدد طاقتور مشین گنز شامل تھیں۔
سنجیدہ چہرے والے سابق مدرسہ طالبعلم اور اب مقامی ملٹری کمانڈر عین الدین مسلح مجمعے کے درمیان کھڑے ہیں۔
بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد جنگجو تقریباً ہر گزرتے روز کے ساتھ نئے علاقے اور شہر فتح کرتے جا رہے ہیں اور خوفزدہ عوام یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں عام افغان شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں جبکہ سینکڑوں یا تو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
میں نے عین الدین سے پوچھا کہ وہ جن لوگوں (افغان عوام) کے لیے لڑنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، اُنھیں پہنچنے والی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اس قتل و غارت کا جواز کیسے پیش کر سکتے ہیں؟
اُنھوں نے سرد لہجے میں جواب دیا کہ ’یہ جنگ ہے، اس لیے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ اُن کا گروپ ’شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے‘ کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے انھیں کہا کہ یہ لڑائی طالبان نے شروع کی تھی جس پر انھوں نے جواباً کہا کہ ’نہیں۔ ہماری حکومت تھی (نوے کی دہائی میں) اور اسے الٹ دیا گیا تھا۔ اُنھوں (امریکہ) نے لڑائی شروع کی۔‘
عین الدین اور دیگر طالبان کا خیال ہے کہ اس وقت وہ طاقتور ہیں اور وہ سنہ 2001 میں امریکہ کے ہاتھوں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر اقتدار میں آنے والے ہیں۔
وہ کابل کی ’کٹھ پتلی حکومت‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’وہ مغربی کلچر نہیں چھوڑ رہے۔ اس لیے ہم اُن کو قتل کریں گے۔‘
جیسے ہی ہم بات چیت ختم کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اوپر ہیلی کاپٹروں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہموی اور طالبان جنگجو فوراً منتشر ہو جاتے ہیں۔ یہ طالبان کو افغان ایئر فورس سے لاحق مسلسل خطرے کی یاد دہانی ہے، اور اس بات کی بھی کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
ہم بلخ میں ہیں۔ یہ ایک قدیم شہر ہے جسے اسلام کے مشہور ترین صوفی شعرا میں سے ایک مولانا جلال الدین رومی کی جائے پیدائش تصور کیا جاتا ہے۔
ہم رواں سال کے اوائل میں یہاں سے گزرے تھے جب یہ حکومت کے کنٹرول میں تھا مگر اس کے نواحی دیہات طالبان کے قبضے میں تھے۔ اب یہ اُن 200 کے قریب اضلاع میں سے ہے جن پر طالبان نے حملوں کی تازہ ترین اور غیر معمولی لہر کے ذریعے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
ایک سینیئر طالبان عہدیدار نے کہا کہ شمالی علاقوں پر توجہ دانستہ طور پر مرکوز کی گئی ہے، نہ صرف اس لیے کہ یہ خطہ روایتی طور پر سخت طالبان مخالف مزاحمت کا گڑھ رہا ہے، بلکہ اس لیے بھی کیونکہ یہ بہت متنوع ہے۔
ویسے تو طالبان کی مرکزی قیادت اکثریتی طور پر پشتون ہے مگر پھر بھی طالبان عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ دیگر اقوام کو بھی اپنے حلقوں میں شامل کرتے ہیں۔
مقامی طالبان رہنما اور بلخ میں ہمارے میزبان حاجی حکمت ہمیں یہ دکھانے کے لیے بیتاب ہیں کہ کیسے روزمرّہ کی زندگی اب بھی جاری ہے۔
بازار پُرہجوم ہے اور مرد و خواتین خریدار جابجا نظر آ رہے ہیں۔
مقامی ذرائع نے ہمیں بتایا تھا کہ خواتین کو صرف گھر کے کسی مرد کے ساتھ ہی باہر جانے کی اجازت ہے تاہم جب ہم نے اس جگہ کا دورہ کیا تو ہمیں معاملہ ایسا نہیں محسوس ہوا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق دیگر جگہوں پر طالبان کمانڈر سختی سے پیش آ رہے ہیں۔
بازار میں موجود تمام خواتین مکمل طور پر برقع پوش تھیں اور اُن کے بال اور چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔
حاجی حکمت اصرار کرتے ہیں کہ کسی پر بھی دباؤ نہیں ڈالا جا رہا اور یہ طالبان صرف ’تبلیغ‘ کر رہے ہیں کہ خواتین کو کیسا لباس زیب تن کرنا چاہیے۔
مگر مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ ٹیکسی ڈرائیورز کو کہا گیا ہے کہ جب تک خواتین مکمل طور پر برقع پوش نہ ہوں، تب تک اُنھیں اپنی گاڑی میں سوار نہ کیا جائے۔
ہمارے جانے کے ایک دن بعد اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک خاتون کو اُن کے کپڑوں کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ مگر حاجی حکمت اس معاملے میں طالبان جنگجوؤں کے ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔
بازار میں موجود کئی لوگ طالبان کی حمایت کرتے اور سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اُن کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے ہیں، مگر چونکہ ہمارے ساتھ طالبان جنگجو مسلسل موجود ہیں اس لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ لوگ حقیقت میں کیا سوچ رہے ہیں۔
طالبان کے سخت گیر نظریات اکثر قدامت پسند افغان شہریوں میں مقبول ہیں مگر طالبان اب بڑے شہروں پر کنٹرول کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مزارِ شریف کی دیدہ زیب نیلی ٹائلز والی نیلی مسجد کے گرد گذشتہ ہفتے مرد و خواتین پُرسکون ماحول میں چہل قدمی کر رہے تھے۔
اب بھی اس شہر کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے اور میں نے جس کسی سے بھی بات کی، اُنھوں نے طالبان کے بڑھتے اثر و رسوخ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا، خاص طور پر اُن ’آزادیوں‘ کے حوالے سے جو نوجوانوں کو ماضی قریب میں حاصل رہی ہیں۔
مگر ضلع بلخ میں طالبان اپنی حکومت بنا رہے ہیں۔ اُنھوں نے ایک بڑے اور متروکہ پولیس کمپاؤنڈ کے سوا دیگر تمام سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
یہ کمپاؤنڈ ایک سخت حریف یعنی مقامی پولیس سربراہ کا ہیڈ کوارٹر تھا جو علاقے پر کنٹرول کی جنگ کے دوران جنگجوؤں نے خودکش حملے کے ذریعے اڑا دیا تھا۔
آپریشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے طالبان کے ضلعی گورنر عبداللہ منظور کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے جبکہ اُن کے آدمی کھلکھلا کر ہنسنے لگتے ہیں۔ افغانستان میں کئی دیگر جگہوں کی طرح یہاں بھی لڑائی بے حد ’ذاتی‘ اور ’نظریاتی‘ بنیادوں پر جاری رہی ہے۔
کچھ چیزیں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔ نارنجی لباس پہنے خاکروب اور کچھ سرکاری اہلکار اب بھی کام پر آ رہے ہیں۔
ان کی نگرانی طالبان کے مقرر کردہ ایک نئے میئر کر رہے ہیں جن کے سامنے موجود لکڑی کی بڑی سی میز پر ’امارتِ اسلامی افغانستان‘ کا سفید پرچم رکھا ہوا ہے۔
اس سے پہلے وہ اسلحے کے نگران تھے اور اب ٹیکسز کے نگران ہیں۔ وہ مجھے فخر سے بتاتے ہیں کہ جب سے طالبان نے کنٹرول سنبھالا ہے تب سے وہ حکومت کے مقابلے میں کم ٹیکس لے رہے ہیں۔
مگر عسکری زندگی سے سویلین زندگی کی طرف منتقلی کا کام اب بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ انٹرویو کے دوران جب ایک مسلح طالبان جنگجو نے میئر کے پیچھے جگہ سنبھالنے کی کوشش کی تو نسبتاً سینیئر اشخاص نے اُنھیں وہاں سے ہٹا دیا۔
مگر چند دیگر جگہوں پر طالبان کی جانب سے اسلام کی سخت گیر تشریح واضح طور پر نظر آتی ہے۔ مقامی ریڈیو سٹیشن سے پہلے اسلامی نغمے اور مشہور موسیقی نشر ہوتی تھی مگر اب صرف مذہبی نغمے ہی چلائے جاتے ہیں۔
حاجی حکمت کہتے ہیں کہ اُنھوں نے ’غیر اخلاقی‘ موسیقی کو سرِعام چلانے پر پابندی عائد کی ہے مگر وہ اصرار کرتے ہیں کہ عام افراد اب بھی اپنی پسند کا میوزک سُن سکتے ہیں۔
تاہم مجھے بتایا گیا کہ ایک مقامی شخص کو بازار میں میوزک سنتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان نے اُنھیں سخت دھوپ میں مبینہ طور پر تب تک ننگے پیر چلنے پر مجبور کیا جب تک کہ وہ بے ہوش نہیں ہو گئے۔
حاجی حکمت کا اصرار ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔
جب ہم سٹیشن سے نکلنے لگے تو وہ وہاں کام کرنے والے چند نوجوانوں کی طرف اشارہ کرنے لگے جن کی داڑھیاں نہیں تھیں۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ’دیکھیں، ہم نے کسی پر زبردستی نہیں کی۔‘
یہ واضح ہے کہ طالبان بیرونی دنیا کے سامنے اپنا ایک نسبتاً نرم تشخص پیش کرنا چاہتے ہیں مگر ملک کے دیگر حصوں میں اطلاعات کے مطابق طالبان زیادہ سختی سے پیش آ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ فرق مقامی کمانڈروں کے رویوں کی وجہ سے ہو۔
طالبان کے زیرِ قبضہ چند علاقوں سے ماورائے عدالت انتقامی قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آنے پر مغربی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے بزورِ طاقت ملک پر قبضے کرنے کی کوشش کی تو افغانستان کو عالمی طور پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
طالبان کے سابقہ دور حکومت میں انھوں نے شریعت کی تشریح کے تحت سخت ترین سزائیں دیں تھیں۔
گذشتہ ماہ جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان نے بچوں کو اغوا کرنے کے الزام میں دو افراد کو ایک پل پر پھانسی کی سزا یہ کہہ کر دی تھی کہ ان کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
جب ہم نے بلخ کا دورہ کیا اور وہاں طالبان کی مقامی عدالت گئے تو وہاں زیر سماعت زیادہ تر کیس زمین کے تنازعات سے متعلق تھے۔ اگرچہ بہت سے شہری طالبان کے طرز انصاف کے باعث خدشات کا شکار ہیں مگر بہت سے ایسے ہیں جو بدنام اور کرپٹ حکومت کے مقابلے میں جلد انصاف ملنے کا امکان پیش کرتے ہیں۔
ایک مقدمے کی پیروی کرنے والے مدعی نے ہمیں بتایا کہ کیسے ماضی میں اسے سرکاری اہلکاروں کو بہت زیادہ رشوت دینی پڑی تھی مگر اس کے باوجود تاحال اس کے کیس فیصلہ طلب ہے۔
طالبان عدالت کے جج حاجی بدرالدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے چار ماہ کے دوران ابھی تک کسی مجرم کو جسمانی سزا کا کوئی حکم نہیں سُنایا ہے۔ اور اس بات پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طالبان کے پاس اپیل دائر کرنے کے لیے عدالتوں کا ایک نظام ہے جو سخت اور سنجیدہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے گا۔
مگر حاجی بدرالدین نے سخت سزاؤں کا دفاع بھی کیا۔ ’ہماری شریعت میں یہ واضح ہے کہ جن لوگوں نے جنسی تعلقات قائم کیے ہیں اور وہ غیر شادی شدہ ہیں، چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا، اُن کی سزا سرعام 100 کوڑے لگانا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’مگر کوئی ایسا شخص جو شادی شدہ ہے اور اس کے باوجود ناجائز جنسی تعلقات قائم کرتا ہے تو شریعت میں اس کی سزا سنگسار کرنا ہے یہاں تک کہ مجرم کی موت واقع ہو جائے۔ اور اگر کسی پر چوری کا الزام ثابت ہو جائے تو شریعت کے مطابق اس کا ہاتھ ضرور کاٹا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے اس تنقید کو مسترد کیا کہ ایسی سخت سزائیں آج کی ماڈرن دنیا کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
’لوگوں کے بچے اغوا کیے جاتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ یا یہ کرنا ٹھیک ہے کہ ایک شخص کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور اس کے ذریعے معاشرے میں استحکام لایا جائے؟‘
اب تک طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کے باوجود حکومت کا بڑے شہروں پر کنٹرول موجود ہے۔ مگر آئندہ چند ماہ میں شاید تشدد مزید شدت اختیار کر جائے کیونکہ طالبان اور حکومت کے درمیان کنٹرول کی جنگ مزید تیز ہو گی۔
میں نے حاجی حکمت سے دریافت کیا کہ کیا ان کے خیال میں طالبان عسکری طاقت کے استعمال سے جیت سکتے ہیں؟
’جی ہاں۔‘ انھوں نے جواب دیا۔ ’اگر امن مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو اللہ کی مدد سے ہم جیت جائیں گے۔‘
دوسری جانب امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور طالبان کی جانب سے ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کا مطالبہ ان کے مخالفین سے ہتھیار ڈلوانے کے مطالبے کے مترادف ہے۔
حاجی حکمت کہتے ہیں کہ ’ہم نے دونوں کو شکست دی ہے، غیرملکیوں کو اور اپنے اندرونی دشمنوں کو۔‘