انڈین وزیر خارجہ کے ایرانی صدر کی حلف برادری میں شرکت کے کیا معنی ہیں؟

انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر جمعرات کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران پہنچے۔ جے شنکر کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تلخی کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں کئی وجوہات کے سبب دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھتے رہے تھے۔ انڈیا نے امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے تیل کی درآمد روک دی تھی اور دونوں ممالک کے درمیان چابہار بندرگاہ میں کام کے حوالے سے بھی اختلافات پیدا ہوئے تھے۔

ان کے علاوہ کشمیر پر ایران کے بیان نے انڈیا کو ناراض کیا تھا۔ جے شنکر کے حالیہ دورے کے پیش نظر کہا جا رہا ہے کہ انڈیا نئی صورت حال کے پیش نظر ایران، امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں توازن پیدا کرنا چاہتا ہے۔

سنہ 2014 میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ انڈیا کی دوستی مضبوط ہوئی ہے۔ وزیر اعظم مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بھی بنے تاہم مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایران کے حوالے سے ایک طرح کا دباؤ موجود رہا ہے۔

یہ دباؤ امریکی پابندیوں کی وجہ سے تھا۔ انڈیا کو امریکی دباؤ کے زیر اثر ایران سے تیل کی درآمد روکنا پڑی جبکہ ایران انڈین کرنسی یعنی روپے میں انڈیا کو تیل دینے کے لیے تیار تھا۔

حلف برداری میں انڈیا مدعو

جے شنکر کے ایران کے حالیہ دورے کے حوالے سے انڈین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ حکومت ایران کی دعوت پر پانچ اور چھ اگست کو ایران میں ہوں گے۔ اس دورے کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ملاقات کی ہے۔

ملاقات کی تصویر کو ٹویٹ کرتے ہوئے ایس جے شنکر نے لکھا: 'عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ایک گرمجوش ملاقات ہوئی۔ ہم نے صدر رئیسی کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔ ہم ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں ممالک کے علاقائی مفادات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔'

صدر رئیسی کے علاوہ جے شنکر نے ایران میں کئی دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی ہے۔ یہ ایک ماہ کے اندر جے شنکر کا ایران کا دوسرا دورہ ہے۔ جولائی کے اوائل میں نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے حلف برداری سے قبل ہی پروٹوکول توڑتے ہوئے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔

اس دوران انھیں حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔ بہر حال یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی ایرانی صدر کی حلف برداری میں انڈیا شامل ہوتا رہا ہے۔ اس سے قبل انڈیا کے سابق نائب صدر حامد انصاری اور نتن گڈکری نے حسن روحانی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی۔

لیکن جے شنکر کا یہ دورہ وقت کے لحاظ سے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دورے کا وقت کیوں اہم ہے؟

جے شنکر کا یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب افغانستان کی حکومت کو طالبان کے ساتھ بقا کے بحران کا سامنا ہے۔ امریکی فوجیوں نے اپنا بستر سمیٹ لیا ہے اور افغانستان سے واپس جاچکے ہیں۔ ایسے میں طالبان کی پیش قدمی ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

پچھلے سال اپریل میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ افغانستان میں سکیورٹی کا خطرہ انڈیا، ایران اور پاکستان تینوں کے حق میں نہیں ہے۔ انھوں نے افغانستان کی اشرف غنی حکومت کی حمایت کی بات کی تھی۔

دریں اثنا افغانستان میں امن کے لیے امریکہ، روس، چین اور پاکستان ٹرویکا پلس گروپ کا اجلاس آئندہ ہفتے بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہو رہا ہے۔ لیکن ایران اور انڈیا اس میٹنگ میں شامل نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ سابق امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سے جانے کے بعد موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران پر عائد اضافی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ ایسی صورت حال میں انڈیا کے لیے یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات بحال کر سکتا ہے۔

ایس جے شنکر کا دورہ ایران اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ ابھی ایک ہفتے قبل ہی امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے نئی دہلی کا دورہ کیا ہے۔ انڈیا بظاہر یہ اشارہ دے رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو طاق پر نہیں رکھے گا اگرچہ امریکہ کے ساتھ اس کی سٹریٹجک شراکت داری بڑھ رہی ہے۔

ایران اور انڈیا

ایران کا مطلب آریوں کی سرزمین ہے۔ انڈیا کا ایک قدیمی نام آریہ ورت بھی رہا ہے۔ ایران کے اسلامی ملک بننے سے پہلے یہ پارسی ملک تھا۔ لیکن اب یہاں صرف چند پارسی رہ گئے ہیں۔ اسلام کے عروج کے ساتھ ہی پارسیوں کا زور ختم ہوتا گیا۔

اور پھر زیادہ تر پارسی یا تو ہندوستان کی ریاست گجرات کی جانب چلے آئے یا مغربی ممالک کی طرف چلے گئے۔ اس زمانے میں بھی ایران یا فارس کے ہندوستان کے ساتھ ثقافتی تعلقات تھے اور جب وہاں اسلامی سلطنت قائم ہوئی تو انڈیا سے اس کے تعلقات مزید گہرے ہوئے۔

ایران ایک شیعہ اسلامی ملک ہے اور انڈیا میں ایران کے بعد سب سے زیادہ شیعہ مسلمان آباد ہیں۔ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا یعنی پاکستان نہ بنتا تو ایران کی سرحد اںڈیا سے ملتی۔ دوسری جانب پاکستان اور ایران پڑوسی ہو سکتے ہیں لیکن دونوں کے تعلقات بہت اچھے نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایران مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا کھلاڑی ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں انڈیا کا اثر و رسوخ مسلسل کم ہو رہا ہے اور چیزیں چین کے حق میں مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔

چین اور ایران کے درمیان جامع سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کی رپورٹ کے لیک ہونے کے چند دن بعد ایران نے خود چابہار منصوبے کے لیے ریلوے لنک کو آگے بڑھانا شروع کر دیا تھا۔

اس سے پہلے انڈیا بھی اس پروجیکٹ میں شامل تھا۔ اس ریل لائن کو ایران کے چابہار سے افغانستان کے صوبے زرنج تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ لیک ہونے والی رپورٹ کے مطابق جس منصوبے پر ایران چین کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی مالیت 400 ارب ڈالر ہے۔

نومبر سنہ 2019 میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے انڈیا کی خواتین صحافیوں کے ایک گروپ سے کہا: 'انڈیا اور ایران کے تعلقات فوری عالمی وجوہات یا سیاسی و معاشی اتحاد سے نہیں ٹوٹ سکتے۔

انڈیا نے ایران کے خلاف پابندیوں پر آزادانہ موقف اختیار کیا ہے لیکن ہم اپنے دوستوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ نہیں جھکیں گے۔ آپ کے پاس دباؤ کو مسترد کی صلاحیت ہونی چاہیے کیونکہ امریکہ دھمکاتا رہتا ہے اور انڈیا اس کے دباؤ میں ایران سے تیل نہیں خریدتا۔ اگر آپ مجھ سے تیل نہیں خریدتے تو ہم آپ سے چاول نہیں خریدیں گے۔'

پہلے ایران کو یہ محسوس ہوتا رہا کہ انڈیا صدام حسین کے عراق کے زیادہ قریب ہے۔ بہر حال اس وقت عراق کے ساتھ انڈیا کے اچھے تعلقات تھے اور ایک طویل عرصے تک انڈیا کے لیے عراق تیل کا سب سے بڑا سپلائر ملک تھا۔

خلیج تعاون کونسل کے ساتھ معاشی تعلقات اور انڈین ورکرز کے ساتھ انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے عرب ممالک کے ساتھ انڈیا کے مضبوط تعلقات قائم ہوئے۔ انڈیا کی ضرورتوں کے حساب سے ایران سے تیل کی سپلائی کبھی بھی بہت حوصلہ افزا نہیں رہی۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ایران کا اسلامی انقلاب، عراق-ایران جنگ اور امریکہ رہے ہیں۔

انڈیا کی ہچکچاہٹ

انڈیا بھی ایران کے ساتھ دوستی کو بلند مقام تک لے جانے میں ایک عرصے سے تذبذب کا شکار رہا ہے۔ سنہ 1991 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تو دنیا نے ایک نیا موڑ لیا۔ انڈیا کے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار ہونے لگے تو اس نے ہمیشہ انڈیا کو ایران کے قریب آنے سے روکا۔

عراق کے ساتھ جنگ کے بعد ایران اپنی فوج کو مضبوط بنانے میں مصروف رہا۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی طاقت بننے کی خواہش رہی ہے اور اس نے ایٹمی پروگرام بھی شروع کر دیا ہے۔

امریکہ کسی طور نہیں چاہتا کہ ایران ایٹمی طاقت بنے اور مشرق وسطیٰ میں اپنا اسر و رسوخ بڑھائے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ نے اصرار کیا کہ باقی دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات معمول پر نہیں آنے چاہئیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنہ 2016 میں ایران کا دورہ کیا۔ مودی کے دورے کو چابہار بندرگاہ سے منسلک کیا گیا۔ انڈیا کے لیے اس بندرگاہ کو چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یکم نومبر سنہ 2016 کو انڈین بینک ایران میں برانچ کھولنے والا تیسرا غیر ملکی بینک بن گیا۔ انڈین بینک کے علاوہ ایران میں عمان اور جنوبی کوریا کے بینک ہیں۔ اس کے ساتھ ایئر انڈیا نے نئی دہلی سے تہران کے لیے براہ راست پرواز کا اعلان کیا تھا۔

مارچ سنہ 2017 میں انڈیا اور ایران کے درمیان توانائی کے شعبے میں کئی بڑے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ انڈیا نے ایران کے ساتھ 'فرزاد-بی' معاہدہ کو بھی حتمی شکل دی۔ خلیج عرب میں ایک انڈین ٹیم نے سنہ 2008 مین سمندری ایرانی قدرتی گیس کی دریافت کی تھی۔