آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے نقشے میں مبینہ طور پر کشمیر اور لداخ کو شامل نہ کرنے پر ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ
انڈین پولیس نے مبینہ طور پر ملک کا غلط نقشہ دکھانے پر ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
اتوار کے روز ٹوئٹر نے مبینہ طور پر اپنے 'ٹویپ لائف'سیکشن میں انڈیا کے ایک نقشے میں جموں و کشمیر اور لداخ کو شامل نہیں کیا تھا۔ اب یہ نقشہ ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
انڈیا میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ٹوئٹر حکام کے خلاف یہ دوسرا مقدمہ ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب انڈیا میں آئی ٹی کے متنازعہ نئے قوانین کے سبب حکومت اور ٹوئٹر کے درمیان پہلے سے ہی کشیدگی ہے۔ ٹوئٹر نے ابھی تک اس تازہ ترین معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ کیس شمالی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلندشہر میں درج کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ مقدمہ ہندو قوم پرست جماعت بجرنگ دل گروپ کے ایک رکن کی شکایت کے بعد درج کیا گیا ہے۔ ٹوئٹر انڈیا کے چیف منیش مہیشوری پر 'مختلف طبقات کے لوگوں میں نفرت یا بغض کو فروغ دینے' کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
گذشتہ ہفتے اتر پردیش میں پولیس نے منیش مہیشوری کو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا جس کے بعد عدالت نے مہیشوری کو گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا تھا لیکن یہ کیس ابھی جاری ہے۔
ویڈیو میں جو اب تحقیقات کا حصہ ہے، دکھایا گیا ہے کہ ایک 72 سالہ مسلمان شخص پر لوگوں کے ایک گروہ کی جانب سے تشدد کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ شخص نے دعویؤ کیا تھا کہ اسے 'جئے شری رام' کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن پولیس نے اس واقعے میں کسی طرح کے مذہبی رنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شخص نے مبینہ طور پر لوگوں کو جو تعویز دیا تھا لوگ اس سے ناخوش تھے۔
اس حملے کے سلسلے میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے ٹوئٹر اور نیوز ویب سائٹ وائر کے علاوہ کچھ صحافیوں اور سیاست دانوں پر بھی 'فسادات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش' کے تحت ویڈیو شیئر کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پیر کے روز ٹوئٹر انڈیا کے ایک سینیئر ایگزیکیٹو دھرمیندر چتور نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ دھرمیندر چتور کا عہدہ ان تین عہدوں میں سے ایک ہے جو سوشل میڈیا فرموں کو انڈیا کے نئے آئی ٹی قوانین کے تحت پُر کرنے کی ضرورت ہے۔
نئے ضابطے کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا، جسے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہ مئی میں نافذ العمل ہو گیا تھا۔
ان نئے ضوابط کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انڈیا کے تین رہائشیوں کو تین کل وقتی عہدوں پر رکھیں، جنہیں یہ اختیا رحاصل ہوگا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی اداروں کے ذریعے درخواست کیے جانے پر ان پلیٹ فارمز سے مواد ہٹا سکیں۔
اس کے علاوہ حکومت یا کسی ادارے کے مطالبے پر انہیں کسی خاص پیغام کے نقطہ آغاز کو بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ان قوانین کی تعمیل کے لیے ٹوئٹر، فیس بک اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارم کو فروری میں تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔
اگر ان کمپنیوں کے کسی صارف کی جانب سے شائع کردہ کوئی بھی مواد انڈین قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا تو اس صورت میں یہ ضابطہ قانونی کارروائی سے ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی پر روک لگانا ہے لیکن حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔