کووڈ 19: انڈیا کے ’مقدس ترین‘ دریائے گنگا میں تیرتی لاشیں جنھیں ’دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے‘

گنگا کے کنارے جلتی ہوئی چتائیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

گذشتہ چند دنوں سے انڈیا کا ’سب سے مقدس دریا‘ لاشوں سے بھرا ہوا ہے۔ دریائے گنگا میں مختلف مقامات پر سینکڑوں لاشیں یا تو تیر رہی ہیں یا اس دریا کے کنارے پر ریت میں دبی ہوئی ہیں۔ جس علاقے میں یہ میتیں موجود ہیں وہ ملک کی شمالی ریاست اُتر پردیش میں ہے اور قریبی علاقوں میں رہنے والوں کو خدشہ ہے کہ یہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں انڈیا کورونا وائرس وبا کی دوسری اور شدید لہر کی وجہ سے سخت مصیبت کا سامنا کر رہا ہے۔ اب تک ملک میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پونے تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، لیکن ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

گنگا میں اور اس کے کنارے پڑی لاشیں اموات کی اس تعداد کی کہانی سُنا رہی ہیں جو سرکاری اعدادوشمار میں نظر نہیں آ رہی۔ شمشان گھاٹوں میں 24 گھنٹے چتائیں جلائی جا رہی ہیں اور انھیں جلانے کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔

بی بی سی نے مقامی صحافیوں، حکام اور اُتر پردیش کے سب سے متاثرہ علاقوں میں عینی شاہدین سے بات کی اور یہ معلوم کیا کہ ان تیرتی لاشوں کے پیچھے روایتی عقائد، غربت اور وہ وبا ہے جو لوگوں کو انتہائی تیزی سے ہلاک کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دریا کے کنارے ہر طرف قبریں

اتر پردیش میں پہلی مرتبہ یہ خوفناک صورتحال 10 مئی کو منظرِ عام پر آئی جب 71 لاشیں بہہ کر پڑوسی ریاست بہار کے چوسا نامی گاؤں میں دریا کے کنارے پر ملیں۔

مقامی پولیس کے اہلکار نیرج کمار سنگھ نے بتایا اُن گلی سڑی لاشوں میں سے زیادہ تر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے اور انھیں دریا کے کنارے پر گڑھوں میں دفنا دیا گیا۔

گنگا کے کنارے دفن کی جانے والی لاشیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکام کا کہنا ہے کہ لاشوں کی کچھ باقیات دریا کے کنارے معمول کے مطابق جلائے جانے والی لاشوں کی بھی ہو سکتی ہیں۔تاہم انھیں یہ شبہ بھی ہے کہ جلانے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان لاشوں کو دریا میں پھینک دیا گیا ہو گا۔ بہتی ہوئی مزید لاشوں کو حاصل کرنے کے لیے پولیس نے دریا میں جال لگا دیا ہے۔

ایک روز قبل چوسا گاؤں سے چھ میل دور اُتر پردیش کے غازی پور ڈسٹرکٹ کے گھمر نامی گاؤں کے پاس بھی دریا کے کنارے درجنوں لاشیں ملی تھیں جنھیں کتے اور کوے کھا رہے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ کئی دنوں سے لاشیں بہہ کر آ رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان لاشوں کی وجہ سے تعفن اٹھ رہا ہے لیکن حکام نے بارہا بتانے کے باوجود کوئی توجہ نہیں دی۔ حکام کو اس وقت ہوش آیا جب ان لاشوں کے بارے میں خبریں اخبارت میں چھپیں۔

قریب ہی بالیا ڈسٹرکٹ میں بھی لوگ جب صبح اشنان کے لیے دریا گئے تو انھیں پھولی ہوئی اور گلی سڑی لاشیں ملیں۔

دریائے گنگا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اخبار ہندوستان کے مطابق پولیس اب تک 62 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ کناوج، کانپور، اناو اور پریاگراج میں دریا کے کنارے پر ہر طرف قبریں نظر آ رہی ہیں جو بہت کم گہری ہیں۔ کناوج میں مہندی گھاٹ سے جو ویڈیوز بی بی سی کو بھیجی گئی ہیں ان میں انسانی جسم کے سائز کے مٹی کے ٹیلے جا بجا دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہر ٹیلے نے ایک انسانی جسم چھپا رکھا ہے۔ قریب ہی ماہا دیوی گھاٹ پر بھی 50 لاشیں ملی ہیں۔

ہلاکتوں کی تعداد میں ’بہت بڑا‘ تضاد ہے

ہندو روایتی طور پر لاشوں کو جلاتے ہیں لیکن کئی ہندو برادریاں بچوں، کنواری لڑکیوں اور ایسے افراد کی لاشوں کو دریا میں تیرنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں جو کسی متعدی بیماری یا سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہوئے ہوں۔ اس روایت کو ’جل پراوہ‘ کہا جاتا ہے۔

کئی غریب لوگ لاش کو جلانا مالی طور پر برداشت نہیں کر سکتے لہذا وہ لاش کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر دریا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی لاش کے ساتھ پتھر باندھ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ پانی میں ڈوبی رہے۔ عام طور پر بھی کبھی کبھی گنگا میں تیرتی ہوئی کوئی لاش دکھائی دینا کوئی انھونی بات نہیں تاہم اتنے کم وقت میں اتنی زیادہ تعداد میں اور اتنی زیادہ جگہوں پر دریا میں لاشیں ملنا ایک غیر معمولی بات ضرور ہے۔

کانپور میں ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں سرکاری اعدا و شمار کے غلط ہونے کا ثبوت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری ڈیٹا کے مطابق کانپور میں 16 اپریل سے پانچ مئی تک کورونا وائرس کی وجہ سے 196 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن کریمیٹوریم (لاشوں کو جلانے کی جگہ) کے ڈیٹا کے مطابق آٹھ ہزار لاشوں کو جلایا گیا تھا۔

’تمام الیکٹرک کریمیٹوریم ہفتے میں ساتوں دن چوبیس گھنٹے چل رہے تھے لیکن پھر بھی کافی نہیں تھے۔ جس کے بعد انتظامیہ نے باہر میدان میں لکڑیوں کے ذریعے چتائیں جلانے کی اجازت دی۔‘

انھوں نے بتایا کہ کریمیٹوریم والے صرف ایسی لاشوں کو ہی لے رہے ہیں جو کووڈ 19 کے مریضوں کی ہیں اور ہسپتال سے آ رہی ہیں۔

’ایک بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں پر بھی ہلاک ہو رہے ہیں اور ایسے لوگوں کے ٹیسٹ بھی نہیں ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار ان لاشوں کو شہر کے مضافات یا قریب ہی واقع اناو جیسے دوسرے ڈسٹرکٹ لے جا رہے ہیں۔ جب انھیں لکڑیاں یا جگہ نہیں ملتی تو وہ اپنے پیاروں کی لاشوں کو دریا کے کنارے دفنا دیتے ہیں۔‘

مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں یا تو ایسے لوگوں کی ہیں جو بغیر ٹیسٹ کرائے گھر پر ہی ہلاک ہوئے یا ان غریب لوگوں کی ہیں جو لاش کو جلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

’یہ صورتحال بہت دلی تکلیف پہنچا رہی ہے۔ یہ لاشیں کسی کے بیٹے، بیٹی، بھائی، والد یا والدہ کی ہیں۔ یہ ایک باعزت موت کے مستحق تھے لیکن یہ تو سرکاری اعداد و شمار کا بھی حصہ نہیں بن سکے۔ یہ ایک نامعلوم کی حیثیت سے مرے اور نامعلوم کی حیثیت سے دفن ہو گئے۔‘

گنگا کے کنارے جلتی ہوئی چتائیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک تدفین

دریا کے کنارے آباد بہت سے گاؤں میں لوگ خوفزدہ ہیں کہ یہ تیرتی اور جلدی میں دفن کی گئی لاشیں کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ہیں اور اس وبا کو مزید پھیلائیں گی۔

دریائے گنگا ہمالیہ کے پہاڑوں سے بہنا شروع کرتا ہے اور یہ دنیا کے بڑے دریاوں میں سے ایک ہے۔ ہندوؤں کے لیے یہ مقدس ہے۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس دریا میں نہانے سے ان کے گناہ دھل جاتے ہیں اور وہ اس کے پانی کو مذہبی رسومات کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

کناوج کے رہائشی 63 برس کے جگ موہن تیواری نے ایک مقامی نیوز چینل کو بتایا کہ انھوں نے دریا پر 150 سے 200 کے قریب قبریں دیکھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لاشوں کی تدفین کا کام صبح سات بجے سے رات گیا بجے تک جاری رہتا ہے۔ ’یہ سب دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔‘

ان قبروں کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد سے مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ بارشوں سے جب دریا کی سطح بلند ہو گی تو کنارے پر دفن یہ لاشیں دریا میں تیرتی ہوئی نظر آئیں گی۔

گذشتہ بدھ کو ریاستی حکومت نے ’جل پراوہ‘ پر پابندی عائد کر دی ہے اور چتاؤں کو جلانے کے لیے غریب خاندانوں کو مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔

کئی علاقوں میں پولیس ڈنڈوں کی مدد سے تیرتی ہوئی لاشوں کو کنارے پر لانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کشتی بانوں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں تاکہ لاشوں کو کنارے ہر لا کر یا تو دفنا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔

بالیا ڈسٹرکٹ میں پولیس کے افسر نے بتایا کہ گاؤں کے بزرگوں سے بات کی جا رہی ہے تاکہ انھیں سمجھایا جائے کہ جو لوگ لاشوں کو جلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے وہ مالی امداد کی درخواست کر سکتے ہیں۔

غازی پور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ منگلا پرساد سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس دریا اور شمشان گھاٹوں کی نگرانی کے لیے گشت کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو لاشیں دریا میں پھینکنے یا کنارے پر دفنانے سے روکا جائے لیکن ان کی ٹیم کو ہر روز دریا میں ایک یا دو لاشیں مل رہی ہیں۔