آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
محمد اشرف خان صحرائی: کشمیر کی جیل میں قید کورونا سے وفات پانے والے کشمیری رہنما کون تھے؟
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
جموں کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں ایک سال سے قید معروف کشمیری علیحدگی پسند رہنما محمد اشرف خان صحرائی گزشتہ ہفتے کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جس کے بعد اُنھیں جموں کے میڈیکل کالج ہسپتال پہنچایا گیا جہاں منگل کی دوپہر کو اُن کی موت ہو گئی۔
77 برس کے صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی نے معاشیات کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور گذشتہ برس جنید ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے فوراً بعد گزشتہ جولائی میں محمد اشرف خان صحرائی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا تھا۔
صحرائی تقریباً نصف صدی سے جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ تھے اور جماعت کے نہایت مقبول رہنما سید علی گیلانی کے دست راست تھے۔ اُن کی وفات سے کشمیری قیدیوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
وکلا کی انجمن کشمیر بار ایسوسی ایشن کے اعلیٰ عہدیدار ایڈوکیٹ غلام نبی شاہین نے صحرائی کی موت کو ’حراستی قتل‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر سے باہر مختلف جیلوں میں قید ہزاروں کشمیریوں کو فوراً وادی میں منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نائن الیون کے بعد پاکستان کے اُس وقت کے فوجی حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف نے کشمیر پر پاکستان کے روایتی موٴقف میں لچک کا مظاہرہ کیا تو علیحدگی پسندوں کا اتحاد حریت کانفرنس دو نظریاتی خیموں میں بٹ گیا۔
اعتدال پسند خیمے کی قیادت میر واعظ عمرفاروق نے کی جبکہ مشرف کے کشمیر فارمولے کی مخالفت کرنے والے خیمے کی کمان سید علی گیلانی نے سنبھالی۔ گیلانی نے اشرف صحرائی کے ساتھ مل کر اپنی ایک جماعت تحریکِ حُریتِ کشمیر قائم کی۔ صحرائی ابھی بھی تحریک حریت کے سربراہ تھے۔
سابق حریت رہنما عبدالغنی لون کے بیٹے اور پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے صحرائی کی قید میں موت کو ’کشمیری سیاست کی ستم ظریفی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے یکے بعد دیگرے اپنی ٹویٹس میں لکھا ’ایک لمبا سیاسی کیرئیر اختتام کو پہنچا۔ وہ جماعت اسلامی کے نظریہ ساز تھے۔ جب میں 19 سال کا تھا تو اچانک اُن سے سامنا ہوا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اپنے والد (عبدالغنی لون) سے کہنا کتنے شیریں ہیں لب تیرے، گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہوئے۔‘
سجاد لون، جو اب ہند نواز سیاست میں سرگرم ہیں، نے مزید لکھا ’یہ کشمیری سیاست کی ستم ظریفی ہے کہ اعلیٰ پائے کے سیاستدان تنازعے کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ ایک نہایت دیانتدار سیاستدان دہائیوں تک جیل میں رہا۔‘
پاکستان کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اشرف صحرائی کی وفات پر ٹویٹ میں لکھا کہ ’انڈین فاشزم کشمریوں کو خاموش نہیں کر سکتی‘۔
اشرف صحرائی جماعت اسلامی کے اُن چند رہنماوٴں میں شامل ہیں جنھوں نے کشمیر کی انتخابی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا تاہم موجودہ حالات میں قید کے دوران اُن کی موت نے اُن مطالبوں کو تقویت دی ہے جن میں کورونا کے پھیلاوٴ کو دیکھتے ہوئے کشمیری قیدیوں کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اگست 2019 میں جب کشمیر کی نیم خود مختاری کو ختم کیا گیا تو تقریباً سبھی علیحدگی پسند رہنماوٴں اور اُن کے کارکنوں کو قید کیا گیا۔ اس سال بہار شروع ہوتے ہی جب انڈیا میں کورونا وبا کی دوسری لہر پھیلی تو کشمیر میں علیحدگی پسند رہنماوں کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ قیدیوں کو واپس کشمیر بھیجا جائے۔
اس سلسلے میں جموں کشمیر کی ایک درجن سے زیادہ جیلوں میں قید تقریباً پانچ ہزار کشمیری قیدیوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تاہم جیلوں کے ڈائریکٹر جنرل وی کے سنگھ نے دعویٰ کیا کہ جیلوں میں جگہ کی کمی نہیں اور تمام قیدیوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیر کی 13 جیلوں میں فی الوقت 4550 افراد قید ہیں جن میں اکثر علیحدگی پسندی یا عسکریت پسندی کے الزام میں بھی قید ہیں۔
جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں، جہاں اشرف صحرائی قید تھے، 884 جبکہ سرینگر کی سینٹرل جیل میں 612 قیدی ہیں۔ قریب تین ہزار قیدی جموں، اُدھمپور، کٹھوعہ، بھدرواہ، کشتواڑ، راجوری، بارہمولہ، کپوارہ، اننت ناگ اور پلوامہ کی ضلعی جیلوں میں قید ہیں۔
ڈی جی پرِزنز وے کے سنگھ کے مطابق ’قیدیوں کے مدافعتی نظام کو تندرست رکھنے کے لیے طرح طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جیلوں میں کھیلوں اور تفریح کے ساتھ ساتھ طبی نگہداشت کا انتظام موجود ہے اور صفائی پر خاص دھیان دیا جاتا ہے جبکہ قیدیوں کے لیے ماسک اور سینیٹائزرز بھی دستیاب ہیں۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ جیلوں میں نئے داخلوں کے لیے کووڈ ٹیسٹ کو لازمی قراردیا گیا ہے تاہم ان دعووٴں کے باوجود عمر رسیدہ اشرف صحرائی کا کوِوڈ میں مبتلا ہو جانا اور اس کے بعد اُن کی موت نے کشمیری قیدیوں کے بارے میں تشویش کو بڑھا دیا ہے۔
اُدھر نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید شبیر شاہ، یٰسین ملک اور شاہد الاسلام سمیت درجنوں حریت رہنماوں کے اہلخانہ بار بار حکام سے اپیل کر رہے ہیں کہ اُنھیں واپس وادی منتقل کیا جائے۔