عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اختتام پر کورونا سے ہلاک مسلمانوں کی تدفین کی اجازت

    • مصنف, رنگا سری لال
    • عہدہ, بی بی سی سنہالہ سروس

سری لنکا کی حکومت نے جمعرات کو کورونا وائرس سے متاثر ہو کر ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو جلائے جانے کے حکم کو تبدیل کر دیا ہے اور اب ان افراد کی آخری رسومات کو، تدفین اور جلایا جانا، دونوں طریقوں سے ادا کیا جا سکے گا۔

سری لنکن حکومت کی جانب سے قانون میں یہ تبدیلی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورے کے اختتام کے چند ہی گھنٹوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو جلایا جانا قانونی طور پر لازمی تھا چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس حوالے سے سری لنکا کی مسلمان، کیتھولک اور بودھ برادریوں میں کافی تشویش پائی جاتی تھی۔

سری لنکا کے وزیر صحت نے جمعرات کو رات گئے ایک ترمیمی گزٹ جاری کیا جس میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین اور جلائے جانے، دونوں کی اجازت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکن وزیر صحت پوترا ونیاراچے کی جانب سے غیر معمولی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تدفین کی صورت میں مرنے والے کو ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی ہدایات کے مطابق دفن کیا جائے گا اور اس کے لیے جگہ کی تصدیق اور نگرانی بھی متعلقہ ادارے کی جانب سے کی جائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کا فیصلے کا خیر مقدم

سری لنکا کی جانب سے اس قانونی میں ترمیم کے اعلان کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ میں سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور سری لنکا کی حکومت کے سرکاری نوٹیفکیشن کا خیرمقدم کرتا ہوں جو کووڈ 19 میں مرنے والوں کو تدفین کی اجازت دیتا ہے۔‘

خیال رہے کہ سری لنکا میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر مرنے والوں کو جلانے کے حکمنامے کے باعث انسانی حقوق کے اداروں بشمول اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے مسلمان، کیتھولک اور بودھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔

عمران خان کے دورہ سری لنکا کے بعد سری لنکن حکومت کی جانب سے مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کورونا متاثرہ افراد کی تدفین کی اجازت ملنے پر وہاں کے شہریوں نے بھی وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایک افشین عزیز نامی سری لنکن ٹوئٹر صارف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور لکھا’ آپ کے دورہ سری لنکا کا شکریہ، آپ کے دورے سے ہمارے لیے آسانی پیدا ہوئی ہے۔‘

اس بحث میں شدت اس وقت آئی تھی جب سری لنکا کی ایک مسلم فیملی کے 20 دن کے نومولود بچے کی لاش کو زبردستی جلایا گیا تھا۔

سری لنکا کی حکومت کا یہ فیصلہ ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے اس خدشے کی بنیاد پر کیا گیا کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کی تدفین کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کے وسائل میں یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔ اس کمیٹی میں کون ہے اور ان کی کیا کوالیفیکیشنز ہیں، یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے۔

کیا یہ تبدیلی عمران خان کی وجہ سے آئی؟

رواں ماہ کے آغاز میں سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پکشے نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ حکومت کووڈ 19 سے مرنے والے مسلمان شہریوں کو دفنانے کی اجازت دے گی۔

تاہم وزیراعظم راجا پکشے کے اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد سری لنکا کی حکومت کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا تھا کہ کووڈ-19 سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی سری لنکن قیادت سے اس مسئلہ پر بات کی تھی جس کے بات سری لنکا کے وزیر اعظم نے عمران خان کو اس کے جلد حل کی یقین دہانی کروائی تھی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکن قیادت کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا تھا۔

اس موقعے پر سری لنکن پارلیمنٹ میں مسلمان قانون سازوں کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ وزیراعظم عمران خان کے دو روزہ دورے کے اختتام پر سری لنکن حکومت کی پالیسی میں تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔

یہ سب ایک ایسے موقع پر ہوا جب سری لنکا اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے چھالیسویں اجلاس میں پاکستان کے ذریعے او آئی سی کے ممبران کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سری لنکا کو مبینہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام کا سامنا ہے۔

مضحکہ خیز اور بزدلانہ تحویلیں پیش کی جا رہی ہیں

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے دوران مسلم ممبران پارلیمان سے طے شدہ ملاقات کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

پاکستان کے وزیراعظم منگل سے دو روزہ دورے پر سری لنکا پہنچے تھے۔ سری لنکا نے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم کے پارلیمنٹ سے خطاب کو منسوخ کیا تھا اور پھر سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ان کی دیگر مصروفیات کو بھی منسوخ کیا گیا۔

اس دوران وزیراعظم عمران خان کی سری لنکا کے مسلمان اراکین پارلیمان سے ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی گئی تھیں۔ تاہم بعد میں ان ملاقاتوں کو بحال کیا گیا اور اس دوران ہی ان اراکین نے وزیراعظم عمران خان سے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کا معاملہ اٹھایا۔

پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ مسلمان اراکین پارلیمان کی ملاقات کی منسوخی پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما راؤف حکیم نے کہا ہے کہ ’تمام مسلمان اراکین پارلیمان‘ نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تھی اور اب منسوخی سے متعلق ’مضحکہ خیز اور بزدلانہ تحویلیں پیش کی جا رہی ہیں۔‘

کابینہ کے ترجمان وزیر کہلیا رامبوک ویلا نے کہا کہ ’ان کے دورے کی تفصیلات دونوں ممالک کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ طے کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ سپورٹس کمپلیکس کا بھی دورہ کرنے والے تھے جو وہ اب سکیورٹی ایجنسیوں کی تجویز کے بعد نہیں کر رہے ہیں۔‘

راؤف حکیم نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے احترام میں ’جنھیں ہم سب بہت پسند کرتے ہیں، میں اس پر مزید کچھ نہیں کہوں گا۔‘