انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی بھتیجی کو الیکشن ٹکٹ نہ ملنے کا معاملہ، بھائی کا کہنا مودی برسوں پہلے خاندان کو چھوڑ چکے ہیں

    • مصنف, تیجس ویدیہ
    • عہدہ, بی بی سی، گجراتی

انڈین ریاست گجرات میں حکمراں جماعت بھارتہ جنتا پارٹی کے سربراہ سی آر پاٹل نے اعلان کیا ہے کہ چند روز میں ہونے والے مقامی انتخابات میں 60 برس سے زیادہ عمر والے افراد، سیاسی رہنماؤں کے رشتہ دار اور جو لوگ ماضی میں کارپوریشن میں تین مرتبہ عہدوں پر رہ چکے ہیں، انھیں اس بار ٹکٹ نہیں دیا جائے گا اور وزیرا عظم نریندر مودی کے بھائی اس بات سے سخت ناراض ہیں۔

نریندر مودی کے بھائی پرہلاد مودی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی سونل مودی احمد آباد کے بودکدیو علاقے سے انتخابات لڑتی ہیں لیکن اب نئی ہدایات کے مطابق وہ انتخابات میں اس بار حصہ نہیں لے سکیں گی کیوں کہ ان کا تو نریندر مودی سے بہت نزدیکی رشتہ ہے۔ اگرچہ یہ رشتہ محض نام کا ہی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے بھائی نریندر مودی کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی احمد آباد کے بوکودیو علاقے سے 'پسماندہ طبقے‘ کی سیٹ پر الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ '

یہ بھی پڑھیئے

'انڈیا کا ہر شہری نریندر مودی کا رشتہ دار ہے'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہمیں اس کی امید نہیں تھی۔ ہم وزیر اعظم مودی کی تصویر کا استعمال کر کے زندگی نہیں گزار رہے ہیں۔ ہمارے خاندان کے سبھی افراد سخت محنت کرتے ہیں، کماتے ہیں اور اسی سے اپنا خرچ چلاتے ہیں۔ میں راشن کی ایک دکان چلاتا ہوں۔ '

ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی میں ہمارے خاندان کی طرف سے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا کوئی رواج نہیں ہے۔'

'نریندر مودی نے 1970 میں گھر چھوڑ دیا تھا اور پورے ملک کو اپنا گھر بنا لیا تھا۔ اس طرح انڈیا کا ہر شہری ان کا رشتہ دار ہے۔ وہ خود بھی ایسا کہتے رہے ہیں۔'

نریندر مودی کے بھائی پرہلاد مودی کا کہنا تھا 'وہ (نریندر مودی) ہمارے خاندان میں پیدا ضرور ہوئے ہیں۔ لیکن وہ انڈیا کے بیٹے ہیں۔ ایسے تو کوئی بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا کیوں کہ انڈیا کا ہر شہری ہی اس طرح ان کا رشتہ دار ہوا۔ اس طرح تو سبھی ان کے بھائی بہن ہوئے۔'

ان کا کہنا تھا 'نریندر بھائی نے خود یہ بات کہی ہے کہ خاندان میں ان کا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انڈیا کے سبھی لوگ ان کے بھائی بہن ہیں۔ تو ایسے میں یہ اصول ہم پر کس طرح عائد ہوتا ہے؟'

کیا نریندر مودی ان کے خاندان کا فرد نہیں؟

پرہلاد مودی کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت نے خاندان کے بارے میں واضح کیا ہے کہ جن لوگوں کے نام راشن کارڈ پر ہیں وہ سبھی خاندان کے فرد ہیں۔

'ہمارے خاندان کے راشن کارڈ پر نریندر مودی کا نام نہیں ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'مجھے لگتا ہے کہ اگر خاندان کے لوگوں کا راشن کارڈ پر نام ہونے کا نظام حکومت نے بنایا ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔ پارٹی کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے۔ '

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر سونل مودی انتخابات لڑتی ہیں تو لوگ کہیں گے کہ وہ نریندر مودی کی بھتیجی ہیں۔

اس پر پرہلاد مودی کا کہنا تھا 'بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھگوان رام کے خاندان سے ہیں۔ کیا ہم انھیں روک سکتے ہیں؟ یہ رشتہ اصل ہے۔ ہم اسے مٹا نہیں سکتے۔ لیکن پتا کیجیے کہ کیا سونل آج تک کبھی بھی وزیر اعظم کے گھر تک گئی ہے؟ آپ کو خود اس بات کا جواب مل جائے گا کہ یہ تعلق کیسا ہے۔

سونل وزیرا عظم مودی سے نہیں ملتیں

وزیر اعظم کے بھائی کا کہنا تھا کہ 'جب سے نریندر بھائی وزیر اعظم بنے ہیں مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ ان کے گھر کا دروازہ کیسا دکھائی دیتا ہے۔ جب یہ مجھے ہی نہیں پتا تو میرے بچوں کو کیسے پتا ہوگا؟

ان سے ملنے کی خواہش کے بارے میں پوچھنے پر ان کا کہنا تھا 'رشتے میں ہم ان کا خاندان ضرور ہیں لیکن ہم ان سے صرف تبھی مل سکتے ہیں جب وہ ہمیں مدعو کریں۔ اگر وہ ہمیں نہیں بلاتے ہیں تو میں ان کے دروازے پر انتظار نہیں کر سکتا۔'

جب وزیر اعظم مودی احمد آباد جاتے ہیں تو وہ اپنی والدہ ’ہیرا با‘ سے ملنے تو جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ان کے بھائی کا کہنا تھا 'وہ با (والدہ) سے ملتے ہیں لیکن اس بارے میں بہت واضح ہدایات ہوتی ہیں کہ خاندان کے دیگر افراد دور ہی رہیں۔ ابتدائی دنوں میں وہ جب با سے ملنے آتے تھے تو آپ نے غور کیا ہوگا کہ ہمارے چھوٹے بھائی کا خاندان بھی وہاں نظر آ جایا کرتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔'

گذشتہ چند برسوں کی تصاویر اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ان میں با کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آئے گا۔

اس کے باوجود اگر پارٹی ہمیں ان کے خاندان کے طور پر دیکھتی ہے اور ٹکٹ نہیں دیتی ہے تو یہ پارٹی کی مرضی ہے۔

خاندان سے نہ ملنا آپ کے ساتھ ناانصافی ہے؟

پرہلاد مودی کا کہنا تھا جب نریندر مودی با سے ملنے آتے ہیں تو اس وقت آپ کو خاندان کا ایک بھی بچہ نزدیک نظر نہیں آئے گا۔

’وہ پنکج کے گھر جاتے ہیں کیوں کہ با وہیں رہتی ہیں۔ لیکن اس بات کا کیا مطلب ہوا کہ جیسے ہی وہ وہاں پہنچتے ہیں تو خاندان کا کوئی اور فرد وہاں نہیں جا سکتا ہے۔ صرف نریندر بھائی ہی با کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ تصاویر صاف آ سکیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھائی سوچتے ہوں گے کہ انھوں نے تو گھر چھوڑ دیا ہے اور انھیں خاندان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے تصاویر میں بھی خاندان شامل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ اس بات پر مبنی ہے کہ نریندر بھائی کیا سوچتے ہیں۔'

پرہلاد مودی کا کنا تھا 'ہم لیبر کلاس لوگ ہیں۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہمارا بھائی ملک کا وزیر اعظم ہے۔ لیکن ہم نے کبھی بھی ان کی تصویر کا استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی کریں گے۔ '

بیٹی سے سلوک، وزیر اعظم کی عزت

ایک اخبار نے پرہلاد وری کا ایک بیان کو شائع کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'جس طرح کا سلوک آپ کی بیٹی کے ساتھ ہوگا اس سے یہ واضح ہو جائے گا کی پارلیمانی بورڈ وزیر اعظم کی کتنی عزت کرتا ہے۔'

ان سے اس بیان کی وضاحت طلب کی گئی تو ان کا کہنا تھا ایسا بیان دینے کی ایک وجہ ہے۔

'پارٹی جو بھی ہدایات جاری کرتی ہے وہ پورے ملک میں، پارٹی کے سبھی کارکنان اور رہنماؤں پر لاگو ہوتے ہیں۔ راجناتھ سنگھ کا بیٹا رکن پارلیمان ہو سکتا ہے، مدھیا پردیش کے ورگیس جی کا بیٹا رکن پارلیمان ہو سکتا ہے اور وزیر داخلہ امِت شاہ کا بیٹا جے شاہ، جس کا کرکٹ میں کوئی اہم تعاون نہیں ہے، نہ میں نے اس شعبے میں اس کی کسی کامیابی کے بارے میں کبھی کچھ پڑھا ہے، باوجود اس کے اسے کرکٹ کنٹرول بورڈ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ '

ان کا مزید کہنا تھا ’کیا اس کے پاس کوئی ڈگری ہے جو سرکار کے لیے کام کی ہے؟ بی جے پی سمیت مختلف اداروں سے اسے مسلسل حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ اگر وہ کرکٹ بورڈ کے سکریٹری بن سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پارٹی دو مختلف طریقوں سے چل رہی ہے۔'

(امت شاہ کے بیٹے جے شاہ بی سی سی آئی کے سیکریٹری ہیں اور حال ہی میں انھیں ایشیئن کرکٹ کونسل کا صدر بنایا گیا ہے)

انھوں نے الزام عائد کیا کہ 'جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، وہ انھیں عہدوں پر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت واضح ہے۔'

پرہلاد مودی کا کہنا تھا 'میں صاف کہتا ہوں کہ اگر میری بیٹی ایک قابل رہنما ہے اور جیتنے کے لیے آگے بڑھ رہی ہیں، تو پارلیمانی بورڈ کو انھیں ٹکٹ دینا چاہیے نہ کہ اس لیے کہ وہ وزیرا عظم مودی کی بھتیجی ہیں۔ مجھے اور میری بیٹی کو وزیرا عظم کے رشتہ دار ہونے کے سبب کوئی احسان نہیں چاہیے۔'