آیت اللہ علی خامنہ ای: ایران کے رہبر اعلیٰ کا جانشین کون ہو گا؟

    • مصنف, رعنا رحیم پور
    • عہدہ, بی بی سی فارسی

گذشتہ کئی روز سے ایران کے رہبر اعلیٰ (سپریم لیڈر) آیت اللہ علی خامنہ ای کی صحت سے متعلق کئی افواہیں زیرِ گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران کئی لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی خراب ہوتی صحت کے باعث اس منصب پر فائز نہیں رہ پاتے یا ان کی وفات ہو جاتی ہے تو اس صورتحال میں کیا ہو گا؟

81 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای اس وقت مشرق وسطیٰ کے سب سے طاقتور ملکوں میں سے ایک کے سب سے اعلیٰ سیاسی عہدے پر کام کر رہے ہیں۔ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور دنیا بھر کے ملکوں کے لیے یہ بات اہم ہو گی کہ اُن کا جانشین کون ہو گا۔

ایران کے رہبر اعلیٰ کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا۔ ملک میں 88 علما کا ایک ادارہ ہے جسے ’مجلسِ رہبری‘ کہا جاتا ہے اور رہبر اعلیٰ کا انتخاب یہی ادارہ کرتا ہے۔

ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ آخری بار ایسا سنہ 2016 میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ شوریٰ نگہبان کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ سپریم لیڈر کا اثر و رسوخ شوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران علی خامنہ ای نے ان کمیٹیوں میں قدامت پسند اکثریت کو یقینی بنایا ہے۔ یہ تاثر ہے کہ شاید ان کے جانشین کے انتخاب کے وقت وہ انھی کی مدد لیں گے۔

انتخاب کے بعد سپریم لیڈر تاحیات اس عہدے پر قائم رہ سکتا ہے۔

ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔ لیکن جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔

لہذا نئے رہنما کے انتخاب کے لیے سیاسی ماحول کے حساب سے قوانین دوبارہ بدلے جا سکتے ہیں۔

اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

ایران میں رہبرِ اعلیٰ کو ملک کا سب سے زیادہ طاقتور شخص سمجھا جاتا ہے، اور رہبرِ اعلیٰ ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں۔

سب سے اہم سیاسی مسائل پر ان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے جس سے ملک کے اندرونی و بیرونی معاملات پر پالیسی بنائی جاتی ہے۔

ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیح آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے۔ علی خامنہ ای کی قیادت میں اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

ان کی موت سے شاید خطے میں تاریخ بدل نہ سکے لیکن اس سے ایران کے پوری دنیا کے ساتھ معاملات پر فرق پڑ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی، جو علی خامنہ ای کے دور میں ان کی ذاتی نفرت سے بھی بڑھی، سے کئی سال تک ملک میں تناؤ اور غیر مستحکم صورتحال رہی ہے۔

تاہم جانشین بننے کا نظام ایسا ہے کہ جو کوئی بھی ان کی جگہ لے گا وہ ممکن ہے کہ انھی کی راہ پر چلے گا۔

ایران کا اگلا رہبر اعلیٰ کون بن سکتا ہے؟

ایران میں سیاسی حلقے یقیناً اس بات میں خاصی دلچسپی رکھتے ہوں گے کہ علی خامنہ ای کا جانشین کون ہو سکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں کوئی واحد طاقتور شخصیت نہیں جو بحران سے بچانے کے لیے خود سے جانشین تعینات کر دے۔

علی خامنہ ای اپنے پیشرو کی طرح اپنے حامیوں کے علاوہ زیادہ وسیع پیمانے پر اتحاد قائم نہیں کر سکے تھے۔ انھیں ایرانی فورس پاسداران انقلاب کے کئی اہم کمانڈرز کی حمایت حاصل رہی ہے۔

ممکن ہے کہ پاسداران انقلاب کوشش کریں گے کہ ایسے کسی بھی امیدوار کو سپریم لیڈر بننے سے روکیں جسے وہ اپنے لیے ناگوار سمجھتے ہیں۔

افواہوں میں ایک خفیہ فہرست کا ذکر کیا جاتا ہے جس میں سب اہم نام درج ہیں۔ لیکن کسی کو اس فہرست کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، نہ ہی کسی نے اس کے بارے میں علم ہونے کا کھلے عام دعویٰ کیا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علی خامنہ ای کے لیے دو امیدوار اہم ہوں گے: ان کے بیٹا مجتبی خامنہ ای اور عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رائیسی۔ اگر یہ دعویٰ سچ ہے تو ہو سکتا ہے اس کی کچھ بنیاد بھی ہو۔

رائیسی کے پیشرو صادق لاریجانی اور موجودہ صدر حسن روحانی ان دونوں کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ اگلے رہبرِ اعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

مجتبی خامنہ ای کون ہیں؟

علی خامنه ای کے بیٹے مجتبی خامہ ای پُراسرار شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کی طرح ایک عالم ہیں۔

وہ سنہ 2009 میں متنازع صدارتی انتخاب اور اس سے قبل مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران متحرک نظر آئے تھے۔

خیال رہے کہ انھوں نے مظاہرین کے خلاف اقدامات میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

علی خامنہ ای کوئی بادشاہ نہیں کہ جن کا بیٹا ان کا جانشین بن سکے۔ لیکن مجتبی اپنے والد کے قدامت پسند حلقوں میں کافی طاقتور سمجھتے جاتے ہیں۔ اس میں رہبر اعلیٰ کا دفتر بھی ہے جو آئینی اداروں سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

اگر وہ پاسداران انقلاب میں حمایت حاصل کر لیتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ انتخاب کے قانونی مرحلے میں ان کے حق میں استعمال کریں۔

ابراہیم رائیسی کون ہیں؟

60 سالہ علما ابراہیم رائیسی مشہد میں پیدا ہوئے۔ علی خامنہ ای کے بعد ان کے سپریم لیڈر بننے کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔

انھوں نے کبھی ان افواہوں کی تردید نہیں کی کہ وہ اگلے سپریم لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ ان کے کئی فیصلے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اس عہدے کے لیے خود کو ڈھال چکے ہیں۔

وہ ماضی میں عدلیہ میں کئی عہدوں پر رہے ہیں اور مجلس رہبری کے نائب چیئرمین ہیں۔

انسانی حقوق کے معاملات، خاص کر سنہ 1988 میں سیاسی قیدیوں کو بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے میں ان کے کردار کی وجہ سے ان کی پذیرائی کم ہے۔ لیکن سنہ 2017 میں صدارتی انتخاب ہارنے کے باوجود رہبر اعلیٰ نے انھیں عدلیہ کا سربراہ لگایا تھا۔

اس عہدے پر آنے کے بعد سے وہ میڈیا پر زیادہ دکھتے ہیں اور انھوں نے ’بدعنوانی کے خلاف جنگ‘ بھی شروع کر رکھی ہے۔

علی خامنہ ای کی طرح ابراہیم رائیسی سنہ 2015 میں ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق شکوک و شبہات رکھتے تھے جبکہ وہ بھی پاسداران انقلاب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔