سابق عسکریت پسند اور ان کی پاکستانی بیویاں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سیاسی سرگرمی میں کیوں شریک ہیں؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کپوارہ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی رہائشی سومیہ صدف گذشتہ کئی ہفتوں سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی ضلع کپوارہ کے باترگام علاقے میں گھر گھر جا کر ووٹ مانگ رہی ہیں اور سینکڑوں مقامی خواتین اُن کی حمایت میں اُن کے ساتھ کھڑی ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پنچایت اور ضلع ترقیاتی کونسلوں اور دیگر بلدیاتی اداروں کے لیے ہو رہے انتخابات میں حصہ لینے والی سومیہ صدف واحد پاکستانی نہیں ہیں۔

کئی علاقوں میں کشمیریوں سے بیاہی گئیں پاکستانی خواتین نے اپنے مسائل حل کرنے کے لیے انتخابی راستہ اپنا لیا ہے۔

سومیہ کہتی ہیں کہ ’جب ہمیں بلایا گیا تو ہم امن کا پیغام لے کر آئے تھے لیکن اب ہمیں باقاعدہ شہری حقوق حاصل نہیں۔ سفری حقوق نہیں دیے جاتے۔ ہماری بہنیں بہت مشکل میں ہیں۔ میں الیکشن لڑ کر ضلع ترقیاتی کونسل میں جا کر اُن کے مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم یہاں کے شہری ہیں، ہمارے خاوند کشمیری ہیں، ہمارے بچے یہیں کے ہیں۔ ہم یہاں کے مسائل پر بات کرنے کا حق رکھتے ہیں۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں فی الوقت 500 سے زیادہ پاکستانی خواتین مقیم ہیں۔ کئی برس قبل ان خواتین نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم انڈین کشمیر کے اُن نوجوانوں کے ساتھ شادی کر کے گھر بسایا تھا جو سنہ 1990 کے اوائل میں سرحد عبور کر کے مسلح تربیت کے لیے پاکستان پہنچے تھے، مگر اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح واپس نہیں لوٹے بلکہ وہیں پر مقیم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ خواتین گذشتہ دس برس سے مختلف مصائب اور مشکلات کے باوجود زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں کسی رشتہ دار کی شادی ہو یا کسی کی وفات ہو جائے تو اُنھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے اور ان کے خلاف تھانوں میں کئی مقدمے زیر التوا ہیں جن کی وجہ سے اُنھیں باقاعدہ شہری حقوق بھی حاصل نہیں۔

کشمیر میں ہند مخالف مسلح مزاحمت کا آغاز ہوتے ہی ہزاروں کشمیری نوجوانوں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گوریلا جنگ کی تربیت پائی اور واپس کشمیر پہنچ کر انڈین فورسز کے خلاف سرگرم ہو گئے۔

اِن میں سے سینکڑوں ایسے تھے جو پاکستان میں تربیت پانے کے بعد وہیں مقیم ہو گئے، وہیں شادی کر لی اور گھر بسا لیا۔ بعض نے تجارت کی اور بعض نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملازمت اختیار کر لی۔

سنہ 2010 میں انڈین حکومت نے پاکستان میں ’پھنسے‘ ایسے کشمیریوں کو واپس وطن لانے کے لیے ’بازآباد کاری‘ مہم کا اعلان کیا اور ایسے کشمیری نوجوانوں کو اپنی پاکستانی بیویوں اور بچوں سمیت نیپال کے راستے کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

سینکڑوں کشمیری اپنے کنبوں سمیت اسی مہم کے تحت نیپال کے راستے انڈین شہر گورکھ پور پہنچے جہاں سے وہ وادی میں داخل ہوئے۔ لیکن انھیں تھانوں پر لگاتار حاضری دینے، اکثر اوقات پوچھ تاچھ، شہر سے باہر سفر نہ کرنے اور اُن کی بیویوں پر پاکستان نہ جانے کی پابندی کا سامنا ہے۔

کپوارہ کے باترگام علاقے کے رہائشی عبدالمجید بٹ عرف سلم بدر بھی وطن لوٹنے والے سینکڑوں نوجوانوں میں شامل تھے۔ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی رہنے والی اپنی اہلیہ سومیہ صدف، تین بیٹوں اور ایک بیٹی کے ہمراہ واپس کشمیر پہنچے تھے اور یہاں ڈیری فارم قائم کر کے انھوں نے زندگی کو نئے سرے سے گزارنے کا بیڑا اُٹھا لیا۔

مسلح شورش شروع ہوتے ہی مجید بٹ ’مسلم جانباز فورس‘ نامی عسکری گروپ کے ساتھ وابستہ ہو گئے اور اسلحہ کی تربیت کے لیے پاکستان پہنچے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم کئی عسکری گروپوں کے اتحاد ’متحدہ جہاد کونسل‘ کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کے ساتھ اُن کے اختلاف پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب صلاح الدین صاحب نے کہا کہ حالات بدل گئے ہیں، اور اب لڑکوں کو کاروبار پر بھی دھیان دینا چاہیے، تو میری سمجھ میں آ گیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا ہم واپس ہی جائیں گے، وہیں پر کاروبار کریں گے۔‘

انھوں نے انگریزی اور عربی میں ایم اے کی ڈگریاں پاکستانی یونیورسٹیوں سے حاصل کی ہیں۔

عبدالمجید اپنی اہلیہ سومیہ کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’سومیہ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا تو میں اُن کی حمایت میں کھڑا ہو گیا۔ وہ دس سال سے یہاں کی خواتین کے رابطے میں ہیں۔ اُنھوں نے خواتین کی بہبود کے لیے کئی پروگرام منعقد کیے، لیکن جب پنچایتی راج کو بحال کرنے کے لیے مقامی اداروں کے انتخابات کا اعلان کیا گیا تو سومیہ نے کہا یہ مناسب طریقہ ہوگا اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کا۔‘

سومیہ نے اپنا انتخابی نشان ’لیپ ٹاپ‘ رکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ وہ تعلیم اور تربیت میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ ’ہماری پاکستانی بہنوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ میں یہاں کی خواتین کو بااختیار بنانا چاہتی ہوں۔‘

لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ضلع کپوارہ میں اور بھی کئی پاکستانی خواتین الیکشن لڑ رہی ہیں۔ گناوپورہ گاؤں کے رہنے والے حبیب اللہ عرف بشارت الاسلام ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ کے ساتھ وابستہ تھے اور پاکستان میں ہتھیاروں کی تربیت کے لیے گئے تھے۔

وہ خود بھی الیکشن لڑ رہے ہیں اور اُن کی پاکستانی اہلیہ نورینہ پہلے ہی پنچایتی الیکشن جیت چکی ہیں۔

نورینہ کہتی ہیں کہ ’ہم بھی انسان ہیں، ہمیں واپس بلایا گیا لیکن ہمیں انسانی حقوق نہیں دیے جاتے، بچے ابھی چھوٹے ہیں لیکن اب بہت مشکل ہوگی، شہریت کے کاغذات نہیں دیے جاتے، ہمارے گھر میں اُدھر کوئی مر جائے یا کسی کی شادی ہو تو ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اب اُمید ہے کہ میں سسٹم کے اندر جا کر حکام سے بات کر سکتی ہوں کہ ہمارے حقوق بحال کیے جائیں۔‘

نورینہ کے خاوند حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ دو ملکوں کی دُشمنی کے بیچ پِس گئے ہیں۔ میں نے یہاں آنے سے قبل سنہ 2011 میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ اُس وقت اُنھوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم بن جائیں گے تو ہم جیسے لوگوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ہم یہاں حکام تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے الیکشن لڑتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ہمیں غدار سمجھتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان اور نریندر مودی اگر مسئلہ حل کرتے تو ہم در در کی ٹھوکریں نہ کھاتے۔‘

نورینہ کا کہنا ہے کہ چند سال قبل ایسے ہی مسائل سے تنگ آ کر ایک پاکستانی بیٹی نے خودکشی کر لی تھی۔ کپوارہ کے ضلع صدرمقام پر یہ خواتین اکثر مظاہرہ کر کے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ برس اگست میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کر کے اسے انڈین وفاق میں ضم کر دیا گیا تو سیاست حاشیے پر چلی گئی کیونکہ سبھی سیاسی رہنماؤں کو قید کیا گیا۔ ڈیڑھ سال بعد کشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسلوں اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے ایک بار پھر سیاسی ہل چل نظر آ رہی ہے۔

انڈین آئین کی دفعہ 370 کے تحت گذشتہ 72 سال سے کشمیر انڈین وفاق میں واحد خطہ جس کا اپنا آئین، اپنے قوانین اور اپنا علیحدہ ٹیکس نظام تھا۔ لیکن گذشتہ سال پانچ اگست کو یہ سب پارلیمنٹ میں منظور کرائی گئی ایک بل کے بعد ختم ہو گیا۔

کشمیر میں فی الوقت اسمبلی تحلیل ہے اور نائب گورنر کے چار مشیروں پر حکومت کا سارا نظام محیط ہے۔ خودمختاری کے خاتمے کے بعد ضلع ترقیاتی کونسلوں اور پنچایتوں کے انتخابات پہلی بڑی سیاسی سرگرمی ہے، جس میں سبھی سیاسی گروپ حصہ لے رہے ہیں۔

یہ انتخابات جموں کشمیر کے 20 اضلاع میں ترقیاتی کونسلروں کی 280 نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں، لیکن خاص بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ سابق عسکریت پسند اور ان کی پاکستانی بیویاں کسی سیاسی سرگرمی میں شریک ہو رہے ہیں۔