لال لپ سٹک لگانے پر ماں کا مزاق اڑانے والوں کو بیٹے کا جواب: ’لِپ سٹک کے رنگ کا کسی عورت کے کردار سے کوئی تعلق نہیں‘

پشپک سین

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, ثمرہ فاطمہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

’میں اپنے رشتہ داروں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا تھا کہ میک اپ یا لِپ سٹک صرف سنگھار کا ذریعہ ہے، اس کا کسی عورت کے کردار یا مرد کی مردانگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انڈیا کے شہر کولکتہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ پُشپک سین ایک ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹر ہیں۔ ان کی ایک تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب شیئر کی جا رہی ہے۔

انھوں نے اپنی اس سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا ہے کہ اس تصویر کے ساتھ ایک پیغام لکھ کر انھوں نے اپنے رشتہ داروں کو بھیجا جس میں لکھا تھا ’صبح بخیر۔ جلد صحت یاب ہو جائیے۔‘

اس تصویر کے ذریعے وہ اپنے ان رشتہ داروں کو جواب دینا چاہتے تھے جنھوں نے ان کی 54 سالہ والدہ کا ایک محفل میں لال لِپ سٹک لگا کر جانے پر مذاق اڑایا تھا۔

انھوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جب ان کی والدہ کا مذاق اڑایا جا رہا تھا تو اس وقت ان کے بہت سے نوجوان تعلیم یافتہ کزن بھی وہاں موجود تھے جو عام طور پر سمجھداری کی باتیں کرتے ہیں، لیکن جب یہ واقعہ پیش آیا تو انھوں نے بھی مذاق اڑانے والے رشتہ داروں کو روکنے کے بجائے اس گفتگو میں حصہ لیا۔

پُشپک سین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی والدہ کو سجنے سنورنے کا شوق ہے لیکن انھوں نے اسی خوف سے ماضی میں کبھی سرخ لِپ سٹِک نہیں لگائی تھی کہ ’لوگ کیا کہیں گے۔‘

رواں برس ان کی والدہ کی سالگرہ کے موقعے پر انھوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ انھیں لوگوں کی فکر کیے بغیر وہ کرنا چاہیے جو ان کا دل چاہتا ہے کیوںکہ اب زمانہ بدل گیا ہے اور اب لوگ قدامت پسند رویے چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن پُشپک کے بقول ’شاید میں غلط تھا۔‘

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

پُشپک کہتے ہیں کہ ’لال صرف ایک رنگ ہے۔ اس سے کسی کے کردار کا تعین نہیں ہوتا، نہ ہی میری مردانگی اتنی نازک ہے کہ سرخ لِپ سٹِک لگانے سے وہ چُور چُور ہو جائے۔ یہ پیغام جانا بہت ضروری تھا کہ میں ان کی فضول باتوں کو برداشت نہیں کروں گا۔‘

پُشپک کا خیال ہے کہ لوگ اکثر تب آپ کا مذاق اڑاتے ہیں جب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی طرح ان سے بہتر لگتے ہیں اور ان سے یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر اپنی تصویر پوسٹ کرنے کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’میں، ایک داڑھی والا شخص سرخ لِپ سٹک لگا کر ان تمام ماوٴں، بہنوں، بیٹیوں اور ان دیگر افراد کے ساتھ کھڑا ہوں جو خود کو مرد یا عورت کے دائرے سے باہر رکھتے ہیں۔ وہ جنھیں سماج کے زہریلے رویوں سے خود کو بچانے کے لیے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔

’میں ان سب کے ساتھ کھڑا ہوں، اور اپنے بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ جیسے بھی ممکن ہو ان خواتین کے ساتھ کھڑے ہوں جنھیں وہ جانتے ہیں اور جنھیں سماج میں پریشان کیا جاتا ہے۔‘

پُشپک کہتے ہیں ’میں اپنے اس قدم سے اپنے رشتہ داروں کو باور کرانا چاہتے تھے کہ آپ کے خیالات فضول ہیں۔ انھیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ ایسی سوچ بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، اور انھیں ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے۔‘

پُشپک کا خیال ہے کہ جب اس طرح کی کوئی غیر مناسب بات ہوتی ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ اس کے خلاف بے خوف ہو کر آواز اٹھائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ 'میں ان لوگوں میں بھی حوصلہ پیدا کرنا چاہتا تھا جو دوسروں کے خوف سے اپنا دل مارتے رہتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنے قریبی افراد کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوں۔‘

پشپک سین

،تصویر کا ذریعہFacebook/PushpakSen

والدہ اور رشتہ داروں کا رد عمل

پُشپک نے بتایا کہ ان کی والدہ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے کہا کہ ’مجھے فخر ہے کہ تمھیں اس بات کی سمجھ ہے کہ کس موقع پر اور کتنی آواز اٹھانا ضروری ہے جس سے کسی کو کوئی چوٹ نہ پہنچے اور آپ کی بات بھی ان تک پہنچ جائے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ انھیں ان کے دوستوں اور سوشل میڈیا پر متعدد افراد سے شاباشی مل رہی ہے۔ ان کی اس پوسٹ کی حمایت کرنے والے ان کے دوستوں نے اس بات کی تعریف کی کہ انھوں نے غلط بات کے خلاف آواز اٹھائی۔

ان کے رشتہ داروں کی جانب سے انھیں کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ پشپک کا خیال ہے کہ 'عین ممکن ہے کہ وہ سکتے میں ہوں اور ان کے پاس کوئی جواب ہی نہ ہو۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اب میرے اس پیغام کا مذاق اڑا رہے ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں 'جو بھی ہو، میرے لیے یہ ضروری تھا کہ میں انھیں بتاؤں کہ ’کوئی اپنی زندگی کیسے جیے گا‘ یہ وہ لوگ نہیں طے کریں گے۔‘