پاکستانی ویزہ کے لیے جلال آباد میں جمع ہجوم میں بھگڈر، کم از کم گیارہ خواتین ہلاک

افغانستان کے صوبے ننگرہار کے شہر جلال آباد میں پاکستانی ویزے کے حصول کے لیے ’جمع ہزاروں افراد‘ کے مجمعے میں بھگڈر مچنے سے کم از کم گیارہ خواتین ہلاک ہو گئیں۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران ویزے کی سہولت کی معطلی کے خاتمے پر ہزاروں افراد پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے جلال آباد کے ایک فٹ بال سٹیڈیم میں جمع ہوئے اور وہاں دھکم پیل کے بعد بھگڈر مچ گئی جس سے کم از کم گیارہ خواتین کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جلال آباد میں پاکستان کے قونصل خانے نے بڑی تعداد میں ویزہ درخواستوں کے پیش نظر، تمام درخواست گزاروں کو قونصل خانے کی بجائے ایک وسیع فٹ بال سٹیڈیم میں جمع ہونے کے لیے کہا تھا۔

کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان نے گذشتہ سات ماہ سے افغان شہریوں کے لیے ویزہ کی سہولت کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق ویزہ کے خواہشمندوں میں دھکم پیل شروع ہو گئی جس سے کئی خواتین پاؤں کے نیچے آ کر دم توڑ گئیں۔

افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ انھیں اس واقع پر دلی صدمہ پہنچا ہے اور وہ افغان حکام کے ساتھ مل کر ویزہ کی درخوستوں کو بہتر انداز میں نمٹانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کئی عمر رسیدہ خواتین اس بھگڈرمیں زخمی ہو گئی ہیں۔

افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال پڑوسی ملک پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے، علاج کی غرض، روزگار کی تلاش، یا ملک میں بدامنی سے جان چھڑانے کی غرض سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔