آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں کورونا وائرس سے اموات زیادہ کیوں ہو رہی ہیں؟
- مصنف, اپرنا الوری اور شاداب نظمی
- عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
انڈیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔ انڈیا سے زیادہ اموات صرف امریکہ اور برازیل میں ہوئی ہیں۔
اس حوالے سے انڈیا کے لیے ستمبر کا مہینہ بدترین تھا۔ اوسطً 1100 انڈین شہری یومیہ ہلاک ہوئے۔ علاقائی طور پر حالات بہت مختلف ہیں کیونکہ کچھ ریاستوں میں ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے جسے ماہرین اس بات کی عکاسی سمجھ رہے ہیں کہ وائرس ابھی ملک میں پھیل رہا ہے۔
انڈیا کے بدترین علاقوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں اور ان کی وجوہات کیا ہیں؟
مہاراشٹر سرفہرست ہے
مہاراشٹر انڈیا کی سب سے بڑی اور امیر ترین ریاستوں میں سے ایک ہے اور یہاں تصدیق شدہ مریضوں اور ہلاکتوں دونوں ہی کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ریاست میں 13 لاکھ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور 36000 افراد اس مرض کی نذر ہو چکے ہیں۔
مہاراشٹر میں یہ وبا جلد ہی پھیل گئی تھی اور اس میں کمی سامنے نہیں آئی۔ ستمبر میں یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 300 سے 500 کے درمیان رہی جو کہ دیگر کئی بری طرح متاثر ہونے والی ریاستوں سے کہیں زیادہ ہے۔
اور اب یہ صرف ریاست کے دارالحکومت گنجان شہر ممبئی کا معاملہ نہیں ہے۔ ممبئی ابھی بھی سب سے زیادہ ہلاکتوں والا ضلع ہے مگر خاموش ضلع پونے میں بھی 5800 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ملک کے دس بدترین اضلاع میں سے پانچ مہاراشٹر میں سے ہیں۔
پونے میں کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹنگ کرنے والے ڈاکٹر ارناب گھوش کہتے ہیں کہ وائرس کے ریاست میں داخل ہونے کا راستہ ممبئی تھا۔ حکومتی تحقیق کے مطابق شہر کے کچھ علاقوں میں تقریباً نصف افراد میں اس مرض کی اینٹی باڈیز پائی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر گھوش کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممبئی میں وائرس زیادہ تر شہر میں تھا، ضلع پونے کے دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کے درمیان آمد و رفت کی وجہ سے یہ ریاست میں زیادہ پھیلا ہے۔
ہسپتالوں پر اس قدر بوجھ کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی شرح بھی بڑھ گئی ہے۔ پونے کے جمبو کووڈ سنٹر میں کچھ لوگوں کی اموات کے حوالے سے میڈیا نے عملے کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویے کا الزام لگایا تھا۔
پنجاب میں صورتحال بگڑ رہی ہے
پنجاب میں اموات کی شرح 3 فیصد رہی ہے جو کہ ملکی شرح سے دوگنی ہے۔ ہلاکتوں کی کل تعداد کے لحاظ سے ریاست نویں نمبر پر ہے۔ اور ریاست کے کچھ اضلاع میں اموات کی شرح 4 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کی ڈاکٹر شامیکہ راوی کا کہنا ہے کہ پنجاب پریشانی کا باعث ہے۔ یہاں اموات کی شرخ زیادہ ہی نہیں بلکہ بڑھ بھی رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس شرح کا بڑھنا اس کے برعکس ہے جو پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ انڈیا میں مجموعی طور پر یہ شرح گر رہی ہے۔
ڈاکٹر راوی کا کہنا ہے کہ ماہاراشٹر اور پنجاب میں ایک ہی مسئلہ ہے کہ ٹیسٹنگ کم کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مصدقہ کیسز اور اموات کی شرح زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم ٹیسٹنگ کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ لوگوں کو مرض کا بروقت میں پتا نہیں چلتا۔
کیا ٹیسٹنگ کی تعداد ہی مسئلہ کی بنیادی وجہ ہے؟
پنجاب میں کیے جانے والے ٹیسٹوں میں مثبت آنے کی شرح 6.2 فیصد ہے جو کہ ماہاراشٹر کی شرح 24 فیصد سے کہیں کم ہے۔ مگر پھر بھی پنجاب کا ریٹ بہار اور جھارکنڈ جیسی ریاستوں کے ریٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ریاستیں بھی تقریباً اتنے ٹیسٹ ہی فی ملین کر رہی ہیں جتنے پنجاب کر رہا ہے۔ مگر پھر بھی ادھر مثبت آنے کی شرح کہیں کم ہے۔
ڈاکٹر راوی کہتی ہیں کہ اگر آپ ٹیسٹ کم کرتے ہیں اور پھر بھی اپ کی مثبت آنے کی شرح زیادہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وبا آپ سے کہیں آگے چلی گئی ہے۔ ‘آپ کیسز تک دیر میں پہنچ رہے ہیں۔‘
ان کا تجزیہ ماہاراشٹرا کی صورتحال پر صحیح بیٹھتا ہے۔ یہاں لوگوں کے مرض میں مبتلا ہونے کی شرح اور اموات کی شرح دونوں متواتر زیادہ ہیں مگر پھر بھی ٹیسٹنگ میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔
مگر ان کی اس بات سے ہر کوئی اتفاق نہیں کرتا۔ وبائی امراض کے ماڈل بنانے والے ڈاکٹر گوتم میمن کا کہنا ہے کہ `مجھے ان دونوں کے درمیان تعلق نہیں نظر آتا۔ آپ ٹیسٹ کم کر رہے ہیں اس کا مطلب ہے کہ آپ کیسز پکڑ نہیں رہے۔ مگر ان میں سے کتنے اموات میں بدلتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔‘
ڈاکٹر گھوش کا کہنا ہے کہ اس کا بلاواسطہ تعلق ہو سکتا ہے۔ اگر ٹیسٹنگ کم ہے تو مریض ہسپتال میں تاخیر سے آئے گا جس کی وجہ سے اموات بڑھ سکتی ہیں۔
آندھرا پردیش اور تامل ناڈو میں کیے گئے ایک تجزیہ کے مطابق ہسپتال جانے اور ہلاکت میں اوسط روز کی تعداد 13 ہے، جس کی وجہ سے ریاستوں میں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض کا پتا دیر سے چل رہا ہے۔
مگر پھر بھی تامل ناڈو زیادہ ٹیسٹنگ کرتا رہا ہے اور یہاں اموات کی شرح کم ہے۔ یہاں کل اموات 9000 ہو چکی ہیں جو کہ ملک میں دوسرے نمبر پر ہے مگر یومیہ کیسز کی تعداد جولائی کے بعد سے کم ہو رہی ہے۔
مگر وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر جیکب جان کا کہنا ہے کہ انفیکشن کے جلدی پتا چلنے سے مریض کے علاج پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ بہت سے کیسز میں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کے بغیر بھی وہی راستہ اختیار کر رہے ہیں جو انھوں نے ٹیسٹنگ کے بعد کرنا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر جان کا کہنا ہے کہ کم ٹیسٹنگ سے زیادہ اموات کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ مان رہے ہیں کہ ٹیسٹنگ کی وجہ سے مریضوں کے علاج میں کوئی فرق پرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے بجائے زیادہ اموات کا مطلب ہے کہ صحتِ عامہ کا نظام درست نہیں ہے۔
شہری علاقوں میں اموات زیادہ ہیں
ملک میں بدترین دس اضلاع میں سارے شہری علاقے ہیں اور یہی بات سب سے زیادہ شرحِ اموات کے لیے بھی درست ہے۔
شہری علاقوں میں اب تک انڈیا کی 80 فیصد ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ان میں سے کئی میں اوسط سے زیادہ اموات کی شرح ہے۔
یہ بات حیران کن نہیں کیونکہ اس وائرس کا گنجان آباد علاقوں میں اثر زیادہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امیر تر ریاستیں جیسے پنجاب اور ماہاراشٹر کے حالات اتنے برے کیوں ہیں۔ ان ریاستوں میں شہری علاقے زیادہ ہیں اور شہروں کے باہر بھی آبادی گنجان آباد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں اموات کی شرح اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آس پاس کے دیہی علاقوں سے لوگ یہاں آ جاتے ہیں تاکہ علاج کروا سکیں۔
ڈاکٹر میمن کہتے ہیں کہ پونے کا ڈیٹا اس وجہ سے غلط ہے کیونکہ آس پاس کے علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد یہاں آ جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں دیگر امراض کی کمی بھی ہلاکتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
غریب ریاستوں میں اموات کم ہو رہی ہیں
انڈیا کی غریب ریاستوں میں اموات کم تو ہیں مگر یہاں رپورٹنگ کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ اور لوگوں کا خیال تھا کہ غریب تر ریاستیں تباہ ہو جائیں گی مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے۔
ڈاکٹر گھوش کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہم اس وبا کے اختتام تک نہیں پہنچے ہیں۔ ‘ ممکن ہے کہ ماہاراشٹر اور دہلی جیسے علاقوں میں برترین وقت گزر گیا ہے۔ مگر کچھ چلاقوں میں ابھی ایسا ہونا باقی ہے۔‘
‘ہر ریاست وبا کے لحاظ سے مختلف پوائنٹ پر ہے۔ شکر ہے کہ یہ ایک امیر ریاست ماہراشٹرا میں شروع ہوا۔ اگر بہار ہوتا تو تباہی ہو جاتی۔‘